aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kadam"
ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاںہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
جب گھلی تیری راہوں میں شام ستمہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم
ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تمسہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں
اچھا ہے ابھی تک تیرا کچھ نام نہیں ہےتجھ کو کسی مذہب سے کوئی کام نہیں ہے
قدم قدم کھلے ہوئے ہیں مکر و فن کے مدرسےمگر یہ میری سادگی تو دیکھیے کہ آج بھی
اور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے
کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیک
زباں پر ہیں ابھی عصمت و تقدیس کے نغمےوہ بڑھ جاتی ہے اس دنیا سے اکثر اس قدر آگے
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میںنری بڑائی ہے! خوبی ہے اور کیا تجھ میں
نظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوںکیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو
تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہےکہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا
جب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہے
ختم ہو جائے جو دو چار قدم اور چلوموڑ پڑتا ہے جہاں دشت فراموشی کا
ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوںنہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزے
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
حضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوںحضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوں
ویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہ
قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھےکہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو
گئی تو سوگ میں ڈوبے قدم یہ کہہ کے گئےسفر ہے شرط شریک سفر ملے نہ ملے
اب جو تو شہر نگاراں میں قدم رکھے گاہر طرف کھلتے چلے جائیں گے چہروں کے گلاب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books