aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lapat"
گرمی سے جس کی برف کا دیوتا ڈرے وہ آگشعلوں میں اوس کو جو مبدل کرے وہ آگلو سے جو زمہریر کا دامن بھرے وہ آگحد ہے جو نام نار سقر پر دھرے وہ آگجس کی لپٹ گلے میں جلاتی ہے راگ کوپالا ہے قلب ناز میں تو نے اس آگ کو
اک چنبیلی کے منڈوے تلےمے کدے سے ذرا دور اس موڑ پردو بدنپیار کی آگ میں جل گئےپیار حرف وفا پیار ان کا خداپیار ان کی چتادو بدناوس میں بھیگتے چاندنی میں نہاتے ہوئےجیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہرٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہواصرف ماتم ہوئیکالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پرایک پل کے لیے رک گئیہم نے دیکھا انہیںدن میں اور رات میںنور و ظلمات میںمسجدوں کے مناروں نے دیکھا انہیںمندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیںمے کدوں کی دراڑوں نے دیکھا انہیںاز ازل تا ابدیہ بتا چارہ گرتیری زنبیل میںنسخۂ کیمیائے محبت بھی ہےکچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہےاک چنبیلی کے منڈوے تلےمے کدے سے ذرا دور اس موڑ پردو بدن
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرایہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھلیہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہےیہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیںلہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہےیہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سیگلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہےیہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہمرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہےمری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیںبس اب تو سرکا دو رخ پہ چادردیے بجھا دو
نہ جانے کون وہ بہروپیا ہےجو ہر شبمری تھکی ہوئی پلکوں کی سبز چھاؤں میںطرح طرح کے کرشمے دکھایا کرتا ہےلپکتی سرخ لپٹجھومتی ہوئی ڈالیچمکتے تال کے پانی میں ڈوبتا پتھرابھرتے پھیلتے گھیروں میں تیرتے خنجراچھلتی گیند ربڑ کی سدھے ہوئے دو ہاتھسلگتے کھیت کی مٹی پہ ٹوٹتی برساتعجیب خواب ہیں یہبنا وضو کئے سوئی نہیں کبھی میں تومیں سوچتی ہوںکسی روز اپنی بھابی کےچمکتے پاؤں کی پازیب توڑ کر رکھ دوںبڑی شریر ہے ہر وقت شور کرتی ہیںکسی طرح سہی بے خواب نیند تو آئےگھڑی گھڑی کی مصیبت سے جان چھٹ جائے
کچھ رشتہبہت کمزور ہو چلے تھےان کی لپٹ بھی بہت کم تھیکچھ اتنے پتلےکی جلنے سے پہلے راکھ ہو گئےسردی بڑھ رہی تھیٹھنڈ سے بچنے کے لیےمجھے بھی کچھ رشتہ جلانے پڑے
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہبہا چوٹی سے ایڑی تک پسینابجے بارہ تو سورج سر پہ آیاہوا پیروں تلے پوشیدہ سایاچلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپلپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپزمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہےکوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہےدر و دیوار ہیں گرمی سے تپتےبنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتےپرندے اڑ کے ہیں پانی پہ گرتےچرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتےدرندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میںمگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میںنہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کیزمیں کا فرش ہے چھت آسماں کینہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہامیروں کو مبارک ہو حویلیغریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی
بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تویوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھیبولی میرے لیے ایک تنکا ہے تویوں بہا دوں گی میں، آتش تند کیاک لپٹ نے کہا میں جلا ڈالوں گیاور زمیں نے کہا میں نگل جاؤں گیمیں نے چہرے سے اپنے الٹ دی نقاباور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوںابن آدم ہوں میں یعنی انسان ہوں
روز آنسو بہے روز آہت ہوئےرات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئےہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہےرکت من میں نئی پیاس بھرتے رہےروز جن کے ہردے میں اترتے رہےوے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھےروز جلتے ہوئے آخری خط ہوئےدن دیونگت ہوئے
نئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام!کتنے نوخیز و حسیں جسم یہاں چاروں طرفرقص میں محو ہیں عریانی کی تصویر بنےاپنی رعنائی و زیبائی کی تشہیر بنےساز پرجوش کی سنگت میں تھرکتے جوڑےفرش مرمر پہ پھسلتے ہیں بہک جاتے ہیںدوڑتی جاتی ہے رگ رگ میں شراب گلفامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام!ان کی آنکھوں سے چھلکتی ہے ہوس کی مستیان کے سینوں میں فروزاں ہیں وہ جنسی شعلےجن کی اک ایک لپٹ سے ہے بھسم شرم و حیاقہقہے، ساز کی تانوں میں ڈھلے جاتے ہیںلمس کی آگ میں سب جسم جلے جاتے ہیںآنکھ کے ڈوروں میں پوشیدہ ہیں مبہم سے پیامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلامدھڑکنیں تیز ہوئیں شوق کی لے بڑھنے لگیجسم پر تنگی ملبوس ذرا اور بڑھیآنکھ میں نشے کی اک لہر ذرا اور چڑھیلرزش پا سے جھلکنے لگی دل کی لغزش!دفعتاً جاز کی پرجوش صدا بند ہوئیروشنی ڈوب گئی پھیل گئی ظلمت شب۔۔۔۔جسم سے جسم کی قربت جو بجھانے لگی آگدوپہر ڈھل گئی جذبات کی ہونے لگی شامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلامجل گیا سینۂ سوزاں میں ہی انساں کا ضمیرروح کی چیخ فضاؤں میں کہیں ڈوب گئیرخ تہذیب پسینے میں شرابور ہواعلم ہے سر بہ گریباں و ادب مہر بہ لبکس سے اس دور جراحت میں ہو مرہم کی طلبملک تہذیب میں چنگیز ہے پھر خوں آشامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام
تم جو آؤ تو دھندلکے میں لپٹ کر آؤپھر وہی کیف سر شام لیےجب لرزتے ہیں صداؤں کے سمٹتے سائےاور آنکھیں خلش حسرت ناکام لیےہر گزرتے ہوئے لمحے کو تکا کرتی ہیںخود فریبی سے ہم آغوش رہا کرتی ہیں
اک دشت میں سنا ہے کہ اک خوب تھا ہرنبچہ ہی تھا ابھی نہ ہوا تھا بڑا ہرنپھرتا تھا چوکڑی کا دکھاتا مزا ہرندیکھا جو ایک کوے نے وہ خوش نما ہرندل کو نہایت اس کے وہ اچھا لگا ہرندو باتیں کر کے کوے نے اس کو لگا لیادم میں ہرن بھی کوے کی الفت میں آ گیاکوے ہرن میں ٹھہری جو گہری محبت آکوا جدھر جدھر کو خوشی ہو کے جاتا تھاپھرتا تھا اس کے ساتھ لگا جا بجا ہرناک گیدڑ اس ہرن کے کنے آ کے نابکاربولا ہزار جان سے میں تم پہ ہوں نثارمجھ کو بھی اپنا جان غلام اور دوست داراور دل میں یہ کہ کیجے کسی طور سے شکاراس کی دغا و مکر سے واقف نہ تھا ہرنگیدڑ یہ کہہ کے مکر سے جس دم گیا ادھرکوا ہرن سے کہنے لگا کر کے شور و شریہ سخت مکر باز ہے کر اس سے تو حذراک دن دغا سے تجھ کو یہ پکڑے گا فتنہ گرسن کر یہ بات کوے کی چپ ہو رہا ہرندن دوسرے ہرن کنے گیدڑ پھر آ گیاکوے کو سوتا دیکھ یہ بولا وہ پر دغامیں آج دیکھ آیا ہوں کیا کھیت اک ہراتم کھاؤ اس کو چل کے تو ہو شاد دل مراسنتے ہی اس کے ساتھ اچھلتا چلا ہرنجس کھیت پہ یہ لے کے گیا اس کو بد سگالواں پہلے دیکھ آیا تھا وہ اک ہرن کا جاللے پہنچا جب ہرن کے تئیں کھیت پر شغالجاتے ہی واں ہرن نے دیا منہ کو اس میں ڈالمنہ ڈالتے ہی جال میں واں پھنس گیا ہرنواں پھڑپھڑاتا آ گیا کوا بھی ناگہاںگیدڑ کو دے کے گالی ہرن سے کہا کہ ہاںتڑپے مت اس میں ورنہ تو ہووے گا ناتواںکوے کی بات سنتے ہی ہمت کو باندھ واںجیسے گرا پڑا تھا وہیں پھر اٹھا ہرنگیدڑ لگا جب آنے ہرن کی طرف جھپٹکوا پکارا مار تو سینگ اک جو جاوے ہٹیا اک کھری تو ایسی لگا پاؤں کی لپٹجاوے جو اس کے لگتے ہی گیدڑ کا پیٹ پھٹسن کر کھڑے ہو سینگ ہلانے لگا ہرنگیدڑ نے خوب کوے کو دیں جل کے گالیاںصیاد واں ہوا تھا کسی کام کو رواںاس میں شکاری آ کے ہوا دور سے عیاںکوا پکارا لیٹ جا دم بند کر کے ہاںدم بند کر کے اپنا وہیں گر پڑا ہرنگیدڑ نے اس کو دیکھ کے اک جا کے جھاڑی لیصیاد اس ہرن کو پڑا دیکھ اوس گھڑیافسوس کر کے دام کی رسی وہ کھول دیکوا پکارا بھاگ ارے وقت ہے یہیسنتے ہی واں سے چوکڑی بھر کر اڑا ہرنصیاد نے جو دیکھا ہرن اٹھ چلا جھپاکجلدی سے دوڑا پیچھے ہرن کے وہ سینہ چاکسونٹے کو پھینک مارا جو پھرتی سے اس نے تاکبھاگا ہرن لگا وہیں گیدڑ کے آ کھٹاکسر اس کا پھوٹا اور وہ سلامت گیا ہرنگیدڑ نے اس ہرن کا جو چیتا تھا واں براپائی اسی نے اپنی بدی کی وہیں سزاتھا یہ تو نثر میں نے اسے نظم میں کیاپہنچا نظیرؔ جب وہ خوشی ہو کے اپنی جاکوے کے ساتھ پھر وہ بہت خوش رہا ہرن
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
تمہیں مجھ سے جو نفرت ہے وہی تو میری راحت ہےمری جو بھی اذیت ہے وہی تو میری لذت ہےکہ آخر اس جہاں کا ایک نظام کار ہے آخرجزا کا اور سزا کا کوئی تو ہنجار ہے آخرمیں خود میں جھینکتا ہوں اور سینے میں بھڑکتا ہوںمرے اندر جو ہے اک شخص میں اس میں پھڑکتا ہوںہے میری زندگی اب روز و شب یک مجلس غم ہاعزا ہا مرثیہ ہا گریہ ہا آشوب ماتم ہا
یہ واقعےحادثےتصادمہر ایک غماور ہر اک مسرتہر اک اذیتہر ایک لذتہر اک تبسمہر ایک آنسوہر ایک نغمہہر ایک خوشبووہ زخم کا درد ہوکہ وہ لمس کا ہو جادوخود اپنی آواز ہو کہ ماحول کی صدائیںیہ ذہن میں بنتی اور بگڑتی ہوئی فضائیںوہ فکر میں آئے زلزلے ہوں کہ دل کی ہلچلتمام احساسسارے جذبےیہ جیسے پتے ہیںبہتے پانی کی سطح پرجیسے تیرتے ہیںابھی یہاں ہیںابھی وہاں ہیںاور اب ہیں اوجھلدکھائی دیتا نہیں ہے لیکنیہ کچھ تو ہےجو کہ بہہ رہا ہےیہ کیسا دریا ہےکن پہاڑوں سے آ رہا ہےیہ کس سمندر کو جا رہا ہےیہ وقت کیا ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئییا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائیبس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہےسب مایا ہےاک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیںجب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیںتب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہےسب مایا ہے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گادل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گاحلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیںہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیںلطف کی بات کہیں پیار کا اقرار کہیں
ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہوجبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہومحمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہوخون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہےشعلۂ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے
(اندلس کے میدان جنگ میں)یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندےجنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائیدو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریاسمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائیدو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کوعجب چیز ہے لذت آشنائیشہادت ہے مطلوب و مقصود مومننہ مال غنیمت نہ کشور کشائیخیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سےقبا چاہیئے اس کو خون عرب سےکیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتاخبر میں نظر میں اذان سحر میںطلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کووہ سوز اس نے پایا انہیں کے جگر میںکشاد در دل سمجھتے ہیں اس کوہلاکت نہیں موت ان کی نظر میںدل مرد مومن میں پھر زندہ کر دےوہ بجلی کہ تھی نعرۂ لا تذر میںعزائم کو سینوں میں بیدار کر دےنگاہ مسلماں کو تلوار کر دے
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books