aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khalish"
ہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں رو رو کے دعائیں کرتے ہیںآنکھوں میں تصور دل میں خلش سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیںاے عشق یہ کیسا روگ لگا جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
عشق کا سر نہاں جان تپاں ہے جس سےآج اقرار کریں اور تپش مٹ جائےحرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرحآج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
خوشا وہ دور بے خودی کہ جستجوئے یار تھیجو درد میں سرور تھا تو بے کلی قرار تھیکسی نے زہر غم دیا تو مسکرا کے پی گئےتڑپ میں بھی سکوں نہ تھا، خلش بھی سازگار تھیحیات شوق کا وہی سراب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاںاس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوانکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سواسبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سواسوچتا ہوں کہ غم دل نہ سناؤں اس کوسامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروںخلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروںاس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروںسوچتا ہوں کہ جلا دے گی محبت اس کووہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گیخود تو وہ آتش جذبات میں جل جائے گیاور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گیسوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں اسے واقف الفت نہ کروں
چلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کاطلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہےخلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہےخمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہچلو چھوڑوکہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہچاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گامجھے احساس ہی کب تھاکہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گیچلو چھوڑووہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھےوہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گےتمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکنتمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیںچلو چھوڑوسفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سےچلو چھوڑومرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہےتم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دوتم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دومرے خوابوں کو مرنے دونئی تصویر دیکھوپھر نیا مکتوب لکھوپھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑومرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھومری یادوں سے کچے رابطے توڑوچلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
میں رنگوں میں ہوں کبھی برش میںکبھی کینوس پہ سجی ہوں میںمیں قوس قزح ہوں حروف کیالفاظ کی اک لڑی ہوں میںمجھے خود بھی اپنا پتا نہیںمیں کہاں نہیں اور کہاں ہوں میںاب تلاش کرنے سے فائدہمیں جو مل بھی جاؤں تو کیا بھلاپھر بھی ایک خلش سی ہےتیری جستجو صبح شام ہےیہ جو خواہشیں ہیں فضول سیاک عمر سے مرے ساتھ ہیںجو میں دامن ان سے چھڑا سکوںتو سکوں تصوف میں پا سکوںمگر شفاف پردے تصوف کے ہیںمجھے کس طرح سے چھپائیں گےمجھے قید کرنا محال ہےمیں مگن ہوں اپنی ہی ذات میںکون و مکاں سے بے خبرمجھے آرزو تھی کبھی ملےکوئی رازداں کوئی ہم نوامگر کبھی کوئی ایسا ملا نہیںجہاں رو سکوں کبھی رکھ کے سرجو ملا وہ اپنا ہی کاندھا ہےجہاں روتی ہوں میں جھکا کے سرمیں مہیب رات کا پہر ہوںنہیں سحر میرے نصیب میںیہ سحر تیری ہے تو رکھ اسےمیں تو سحر سے بہت دور ہوںمیں نہ ہاتھ اب کبھی آؤں گیمجھے ڈھونڈھنا بھی فضول ہےیہ جو راستے ہیں چہار سولے جائیں گے مجھے کو بہ کوبہت منزلیں ہیں یہاں وہاںمیری منزل ان میںکوئی نہیںہاں میری منزل نہیں کوئیمیں تو اپنی منزل آپ ہوں
لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتابیادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہابسب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خرابگزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آبیہ روداد ہے اپنے سفر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیاکتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیںموسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواںجس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولیایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترےہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیرجس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھیجیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرےخلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذابجس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھادست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماںبارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاںمہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئےاجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئےآج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیاکتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیںاب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزادست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزاتختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلشاب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہےراس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعدکون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعدآج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
ایک ذرہ کف خاکستر کاشرر جستہ کے مانند کبھیکسی انجانی تمنا کی خلش سے مسروراپنے سینے کے دہکتے ہوئے تنور کی لو سے مجبورایک ذرہ کہ ہمیشہ سے ہے خود سے مہجورکبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہےآب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھیاور بنتا ہے معانی کا خداوند کبھیوہ خداوند جو پابستۂ آنات نہ ہو!
میں نے ہر چند غم عشق کو کھونا چاہاغم الفت غم دنیا میں سمونا چاہاوہی افسانے مری سمت رواں ہیں اب تکوہی شعلے مرے سینے میں نہاں ہیں اب تکوہی بے سود خلش ہے مرے سینے میں ہنوزوہی بے کار تمنائیں جواں ہیں اب تکوہی گیسو مری راتوں پہ ہیں بکھرے بکھرےوہی آنکھیں مری جانب نگراں ہیں اب تککثرت غم بھی مرے غم کا مداوا نہ ہوئیمیرے بے چین خیالوں کو سکون مل نہ سکادل نے دنیا کے ہر اک درد کو اپنا تو لیامضمحل روح کو انداز جنوں مل نہ سکامیری تخیل کا شیرازہ برہم ہے وہیمیرے بجھتے ہوئے احساس کا عالم ہے وہیوہی بے جان ارادے وہی بے رنگ سوالوہی بے روح کشاکش وہی بے چین خیالآہ اس کشمکش صبح و مسا کا انجاممیں بھی ناکام مری سعی عمل بھی ناکام
فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوںسرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوںبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںبد نام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کراس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کرہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کربیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کرہر چیز کو بھلا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورتسلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورتاور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورتمرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورتسنولا گئی ہے صورتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںپنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کرگاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کریہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کرسلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کرہم نے نظر بچا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںراتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سبتالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سبجنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سبتو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سباور ہنستی جاتی ہیں سبسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کوتب راستے میں باہم وہ میری داستاں کودہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کواور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کوکہ چھیڑے اس بیاں کوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعتیہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورتآنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگتدو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالتاللہ تیری قدرتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوںبستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوںہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوںدیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوںدیوانہ بن گیا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیںکیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیںکمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیںکیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیںکیوں خوں فشانیاں ہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہےبے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہےدیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہےکس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہےناچار ہو رہا ہےسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہوکچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہوکیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہودیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہوبا حال زار کیوں ہوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںجاؤں شکار کو گر باہمرہان صحراکھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرابجلی کی روشنی کو جیسے میان صحراتاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحراحیرت کشان صحراسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کردیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کرشرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کرجاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کرکھیتوں میں چھپ چھپا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںگویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیںسلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیںان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیںالقصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیںشوق آفریں نگاہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کرسکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کریہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کرتم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کریہ گیت اسے سنا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاستاروں کے رخ سے نقاب اٹھ رہی تھیفضاؤں سے موج شباب اٹھ رہی تھیمئے زندگی جام مے نوش میں تھیوہ کیف مسرت، وہ لمحات رنگیںوہ احساس مستی وہ جذبات رنگیںوہ پر کیف عالم وہ دل کش نظارےوہ جلووں کے بہتے ہوئے خشک دھارےوہ نمکین آغاز شب اللہ اللہنمائش کی وہ تاب و تب اللہ اللہوہ باب مزمل پہ جشن چراغاںفلک پر ہوں جیسے ستارے درخشاںفضاؤں میں گونجے ہوئے وہ ترانےوہ جاں بخش نغمے وہ پر لطف گانےوہ ہر سمت حسن و لطافت کی جانیںوہ آراستہ صاف ستھری دکانیںکہیں پر ہے نظارہ کاری گری کاکہیں گرم ہوٹل ہے پیشاوری کابہ قدر سکوں وہ دلوں کا بہلناامیروں غریبوں کا یکجا ٹہلنانمایاں نمایاں وہ یاران کالجوہ عشرت بہ داماں جوانان کالجکوئی تیز دستی و چستی پہ نازاںکوئی صحت و تندرستی پہ نازاںکوئی حسن کی جلوہ ریزی پہ مائلکوئی شوخ نظروں کی تیزی پہ مائلادھر چشم حیراں کی نظارہ سازیادھر حسن والو کی جلوہ طرازیخراماں خراماں وہ ہمجولیوں میںنکلتی ہوئی مختلف ٹولیوں میںنقابوں میں وہ بے نقابی کا عالمجو لاتا ہے دل پر خرابی کا عالمکسی کا وہ چہرے سے آنچل اٹھاناکسی کا کسی سے نگاہیں چراناکبھی یک بیک چلتے چلتے ٹھہرنانگاہوں سے جلووں کی اصلاح کرناکبھی اک توجہ دکانوں کی جانبکبھی اک نظر نوجوانوں کی جانبتماشا غرض کامیاب آ رہا تھانمائش پہ گویا شباب آ رہا تھاادھر ہم بھی بزم تخیل سجا کرکھڑے ہو گئے ایک دکاں پہ آ کرنظر مل گئی دفعتاً اک نظر سےدھڑکنے لگا دل محبت کے ڈر سےادھر تو نظر سے جبیں سائیاں تھیںادھر سے بھی کچھ ہمت افزائیاں تھیںخلش دل کی دونوں کو تڑپا گئی تھیمحبت کی منزل قریب آ گئی تھیخیالات میں اس طرف اک تلاطملبوں پر ادھر ہلکا ہلکا تبسمنگاہوں سے عہد وفا ہو رہا تھااشاروں سے مطلب ادا ہو رہا تھاادھر عشق کے بام و در سج رہے تھےگھڑی میں جو دیکھا تو نو بج رہے تھےیکایک جواں کچھ مرے پاس آئےجو تھے آستینوں پہ بلے لگائےکہا اتنی تکلیف فرمائیے گانمائش سے تشریف لے جائیے گاغرض چل دئے گھر کو مجبور ہو کرمحبت کے جلووں سے معمور ہو کرہوئی جاری رہی تھی عجب حالت دلکوئی چھین لے جیسے پڑھتے میں ناولہم اس طرح باب مزمل سے نکلےلہو جیسے ٹوٹے ہوئے دل سے نکلےبہر حال اب بھی وہی ہے نمائشنوید طرب دے رہی ہے نمائشوہی جشن ہے اور وہی زندگی ہےمگر جیسے ہر شے میں کوئی کمی ہےارے او نگاہوں پہ چھا جانے والیمرے دل کو رہ رہ کے یاد آنے والیتری طرح جلوہ نما ہے نمائشترے حسن کا آئنا ہے نمائشنمائش میں تیری لطافت ہے پنہاںنمائش میں تیری نزاکت ہے پنہاںنگاہوں کو ناحق تری جستجو ہےیقیناً نمائش کے پردے میں تو ہے
تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےمجروح ہو بلا سے ترے حسن کا غرورپر تجھ کو چشم شوق نہ دیکھے خدا کرےکھو جائیں تیرے حسن کی رعنائیاں تمامتیری ادا کسی کو نہ بھائے خدا کرےمیری ہی طرح کشتئ دل ہو تری تباہطوفان اتنے زور کا اٹھے خدا کرےراہوں کے پیچ و خم میں رہے تا حیات گممنزل ترے قریب نہ آئے خدا کرےظلمت ہو تو ہو اور تری رہ گزار ہودنیا میں تیری صبح نہ پھوٹے خدا کرےتجھ پر نشاط و عیش کی راتیں حرام ہوںمر جائیں تیرے ساز کے نغمے خدا کرےآئیں نہ تیرے باغ میں جھونکے نسیم کےتیرا گل شباب نہ مہکے خدا کرےہر لمحہ تیری روح کو اک بے کلی سی ہواور بے کلی میں نیند نہ آئے خدا کرےہو تیرے دل میں میری خلش میری آرزومیرے بغیر چین نہ آئے خدا کرےتو جا رہی ہے بزم طرب میں تو خیر جاپر تیرا جی وہاں بھی نہ بہلے خدا کرےالمختصر ہوں جتنے ستم تجھ پہ ٹوٹ جائیںلیکن یہ ربط زیست نہ ٹوٹے خدا کرےجو کچھ میں کہہ گیا ہوں جنوں میں وہ سب غلطتجھ پر کوئی بھی آنچ نہ آئے خدا کرےتو ہے متاع قلب و نظر بے وفا سہیہے روشنیٔ داغ جگر بے وفا سہی
جو مضطرب تھی دل میں وہ آرزو بر آئیتکمیل آرزو نے دل کی خلش مٹائیجس ملک پر غلامی بن بن کے شام چھائیصبح مسرت اس کو اللہ نے دکھائیروز سعید آیا چھبیس جنوری کادور جدید لایا بھارت کی برتری کا
اس کے بکھرے ہوئے گیسو سائےلاج کی میٹھی جھجک بھی سایہاور بھی سائے تھے ہلکے گہرےکالی آنکھوں کی گھنیری پلکیںاپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیںاور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھادل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شےایک سایہ ہے لرزتا سایہاور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپایک سایہ ہی نظر آتی تھیایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہواور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھاسایہ خاموش رہا کرتا ہےاور اک لرزش بیتاب کے ہونے پہ بھی خاموشی ہیراہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھی
1یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہےیاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزریکون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیراک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزریکس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاںکاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاطان کو اک بار میں اے کاش رلا بھی سکتامیں کہ شاعر ہوں میں پیغام بر فطرت ہوںمیری تخئیل میں ہے ایک جہان بیداردسترس میں مری نظارۂ گلہائے چمنمیرے ادراک میں ہیں کن فیکوں کے اسرارمرے اشعار میں ہے قلب حزیں کی دھڑکنمیری نظموں میں مری روح کی دل دوز پکارپھر بھی رہ رہ کے کھٹکتی ہے مرے دل میں یہ باتکہ مرے پاس تو الفاظ کا اک پردہ ہےصرف الفاظ سے تصویر نہیں بن سکتیصرف احساس میں حالات کی تفسیر کہاںصرف فریاد میں زخموں کی وہ زنجیر کہاںایسی زنجیر کہ ایک ایک کڑی میں جس کیکتنی کھوئی ہوئی خوشیوں کے مناظر پنہاںکتنی بھولی ہوئی یادوں کے پر اسرار کھنڈرکتنے اجڑے ہوئے لوٹے ہوئے سنسان نگرکتنے آتے ہوئے جاتے ہوئے چہروں کے نقوشکتنے بنتے ہوئے مٹتے ہوئے لمحات کا رازکتنی الجھی ہوئی راہوں کے نشیب اور فراز2کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی مری عمر رواںآنکھ کھولی تو ہر اک سمت اندھیروں کا سماںرینگتی اونگھتی مغموم سی اک راہ گزارگرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاںگیسوئے شام سے لپٹی ہوئی غم کی زنجیرسینۂ شب سے نکلتی ہوئی فریاد و فغاںٹھنڈی ٹھنڈی سی ہواؤں میں وہ غربت کی تھکندر و دیوار پہ تاریک سے سائے لرزاںکتنی کھوئی ہوئی بیمار و فسردہ آنکھیںٹمٹماتے سے دیے چار طرف نوحہ کناںمضمحل چہرے مصائب کی گراں باری سےدل مجروح سے اٹھتا ہوا غم ناک دھواںیہی تاریکیٔ غم تو مرا گہوارہ ہےمیں اسی کوکھ میں تھا نور سحر کے مانندہر طرف سوگ میں ڈوبا ہوا میرا ماحولمیرا اجڑا ہوا گھر میرؔ کے گھر کے ماننداک طرف عظمت اسلاف کا ماتھے پہ غروراور اک سمت وہ افلاس کے پھیلے ہوئے جالبھوک کی آگ میں جھلسے ہوئے سارے ارماںقرض کے بوجھ سے جینے کی امنگیں پامالوقت کی دھند میں لپٹے ہوئے کچھ پیار کے گیتمہر و اخلاص زمانے کی جفاؤں سے نڈھالبھائی بھائی کی محبت میں نرالے سے شکوکنگہ غیر میں جس طرح انوکھے سے سوال''ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق''مفلسی ساتھ لیے آئی تھی اک جنگ و جدالفاقہ مستی میں بکھرتے ہوئے سارے رشتےتنگ دستی کے سبب ساری فضائیں بے حالاک جہنم کی طرح تھا یہ مرا گہوارہاس جہنم میں میرے باپ نے دم توڑ دیاٹوٹ کر رہ گئے بچپن کے سہانے سپنےمجھ سے منہ پھیر لیا جیسے مری شوخی نےمیرے ہنستے ہوئے چہرے پہ اداسی چھائیجیسے اک رات بھیانک مرے سر پر آئیراہیں دشوار مگر راہنما کوئی نہ تھاسامنے وسعت افلاک خدا کوئی نہ تھامیرے اجداد کی میراث یہ ویران سا گھرجس کو گھیرے ہوئے ہر سمت تباہی کے بھنورجس کی چھت گرتی ہوئی ٹوٹا ہوا دروازہہر طرف جیسے بکھرتا ہوا اک شیرازہنہ کہیں اطلس و کمخواب نہ دیبا و حریرہر طرف منہ کو بسورے ہوئے جیسے تقدیرمجھ کو اس گھر سے محبت تو بھلا کیا ہوتییاں اگر دل میں نہ جینے کی تمنا ہوتییہ سمجھ کر کہ یہی ہے مری قسمت کا لکھااس کی دیوار کے سائے میں لپٹا رہتالیکن اس دل کی خلش نے مجھے بیدار کیامجھ کو حالات سے آمادۂ پیکار کیابے کسی رخت سفر بن کر مرے ساتھ چلییاد آئی تھی مجھے گاؤں کی ایک ایک گلیلہلہاتی ہوئی فصلیں وہ مرے آم کے باغوہ مکانوں میں لرزتے ہوئے دھندلے سے چراغدور تک پانی میں پھیلے ہوئے وہ دھان کے کھیتاور تالاب کنارے وہ چمکتی ہوئی ریتمیرے ہم عمر وہ ساتھی وہ مرے ہمجولیمیرے اسکول کے وہ دوست مری وہ ٹولیایک بار ان کی نگاہوں نے مجھے دیکھا تھاجیسے اک بار مرے دل نے بھی کچھ سوچا تھا''میں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھادور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو''
خلش سی جگر میں جگاتی تو ہوگیمری یاد تم کو بھی آتی تو ہوگی
اضطراب موج کانٹوں کی خلش ناگن کے بلتیر کی سرعت کماں کا عجز شمشیروں کے پھل
عجیب حسن مہیب جیسیخلش جو دل میں کھٹک رہی ہے
میں بھی اس وقت سر راہ تھا حیراں حیراںپا برہنہ نظر آوارہ تن افگار خموشدرد سے مہر بلب صورت دیوار خموشخلش حسرت جاں تھی کہ کوئی پہچانےشمع سی دل کے نہاں خانے میں لرزاں لرزاںمجھ پہ کیا بیت گئی کون سنے کیا جانےچشم خوں بستہ کو آسیب کا مامن سمجھاقافلے والوں نے شاید مجھے رہزن سمجھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books