aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "israaf"
روشنائی کا شاندار اسرافسیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبے
ہمیں آزادی کی یہ صدی عاریتاً ملی ہےاس کا اسراف احتیاط مانگے گا
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
طلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگا
بے درد! ذرا انصاف تو کر اس عمر میں اور مغموم ہے وہپھولوں کی طرح نازک ہے ابھی تاروں کی طرح معصوم ہے وہ
کہ حور و ملائک وہ جنات میںکیا ہے تجھے اشرف المخلوقات
اب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیںمیں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیں
بتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات
تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگریہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمےفرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر
جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازل
میں ترے شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوںتیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں
گاندھیؔ ہو کہ غالبؔ ہو انصاف کی نظروں میںہم دونوں کے قاتل ہیں دونوں کے پجاری ہیں
ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیںجس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے
اس کے مرمر میں سیہ خون جھلک جاتا ہےایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ٹوٹ بھی تو سکتا ہےتم بھی افتخار عارف
دیوار کو آ توڑیں بازار کو آ ڈھائیںانصاف کی خاطر ہم سڑکوں پہ نکل آئیں
اشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books