aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "flue"
میں کسی شہر میںٹریفک ہورڈنگ کے ایک طرفکسی بڑے اشتہار میں اوپرہنستا مسکراتا چہرہ دیکھتا ہوںمیں دیکھتا ہوںاس کے ہاتھ میںکسی دم کٹے چتکبرے کتے کیدونوں اگلی ٹانگیںاس کا چہرہ اور کتے کی ناکمتوازیکتے کی آنکھوں میں چمکاس کے ہونٹوں کی خوشیایک سیسبز بتی جل گئی ہےٹریفک فلو جاری ہوئی
پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبرکتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہےکتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقابکتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
پر تھا پہلوئے مسجد جامعروشنیاں تھیں ہر سو لامعکوئی نہیں تھا کسی کا سامعسب کے سب تھے دید کے طامع
اللہ میں یہ تاج محل دیکھ رہا ہوںیا پہلوئے جمنا میں کنول دیکھ رہا ہوں
پہلوئے خاتون مشرق میں بصد تمکین و نازمنتقل ہو جا الوہیت کے سینے کے گداز
چپکی کھڑی ہے کشن کے رخ پر نگاہ ہےہے پہلوئے جگر میں جگہ دل میں راہ ہے
سال ہا سال محبت جو بنا کرتی ہےرشتۂ قلب و نظر پلۂ ریشم کی طرحایک جھونکا بھی حوادث کا اسے کافی ہےپہلوئے گل میں دھڑکتی ہوئی شبنم کی طرح
یہ کون آ گیا رخ خنداں لیے ہوئےعارض پہ رنگ و نور کا طوفاں لیے ہوئےبیمار کے قریب بصد شان احتیاطدل داریٔ نسیم بہاراں لیے ہوئےرخسار پر لطیف سی اک موج سر خوشیلب پر ہنسی کا نرم سا طوفاں لیے ہوئےپیشانیٔ جمیل پہ انوار تمکنتتابندگیٔ صبح درخشاں لیے ہوئےزلفوں کے پیچ و خم میں بہاریں چھپی ہوئیاک کاروان نکہت بستاں لیے ہوئےآ ہی گیا وہ میرا نگار نظر نوازظلمت کدے میں شمع فروزاں لیے ہوئےاک اک ادا میں سیکڑوں پہلوئے دلدہیاک اک نظر میں پرسش پنہاں لیے ہوئےمیرے سواد شوق کا خورشید نیم شبعزم شکست ماہ جبیناں لیے ہوئےدرس سکون و صبر بہ ایں اہتمام نازنشتر زنیٔ جنبش مژگاں لیے ہوئےآنکھوں سے ایک رو سی نکلتی ہوئی ہر آنغرقابئ حیات کا ساماں لیے ہوئےہلتی ہوئی نگاہ میں بجلی بھری ہوئیکھلتے ہوئے لبوں میں گلستاں لیے ہوئےیہ کون ہے مجازؔ سے سرگرم گفتگودونوں ہتھیلیوں پہ زنخداں لیے ہوئے
جو شمع علم مغرب سید نے کی تھی روشنبکھری ہوئی ہیں جس کی کرنیں ہر انجمن میںاس شمع علم و فن کی کچھ منتشر شعاعیںیاران بزم تم ہو اس گوشۂ دکن میںلیکن یہ یاد رکھو سچی شعاع وہ ہےآنکھوں کا نور بن کر پھیلے جو مرد و زن میںجو شمع سے نکل کر دنیا کو جگمگا دےجو روح تازہ پھونکے ہر پیکر کہن میںماحول کے اثر سے آئے نہ فرق لازمگلزار کی کرن اور کہسار کی کرن میںاور یہ نہیں تو پھر تم مٹی کا وہ دیا ہوافسردہ نور جس کا محدود ہو لگن میںسیدؔ نے نسبتوں کے دعوے تو سچ ہیں لیکناک پہلوئے عمل بھی درکار ہے سخن میں
یہی سب کچھ ہے اگر ٹھہری ہوئی گہری نظر سے دیکھوسرخیٔ[ چشم کہیں پہلوئے بے تاب کہیںبے کراں باہیں کہیںلمس کہیںخواب کہیںلہریا پردوں سے چھنتی ہوئی شاموں کا نشہجسم سہلاتی ہوئی رات کا نمبیش نہ کم
سبز ارمانوں پہوہ اوس پڑی مت پوچھواب تو وہصحن تخیل بھی ہے مدت سے اداسگاہے گاہےکسی پہلوئے فلک میں جاناںکچھ چمن زار مہک اٹھتے ہیںاورآتی ہے صدائے بلبلعشق وہ اوس کا قطرہ ہےجس کے پڑتے ہیٹوٹ جاتی ہے صراحی گل کی
پہلو دل سے کہیں لگ کے کوئی روتا ہےدست قاتل پہ کہیں اشک کہیں دھبے ہیںدل مسلتا ہے کوئی ہاتھ میں لے کر ہر دمدل بہت دکھتا ہے ہر بات پہ دل دکھتا ہے
تو مری نظم ہےخود میں مربوط گم اپنی دھن میں رواںپیچ در پیچ آزاد اور بے نیاز اور مبہماندرونی و بیرونی آہنگ میںاپنے اظہار صد رنگ میںنغمگی انگ میں تیری آواز اور رنگ میںیہ اٹھانیہ کمانیہ کماں سے نکلتے ہوئے تیر سب بر ہدفتیز چسترمز میں اور اظہار بے باک میں بھی اشارے لیےاپنے ہی استعارے لیےجو کہانی کہےکہہ کے بھی ان کہی ان سنی ہی رہےوصل معنی کے پہلو میں پہلوئے تشنہ لبی ہی رہےکچھ کمی ہی رہےتجھ کو پا کر تجھے اور پانے کی تجدید ابلاغ کے کیف میں بار بارسطر در سطر پڑھتا رہوںزلفوں پیشانی آنکھوں سے عارض لبوں سے ترے پاؤں کی آخری پور تکمرے لمس سےلوح دل پر تری روشنائی پہ اک حرف آئے نہیںسربسر تو جمی کی جمی ہی رہےسارے اسرار کھلتے رہیں بند دروازوں پر اور اسرار کےاور بھی بے پنہ ہوں معانی ترے ایک اقرار اور بیش انکار کےمیں تعاقب میں جن کے رہوں عمر بھرتو مری نظم ہے جان من
جب کبھی گیسوئے مشکیں سے اٹھی کالی گھٹاپہلوئے شوق سے ابھرا ہے جنوں کا طوفاںشعلۂ برق و شرر پھول بنا کس کے لئےبیچ آیا ہے کوئی اس کی گلی میں ایماں
ارے پگلیتجھے مجھ سے محبت تھیتو پھر مجھ سے کہا ہوتایہ کیا کہ رات بھر جگنایونہی بے چین سی رہنامگر سب کچھ چھپا لیناکبھی جانا جو سکھیوں میںمنافق بن کے ہنس لیناکسی سے یوں بھی کہہ دیناکہ دانشؔ مجھ پہ عاشق ہےبہت ہی چاہتا ہے وہمگر میں کیا کروں ہمدمکہ میں مجبور سی لڑکیزمانے کے رواجوں سے بندھی محبوس بیٹھی ہوںمیں کچھ بھی کر نہیں سکتیاگر وہ مجھ کو چاہے ہے تو پھر اس پر یہ لازم تھاکہ مجھ کو جیت لیتا آ کے میداں میں مقابل سےوہ مجھ کو کھینچ لیتا شوق سے پہلوئے اعدا سےزمانے کے رواجوں سے کبھی مجھ کو چرا لیتایا میرے ذمہ داروں سے وہ مجھ کو مانگ ہی لیتامگر وہ کچھ نہیں کہتاخفا سا مجھ سے رہتا ہےتمہاری یہ کہانی کل بیاں کی ایک لڑکی نےتو میرے دل میں بھی اک شوق کی آتش ہوئی پیدامیں اس سے قبل تم کو جانتا تک بھی نہ تھا جاناںمگر اک شوق تھا کہ کون ہے جو یوں بھی چاہے ہےکہ عاشق خود ہے لیکن مجھ کو وہ عاشق بتائے ہےسو کچھ لمحوں کی خاطر میں گلی میں تیری در آیاتجھے دیکھا تجھے جانا تو میں نے تجھ کو پہچانایہ اچھی بات ہے کہ شرم سے تو کچھ نہ کہہ پائیمگر جاناں ذرا سا اک اشارہ کر دیا ہوتابھرم میں تیرا رکھ لیتامگر یہ کیا کہ تو نے مجھ کو مجنوں نام کر ڈالامجھے محبوب کر کے ہائے کیوں بدنام کر ڈالازمانہ مجھ سے پوچھے ہے کہ کیوں اس سے خفا ہو تمبتا میں کیا بتاؤں دوستوں کو مسئلہ کیا ہےمجھے بھی تو محبت کا بھرم رکھنا ہے نا پگلیمیں کیسے کہہ دوں لوگوں سے کہ تو ہی مجھ پہ عاشق ہےمگر سن جب تو اپنا ضبط کھو بیٹھے کبھی رو کرتو موبائل اٹھا کر ایک میسج مجھ کو کر دینامیں تجھ کو تھام بھی لوں گاتجھے لٹنے نہیں دوں گاکہ تو میرے لیے اک محترم محبوب ہستی ہےمگر یہ عشق کا سودا اور ایسے عشق کا سودامیں ہرگز کر نہیں سکتامجھے جب تک تری چاہت کا کچھ احساس ہو ہی ناتو میں کیسے بھلا تجھ سے کوئی رشتہ رکھوں پگلیغرور حسن کو تج دےتو پھر دانشؔ بھی تیرا ہےیہ لفظ و لوح تیرے ہیںزمانہ بھی محبت بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books