aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "inning"
کھیلنے آئے دونوں کرکٹ بندر ہاتھیان کے پیچھے تھے جنگل کے سارے ساتھیکیپٹن تھا اک ٹیم کا ہاتھی مست قلندردوسری ٹیم کا کیپٹن بن بیٹھا تھا بندربندر یہ تھے قسمت والے جیتے ٹاسفوراً چیتے کو بلوایا اپنے پاساوپن کرنے اک جانب سے آیا شیرجوش میں آ کر لگایا اس نے رنوں کا ڈھیراک اوور میں بنا گیا وہ سولہ رنسترہ گیندوں میں رن اس کے ستاوناس پاری میں دھوم دھڑکا مچا گیا وہچائے سے پہلے ڈبل سینچری بنا گیا وہدیکھ کے اپنی ٹیم کی درگت ہاتھی چونکاخود کرنے بالنگ کور سے آیا دوڑاپہلی بال ہی چیتے کے اسٹمپ کو مارادوسری بال میں شیر ڈریسنگ روم سدھاراتیسری بال پہ سانبھر جی نے کیچ دیاچوتھی بال پہ ریچھ بچارا بولڈ ہوااک اوور میں چار وکٹ تھے زیرو رنہاتھی نے رکارڈ بنا ڈالا اے ونایک اننگ میں آٹھ وکٹ کیپر کے کیچننھا سا خرگوش ہوا مین آف دی میچدو سو بیس پہ بندر جی کی ٹیم آل آؤٹپہلے روز مچھندر جی کی ٹیم آل آؤٹدوسرے دن ہاتھی کے اترے بلے بازبلے بازی میں لیکن نہ تھے ممتازبندر جی نے فالو آن کی شیخی ماریسوچا ختم کریں گے ان کی جلدی پاریہاتھی آیا دو ساتھی آؤٹ ہونے پروہ چکرایا اپنی دو وکٹیں کھونے پرہاتھی کے آنے سے پاری سنبھل گئی تھیویسے بھی اب پچ کی حالت بدل گئی تھیہاتھی آیا چوکے چھکے مارا خوببندر دوڑا ادھر ادھر بیچارہ خوبتین سو تیرہ بنا کے ہاتھی ناٹ آؤٹ تھااپنے کرتب دکھا کے ہاتھی ناٹ آؤٹ تھادو وکٹوں پہ لگا تھا چھ سو رنوں کا ڈھیرپھر پاری ڈکلیئر کرنے میں کیا دیردوسری پاری میں بندر کی اڑی ہنسیاسی ہی رن بنا کے پوری ٹیم گئیتین سو رن اور دس وکٹوں سے مات ہوئیجیت ہوئی ہاتھی کی اونچی بات ہوئی
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نورسنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گامبدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستورنشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرامجگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلنکسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیںکہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئیابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیںابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئینجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئیچلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ہر جذب نہاں پر رو دیناآہنگ طرب پر جھک جانا آواز فغاں پر رو دینابربط کی صدا پر رو دینا مطرب کے بیاں پر رو دینا
سنا ہے بجھتے بجھتے بھی تمہارے سرد و مردہ لب سےایک شعلہ شعلۂ یاقوت فام و رنگ و امید فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا
کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیبات بے بات ہنستی ہوئیاپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیںجو خاموش تھیںان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھیان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچیہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبرریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھیاور میں سوچتی تھیخدایا! یہ ہم لڑکیاںکچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیںخواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!
چمک دکھاتے ہیں ذرے اب آسمانوں کوزبان مل گئی ہے سارے بے زبانوں کوجو ظلم سہتے تھے وہ اب حساب مانگتے ہیںسوال کرتے ہیں اور پھر جواب مانگتے ہیںیہ کل کی بات ہے صدیوں پرانی بات نہیںکہ کل تلک تھا یہاں کچھ بھی اپنے ہاتھ نہیںودیشی راج نے سب کچھ نچوڑ ڈالا تھاہمارے دیش کا ہر کرگھا توڑ ڈالا تھاجو ملک سوئی کی خاطر تھا اوروں کا محتاجہزاروں چیزیں وہ دنیا کو دے رہا ہے آجنیا زمانہ لیے اک امنگ آیا ہےکروڑوں لوگوں کے چہرے پہ رنگ آیا ہےیہ سب کسی کے کرم سے نہ ہے عنایت سےیہاں تک آیا ہے بھارت خود اپنی محنت سے
لیکن میں یہاں پھر آؤں گابچوں کے دہن سے بولوں گاچڑیوں کی زباں سے گاؤں گاجب بیج ہنسیں گے دھرتی میںاور کونپلیں اپنی انگلی سےمٹی کی تہوں کو چھیڑیں گیمیں پتی پتی کلی کلیاپنی آنکھیں پھر کھولوں گاسر سبز ہتھیلی پر لے کرشبنم کے قطرے تولوں گامیں رنگ حنا آہنگ غزلانداز سخن بن جاؤں گارخسار عروس نو کی طرحہر آنچل سے چھن جاؤں گاجاڑوں کی ہوائیں دامن میںجب فصل خزاں کو لائیں گیرہ رو کے جواں قدموں کے تلےسوکھے ہوئے پتوں سے میرےہنسنے کی صدائیں آئیں گیدھرتی کی سنہری سب ندیاںآکاش کی نیلی سب جھیلیںہستی سے مری بھر جائیں گیاور سارا زمانہ دیکھے گاہر قصہ مرا افسانہ ہےہر عاشق ہے سردارؔ یہاںہر معشوقہ سلطانہؔ ہے
رفتار ہے کہ چاندنی راتوں میں موج گنگیا بھیرویں کی پچھلے پہر قلب میں امنگیہ کاکلوں کی تاب ہے یہ عارضوں کا رنگجس طرح جھٹپٹے میں شب و روز کی ترنگروئے مبیں نہ گیسوئے سنبل قوام ہےوہ برہمن کی صبح یہ ساقی کی شام ہے
ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرےکچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرےدل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرےکچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے
مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےمجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہےمری فطرت کو خوں ریزی کے افسانے سے رغبت ہےمری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کیمرا محبوب نغمہ شور آہنگ بغاوت ہےمگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کومیں جب تاروں پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوںتصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیںتو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوںکوئی خوابوں میں خوابیدہ امنگوں کو جگاتی ہےتو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں پاتا ہوںمیں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہےمرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں سکتامجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نےمرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتاجواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہےمری باتوں میں رنگ پارسائی ہو نہیں سکتامری سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہےکہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کوغریبوں مفلسوں کو بے کسوں کو بے سہاروں کوسسکتی نازنینوں کو تڑپتے نوجوانوں کوحکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کوکسی کے چیتھڑوں کو اور شہنشاہی خزانوں کوتو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتامیں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
زندگی لفظ ہےموت بھی لفظ ہےزندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیںسانس بھی لفظ ہےسانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں کی محتاج ہےآگ پانی ہوا خاک سب لفظ ہیںآنکھ چہرہ جبیں ہاتھ لب لفظ ہیںصبح و شام و شفق روز و شب لفظ ہیںوقت بھی لفظ ہےوقت کا ساز و آہنگ بھیرنگ بھی سنگ بھیامن بھی جنگ بھیلفظ ہی لفظ ہیںپھول بھی لفظ ہےدھول بھی لفظ ہےلفظ قاتل بھی ہےلفظ مقتول بھیلفظ ہی خوں بہالفظ دست دعالفظ ارض و سماصبح فصل بہاراں بھی اک لفظ ہےشام ہجر نگاراں بھی اک لفظ ہےرونق بزم یاراں بھی اک لفظ ہےمحفل دل فگاراں بھی اک لفظ ہےمیں بھی اک لفظ ہوںتو بھی اک لفظ ہےآ کہ لفظوں کی صورت فضاؤں میں مل کر بکھر جائیں ہماک نیا لفظ تخلیق کر جائیں ہمآ کہ مر جائیں ہم
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
وہ کیسی تاریک گھڑی تھیجب مجھ کو احساس ہوا تھامیں تنہا ہوںاس دن بھی سیدھا سادہ سورج نکلا تھاشہر میں کوئی شور نہیں تھاگھر میں کوئی اور نہیں تھااماں آٹا گوندھ رہی تھیںابا چارپائی پر بیٹھے اونگھ رہے تھےدھیرے دھیرے دھوپ چڑھی تھیاور اچانک دل میں یہ خواہش ابھری تھیمیں دنیا سے چھٹی لے لوںاپنے کمرے کو اندر سے تالا دے کر کنجی کھو کرزور سے چیخوں، چیختا جاؤںلیکن کوئی نہ سننے پائےچاقو سے ایک ایک رگ و ریشے کو کاٹوںاور بھیانک سچائی کا دریا پھوٹےہر کپڑے کو آگ لگا دوںشعلوں میں ننگے پن کا سناٹا کودےوہ دن تھا اور آج کا دن ہےکمرے کے اندر سے تالا لگا ہوا ہےکنجی گم ہےمیں زوروں سے چیخ رہا ہوںمیرے جسم کا ایک ایک ریشہ کٹا ہوا ہےسب کپڑوں میں آگ لگی ہےباہر سب پہلے جیسا ہےکوئی نہیں جو کمرے کا دروازہ توڑےکوئی نہیں جو اپنا کھیل ذرا سا چھوڑے
وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےدھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہوکس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہکبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگےجیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہکسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگےجیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھمکہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھراس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوںوہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گاجیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہنسرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کوگاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہبھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسےاور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہکہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہےجو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے
کب تک مجھ سے پیار کرو گےکب تک؟جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گاجب تک میرا رنگ ہے تازہجب تک میرا انگ تنا ہےپر اس کے آگے بھی تو کچھ ہےوہ سب کیا ہےکسے پتہ ہےوہیں کی ایک مسافر میں بھیانجانے کا شوق بڑا ہےپر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک
چراغ دیر فانوس حرم قندیل رہبانییہ سب ہیں مدتوں سے بے نیاز نور عرفانینہ ناقوس برہمن ہے نہ آہنگ ہدیٰ خوانیمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
ایک بوڑھا گدھا دیوار کے سائے میں کبھیاونگھ لیتا ہے ذرا بیٹھ کے جاتے جاتےیا مسافر کوئی آ جاتا ہے وہ بھی ڈر کرایک لمحے کو ٹھہر جاتا ہے آتے آتے
اس بار وہ ملا تو عجب اس کا رنگ تھاالفاظ میں ترنگ نہ لہجہ دبنگ تھااک سوچ تھی کہ بکھری ہوئی خال و خط میں تھیاک درد تھا کہ جس کا شہید انگ انگ تھااک آگ تھی کہ راکھ میں پوشیدہ تھی کہیںاک جسم تھا کہ روح سے مصروف جنگ تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books