aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jumbish-e-lab"
ایک اک جنبش لب آہ و فغاں کا پیغامیہ سرابوں کے پجاری یہ غلاموں کے غلاممجلس جور و جفا کار گہہ دانہ و دامہائے یہ تیری خدائی کا جہاں سوز نظامہیں یہاں کتنے اجالوں پہ دھندلکوں کے غلافدہر ہے یا کوئی تصویر سیہ خانے کی
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے
دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا ہے اسے جلنے دواس آگ سے تم تو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوہر محفل میں ہم دونوں کی کیا کیا نہیں باتیں ہوتی ہیںان باتوں کا مفہوم ہے کیا تم کیا سمجھو تم کیا جانودل چل کے لبوں تک آ نہ سکا لب کھل نہ سکے غم جا نہ سکااپنا تو بس اتنا قصہ تھا تم اپنی سناؤ اپنی کہووہ شام کہاں وہ رات کہاں وہ وقت کہاں وہ بات کہاںجب مرتے تھے مرنے نہ دیا اب جیتے ہیں اب جینے دو
ایک عجیب خواہش ہےاس زمیں کے کونے میںصرف مہ جبینوں کیسب کی سب حسینوں کیاپنی ایک بستی ہوزندگی جہاں ہر پل کھلکھلا کے ہنستی ہورنگ و نور کی بارشہر گھڑی برستی ہوسب غزال نینوں میںشوخ سی شرارت ہوان کی جنبش لب سےزندگی عبارت ہوخوشیوں کا جھمیلا ہوپلکوں پہ ستارے ہوںروشنی کا ریلا ہوخوشبوؤں کا میلہ ہواور مہ جبینوں کی اس حسین بستی میںایک صرف میرا ہیچوڑیوں کا ٹھیلہ ہو
اس بھرے شہر میں ہر چیز کی قیمت ٹھہریدرد بک جاتے ہیں جذبات بکا کرتے ہیںجگمگاتے ہوئے سکوں کے عوض دنیا میںکتنے شاعر ہیں جو دن رات بکا کرتے ہیںاک ترا شاعر خوددار نہیں بک سکتامیری محبوب ترا پیار نہیں بک سکتامیرے خاکوں میں ترے حسن کی تصویریں ہیںجنبش زلف تری جنبش لب تیری ہےمیرا حق کیا ہے جو نیلام اٹھاؤں ان کامیرے اشعار وہ دولت ہے جو اب تیری ہےاب یہ سرمایۂ اشعار نہیں بک سکتامیری محبوب ترا پیار نہیں بک سکتااپنے شعروں کا چمن نذر کیا ہے تجھ کواپنا انداز سخن نذر کیا ہے تجھ کودھڑکنیں میرے جواں دل کی بسی ہیں جس میںمیں نے وہ فکر وہ فن نذر کیا ہے تجھ کوکسی فن کار کا کردار نہیں بک سکتامیری محبوب ترا پیار نہیں بک سکتا
کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہےنہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہےحکیم جانے وہ کیسی حکمت سے آشنا تھاشجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھاعلیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا نا خدا تھامجھے تو بس صرف یہ خبر ہےوہ میرے مولا کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھاوہ ان کے دامان عاطفت میں پلا بڑھا تھااور اس کے دن رات میرے آقا کے چشم و ابرو و جنبش لب کے منتظر تھےوہ رات کو دشمنوں کے نرغے میں سو رہا تھا تو ان کی خاطرجدال میں سر سے پاؤں تک سرخ ہو رہا تھا تو ان کی خاطرسو اس کو محبوب جانتا ہوںسو اس کو مقصود مانتا ہوںسعادتیں اس کے نام سے ہیںمحبتیں اس کے نام سے ہیںمحبتوں کے سبھی گھرانوں کی نسبتیں اس کے نام سے ہیں
کیوں کہئے کسی سے کہ ہمیں کوئی پلائےقسمت میں اگر مے نہیں مل جائے گی چائےصہبا نہ ہو شبنم سہی چائے ہو کہ زہرابشے بس وہی جو غم زدہ کے غم کو بھلائےپینے کا سلیقہ ہو تو بے مول بھی پی لیںویرانہ بھی ہو کیف گہ صحرا بھی سرائےساقی کو ہے بے جنبش لب تشنہ لبی شاقکیوں ساقی گری کے کوئی یوں ناز اٹھائےہے کون بجز تیرے اے ساقی جو سنبھالےجب شدت نشہ ترے رندوں کو گرائےمے نوشی بھی ہے معرکہ آرائی کا اک عکسباطل سے جو ٹکرا نہ سکے شیشوں کو ٹکرائےمستی سہی لیکن ہے بلا خیرگئ جوشپیمانہ کی آغوش سے جو مے کو اڑائےآخر کسے اندازہ خمار شب دی کااب مے کدہ ویراں پڑا مے ہے کہاں آئےہاں تاش کے پتوں میں کچھ احباب تو مشغولجو منتشر یاد ہو دل کیسے بھلائے
شعر ہو جاتا ہے صرف اک جنبش لب سے نڈھالسانس کی گرمی سے پڑ جاتا ہے اس شیشے میں بال
اک کبھی نہ بیتنے والی شباک ہاتھ نہ آنے والا دناس شب سے جان چھڑانے میںاس دن کو ڈھونڈ کے لانے میںہم ریزہ ریزہ ہو کے رہےجو پایا تھا وہ کھو کے رہےاس پانے میں اس کھونے میںہونے میں اور نہ ہونے میںکچھ سود و زیاں کا ہاتھ ہے کیایا اور ہی کوئی بات ہے کیااس ساری اضافی باتوں میںبس ایک ہی بات ضروری ہےیاں شب کی سحر سے دوری ہےاس شب کے تسلسل میں پنہاںاک گھور اندھیرا جہل کا ہےجس جہل کی کالی آندھی نےجیون کے سچ کو چاٹ لیااور ہم نے اسی ویرانی میںاک اندھا جیون کاٹ لیااس کالے اندھے جیون میںغربت کی تیرہ بختی نےکچھ قسمت کے احسان نے بھیکچھ جبر وقت کی سختی نےانسان سے کیا کچھ چھینا ہےیہ جینا کیسا جینا ہےپسماندگیٔ جاں روح تلکدر آئی سیاہی اوڑھے ہوئےہم مقتل شب میں آ بیٹھےانکار کا دامن چھوڑے ہوئےانکار کہ جس کی جنبش لبہر شب کی سحر بن سکتی ہےیہ جرأت و نافرمانیٔ شببے بس کی سپر بن سکتی ہےپھر کیوں اس قتل گہہ شب میںآ بیٹھے ہیں جی ہار کے ہماقرار سے لب آسودہ سہیمنکر تو نہیں انکار کے ہم
سر رہ گزر مری داستاں کا یہ پیڑ ابشب منجمد شب بے زباںسے لپٹ کے سوئے گا صبح تکیہ وہ پیڑ ہےجسے سینچتا تھا میں خون سےدل منحرف کی ادائے حیلۂ نور سےاسے پھینکتا تھا میں بوٹیاںکبھی جسم کی کبھی ذہن کیکبھی روح کیمری آرزو مری آبرومرے نخل حرف نوا کبھیتری ایک جنبش لب مجھےمجھے زندگی سے عزیز تھیمری داستاں کا یہ پیڑ ابشب منجمد شب بے زباںسے لپٹ کے سوئے گا صبح تکجوں ہی آفتاب نوید نوسر گوش موج صدائے گل میں ڈھلا کبھیمیں دل و جگر کی متاع شیشہ گداز کودر واژگوں سے کروں گا پھراسی داستاں پہ نثار جسکا میں نخل سایہ طراز ہوںمرے زخم دلتری محفلوں ترے ہمہموں ترے قہقہوںکا میں ساز ہوں ترا راز ہوں
تیرے سینے میں ہے مضطر جنبش موج خیالچشمۂ بخشش ہے تیرا چشمۂ آب حیات
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہےپر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائےچپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ہےبوڑھی بھی نہیں اتنی اس طرح وہ تھک جائےاب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہےہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی ہےآسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!گھر بار، سمجھتی تھی، قلعہ ہے حفاظت کادیکھا کہ گرہستی بھی مٹی کا کھلونا ہےمٹی ہو کہ پتھر ہو ہیرا ہو کہ موتی ہوگھر بار کے مالک کا گھر بار پہ قبضہ ہےاحساس حکومت کے اظہار کا کیا کہنا!انعام ہے مذہب کا جو ہاتھ میں کوڑا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوار پہ ٹانگا تھا فرمان رفاقت کاکیا وقت کے دریا نے دیوار کو ڈھایا ہےفرمان رفاقت کی تقدیس بس اتنی ہےاک جنبش لب پر ہے، رشتہ جو ازل کا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دو بیٹوں کو کیا پالا ناداں یہ سمجھتی تھیاس دولت دنیا کی مالک وہی تنہا ہےپر وقت نے آئینہ کچھ ایسا دکھایا ہےتصویر کا یہ پہلو اب سامنے آیا ہےبڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہےکھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشہ ہےماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہےدیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!سوچا تھا بہن بھائی دریا ہیں محبت کےدیکھا کہ کبھی دریا رستہ بھی بدلتا ہےبھائی بھی گرفتار مجبوریٔ خدمت ہیںبہنوں پہ بھی طاری ہے قسمت کا جو لکھا ہےاک ماں ہے جو پیڑوں سے باتیں کیے جاتی ہےکہنے کو ہیں دس بچے اور پھر بھی وہ تنہا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
کشمکش سے مفر کب ہوا ہے جو ہوجنبش چشم ساقی کو پہچان لودل کے ہنستے لہو کی دعائیں سنوگردش چرخ کومے کے اک جام میں دیکھ لومے کشوتشنگی زندگی کی علامت ہےپیتے رہو
جنبش مژگاں جادو جادوسحر زدہ ہیں منظر ہر سو
جب بھی پرواز تخیل کا ہوا دل پر اثرچھیڑتا جاتا تھا نغمہ ساز محسوسات پرجنبش نوک قلم سے لفظوں کے لعل و گہریوں ابل پڑتے تھے گویا صفحۂ قرطاس پرجیسے وہ الفاظ کے موتی بکھیرے جائے ہےاس کا ہر اک لفظ دل کو آج بھی تڑپائے ہے
ایک جنبش نظر سے لچکتی کمر سے وہکیا کیا فسانے دل کے سناتی چلی گئی
زرد روچمن میںگرد و غبارانگڑائیاںلے رہا ہےخشک پتےمنتظر ہیںجنبش یک تار نفس کےاوردیدہ نمٹکٹکی باندھےراستہتک رہے ہیںقاصد کاجانے کبرہائی کا پروانہآئے گا
پیکر وفا کس نےجسم سے تراشا ہےزلف و عارض و لب میںپیرا کا تماشا ہے
کہ جیسے طائر ہوا کی لہروں پہ، جنبش پر سےداستان وجود لکھ دیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books