بچوں کا خط چچا خرو شچوف اور ماموں کینڈی

راجہ مہدی علی خاں

بچوں کا خط چچا خرو شچوف اور ماموں کینڈی

راجہ مہدی علی خاں

MORE BYراجہ مہدی علی خاں

    اے چچا خرو شچوف اے ماموں کینڈی السلام

    ایک ہی خط ہے یہ ماموں اور چچا دونوں کے نام

    آپ دونوں کا ادب کرنا ہمارا فرض ہے

    پھر بھی سن لیجے جو چھوٹی سی ہماری عرض ہے

    آپ دونوں ہیں بہادر سورما کیا اس میں شک

    ایک بادل کی گرج ہے ایک شعلے کی لپک

    آپ دونوں کے بیاں سن سن کے ڈر جاتے ہیں ہم

    دھم سے آ گرتے ہیں ہم بچوں پہ یہ لفظوں کے بم

    ڈر کے چھپ جاتے ہیں اپنی ماؤں کے آغوش میں

    کاش ہم بے ہوش ہو کر پھر نہ آئیں ہوش میں

    آپ دونوں لڑ پڑے تو جانے کیا ہو جائے گا

    دو منٹ میں اس جہاں کا خاتمہ ہو جائے گا

    آگ لگ جائے گی اس دنیا کو مر جائیں گے سب

    جو بیاں دیتے ہیں وہ خاموش ہو جائیں گے لب

    دو منٹ زندہ رہیں گے ہم بھی مرنے کے لئے

    کون پھر باقی رہے گا راج کرنے کے لئے

    ایسا لگتا ہے کہ کچھ دن اور جینا ہے محال

    گر نہیں اپنا تو بچوں ہی کا کچھ کیجے خیال

    اک طرف نفرت کھڑی ہے دوسری جانب غرور

    قہر کی چکی میں پس جائیں نہ بچے بے قصور

    لے چکے ہیں آپ تو جی بھر کے دنیا کے مزے

    ہم کو ان سے دور رکھنا چاہتے ہیں کس لئے

    گر اجازت ہو تو ہم بچے بھی دنیا دیکھ لیں

    چار دن ہم بھی یہ بھالو کا تماشا دیکھ لیں

    کچھ بھی تو اسکول اور گھر کے سوا دیکھا نہیں

    آپ کہئے آپ نے دنیا میں کیا دیکھا نہیں

    جنگ مت کیجے نہ دنیا کی عمارت ڈھائیے

    سوچئے کچھ غور کیجے دیکھیے باز آئیے

    آپ نے دنیا سجائی تھی مٹانے کے لئے

    عقل کی شمعیں جلائی تھیں بجھانے کے لئے

    علم و حکمت سائنس نے کی تھی ترقی کے لئے

    عقل کی شمعیں جلائی تھیں بجھانے کے لئے

    علم و حکمت سائنس نے کی تھی ترقی کس لئے

    نیست و نابود آج ہم کر دیں اسے کیا اس لئے

    ہم نے مانا آپ کا آپس میں ہے کچھ اختلاف

    اک جگہ ہم بیٹھ کر کر لیں نہ کیوں دل اپنے صاف

    اپنی اس دنیا کی حالت اس قدر جب زار ہے

    اس کو دیکھیں چاند میں جانا ابھی بے کار ہے

    دور کیجے دل سے نفرت اور گلے مل لیجئے

    زندگی کی جستجو میں خود کشی مت کیجیے

    جنگ کرنی ہے تو کیجے ہو مگر ایسی وہ جنگ

    آسماں بھی جنگ ایسی دیکھ کر ہو جائے دنگ

    جنگ کے بارے میں ہم بچوں کی اک تجویز ہے

    تاکہ سب خوش ہو کے بولیں جنگ اچھی چیز ہے

    آپ کو معصوم بچوں کا ہے گر کچھ بھی خیال

    بیٹھے بیٹھے ایک دم ہو جائیے غصے سے لال

    کھوئے کی توپیں لئے میدان میں آ جائیے

    ان سے رس گلوں کے گولے ہر طرف برسائیے

    میٹھے گولے آپ کی توپوں کے ہم کھاتے رہیں

    ہونٹ یہ قومی ترانے دم بہ دم گاتے رہیں

    ہوں ہر اک بندوق میں ربڑی کے رنگیں کارتوس

    اور ہر اک ٹینک کی ٹنکی میں موسمی کا جوس

    آپ کے دشمن کی فوجوں کو ہو جب غصے کی پیاس

    پیش کیجے مسکرا کر ان کو شربت کا گلاس

    دودھ کے ساگر میں ہوں کوزے کی مصری کے جہاز

    جس میں ہوں جاسوس سینے میں لئے ٹافی کے راز

    بم پھٹیں تو ان سے نکلیں جھٹ کھلونے بے شمار

    ٹھا ہو اور لگ جائے گڈوں اور گڑیوں کی قطار

    گر کوئی بیمار ہو چلا رہا ہو پین سے

    چاکلیٹ پہنچائیے جھٹ اس کو ایروپلین سے

    کوئی نامعقول آ کر گالیاں بھی دے اگر

    اس سے کہیے بھاگ جا ہٹ تیرے منہ میں گھی شکر

    تیر الفت کے چلیں گولی چلے احسان کی

    ختم کر دیجے رعونت اس طرح انسان کی

    چپے چپے پر جہاں میں ایسے ایٹم بم پھٹیں

    اس جہالت کے اندھیرے میں اجالا جو کریں

    راکٹوں میں ہو مدد لاکھوں غریبوں کے لئے

    اور اگن بوٹوں میں خوشیاں بد نصیبوں کے لئے

    بھوکے بچوں پر فلک سے روٹیاں برسائیے

    موزے جوتے کچھ قمیضیں نیکریں پھکوائیے

    جنگ کی بارود میں ضائع نہ کیجے مال و زر

    مسکرا کر ڈالیے لاکھوں غریبوں پر نظر

    جو غریبی کی تھکن سے ہو رہے ہیں چور چور

    ان کی جیبیں فالتو نوٹوں سے بھر دیجے حضور

    پیار کا الفت کا ہر زخمی کو مرہم دیجئے

    اپنی خوشیاں دے کے دکھ والوں کے دکھ لے لیجئے

    جو بھلائی میں مزہ ہے وہ برائی میں نہیں

    بندگی میں جو مزہ ہے وہ خدائی میں نہیں

    یہ جہاں پیارا جہاں کیوں جنگ میں برباد ہو

    اس زمیں پر کیوں نہ جنت پیار کی آباد ہو

    جوڑ کر ہم ہاتھ ننھے خط کو کرتے ہیں تمام

    آپ کے بچوں کو سب دنیا کے بچوں کو سلام

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے