aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "insaaf"
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
بے درد! ذرا انصاف تو کر اس عمر میں اور مغموم ہے وہپھولوں کی طرح نازک ہے ابھی تاروں کی طرح معصوم ہے وہ
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمےفرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
گاندھیؔ ہو کہ غالبؔ ہو انصاف کی نظروں میںہم دونوں کے قاتل ہیں دونوں کے پجاری ہیں
اس کے مرمر میں سیہ خون جھلک جاتا ہےایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
دیوار کو آ توڑیں بازار کو آ ڈھائیںانصاف کی خاطر ہم سڑکوں پہ نکل آئیں
جن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے تو
باغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاں
مجھ کو معلوم ہے معصوم ہے مظلوم ہے توتجھ کو انصاف دلاؤں تو دلاؤں کیسے
آس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولا
جب تجھ سے نہ سلجھیں ترے الجھے ہوئے دھندےبھگوان کے انصاف پہ سب چھوڑ دے بندے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
پارہ پارہ ہو جائے گامیرا انصاف کرے گا وہ
اب صاحب انصاف ہے خود طالب انصافمہر اس کی ہے میزان بدست دگراں ہے
خاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسے
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائےجرموں کو ٹھیک تولے
واں سب اہل درد ہیں سب صاحب انصاف ہیںرہبر آگے جا چکا راہیں بھی تیری صاف ہیں
ہم چپ ہیں لیکن فطرت کا انصاف دہائی دیتا ہے
جس جگہ کٹتا ہے سر انصاف کا ایمان کاروز و شب نیلام ہوتا ہے جہاں انسان کا
ایسا نہ ہو کہ اس کے دربار میں پکارےایسا نہ ہو کہ اس کے انصاف کا ترازو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books