aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ko.De"
حق بات پہ کوڑے اور زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاںانساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں خونخوار درندے ہیں رقصاںاس ظلم و ستم کو لطف و کرم اس دکھ کو دوا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیںدیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گادیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکرکس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گاتم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہتم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گاپیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیںڈھونگ تبلیغ اور شدھی کا رچایا جائے گادھرم رکشا کے لئے تم سے لئے جائیں گے عہدتم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گالیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کےقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گاتم کو پروانہ عطا ہوگا خطاب و جاہ کاتم کو عہدے دے کے لالچ میں پھنسایا جائے گاگر یہ تدبیریں مقدر سے نہ راس آئیں تو پھردوسری صورت سے تم کو ڈگمگایا جائے گاانتہائی بربریت سے لیا جائے گا کامبند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گادانہ پانی کر دیا جائے گا بالکل تم پہ بندتم کو بھوکوں مار کے قبضے میں لایا جائے گاگرم لوہے سے تمہارے جسم داغے جائیں گےتم کو کوڑے مار کر الو بنایا جائے گاجائیدادیں سب تمہاری ضبط کر لی جائیں گیبال بچوں پر تمہارے ظلم ڈھایا جائے گاباوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگربے تأمل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گااس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکنسر تمہارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا
یہ دعویٰ ہےجہاں میں چند لوگوں کاکہ ہم نے زندگی کو جیت رکھا ہےہمارے پاس یعنی ایٹمی ہتھیار ہیں اتنےہمارا دوست ننھا ایلین بھی ہےکروڑوں سال کی تاریخ کو اب جانتے ہیں ہمکہ ہم نے موت پر اب فتح پا لی ہےپلینٹ مارس پر پانی بھی ڈھونڈا ہےیہ سب کہتے ہوئے اکثروہ شاید بھول جاتے ہیںابھی اک چیز باقی ہے کہ جو ان میپڈ ہے اب تکجسے ہم ذہن کہتے ہیںہمارے سائنس دانوں نے بھی مانا ہےکہ اب تک کچھ ہی حصہ ذہن کاہم جان پائے ہیںبہت کچھ ہے جسے اب بھی ہمیں ڈیکوڈ کرنا ہےمیں اکثر سوچتا ہوںسوچ کر حیران ہوتا ہوںفقط کچھ گرام کے اس ذہن سے یہ ساری ہلچل ہےستارے چاند سورج تتلیاں جگنو بھری راتیںیہ سارہ آرٹ اور اس آرٹ پر تنقید جو کچھ ہےکتابوں سے بھری ہر لائبریریاور انسانوں کے دل میں بڑھ رہی دوریکہیں ناراضگی آنکھوں میں بھر کر خود میں ہی گھٹناکہیں پر بھوک بیماری یا پالیٹکس کی پاوریہ ایف بی اور ٹوئیٹر پر جو جاری ہیں سبھی بحثیںاور انسٹاگرام پر ہر پل کی تصویریںیہ دنیا بھر کی فلمیں اور فیسٹیولیہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے پھولوں سے نازک لوگمرے ہونٹھوں سے ایک اک نظم کا یوں ٹوٹتے رہنافقط کچھ گرام کے اس ذہن سے ہی ساری ہلچل ہےنگاہیں موڑ کر یہ دیکھنا میراتمہارا مسکرانا بھیفلک کو دیکھ کر یوں روٹھ جانا بھیکہ اپنی زندگی میں روشنی کے نام پرکچھ بھی نہیں ہےاور یہ کیا کھیل ہےجس میں محض ماتیں ہی ماتیں ہیںمحض گھاتیں ہی گھاتیں ہیںمگر یہ دکھ جو ہم کو رات دن محسوس ہوتا ہےہمارے ذہن سے اٹھتا دھواں ہے بساگر ہم غور سے دیکھیں تو ڈھیروں راز کھلتے ہیںکہ میں تم سے اگر کہتا ہوںتم سے عشق کرتا ہوںتو یہ سن کر تمہاری سانس کی لے تیز چلتی ہےیہی انفاس کا پردہجو اٹھتا ہےجو گرتا ہےاسی انفاس کے پردہ کے پیچھے سےہمارا ذہن سب کچھ دیکھتا ہےسوچتا ہے بات کرتا ہےصدی سے بند دروازوں کے پیچھے سےکوئی آواز آتی ہےہمیں لگتا ہے یہ سب کچھ ہمیں تو کر رہے ہیںپر حقیقت اور ہی کچھ ہےہمیں معلوم کرنا ہےکہ جلتے ذہن کے جنگل کا راجہ کون ہے آخرہمیں معلوم کرنا ہےہمارے ذہن میں چھپ کر اشارہ کون کرتا ہےیہ کس کے حکم پر ہم روز مرتے اور جیتے ہیںیہ کس کے واسطے ہم زندگی کا زہر پیتے ہیں
جوہری نظاموں میںنام بھول جاتے ہیںکوڈ یاد رہتے ہیںایٹمی دھماکوں سےتابکار نسلوں کےخواب ٹوٹ جاتے ہیںشہر ڈوب جاتے ہیںمرکزے بکھرتے ہیںدائرے سمٹتے ہیںرقص کے تماشے میںارض و شمس ہوتے ہیںاور خدا نہیں ہوتا
میں بھٹکا ہوا اک مسافررہ و رسم منزل سے ناآشنائی پہ نازاںتعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھامیرے جسم کا بوجھ دھرتی سنبھالے ہوئے تھیمگر اس کی رعنائیوں سے مجھے کوئی دل بستگی ہی نہیں تھیکبھی راہ چلتے ہوئے خاک کی روح پرور کششمیں نے محسوس کی ہی نہیں تھیمیں آنکھوں سے بینا تھا لیکنمیرے چار سو چادریں آئنوں کی طرح تھیںکہ جن کے لیے میرا پرتو ہی تھا اک زندہ حقیقتکسی دوسرے کو گوارہ نہ تھی اس میں شرکتمیں کانوں سے بہرا نہیں تھامگر جس طرح کہنہ گنبد میں چمگادڑوں کے بھٹکنے کی آواز گونجتی نہیں ہےکھلے آسماں کے پرندوں کی چہکار اندر پہنچتی نہیں ہےاسی طرح میرا بھی ذوق سماعت رسا تھا فقط اپنی ہی دھڑکنوں تکبس اپنے لہو کی سبک آہٹوں تکمیں بھٹکا ہوا اک مسافرمیری راہ پر مٹ چکے تھے سفر کے اشارات سارےفراموشیوں کی گھنی دھند میں کھو چکے تھے جہت کے نشانات سارےرہ و رسم منزل سے میں آشنا ہی نہیں تھامگر میں اکیلاکروڑوں کی اس بھیڑ میں بھی اداس اور اکیلاتعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھامیں شاید ہمیشہ یوں ہی اپنی پرچھائیوں کے تعاقب میں حیران پھرتااگر روشنی مجھ پہ چمکی نہ ہوتیمبارک وہ ساعت کہ جب موت اور تیرگی کے گھنے سائباں کے تلےروشنی مجھ پہ چمکیمیرے دل پہ دھرتی نے اور اس کے ارفع مظاہر نے اپنی محبت رقم کیمبارک وہ ساعت کہ جب برق کے کوڑے لہراتیلوہے کی چیلوں سے اورآتشیں تیر برساتے فولاد کے پر درندوں سے مڈبھیڑ میںمیں نے دیکھےمیرے ساتھیوں کے جگر میں ترازو ہیں جو تیرہوا ہوں میں خود ان کا نخچیرجو قطرہ لہو کا گرا ان کے تن سےبہا ہے وہ میرے بدن سےمبارک وہ ساعت کہ جب میں نے جانامری دھڑکنوں میں کروڑوں دلوں کی صدا ہےمیری روح میں مشترک ''گرچہ قالب جدا ہے''
زمیں اک بڑی سیپ ہےبیچ بارش کا وحدانیت سے لبالب بھراایک قطرہ ہےجو سیپ میں گرتا ہےاور موتی میں ڈھلتا ہےحرفوں کےکون ایسے جملے بناتا ہےجملے میںاک کوڈ کی طرحمعنی چھپاتا ہےعشرے گزرتے ہیںاک نسل آتی ہےمعنی کوجملے کی زنجیر سے آ کے آزاد کرتی ہےمعنی بھرے چیت کا پھول ہےچیت کے پھول کااور تری انگلیوں کاہزاروں برس کا پرانا تعلق ہےمیں چیت کا پھول ہوںاور معلق پڑا ہوںکسی درمیانی زمانے میںپہنچوں گابرفیلے رستے سے ہوتاخنک رت میںخوشبو بھرے پھول کی میٹھی مٹھیکی تحویل سے ہوتااپنے ابد سےپرانے ٹھکانے میں!!
دم تحریرجن ناپاک گندی عورتوں سےکوثر و تسنیم کترا کے گزریں گیجن پر دودھ اور شہد کے پیالے حرام کر دئے جائیں گےجن کو ملائک دزدیدہ نگاہوں سے بھی دیکھنا نہ چاہیں گےجن کا ٹھکانہ جہنم ہوگاجنہیں دوزخ کی آگ روز جلائے گیجن پر غیظ و غضب کے کوڑے ہر ساعت برسائے جائیں گےان میں ایک میں بھی ہوںمیرے پاؤں میں بیڑیاں پہنانےاور مجھے محبوس خانے میں اس وقت تک رکھنے کا حکم دیا گیا تھاجب تک کہ میں اپنی شرارتوں سے باز نہ آ جاؤںمجھے ہر روز بال سے باریک راستے پر چلنا پڑتا ہےتلوار کی دھار مجھے زخمی کئے دیتی ہےمیرے بدن پر روز نئے آبلے پڑتے ہیںمیری آنکھیں گرم سلاخوں سے داغی جاتی ہیںمجھ پر روز سنگ باری ہوتی ہےجنہوں نے ایک دوسرے سے بات بند کر دیایک دوسرے کے ساتھ کھانا اور سونا چھوڑ دیاان کی دراڑیں بھی گہری ہوتی گئیںمحبت کو زنا کہنے کی رسم بہت پرانی ہےاور عہد و پیماں کا بھرم قائم رکھنا دشوارجانے کیوںجنت کی ہوائیں بلا جھجھک آتی ہیںاور گناہ گار عورتوں کو چھو کر گزر جاتی ہیںکنوئیں میں آزوقہ پہنچانے والوں کی رسیاں چھوٹی پڑ گئی ہیںاپنے پسینے میں تر روٹی کا اک اک لقمہمن و سلویٰ سے بھی زیادہ خوش ذائقہ ہوتا جا رہا ہےبائیں کندھے پر یہ بوجھ کیساآدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
دکھتے ہوئے سینوں کی خوشبو کے ہاتھوں میںان جلتے خوابوں کے لہراتے کوڑے ہیںجنہیں وہ اک گہنائے چاند کی ننگی کمر پہ برساتی رہتی ہےتیرگی بڑھتی جاتی ہےاور ہمارا چاند ابھی تک ایسی کہنہ سال حویلی کا قیدی ہےجسے ہوا اور بادل نے تعمیر کیا ہےجس کی گیلی دیواروں پر منڈھی ہوئی بیلوں میںایسی کھوپڑیاں کھلتی ہیںجن کی آنکھوں کے خالی حلقوں میں ماضی حال اور مستقبل کےگڈمڈ رنگوں کے بے نور دھندلکے جمے ہوئے ہیںتم ہی بتاؤ جب شاخوں سےفاختئی نیلے پھولوں کی بجائےکھوپڑیاں پھوٹیںصبح بہار کا سورج ان سے آنکھ ملا کر کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟اسی لیے تو اس ویران حویلی کے آنگن میں خزاں کے نغمےزندہ انسانوں کے نوحے بن کر گونجتے ہیںنم آلود فضا کے نادیدہ سینے پرصبر کی سل کی طرح رکے ہوئے برفیلے سورجشام کی اکھڑی ہوئی چوکھٹ پراپنے سر گھٹنوں میں چھپا کر سوچتے ہیںکبھی تو صدیوں کی آوارگیوں کا بوجھ اٹھائے کوئی مسافراسم رہائی کو زیر لب دہراتے ہوئےاس بے رنگ حویلی کے دروازے پروہ دستک دینے آئے گاکھل کر بارش برسے گی اور چاند رہا ہو جائے گا
مری پلکوں سے کچھ امیدیں آنسو بن کے یوں جھڑتی ہیں جیسے سوکھے پتے شاخ سے جھڑتے ہیں پت جھڑ میںمیرے احساس اور جذبات بچوں کی طرح روتے بلکتے ہیںمرے ٹوٹے ہوئے سپنےنگاہوں میں یوں چبھتے ہیں کے جیسے کانچ چبھتا ہےمیرے ارماں میری آہوں کی صورت لے کےاس دل سے نکلتے ہیںمیری کچھ خواہشیں اب بھی مچلتی ہیں تڑپتی ہے میرے دل میں کے جیسے مچھلیاں پانی سے باہر آ گئی ہوںتنفس کا عمل لگتا ہے یوں جیسےکے میری روح پر کوڑے کوئی برسا رہا ہےبدن یوں سرد ہےجیسے لہو نبضوں میں میری جم گیا ہےمیری بے چینیوں کا ایسا عالم ہے کے بس توبا
نام بے شک آم آدمی ہوپر میں تو مسیحا ہوںکاندھے پر اپنے کرموں کی صلیبدور سے تماشائی میرے حبیبمیرے رشتے میرے فرضمیرا بیتے وقت کی پرچھائیاںسب مجھ پر کوڑے برساتےلے جا رہیں ہیں اجنبی سے مقام پرلعنتیں برساتے میرے نام پرمجھے روز دھکیاتےاور اس پر مجبوری کہمجھے خاموش رہنا ہےسب چپ چاپ سہنا ہےکوئی نہ مانے کی میں کیا ہوںپر میں بھی مسیحا ہوں
ایک دن حضرت حافظ نے یہ دیکھا منظرطوق زریں سے مزین ہے ہمہ گردن خراور چھکڑے میں جتا رینگ رہا ہے تازیزخم ہی زخم ہے کوڑے کا ز سر تا بہ کمرتھے جو مرحوم بڑے سادہ دل و نیک مزاج''ایں چہ شوریست'' کہا اور گرے چکرا کروہ تو اس غم کو لیے خلد بریں میں پہنچےکئی صدیوں کا زمانے نے لگایا چکرآج ہم پر بھی مگر جبر نظارہ ہے وہیوہی نیرنگ تماشا وہی نیرنگ نظروہ چراگاہ سیاست ہو کہ میدان ادبطوق زریں ہے وہی اور وہی گردن خراختیارات کی کرسی پہ خران فربہمتمکن نظر آتے ہیں بہ صد کر و فرایک کرسی پہ کسی طرح اچک کر پہنچےاور پھر دھڑ سے کھلے کشف و کرامات کے درپھر تو بقراطؔ اور ارسطوؔئے زمانہ ہیں وہعلم و حکمت میں نہیں پھر کوئی ان کا ہمسرپھر تو صحرائے جہالت بھی ہے دریائے علومپھر تو اس بے ہنری میں بھی ہیں سو سو جوہرخواہ دو حرف بھی تعلیم نہ حاصل کی ہوطوق زریں کے کرشمے سے بنے دانشورکوئی جلسہ ہو وہ ''مہمان خصوصی'' ہوں گےکوئی موقع ہو دھڑلے سے وہ دیں گے لیکچروہ زمیں کے ہوں مسائل کے خلا کی باتیںمثل مقراض زباں چلتی رہے گی فر فرعالم و فاضل و دانشور و اہل حکمتسب نظر آئیں گے قدموں پہ جھکائے ہوئے سرطوق زریں کا جو اس کو نہ کرشمہ کہیےناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
دور بے دھیانی میں گھڑیال صدا دیتا ہےذہن دل جسم ہر اک چیز چمک اٹھتی ہےمار کر کوڑے کوئی جیسے اٹھا دیتا ہےڈر کے سب بھاگتے ہیں کھیتوں کو میدانوں کووقت بھٹکے ہوؤں کو رہ پہ لگا دیتا ہے
اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتاکہ مرنے والا زندگی سے نبرد آزما کسی شاعرہ یا شاعر کا بیٹا تھایا راج پوت نسل کا کوئی زندہ دل معزول شہزادہیا مرنے والے جوان بیٹے کا نام کبیر، طارق احد یا کچھ اور تھاجوان بیٹے کی موتانسان کو پانی میں ہلاک کرنے پر مامور فرشتے نے لییا خشکی پر انسانی روح قبض کرنے کے مجاز فرشتے نےایسی یا ایسی کسی بھی بات سےکوئی فرق نہیں پڑتاکیونکہ موت کا فرشتہ تینوں مقامات پرجوان بیٹے کو ماں باپ سے جدا کرنے میں ناکام رہاموت کا فرشتہ لگا رہتا ہے دن راتاپنی ناکامی کا انتقام لینے میںٹکڑے ٹکڑے کرتا رہتا ہےماں باپ کا دلجیسے کاٹا جاتا ہے مشین کے تیز دھار بلیڈ سےمویشیوں کا چارہکوڑے مارتا رہتا ہے ماں باپ کی زخمی روح کو برہنہ کر کےایجاد کرتا رہتا ہے نت نئے طریقےماں باپ کے بچے کھچے دل کو اذیت پہنچانے کےموت کا فرشتہ داخل ہو جاتا ہے بغیر اجازتکسی شاعر کے بیڈ روم میں رات خراب کرنےمجبور کر دیتا ہے شاعر کوزخموں سے کراہتی نظم لکھنے پر
سینٹ اسامہاب روزانہنو سے گیارہاپنے پیارے مداحوں سےتورا بورا کے غاروںیا دار الحرب میں ملتے ہیںجہاں بھی وہ جا کے ٹھہرے ہیںگانے پر پابندی ہےپھول لگانے اور تصویراتروانے پر پابندی ہےعورتیں نامحرم کے ساتھ نظر آئیں توکوڑے اور پتھر مارے جائیں گےامریکہ کے گن گانے والوں کےہاتھ پیر اور سر بھی اتارے جائیں گےخبر نہیں کہ سیدھی راہ پہ چلنے والےمغرب میں ہیں یا مشرق میںیہ بھی یاد نہیں کہ بچے آخری بارکب اسکول گئےقدم قدم پر کانٹے اور بارودی سرنگ بچھی ہوئی ہیںجن کو ناکارہ کرنے کے سارے منترہاتھوں میں بندوق اٹھا کےسینٹ اسامہ بھول گئےجان بچانے والی دواؤں کییا رب کتنی قلت ہےکہ بے چارے ہر بندے کوجان دینے کینئی ادائیں سکھلاتے ہیںاب روزنو سے گیارہاپنے پیارے مداحوں کوجنت میں لے جانے والیکئی دعائیں سکھلاتے ہیں
2رات کے پچھلے پہرنیند کے باغ میںجب آنکھ کھلیشور برپا تھا کہ شب خون پڑاچارہ گروبلیو کوڈشہر جاں تیرے مکینوں کوطبیبوں کواب آرام کہاںخواب آسودہ جو تھارات کی تیز نگاہی میں اڑا جاتا ہےاور آنکھوں سے پھر اک بار تھکن پونچھنی پڑ جاتی ہےحوصلہ پھر سے قدم بھرتا ہےاور منادی کی صدا سنتا ہےاک منادی کہ مسلسل ہے یہاںدوڑیئےدیر نہ ہو جائے کہیںاپنے بیمار کی اب جلد خبر لے لیجے
زمانے کے حالات سے کیا لڑیں گےدلوں پہ جفاؤں کے کوڑے پڑیں گےنگاہوں سے نمناک موتی جھڑیں گےزمانے کی رفتار سے تنگ آ کرصلیبیں اٹھائے سبھی چل رہے ہیں
ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گےوہ دن کہ جس کا وعدہ ہےجو لوح ازل میں لکھا ہےجب ظلم و ستم کے کوہ گراںروئی کی طرح اڑ جائیں گےہم محکوموں کے پاؤں تلےجب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گیاور اہل حکم کے سر اوپر
سرشت عشق نے افتادگی نہیں پائیتو قد سرو نہ بینی و سایہ پیمائی
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books