aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kho.e"
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
تو بہت دور کسی انجمن ناز میں تھیپھر بھی محسوس کیا میں نے کہ تو آئی ہےاور نغموں میں چھپا کر مرے کھوئے ہوئے خوابمیری روٹھی ہوئی نیندوں کو منا لائی ہے
روز ازل سے وہ بھی مجھ تک آنے کی کوشش میں ہےروز ازل سے میں بھی اس سے ملنے کی کوشش میں ہوںلیکن میں اور وہ ہم دونوںاپنی اپنی شکلوں جیسے لاکھوں گورکھ دھندوں میںچپ چپ اور حیران کھڑے ہیںکون ہے میںاور کون ہے توبس اس درد میں کھوئے ہوئے ہیںصبح کو ملنے والے سمجھیںجیسے یہ تو روئے ہوئے ہیں
ہے میری رات میں اب نیند تیریہم اک دوجے میں یوں کھوئے ہوئے ہیںہمارے خواب بھی اک دوسرے کےبدن کو اوڑھ کر سوئے ہوئے ہیںمرے تکیے میں تیری خوشبوئیں ہیںمری چادر پہ تیری سلوٹیں ہیںتو رہتی ہے مرے پہلو میں ہر دممرے بستر پہ تیری کروٹیں ہیںہو شامیں روز راتیں یا سحر ہوکوئی بھی وقت ہو کوئی پہر ہوتصور میں ترے ڈوبا رہوں میںتجھے خود سے الگ کیسے کروں میں
تم بھی وہی ہو میں بھی وہی وقت بھی وہیہاں اک بجھی بجھی سی چمک چشم نم میں ہےیہ لمحہ جس کے سحر میں کھوئے ہوئے ہیں ہمکتنی مسرتوں کا سرور اس کے غم میں ہے
رند بہت تھے لیکن وہ سباپنے نشے میں کھوئے ہوئے تھےجاگ رہی تھیں آنکھیں لیکندل تو سب کے سوئے ہوئے تھےکوئی نہیں تھا ان میں میرامیں یہ بیٹھا سوچ رہا تھاکب یہ ظالم رات کٹے گیکب واپس آئے گا سویرا
جو صدیوں کے بعد ملی ہے وہ آزادی کھوئے نہدین دھرم کے نام پہ کوئی بیج پھوٹ کا بوئے نہ
کہیں تم ملو تومسائل کو الجھا ہوا چھوڑ کر ہمعلائق کی زنجیر کو توڑ کر ہمچلیں اور کنج چمن میں کہیںسایۂ تاک میں بیٹھ کربھولے بسرے زمانوں کی باتیں کریںاور اک دوسرے کے خد و خال میںاپنے کھوئے ہوئے نقش پہچان کرمحو حیرت رہیںاور نرگس کی صورتوہیں جڑ پکڑ لیں
پھر دل میں درد سلسلہ جنباں ہے کیا کروںپھر اشک گرم دعوت مژگاں ہے کیا کروںپھر چاک چاک سینہ ہے آواز دوں کسےپھر تار تار جیب و گریباں ہے کیا کروںپھر اتصال گردن و خنجر ہے کیا کہوںپھر اختلاط زخم و نمک داں ہے کیا کروںپھر اک گرہ حریف نفس ہے کسے بتاؤںپھر اک کھٹک رفیق رگ جاں ہے کیا کروںسینے میں ایک دشنہ سا لیتا ہے کروٹیںرگ رگ میں ایک آگ سی غلطاں ہے کیا کروںجس چیز پر مدار تھا درمان زیست کاوہ شے پھر آج درد کا عنواں ہے کیا کروںپھر سر پر ابر دور جنوں ہے گھرا ہواپھر دل میں بوئے زلف پریشاں ہے کیا کروںپھر عشق ناصبور کا پرتو ہے روح پرپھر دل حضور عقل پشیماں ہے کیا کروںبیتے دنوں کی یاد پر افشاں ہے کیا کروںراتوں کی نم ہواؤں میں تاروں کی چھاؤں میںبیتے دنوں کی یاد پرافشاں ہے کیا کروںجس چاندنی کو کھوئے ہوئے مدتیں ہوئیںپھر ذہن کے افق سے نمایاں ہے کیا کروںتقدیر نے کبھی جو نکالا تھا اک جلوسپھر جادۂ نفس پہ خراماں ہے کیا کروںوہ غم کہ دے چکا ہوں جسے بارہا شکستپھر دل سے جوشؔ دست و گریباں ہے کیا کروں
جانے کیا بات ہوئی تھی جو مجھے یاد نہیںرات کا پہلا قدم تھا کہ وہ تھا پچھلا پہرچوڑے دروازے سے نکلی تھی وہ معصوم سحرایک دستک سنائی دی تھی یا تھا میرا وہمگنگناتی ہوئی خاموشی تھی یا میرا بھرمنیند چونکی تھی یا خوابوں کے صنم ٹوٹے تھےایک دھندلی سی شکل یاد ہے اب بھی مجھ کوگندمی رنگ پہ جڑواں سے سنہری شیشےراستہ کھوئے سے حیران فرشتوں جیسےاپنی پلکوں میں صداقت کا شور تھامے ہوئےجھیل سے گہری عقیدت کی ڈور تھامے ہوئےتک رہی ہیں مجھے یکساں تکے جاتی ہیںیاد آئی تھیں وہ جاگی ہوئی آنکھیں کل راتکوئی کہہ دے تو سہی پچھلے جنم جھوٹے تھے
آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیںہاں مگر راہبوں کو اس کی خبر ہو کیونکرخود میں کھوئے ہوئے سہمے ہوئے سرگوشی سے ڈرتے ہوئےراہبوں کو یہ خبر ہو کیونکرکس لیے راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیںراہب استادہ ہیں مرمر کی سلوں کے مانندبے کراں عجز کی جاں سوختہ ویرانی میںجس میں اگتے نہیں دل سوزیٔ انساں کے گلاب
دل میں کب سے رم جھم کرتیکیسی برکھا برس رہی ہےاس برکھا کے امرت رس سےبھیگ چکی میں بھیگ چکی میںلگتی چھپتی دھوپ اور بادلیہ آکاش کے ننھے بالککھیل رہے ہیں ہنستے ہنستےکلکاری بھرتے سبزے کوشوخ ہوائیں چھیڑ رہی ہیںمیں بھی اپنے پنکھ جھٹک کرپر تولوں اور بھروں اڑانیںاپنے بدن میں خود کھو جاؤںیہ تن کا آکاش یہ دھرتیدھیرے دھیرے پھیل رہی ہےاور میرے ہاتھوں کے پکھیرویہ چنچل بے چین پرندےایک انوکھے راز سے بے کلدھرتی میں کچھ ڈھونڈ رہے ہیںڈھونڈ رہے ہیں ایسے پل کوجس کی کھوج میں دل رہتا ہےجس پل دھرتی ملے گگن سےوہ پل میرے تن کے باہرکہیں نہیں ہے کہیں نہیں ہےیہ پنچھی یہ نرم پکھیروجنموں سے دھرتی کے سنگیاس کایا کے تال کنارےدھیرے دھیرے ڈھونڈ رہے ہیںکھوئے ہوئے پل کی کنکریاں
اے نیچر کے راج دلارےاے فطرت کی آنکھ کے تارےمحنت کا پھل پانے والےکاندھے پر ہل لے جانے والےصدیاں پلٹیں دنیا بدلےیا ملکوں کا نقشہ بدلےکچھ سے کچھ ہوں رنگ فضا کےچرخ سے برسیں آگ کے شعلےدھیمی ہو یا تند ہوا ہوعالم ہر وادی کا نیا ہوچرخ ہزاروں پلٹے کھائےکیا ممکن جو تجھ کو ستائےسارے جہاں میں جنگ چھڑی ہودنیا بھر میں آگ لگی ہوکیوں ہو شورش تیری صدا میںامن ہو جب کھیتوں کی فضا میںگیت ہی تیرا نغمۂ شادیتجھ پر صدقے ہر آزادیسب پر حاوی ہمت تیریسچی ہے یہ شوکت تیریوقت کو تو غفلت میں نہ کھوئےکھیت میں تو کانٹوں کو نہ بوئےگھاس ہے تیرا بستر مخملاوڑھنے کو بوسیدہ کملجنگل جھاڑی بستی تیریشاہ سے بہتر ہستی تیریتو ہے اور زمانہ تیراہم ہیں اور فسانہ تیرا
سگریٹکبھیبہت عزیز تھیمحبوب تھیاورساتھ ہیتم بھیپھر دو حادثےایک دن ہی ہو گئےچلی گئیں تم بھیاور میں نے بھی سگریٹ چھوڑ دیلیکناب بھی کبھی کبھیکوئی کمی سی کھلتی ہےنبض جب ڈوبنے سی لگتی ہےجی چاہتا ہے ایسے میںسگریٹ کے دھویں سےدائرے بناؤں میںکھوئے ہوئے پلوں کو زور سے پکاروںاپنی طرف بلاؤں میں
جنگ کے بارے میں ہم بچوں کی اک تجویز ہےتاکہ سب خوش ہو کے بولیں جنگ اچھی چیز ہےآپ کو معصوم بچوں کا ہے گر کچھ بھی خیالبیٹھے بیٹھے ایک دم ہو جائیے غصے سے لالکھوئے کی توپیں لئے میدان میں آ جائیےان سے رس گلوں کے گولے ہر طرف برسائیےمیٹھے گولے آپ کی توپوں کے ہم کھاتے رہیںہونٹ یہ قومی ترانے دم بہ دم گاتے رہیںہوں ہر اک بندوق میں ربڑی کے رنگیں کارتوساور ہر اک ٹینک کی ٹنکی میں موسمی کا جوسآپ کے دشمن کی فوجوں کو ہو جب غصے کی پیاسپیش کیجے مسکرا کر ان کو شربت کا گلاسدودھ کے ساگر میں ہوں کوزے کی مصری کے جہازجس میں ہوں جاسوس سینے میں لئے ٹافی کے رازبم پھٹیں تو ان سے نکلیں جھٹ کھلونے بے شمارٹھا ہو اور لگ جائے گڈوں اور گڑیوں کی قطارگر کوئی بیمار ہو چلا رہا ہو پین سےچاکلیٹ پہنچائیے جھٹ اس کو ایروپلین سےکوئی نامعقول آ کر گالیاں بھی دے اگراس سے کہیے بھاگ جا ہٹ تیرے منہ میں گھی شکر
عدالت سےبا عزت رہا ہونے کے بعداپنے کھوئے ہوئے تمام اعضاحاصل کرنے کے لیے تمہیںصرف اپنا ضمیر چکانا پڑے گا
چپکے سے کانوں میں کہہ جاخوشیوں کا سندیس سنا جاپریم تو اپنی ڈگر بتا جاکیا تو جوگن بن بیٹھیدور کہیں مایا سے چھپ کرتو بن گئی انوکھیدیکھ ری تیرے سوگ میں کیسا حال کیا ہم نے اپنادکھ کے کنکر پتھر چنتے کومل ہاتھ ہیں پتھرائےجیون کے رستے پر بکھرے کانٹے سو سو ڈنک اٹھائےنفرت کی آندھی سے دھندلے پڑ گئے چندا تارےگھر آئی ہے چاروں اوردیکھ گھٹا گھنگھورآنکھوں سے اوجھل ہے امبرپاپ کا جھونکا چلے بھینکرہلچل مچ گئی باہر اندرچاروں اور بگولے اڑتے ادھر ادھر بولائےجیسے ان کو کھوج کسی کیسر ٹکراتے سر کو اٹھائے سر کو جھکائےسر کے بل کچھ پھرتے ہیںسب کو کھوج ہے تیریپریم کہاں تو چھپ کر بیٹھیہم سے کیوں ہے روٹھیآ دیکھ کہ تیرے نہ ہونے سےکیا کیا دکھ ہم نے جھیلےپریم پجاری جتنے تھے سب بن گئے اتیاچاریخود ہی اتیاچار کرے ہےبن بیٹھے بے چارےاپنے اتیاچار کو بھوگےکیسے کھیل نرالےلیکن ان کے من میں کیسی جوالا جاگ اٹھی ہےاب تو تیری ہی ان کو بس انتم آس لگی ہےاے جوگنکیا تو بھی ڈھونڈھے کوئی پریم پجاریاس کی کھوج میں بن گئی ہے تو بالکل ہی بن باسیمن میں جھانک کے دیکھ لے سب کےتیری چاہ بسی ہےدوری تیری بھڑکائے ہے اب تو من میں ڈاہاور ہمارے ہونٹوں کا ہر شبد بنا ہے آہ
میری محبوب تجھےیاد بھی ہیں وہ لمحےوہ شب وصلکہ جب خواب سنور آئے تھےاسم اعظم کی طرحورد زباں تھا کوئیجیسے عابد ہو مصلے پہ زباں کھولے ہوئےخامشی ایسی کہ جگ بیت گئے بولے ہوئےایک نے ایک کو پیغام دیا ہو جیسےایک نے ایک سے پیغام لیا ہو جیسے
کیسا سنسان ہے دشت آوارگیہر طرف دھوپ ہے ہر طرف تشنگیکیسی بے جان ہے مے کدے کی فضاجسم کی سنسنی روح کی خستگیاس دوراہے پہ کھوئے گئے حوصلےاس اندھیرے میں گم ہو گئی زندگیاے غم آرزو میں بہت تھک گیامجھ کو دے دے وہی میری اپنی گلیچھوٹا موٹا مگر خوبصورت سا گھرگھر کے آنگن میں خوشبو سی پھیلی ہوئیمنہ دھلاتی سویرے کی پہلی کرنسائباں پر امر بیل مہکی ہوئیکھڑکیوں پر ہواؤں کی اٹکھیلیاںروزن در سے چھنتی ہوئی روشنیشام کو ہلکا ہلکا اٹھتا دھواںپاس چولھے کے بیٹھی ہوئی لکشمیاک انگیٹھی میں کوئلے دہکتے ہوئےبرتنوں کی سہانی مدھر راگنیرس بھرے گیت معصوم سے قہقہےرات کو چھت پہ چھٹکی ہوئی چاندنیصبح کو اپنے اسکول جاتے ہوئےمیرے ننھے کے چہرے پہ اک تازگیرشتے ناطے ملاقاتیں مہمانیاںدعوتیں جشن تیوہار شادی غمیجی میں ہے اپنی آزادیاں بیچ کرآج لے لوں یہ پابندیوں کی خوشی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books