aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gulo.n"
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
اٹھو ہند کے باغبانو اٹھواٹھو انقلابی جوانو اٹھوکسانوں اٹھو کامگارو اٹھونئی زندگی کے شرارو اٹھواٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سےاٹھو خاک بنگال و کشمیر سےاٹھو وادی و دشت و کہسار سےاٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سےاٹھو مالوے اور میوات سےمہاراشٹر اور گجرات سےاودھ کے چمن سے چہکتے اٹھوگلوں کی طرح سے مہکتے اٹھواٹھو کھل گیا پرچم انقلابنکلتا ہے جس طرح سے آفتاباٹھو جیسے دریا میں اٹھتی ہے موجاٹھو جیسے آندھی کی بڑھتی ہے فوجاٹھو برق کی طرح ہنستے ہوئےکڑکتے گرجتے برستے ہوئےغلامی کی زنجیر کو توڑ دوزمانے کی رفتار کو موڑ دو
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
کتنے تو بھنگ پی پی کپڑے بھگو رہے ہیںباہیں گلوں میں ڈالے جھولوں میں سو رہے ہیںکتنے برہ کے مارے سدھ اپنی کھو رہے ہیںجھولے کی دیکھ صورت ہر آن رو رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیںیہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیںوہی قیامت ہے قد بالا وہی ہے صورت، وہی سراپالبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیںوہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنممیں نقش حرماں بنا ہوا تھا وہ نقش حیرت بنا رہے ہیںخرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام رنگیں، پیام رنگیںقدم قدم پر، روش روش پر نئے نئے گل کھلا رہے ہیںشباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیںتمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیںتمام رعنائیوں کے مظہر، تمام رنگینیوں کے منظرسنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر سب ایک مرکز پر آ رہے ہیںبہار رنگ و شباب ہی کیا ستارہ و ماہتاب ہی کیاتمام ہستی جھکی ہوئی ہے، جدھر وہ نظریں جھکا رہے ہیںطیور سرشار ساغر مل ہلاک تنویر لالہ و گلسب اپنی اپنی دھنوں میں مل کر عجب عجب گیت گا رہے ہیںشراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے، نظر سے مستی ابل رہی ہےچھلک رہی ہے اچھل رہی ہے، پئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیںخود اپنے نشے میں جھومتے ہیں، وہ اپنا منہ آپ چومتے ہیںخراب مستی بنے ہوئے ہیں، ہلاک مستی بنا رہے ہیںفضا سے نشہ برس رہا ہے، دماغ پھولوں میں بس رہا ہےوہ کون ہے جو ترس رہا ہے؟ سبھی کو میکش پلا رہے ہیںزمین نشہ، زمان نشہ، جہان نشہ، مکان نشہمکان کیا؟ لا مکان نشہ، ڈبو رہے ہیں پلا رہے ہیںوہ روئے رنگیں و موجۂ یم، کہ جیسے دامان گل پہ شبنمیہ گرمیٔ حسن کا ہے عالم، عرق عرق میں نہا رہے ہیںیہ مست بلبل بہک رہے ہیں، قریب عارض چہک رہے ہےگلوں کی چھاتی دھڑک رہی ہے، وہ دست رنگیں بڑھا رہے ہیںیہ موج و دریا، یہ ریگ و صحرا یہ غنچہ و گل، یہ ماہ و انجمذرا جو وہ مسکرا دیئے ہیں وہ سب کے سب مسکرا رہے ہیںفضا یہ نغموں سے بھر گئی ہے کہ موج دریا ٹھہر گئی ہےسکوت نغمہ بنا ہوا ہے، وہ جیسے کچھ گنگنا رہے ہیںاب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر، رہے گا لیکن یہ نقش دل پرہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیںیہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم، اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غممگر یہ معلوم ہو رہا ہے، کہ یہ بھی کچھ مسکرا رہے ہیںذرا جو دم بھر کو آنکھ جھپکی، یہ دیکھتا ہوں نئی تجلیطلسم صورت مٹا رہے ہیں، جمال معنی بنا رہے ہیںخوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہےیہ وقت وہ ہے جگرؔ کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہےسحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہےروش روش نغمۂ طرب ہے چمن چمن جشن رنگ و بو ہےطیور شاخوں پہ ہیں غزل خواں کلی کلی گنگنا رہی ہےستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانےنگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگا رہی ہےطیور بزم سحر کے مطرب لچکتی شاخوں پہ گا رہے ہیںنسیم فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہےکلی پہ بیلے کی کس ادا سے پڑا ہے شبنم کا ایک موتینہیں یہ ہیرے کی کیل پہنے کوئی پری مسکرا رہی ہےسحر کو مد نظر ہیں کتنی رعایتیں چشم خوں فشاں کیہوا بیاباں سے آنے والی لہو میں سرخی بڑھا رہی ہےشلوکا پہنے ہوئے گلابی ہر اک سبک پنکھڑی چمن میںرنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہےفلک پہ اس طرح چھپ رہے ہیں ہلال کے گرد و پیش تارےکہ جیسے کوئی نئی نویلی جبیں سے افشاں چھڑا رہی ہےکھٹک یہ کیوں دل میں ہو چلی پھر چٹکتی کلیو؟ ذرا ٹھہرناہوائے گلشن کی نرم رو میں یہ کسی کی آواز آ رہی ہے؟
ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئیگلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہےگماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میںفریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہےنظر اٹھا کے کبھی دیکھ لیتے تھے اوپرنہ جانے کون سے اعمال کی سزا ہے کہ آجیہ واہمہ بھی گیا سر پہ آسماں ہے کوئی
جھڑی برسات کی جب آگ تن من میں لگاتی ہوگلوں کو بلبل ناشاد حال دل سناتی ہوکوئی برہن کسی کی یاد میں آنسو بہاتی ہواگر ایسے میں تیرا دل دھڑک جائے تو آ جانا
ہوا ہر ایک کو چل پھر کے گدگداتی ہےنہیں جو ہنستے انہیں چھیڑ کر ہنساتی ہےحیا گلوں کو تو کلیوں کو شرم آتی ہےبڑھاؤ بڑھ کے چمن کا وقار ہولی میں
چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دےکام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھےتیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثربجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پریہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میںبہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میںچھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو!آہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزوپھر شبستان طرب کی راہ دکھلاتا ہے تومجھ کو کرنا چاہتا ہے پھر خراب رنگ و بومیں نے مانا وجد میں دنیا کو لا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے مانا تیری موسیقی ہے اتنی پر اثرجھوم اٹھتے ہیں فرشتے تک ترے نغمات پرہاں یہ سچ ہے زمزمے تیرے مچاتے ہیں وہ دھومجھوم جاتے ہیں مناظر، رقص کرتے ہیں نجومتیرے ہی نغمے سے وابستہ نشاط زندگیتیرے ہی نغمے سے کیف و انبساط زندگیتیری صوت سرمدی باغ تصوف کی بہارتیرے ہی نغموں سے بے خود عابد شب زندہ داربلبلیں نغمہ سرا ہیں تیری ہی تقلید میںتیرے ہی نغموں سے دھومیں محفل ناہید میںمجھ کو تیرے سحر موسیقی سے کب انکار ہےمجھ کو تیرے لحن داؤدی سے کب انکار ہےبزم ہستی کا مگر کیا رنگ ہے یہ بھی تو دیکھہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہےابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہےپھینک دے اے دوست اب بھی پھینک دے اپنا رباباٹھنے ہی والا ہے کوئی دم میں شور انقلابآ رہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئےآگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئےکوہ و صحرا میں زمیں سے خون ابلے گا ابھیرنگ کے بدلے گلوں سے خون ٹپکے گا ابھیبڑھ رہے ہیں دیکھ وہ مزدور دراتے ہوئےاک جنوں انگیز لے میں جانے کیا گاتے ہوئےسرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئیہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئیبھوک کے مارے ہوئے انساں کی فریادوں کے ساتھفاقہ مستوں کے جلو میں خانہ بربادوں کے ساتھختم ہو جائے گا یہ سرمایہ داری کا نظامرنگ لانے کو ہے مزدوروں کا جوش انتقامگر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوںخون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوںخون کی بو لے کے جنگل سے ہوائیں آئیں گیخوں ہی خوں ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جائیں گیجھونپڑوں میں خوں، محل میں خوں، شبستانوں میں خوںدشت میں خوں، وادیوں میں خوں، بیابانوں میں خوںپر سکوں صحرا میں خوں، بیتاب دریاؤں میں خوںدیر میں خوں، مسجد میں خوں، کلیساؤں میں خوںخون کے دریا نظر آئیں گے ہر میدان میںڈوب جائیں گی چٹانیں خون کے طوفان میںخون کی رنگینیوں میں ڈوب جائے گی بہارریگ صحرا پر نظر آئیں گے لاکھوں لالہ زارخون سے رنگیں فضائے بوستاں ہو جائے گینرگس مخمور چشم خوں فشاں ہو جائے گیکوہساروں کی طرف سے ''سرخ آندھی'' آئے گیجا بجا آبادیوں میں آگ سی لگ جائے گیتوڑ کر بیڑی نکل آئیں گے زنداں سے اسیربھول جائیں گے عبادت خانقاہوں میں فقیرحشر در آغوش ہو جائے گی دنیا کی فضادوڑتا ہوگا ہر اک جانب فرشتہ موت کاسرخ ہوں گے خون کے چھینٹوں سے بام و در تمامغرق ہوں گے آتشیں ملبوس میں منظر تماماس طرح لے گا زمانہ جنگ کا خونیں سبقآسماں پر خاک ہوگی، فرق پر رنگ شفقاور اس رنگ شفق میں باہزاراں آب و تاب!جگمگائے گا وطن کی حریت کا آفتاب
اے مرے حسیں خوابوتم کہاں سے آئے ہوکس افق سے ابھرے ہوکس شفق سے نکھرے ہوکن گلوں کی صحبت میںتم نے تربیت پائیکس جہاں سے لائے ہویہ جمال و رعنائی
گلوں کی وادی لہو لہو ہےفغاں کی آواز چار سو ہےہیں اس قدر تشنہ کام میکشہر ایک لب پر سبو سبو ہےنشان منزل ہے کھویا کھویالٹا لٹا شہر آرزو ہے
مبارک گھڑی میں یہ ہم عہد کر لیںبصد شان ہم زندگی میں سنور لیںگلوں کی طرح گلستاں میں نکھر لیںبنیں ہم بھی سورج گگن میں ابھر لیںمبارک مبارک نیا سال سب کو
ہر سمت گلستاں میں وہ انبار گلوں کےشبنم سے وہ دھوئے ہوے رخسار گلوں کے
وداع کے وقت آنسوؤں میںوہ سارے منظر جھلک رہے ہیںجو شاخ جاں پر گلوں کی صورت کھلے ہوئے تھےوہ سارے امکاں جھلک رہے ہیںجو کرچی کرچی بکھر گئے ہیںبکھرنے والوں کو اپنے مرکز کی آرزو ہے
بوئے نخوت سے نہیں یاں کے گلوں کو سروکارہے بزرگوں کا ادب ان کی جوانی کا سنگار
عزیز ماں مری ہنس مکھ مری بہادر ماںتمام جوہر فطرت جگا دیے تو نےمحبت اپنے چمن سے گلوں سے خاروں سےمحبتوں کے خزانے لٹا دیے تو نےبنا بنا کے مٹائے گئے نقوش عملترے بغیر مکمل نہ ہو سکی تصویروہ خواب جھانسی کی رانی کو جس نے چونکایاترا جہاد مسلسل اسی کی ہے تعبیراسے حیات کا سولہ سنگار کہتے ہیںتری جبیں پہ ہیں کچھ سلوٹیں بھی ٹیکا بھینظر میں جذب یقیں دل میں سوز آزادیدہکتا پھول بھی ہے تو مہکتا شعلہ بھیذرا زمین کو محور پہ گھوم لینے دےسماج تجھ سے ترا سوز و ساز مانگے گیجمال سیکھے گا خود اعتمادیاں تجھ سےحیات نو ترے دل کا گداز مانگے گی
پھولی شفق فضا میں حنا تلملا گئیاک موج رنگ کانپ کے عالم پہ چھا گئیکل چاندنی سمٹ کے گلوں میں سما گئیذرے بنے نجوم زمیں جگمگا گئیچھوڑا سحر نے تیرگیٔ شب کو کاٹ کےاڑنے لگی ہوا میں کرن اوس چاٹ کے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books