پتھر

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار

    ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں

    میں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکن

    کون سے رنگ کا پتھر ترے کام آئے گا

    سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا

    یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر

    جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے

    کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی

    جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے

    اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیب سفید

    اس کے مرمر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے

    ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر

    ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے

    جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں

    جتنی اقدار ہیں اس دور کی سب پتھر ہیں

    سبزہ و گل بھی ہوا اور فضا بھی پتھر

    میرا الہام ترا ذہن رسا بھی پتھر

    اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے

    ہاتھ پتھر ہیں ترے میری زباں پتھر ہے

    ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی

    RECITATIONS

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    احمد ندیم قاسمی

    پتھر احمد ندیم قاسمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY