aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jazba"
وہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤںاب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
دبے گی کب تلک آواز آدم ہم بھی دیکھیں گےرکیں گے کب تلک جذبات برہم ہم بھی دیکھیں گےچلو یوں ہی سہی یہ جور پیہم ہم بھی دیکھیں گے
سفر حیات کا آسان ہو ہی جاتا ہےاگر ہو دل کو سہارا کسی کی چاہت کاوہ پیار جس میں نہ ہو عقل و دل کی یکجہتیکسی طریق سے جذبہ نہیں محبت کاہزاروں سال میں تہذیب جسم نکھری ہےبجا کہ جنس تقاضا ہے ایک فطرت کا
یہ آئے دن کے ہنگامےیہ جب دیکھو سفر کرنایہاں جانا وہاں جانااسے ملنا اسے ملناہمارے سارے لمحےایسے لگتے ہیںکہ جیسے ٹرین کے چلنے سے پہلےریلوے اسٹیشن پرجلدی جلدی اپنے ڈبے ڈھونڈتےکوئی مسافر ہوںجنہیں کب سانس بھی لینے کی مہلت ہےکبھی لگتا ہےتم کو مجھ سے مجھ کو تم سے ملنے کاخیال آئےکہاں اتنی بھی فرصت ہےمگر جب سنگ دل دنیا میرا دل توڑتی ہے توکوئی امید چلتے چلتےجب منہ موڑتی ہے توکبھی کوئی خوشی کا پھولجب اس دل میں کھلتا ہےکبھی جب مجھ کو اپنے ذہن سےکوئی خیال انعام ملتا ہےکبھی جب اک تمنا پوری ہونے سےیہ دل خالی سا ہوتا ہےکبھی جب درد آ کے پلکوں پہ موتی پروتا ہےتو یہ احساس ہوتا ہےخوشی ہو غم ہو حیرت ہوکوئی جذبہ ہواس میں جب کہیں اک موڑ آئے تووہاں پل بھر کوساری دنیا پیچھے چھوٹ جاتی ہےوہاں پل بھر کواس کٹھ پتلی جیسی زندگی کیڈوری ٹوٹ جاتی ہےمجھے اس موڑ پربس اک تمہاری ہی ضرورت ہےمگر یہ زندگی کی خوب صورت اک حقیقت ہےکہ میری راہ میں جب ایسا کوئی موڑ آیا ہےتو ہر اس موڑ پر میں نےتمہیں ہمراہ پایا ہے
میں نے چاہا تھا اسے روح کی راحت کے لیےآج وہ جان کا آزار بنی بیٹھی ہےمیری آنکھوں نے جسے پھول سے نازک سمجھااب وہ چلتی ہوئی تلوار بنی بیٹھی ہےہم سفر بن کے جسے ناز تھا ہم راہی پررہزنوں کی وہ طرفدار بنی بیٹھی ہےکسی افسانے کا کردار بنی بیٹھی ہےاس کی معصومیت دل پہ بھروسہ تھا مجھےعزم سیتا کی قسم عصمت مریم کی قسمیاد ہیں اس کے وہ ہنستے ہوئے آنسو مجھ کوخندۂ گل کی قسم گریۂ شبنم کی قسماس نے جو کچھ بھی کہا میں نے وہی مان لیاحکم حوا کی قسم جذبۂ آدم کی قسمپاک تھی روح مری چشمۂ زمزم کی قسممیں نے چاہا تھا اسے دل میں چھپا لوں ایسےجسم میں جیسے لہو سیپ میں جیسے موتیعمر بھر میں نہ جھپکتا کبھی اپنی آنکھیںمیرے زانوں پہ وہ سر رکھ کے ہمیشہ سوتیشمع یک شب تو سمجھتا ہے اسے ایک جہاںکاش ہو جاتی وہ میرے لیے جیون جوتیدر بدر اس کی تمازت نہ پریشاں ہوتیمیں اسے لے کے بہت دور نکل جاؤں مگروہ مری راہ میں دیوار بنی بیٹھی ہےزندگی بھر کی پرستش اسے منظور نہیںوہ تو لمحوں کی پرستار بنی بیٹھی ہےمیں نے چاہا تھا اسے روح کی راحت کے لیےوہ مگر جان کا آزار بنی بیٹھی ہےکسی افسانے کا کردار بنی بیٹھی ہے
درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیںزخم دل جاگ سکے نشتر غم رقص کرےجو بھی سانسوں میں گھلا ہے اسے عریاں نہ کروچپ بھی شعلہ ہے مگر کوئی نہ الزام دھرےایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہوئے بتجذبۂ کاوش خالق کو نگوں سار کریںمو قلم حلقۂ ابرو کو بنا دے خنجرلفظ نوحوں میں رقم مدح رخ یار کریںرقص مینا سے اٹھے نغمۂ رقص بسملساز خود اپنے مغنی کو گنہ گار کریں
زبان ہند ہے اردو تو ماتھے کی شکن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہےمری مظلوم اردو تیری سانسوں میں گھٹن کیوں ہےتیرا لہجہ مہکتا ہے تو لفظوں میں تھکن کیوں ہےاگر تو پھول ہے تو پھول میں اتنی چبھن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہےیہ نانکؔ کی یہ خسروؔ کی دیاشنکرؔ کی بولی ہےیہ دیوالی یہ بیساکھی یہ عید الفطر ہولی ہےمگر یہ دل کی دھڑکن آج کل دل کی جلن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہےیہ نازوں کی پلی تھی میرؔ کے غالبؔ کے آنگن میںجو سورج بن کے چمکی تھی کبھی محلوں کے دامن میںوہ شہزادی زبانوں کی یہاں بے انجمن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہےمحبت کا سبھی اعلان کر جاتے ہیں محفل میںکہ اس کے واسطے جذبہ ہے ہمدردی کا ہر دل میںمگر حق مانگنے کے وقت یہ بیگانہ پن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہےیہ دوشیزہ جو بازاروں سے اٹھلاتی گزرتی تھیلبوں کی نازکی جس کی گلابوں سی بکھرتی تھیجو تہذیبوں کے سر کی اوڑھنی تھی اب کفن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہےمحبت کا اگر دعویٰ ہے تو اس کو بچاؤ تمجو وعدہ کل کیا تھا آج وہ وعدہ نبھاؤ تماگر تم رام ہو تو پھر یہ راون کا چلن کیوں ہےوطن میں بے وطن کیوں ہے
درد و غم حیات کا درماں چلا گیاوہ خضر عصر و عیسیٔ دوراں چلا گیاہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیاانساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیارقصاں چلا گیا نہ غزل خواں چلا گیاسوز و گداز و درد میں غلطاں چلا گیابرہم ہے زلف کفر تو ایماں ہے سرنگوںوہ فحر کفر و نازش ایماں چلا گیابیمار زندگی کی کرے کون دل دہینباض و چارہ ساز مریضاں چلا گیاکس کی نظر پڑے گی اب عصیاں پہ لطف کیوہ محرم نزاکت عصیاں چلا گیاوہ راز دار محفل یاراں نہیں رہاوہ غم گسار بزم عریفاں چلا گیااب کافری میں رسم و راہ دلبری نہیںایماں کی بات یہ ہے کہ ایماں چلا گیااک بے خود سرور دل و جاں نہیں رہااک عاشق صداقت پنہاں چلا گیابا چشم نم ہے آج زلیخائے کائناتزنداں شکن وہ یوسف زنداں چلا گیااے آرزو وہ چشمۂ حیواں نہ کر تلاشظلمات سے وہ چشمۂ حیواں چلا گیااب سنگ و خشت و خاک و خذف سر بلند ہیںتاج وطن کا لعل درخشاں چلا گیااب اہرمن کے ہاتھ میں ہے تیغ خوں چکاںخوش ہے کہ دست و بازوئے یزداں چلا گیادیو بدی سے معرکۂ سخت ہی سہییہ تو نہیں کہ زور جواناں چلا گیاکیا اہل دل میں جذبۂ غیرت نہیں رہاکیا عزم سر فروشیٔ مرداں چلا گیاکیا باغیوں کی آتش دل سرد ہو گئیکیا سرکشوں کا جذبۂ پنہاں چلا گیاکیا وہ جنون و جذبۂ بیدار مر گیاکیا وہ شباب حشر بداماں چلا گیاخوش ہے بدی جو دام یہ نیکی پہ ڈال کےرکھ دیں گے ہم بدی کا کلیجہ نکال کے
تیرے بستر پہ مری جان کبھیبے کراں رات کے سناٹے میںجذبۂ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوشاور لذت کی گراں باری سےذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کیاور کہیں اس کے قریبنیند، آغاز زمستاں کے پرندے کی طرحخوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیےاپنے پر تولتی ہے، چیختی ہےبے کراں رات کے سناٹے میں!تیرے بستر پہ مری جان کبھیآرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میںظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!
کس درجہ فسوں کار وہ اللہ غنی ہےکیا موجۂ تابندگی و سیم تنی ہےانداز ہے یا جذبۂ گردوں زدنی ہےآواز ہے یا بربط ایماں شکنی ہےجنگل کی سیہ رات ہے یا زلف گھنی ہےکیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے
بیزار فضا درپئے آزار صبا ہےیوں ہے کہ ہر اک ہمدم دیرینہ خفا ہےہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسماب سیر کے قابل روش آب و ہوا ہےامڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برساتچھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہےوہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحیہر کاسۂ مے زہر ہلاہل سے سوا ہےہاں جام اٹھاؤ کہ بیاد لب شیریںیہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہےاس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہےمقصود رہ شوق وفا ہے نہ جفا ہےاحساس غم دل جو غم دل کا صلہ ہےاس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہےہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریںہر پھول تری یاد کا نقش کف پا ہےہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنمڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہےہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تکہر حرف تمنا ترے قدموں کی صدا ہےتعزیر سیاست ہے نہ غیروں کی خطا ہےوہ ظلم جو ہم نے دل وحشی پہ کیا ہےزندان رہ یار میں پابند ہوئے ہمزنجیر بکف ہے نہ کوئی بند بپا ہے''مجبوری و دعویٔ گرفتارئ الفتدست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے''
کہ اس کے ہنسنے کا انداز یہ بتاتا ہےہوئی نہیں ہے غم دل سے رسم و راہ ابھیپڑی نہیں ہے کوئی چوٹ ابھی رگ جاں پرکسی نگاہ سے الجھی نہیں نگاہ ابھیوہ ایک عام سی لڑکی اک ایسا جذبہ ہےملی نہیں جسے الفاظ میں پناہ ابھیوہ ایک عام سی لڑکی ہے جیسے چھائی ہوئیمرے جوان خیالوں پہ بے خودی کی طرحخیال آتا ہے اک پھول بننے والی ہےوہ کمسنی جو ہے منہ بند سی کلی کی طرحجو رنگ بن کے ہے محبوس اس کے پیکر میںوہ بوئے حسن تو پھیلے گی روشنی کی طرح
لفظوں کی دکانوں پرجذبۂ صداقت کیاخون دل دیا میں نےخون دل کی قیمت کیا
اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےجہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سےکلی سی اک نمایاں ہو رہی ہےجہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخنئے پتے پہن کر تن گئی ہےخزاں سے رک سکا کب موسم گلیہی اصل اصول زندگی ہےاگر ہے جذبۂ تعمیر زندہکھنڈر سے کل جہاں بکھرے پڑے تھےوہیں سے آج ایواں اٹھ رہے ہیںجہاں کل زندگی مبہوت سی تھیوہیں پر آج نغمے گونجتے ہیںیہ سناٹے سے لی ہے سمت ہجرتیہی اصل اصول زندگی ہےاگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےرہے یخ بستگی کا خوف جب تکشعاعیں برف پر لرزاں رہیں گینہ دھیرے جم نہیں پائیں گے جب تکچراغوں کی لویں رقصاں رہیں گیبشر کی اپنی ہی تقدیر سے جنگیہی اصل اصول زندگی ہےاگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے
تہ بہ تہ دل کی کدورتمیری آنکھوں میں امنڈ آئی تو کچھ چارہ نہ تھاچارہ گر کی مان لیاور میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیامیں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیااور اب ہر شکل و صورتعالم موجود کی ہر ایک شےمیری آنکھوں کے لہو سے اس طرح ہم رنگ ہےخورشید کا کندن لہومہتاب کی چاندی لہوصبحوں کا ہنسنا بھی لہوراتوں کا رونا بھی لہوہر شجر مینار خوں ہر پھول خونیں دیدہ ہےہر نظر اک تار خوں ہر عکس خوں بالیدہ ہےموج خوں جب تک رواں رہتی ہے اس کا سرخ رنگجذبۂ شوق شہادت درد، غیظ و غم کا رنگاور تھم جائے تو کجلا کرفقط نفرت کا شب موت کاہر اک رنگ کے ماتم کا رنگچارہ گر ایسا نہ ہونے دےکہیں سے لا کوئی سیلاب اشکآب وضوجس میں دھل جائیں تو شاید دھل سکےمیری آنکھوں میری گرد آلود آنکھوں کا لہو
جذبۂ نصرت جمہور کی بڑھتی رو میںملک اور قوم کی دیواریں نہیں رہ سکتیں
میں نے اس نازک لمحے میںروح بشر کو نازاں دیکھانشہ و رقص کے پیچ و خم میںپیار کا جذبہ رقصاں دیکھاسارے جہاں کو خنداں دیکھاذکر نہیں یہ فرزانوں کاقصہ ہے اک دیوانوں کا
خوشیوں کے گیت گاؤ کہ پندرہ اگست ہےسب مل کے مسکراؤ کہ پندرہ اگست ہےہر سمت قہقہے ہیں چراغاں ہے ہر طرفتم خود بھی جگمگاؤ کہ پندرہ اگست ہےہر گوشۂ وطن کو نکھارو سنوار دومہکاؤ لہلہاؤ کہ پندرہ اگست ہےآزادیٔ وطن پہ ہوئے ہیں کئی نثارخاطر میں ان کو لاؤ کہ پندرہ اگست ہےرکھو نہ صرف خندۂ گل ہیں نگاہ میںکانٹوں کو بھی ہنساؤ کہ پندرہ اگست ہےروحیں امان و امن کی پیاسی ہیں آج بھیپیاس ان کی اب بجھاؤ کہ پندرہ اگست ہےشمع خلوص و انس کی مدھم ہے روشنیلو اور کچھ بڑھاؤ کہ پندرہ اگست ہےیہ عہد تم کرو کہ فسادات پھر نہ ہوںہاں آگ یہ بجھاؤ کہ پندرہ اگست ہےکھاؤ قسم کہ خون پلائیں گے ملک کودل سے قسم یہ کھاؤ کہ پندرہ اگست ہےہر حادثے میں اہل وطن مستعد رہیںوہ ولولہ جگاؤ کہ پندرہ اگست ہےاونچا رہے شرافت و اخلاق کا علمپرچم بلند اٹھاؤ کہ پندرہ اگست ہےہو درد دل میں جذبۂ حب وطن فزوںمفتوںؔ قلم اٹھاؤ کہ پندرہ اگست ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books