aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hafta"
جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھنبازاروں کی گرمی، افرا تفریموٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہےچائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکےاپنے ہم سن معشوقوں کوجن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےلے کر جا چکتے ہیںبڑھتی پھیلتی اونچی ہمالہ جیسی تعمیروں پر خاموشی چھا جاتی ہےتھیٹر تفریح گاہوں میں تالے پڑ جاتے ہیںاور بظاہر دنیا سو جاتی ہےمیں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچا کرتا ہوںکتوں کی دم ٹیڑھی کیوں ہوتی ہےیہ چتکبری دنیا جس کا کوئی بھی کردار نہیں ہےکوئی فلسفہ کوئی پائندہ اقدار نہیں، معیار نہیں ہےاس پر اہل دانش ودوان، فلسفیموٹی موٹی ادق کتابیں کیوں لکھا کرتے ہیں؟فرقتؔ کی ماں نے شوہر کے مرنے پر کتنا کہرام مچایا تھالیکن عدت کے دن پورے ہونے سے اک ہفتہ پہلےنیلمؔ کے ماموں کے ساتھ بدایوں جا پہنچی تھیبی بی کی صحنک، کونڈے، فاتحہ خوانیجنگ صفین، جمل اور بدر کے قصوںسیرت نبوی، ترک دنیا اور مولوی صاحب کے حلوے مانڈے میں کیا رشتہ ہے؟
تیرا اور میرا ساتھ عالم برزخ سے ہےعالم برزخ یعنی جہاں ارواح اک ساتھ تھیںمیں اور تم یعنی ہموہاں بھی اک ساتھ تھےپھر مجھے اور تمہیں اک ساتھشاید تہہ در تہہ اک ساتھ سلا دیا گیایہاں ہمارے لئے ماں کی کوکھ کو گرم کیا گیاوہاں میں اور یہاں تم نے اک ہیولے کی شکل لیفرض کرو چالیس دن کا اک ہفتہ ہو اور تین ہفتوں میںہمارا یعنی تمہارا اور میرا نور اک نور نے اس ہیولے میں پھونک دیاتم پوچھتی ہو کب سے محبت ہےتم سوچتی ہو کب سے آشنا ہیںجاناںہم دنیا کی دریافت سے پہلے آشنا ہیںہماری ارواح نے دریافت سے پہلے محبت کی تھیجسم تو اب میسر ہیںمگرہم کائنات کے وجود سے پہلے مل چکے ہیں
آج کہ جب سورج بھی نہیں تھاپھولوں کے کھلنے کا یہ موسم بھی نہیں تھااور فلک پر چاند کے چھا جانے کا ہفتہ بیت چکا تھادروازے کی گھنٹی نے وہ شور مچایاجس سے پورا گھر تھرایا
ہفتہ بھر میں اک دن ''ایسی لغزش'' کوئی عیب نہیںظاہر ہے پاپا ممی کو حاصل ''علم غیب'' نہیںکالی راتوں کی باتوں سے واقف ''صبح و شام'' نہیں
ہفتہ پہلے جب تیرافون آیا اور تو نے کہاجان جاناں آئی مس یوتب سے جانے کیوں دل میںایک عجب سی ہلچل ہےدل کے دریا میں جیسےکسی نے پتھر پھینک دیامجھ کو ایسا لگتا ہےپتھر تیری یاد کا تھاجس کے گرتے ہی پانیبے بس ہو کر اچھل گیاآنکھ کٹورا بھر آیانہیں یقیں تو دیکھ آ کرآج بھی میری آنکھوں سےاکثر پانی بہتا ہےتم سے کہتا رہتا ہےجاناںآئی مس یو ٹو
آنکھ جھپکتے ایک سیکنڈایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈساٹھ منٹ کا اک گھنٹہاک دن میں چوبیس گھنٹہسات دنوں کا اک ہفتہایک ماہ ہے تیس دن کابارہ مہینے کا اک سال۳۶۵ دن کا اک سالجنوری میں دن ہیں اکتیسفروری میں ہیں اٹھائیسچار سے سن تقسیم جو پورافروری اس میں انتیس دن کامارچ اکتیس اپریل تیسمئی اکتیس جون میں تیسمئی جون میں گرمی زیادہاس میں سب کو آئے پسینہاکتیس جولائی اکتیس اگستبرکھا رت میں رہنا مستتیس ستمبر اکتیس دسمبرسردی میں سب کانپیں تھر تھرماضی گزرا اب ہے حالایک صدی میں ہیں سو سال
ایک ہفتہ بھی ٹریفک کا منائے گی پولسجادہ پیمائی کے آداب سکھائے گی پولساک گدھا شہر میں سے چن کے جو لائے گی پولساس کو ہر طرح سے انسان بنائے گی پولسہفتہ بھر بعد وہ ہو جائے گا پہلا سا گدھالاکھ سر مارا مگر کچھ نہیں سیکھا نہ پڑا
لق و دق صحرا میں یا میدان میںیا عرب کے گرم ریگستان میںسایہ افگن ہے نہ واں کوئی چٹانسرد پانی کا نہ دریا کا نشانچلچلاتی دھوپ ہے اور چپ ہواواں پرندہ بھی نہیں پر مارتاتو وہاں کے مرحلے کرتا ہے طےدن بہ دن اور ہفتہ ہفتہ پے بہ پےقیمتی اشیا ہیں تیری پشت پرتاجروں کا ریشم اور شاہوں کا زرتودہ تودہ تیرے اوپر لد رہاہے بھرا گویا جہاز پر بہاچند ہفتے جب کہ جاتے ہیں گزراور تھکا دیتا ہے راکب کو سفراونٹ! گھبراتا نہیں تو بار سےدیکھتا ہے اس کی جانب پیار سےگویا کہتا ہے کہ اے میرے سوارایک دن تو اور بھی ہمت نہ ہارہاں نہ بے دل ہو نہ رستے میں ٹھٹکصاف سر چشمہ ہے آگے دھر لپکمجھ کو آتی ہے ہوا سے بوئے آبناامیدی سے نہ کر تو اضطراباونٹ تو کرتا ہے اس کی رہبرییوں بنا دیتا ہے راکب کو جریآخرش منزل پہ پہنچاتا ہے تواور سوکھے خار و خس کھاتا ہے توصبر سے کرتا ہے طے راہ درازسچ کہا ہے تو ہے خشکی کا جہازالغرض تو ہے حلیم و خوش خصالتربیت میں چھوٹے بچوں کی مثال
ایک ہفتہ بعد اس کا سالانہ امتحاں تھالیکن علاج ہی میں ہفتہ وہ سارا گزرا
اب خدا کو بھی ذرا آرام کرنا چاہیئےاک زمانے سے مسلسل کر رہا ہےتین شفٹیںاور دنیا بھر کے تہواروں پہ بھیمل نہیں پائی کبھی رخصت اسےہفتہ واری یعنی وہ جو دا اینڈ پہ ایک چھٹیساری دنیا میں ہی دی جاتی ہے اباس کی وہ چھٹی ازل سے بند ہےسینکڑوں بیماریوں میںکام کرتے ہی اسے پایا ہے میں نے
تمہاری جامعہ پنجاب کی ہڑتال کا یہ چوتھا ہفتہ ہےزمینداروں نے پھر کچھ عورتوں کوگاؤں میں بندوق پر ننگا نچایا ہےانہیں گلیوں محلوں میں پھرایا ہےکہیں لاہور میں با ریش لڑکوں نےپروفیسر کو پیٹا ہےیہ خبریں اپنی بائٹ کھو چکی ہیںپرانی اور فرسودہ کہانی ہو چکی ہیںانہیں اندر کہیں پر ایک کالم تین لائن کی جگہ دے دو
شہر کے ہسپتال میں اس کوایک ہفتہ ہوا ہے آئے ہوئے''سات نمبر'' کا کانا ٹھیکیدارکانپتا تھا جو دیکھ کر نشتراس کے زخموں پہ آج کل وہ خوداپنے ہاتھوں سے پھائے رکھتی ہےلنگڑا بدھ سین ''گیارہ نمبر'' کااس کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیںگھونٹ کڑوی دوا کے پیتا ہے''پانچ نمبر'' کا دق زدہ شاعردیکھ کر اس کو شعر کہتا ہے
آج تیس ہےاور ہفتہ بھیجون کا مہینہ ہےکل بہت بارش ہوئی تھیآج بھی تو ہو رہی ہےوقت صبح کے چار ہوئے ہیںہاںاذاں ہو رہی ہےتم کیوں ساتھ ہوابھی ملے بھی نہیںپھر بھی سوچ رہا ہوںتمہیں کب چھوڑ کر جانا ہے
میں وقت کے چڑیا گھرجانوروں کے جنگلوں میں ان کیتمام تر ضرورتوں کے ساتھ دی گئی آزادیاور تمہارے دل کے کونے کھدروں میںمیرے جنون کو دی گئی آزاری میںکچھ زیادہ فرق نہیں دیکھتیسدھانے کے لئے انتظامیہ کی یومیہ اورہفتہ وار میٹنگ کے ذریعہ بے محابہ جانوروں کواصولوں کے مطابق سدھانے کا بھرپور عملنتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہےمگر مجھے اعتراف ہے کہ جنگلے کے اندر میریضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھا جا رہا ہےمیری خوراک اور پانی پابندی سے مقررہ وقت پرپہنچائی جا رہی ہےسلاخوں کے اندر کا پورا علاقہ میری دسترس میںدے دیا گیا ہےمگر تماش بینوں کے روایتی شوق سے پہنچنے والیاذیت سے تحفظ بھی دیا جا رہا ہےکھولیوں میں بقائے باہمی کے زریں اصول کے تحتدوسرے جنگلوں تک پہنچنے کے راستے بھی مسدودکر دئے گئے ہیںسبزے کائی پتھروں اور تالاب کے ذریعے مصنوعی دنیا کیبنت ایسی ضرور ہےکہ کوئی بھی اس پہ اصل ہونے کا دھوکاکھا سکتا ہےسو میں بھی اپنے آپ کو اس خوب صورت ماحولکا عادی بنانے کی مکمل کوشش کر رہی ہوں
میں ہی میں ہوں کوئی ہشیار کہے جاتا ہےوہ ہی وہ ہیں کوئی سرشار کہے جاتا ہےہمہ اوست اس کی خودی کے لئے مرکز اے دوستاس کا نادان انا بھی ہے متاع ہمہ اوستہوش افزا ہے مجھے غلغلۂ ہشیاریکاش سمجھے اسے تو بھی جرس بیداریانحصار من و تو ٹھیک نہیں سب سمجھیںوقت ہے خود کو سمجھنے کا یہی اب سمجھیںخود شناسی سے ہے امید کہ بن جائے گا کامورنہ اس حال زبوں کا ہے تباہی انجامنہ بصارت نہ بصیرت نہ عزیمت ہم میںکام کرنے کی نہیں نام کو ہمت ہم میںاک خودی تھی سو کیا اس کو بھی غفلت کے سپردزندگی کی ہوئی یہ لہر بھی یوں دریا برداس طرف دیکھ فریسان اروپا کی نمودآج بالفعل جو ثابت ہے وہ ان کا ہے وجودراز تقدیر کھلا ان کے عمل سے ان پراپنے در پے ہے فقط بے عملی کا چکرحسن کاری کا مذاق ان سے ہوا آئینہنئی دنیا کا یہ منظر ہے نیا آئینہایسی وحدت پہ نہ ہو کس لئے کثرت شیداایک منزل سے ہیں ہفتا و منازل پیداان کی دنیا ہے نئی اپنی پرانی دنیابن گئی اپنے لئے رام کہانی دنیااور باتوں میں تو کیا خاک ملے گی جدتجب زباں میں بھی گوارا نہیں کوئی جدتچشم براہ نظر آتے ہیں وہ نقد نگارجن کی فطرت کو اپج سے نہیں بالکل سروکارنئی ترکیب اگر ان کو کہیں مل جائےبرہم اتنے ہوں کہ پامال زمیں ہل جائےپھر یہ ہیں اور ادب سوز مداراتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
بیسویں صدی کے آخری برسوں میںایک گہراتی ہوئی شام کوجب پرندوں اور پتوں کا رنگ سیاہ ہو چکا تھااور دکھ کا رنگ ہر رنگ پر غالب تھاماں ٹوٹ چکی تھیمحبوبہ روٹھ چکی تھیہفتہ وار تعطیل کی فراغت سے مطمئنسرشاری کے ایک لمحے کو بے قرارشاعرلکھنے بیٹھاگرد و پیش کی دنیانہایت آہستگی سےخفیف پردوں سے چھنتی ہوئیغائب ہو گئیاور پوری کائنات محدود ہو کرمیز کے رقبے میں سمٹ آئیشاعر نا معلوم کتنے زمانوں تکمہبوط بیٹھا فضا کی سرگوشیاں سنتا رہاسائیں سائیں کرتی خاموشی میںمعتبر الفاظ کی تلاش و جستجو میںغلطاں و پیچاںکہ یک لخت رات کی شہ رگ سےکئی خون کے فوارے چھوٹےاور سسکتی سیڑھیوں چیختے دروازوں کے آہنگ پےمیز پر پڑی کانچ سے جھانکتیمارکس کی تصویروں پراک تارا بجاتے ہوئے نیپالی بچے کی تصویراور پاش کی نظموں پرموسلا دھار آنسوؤں کی بارش ہونے لگیاور باہر رات کی تاریکی میں کتے بھونکنے لگے
یہ دستی پارچہ بافی ہمارے گھر کی صنعت ہےیہ صنعت افتخار قوم ہے بھارت کی عظمت ہےیہی صنعت ہمیں بخشے گی خوشیاں اور خوشحالیاسی فن سے ہمارے گھر میں ہوگی فارغ البالیہماری دست بافی بھا گئی ہے ذوق والوں کوبہت مرغوب ہیں کپڑے ہمارے مہ جمالوں کوبناوٹ میں نمایاں چند صدیوں کے خزانے ہیںایلورا کے نمونے ہیں اجنتا کے فسانے ہیںکہیں ہیں نقش مغلوں راجپوتوں کی ثقافت کےکہیں منظر ہیں دل کش ہند کی قومی وجاہت کےزباں زد ہو رہی ہے آج کل ان کی دلآویزیبڑا دل کش ہے ان کپڑوں کا طرز رنگ آمیزیوہ امریکہ ہو یا یورپ ہر اک جا اس کا چرچا ہےہماری دست بافی کا جہاں میں بول بالا ہےمبارک طاہرہؔ ہفتہ منانا دست کاروں کوخدا آباد رکھے ملک کے ان ہونہاروں کو
جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیامرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیاتمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیایہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
مگر ناظر ہمارا سوختہ صلب آخری نساب اب مرنے ہی والا ہےبس اک پل ہف صدی کا فیصلہ کرنے ہی والا ہےسنو زریونؔ بس تم ہی سنو یعنی فقط تم ہیوہی راحت میں ہے جو عام سے ہونے کو اپنا لےکبھی کوئی بھی پر ہو کوئی بہمنؔ یار یا زینوؔتمہیں بہکا نہ پائے اور بیرونی نہ کر ڈالےمیں ساری زندگی کے دکھ بھگت کر تم سے کہتا ہوںبہت دکھ دے گی تم میں فکر اور فن کی نمو مجھ کوتمہارے واسطے بے حد سہولت چاہتا ہوں میںدوام جہل و حال استراحت چاہتا ہوں میںنہ دیکھو کاش تم وہ خواب جو دیکھا کیا ہوں میںوہ سارے خواب تھے قصاب جو دیکھا کیا ہوں میںخراش دل سے تم بے رشتہ بے مقدور ہی ٹھہرومرے جحیمیم ذات ذات سے تم دور ہی ٹھہروکوئی زریونؔ کوئی بھی کلرک اور کوئی کارندہکوئی بھی بینک کا افسر سینٹر کوئی پایندہہر اک حیوان سرکاری کو ٹٹو جانتا ہوں میںسو ظاہر ہے اسے شے سے زیادہ مانتا ہوں میںتمہیں ہو صبح دم توفیق بس اخبار پڑھنے کیتمہیں اے کاش بیماری نہ ہو دیوار پڑھنے کیعجب ہے سارترؔ اور رسلؔ بھی اخبار پڑھتے تھےوہ معلومات کے میدان کے شوقین بوڑھے تھےنہیں معلوم مجھ کو عام شہری کیسے ہوتے ہیںوہ کیسے اپنا بنجر نام بنجر پن میں بوتے ہیںمیں ''ار'' سے آج تک اک عام شہری ہو نہیں پایااسی باعث میں ہوں انبوہ کی لذت سے بے مایہمگر تم اک دو پایہ راست قامت ہو کے دکھلاناسنو راے دہندہ بن ہوئے تم باز مت آنافقط زریونؔ ہو تم یعنی اپنا سابقہ چھوڑوفقط زریونؔ ہو تم یعنی اپنا لاحقہ چھوڑومگر میں کون جو چاہوں تمہارے باب میں کچھ بھیبھلا کیوں ہو مرے احساس کے اسباب میں کچھ بھیتمہارا باپ یعنی میں عبث میں اک عبث تر میںمگر میں یعنی جانے کون اچھا میں سراسر میںمیں کاسہ باز و کینہ ساز و کاسہ تن ہوں کتا ہوںمیں اک ننگین بودش ہوں پہ تم تو سر منعم ہوتمہارا باپ روح القدس تھا تم ابن مریم ہو
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books