aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نائٹ کلب

سلیم بیتاب

نائٹ کلب

سلیم بیتاب

MORE BYسلیم بیتاب

    نئی تہذیب کے شہکار عظیم!

    تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام!

    کتنے نوخیز و حسیں جسم یہاں چاروں طرف

    رقص میں محو ہیں عریانی کی تصویر بنے

    اپنی رعنائی و زیبائی کی تشہیر بنے

    ساز پرجوش کی سنگت میں تھرکتے جوڑے

    فرش مرمر پہ پھسلتے ہیں بہک جاتے ہیں

    دوڑتی جاتی ہے رگ رگ میں شراب گلفام

    نئی تہذیب کے شہکار عظیم!

    تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام!

    ان کی آنکھوں سے چھلکتی ہے ہوس کی مستی

    ان کے سینوں میں فروزاں ہیں وہ جنسی شعلے

    جن کی اک ایک لپٹ سے ہے بھسم شرم و حیا

    قہقہے، ساز کی تانوں میں ڈھلے جاتے ہیں

    لمس کی آگ میں سب جسم جلے جاتے ہیں

    آنکھ کے ڈوروں میں پوشیدہ ہیں مبہم سے پیام

    نئی تہذیب کے شہکار عظیم!

    تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام

    دھڑکنیں تیز ہوئیں شوق کی لے بڑھنے لگی

    جسم پر تنگی ملبوس ذرا اور بڑھی

    آنکھ میں نشے کی اک لہر ذرا اور چڑھی

    لرزش پا سے جھلکنے لگی دل کی لغزش!

    دفعتاً جاز کی پرجوش صدا بند ہوئی

    روشنی ڈوب گئی پھیل گئی ظلمت شب۔۔۔۔

    جسم سے جسم کی قربت جو بجھانے لگی آگ

    دوپہر ڈھل گئی جذبات کی ہونے لگی شام

    نئی تہذیب کے شہکار عظیم!

    تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام

    جل گیا سینۂ سوزاں میں ہی انساں کا ضمیر

    روح کی چیخ فضاؤں میں کہیں ڈوب گئی

    رخ تہذیب پسینے میں شرابور ہوا

    علم ہے سر بہ گریباں و ادب مہر بہ لب

    کس سے اس دور جراحت میں ہو مرہم کی طلب

    ملک تہذیب میں چنگیز ہے پھر خوں آشام

    نئی تہذیب کے شہکار عظیم!

    تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام

    مأخذ:

    Jalta Hai Badan (Pg. 63)

    • مصنف: Zahid Hasan
      • اشاعت: 2002
      • ناشر: Apnaidara, Lahore
      • سن اشاعت: 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے