aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "manaa.e"
تم مرے پاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہوجس گھڑی رات چلے،آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلےمرہم مشک لیے، نشتر الماس لیےبین کرتی ہوئی ہنستی ہوئی، گاتی نکلےدرد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلےجس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دلآستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگےآس لیےاور بچوں کے بلکنے کی طرح قلقل مےبہر نا سودگی مچلے تو منائے نہ منےجب کوئی بات بنائے نہ بنےجب نہ کوئی بات چلےجس گھڑی رات چلےجس گھڑی ماتمی سنسان سیہ رات چلےپاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو
چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہےخوشی کے گیت سنائیں کہ جشن کا دن ہےرخوں پہ پھول کھلائیں کہ جشن کا دن ہےدلوں میں پریت جگائیں کہ جشن کا دن ہے
بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤدنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤمردہ دلی کا جھنڈا پھینکو زمین پر تمزندہ دلی کا ہر سو پرچم اڑائے جاؤلاؤ نہ بھول کر بھی دل میں خیال پستیخوش حالئ وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤتن من مٹائے جاؤ تم نام قومیت پرراہ وطن میں اپنی جانیں لڑائے جاؤکم ہمتی کا دل سے نام و نشاں مٹا دوجرأت کا لوح دل پر نقشہ جمائے جاؤاے ہندوؤ مسلماں آپس میں ان دنوں تمنفرت گھٹائے جاؤ الفت بڑھائے جاؤبکرمؔ کی راج نیتی اکبرؔ کی پالیسی کیسارے جہاں کے دل پر عظمت بٹھائے جاؤجس کشمکش نے تم کو ہے اس قدر مٹایاتم سے ہو جس قدر تم اس کو مٹائے جاؤجن خانہ جنگیوں نے یہ دن تمہیں دکھائےاب ان کی یاد اپنے دل میں بھلائے جاؤبے خوف گائے جاؤ ''ہندوستاں ہمارا''اور ''وندے ماترم'' کے نعرے لگائے جاؤجن دیش سیوکوں سے حاصل ہے فیض تم کوان دیش سیوکوں کی جے جے منائے جاؤجس ملک کا ہو کھاتے دن رات آب و دانہاس ملک پر سروں کی بھیٹیں چڑھائے جاؤپھانسی کا جیل کا ڈر دل سے فلکؔ مٹا کرغیروں کے منہ پہ سچی باتیں سناتے جاؤ
سالگرہ خرگوش منائےجنگل کے سب ساتھی آئےبھیڑ لگی ہے مہمانوں کیکچھ اپنوں کچھ بیگانوں کیشیر دہاڑیں مارتا آئےہاتھی بھی چنگھاڑتا آئےکتا بھوں بھوں کرتا آیاسانبھر چوکڑی بھرتا آیاگائے جب رمبھاتی آئیبکری کچھ شرماتی آئیناچتا گاتا آیا بھالوڈولتا آیا مینڈھا کالوگھوڑا سرپٹ دوڑا آیابھینسوں کا اک جوڑا آیاہرنی آئی لومڑی آئیبلی اپنے بچے لائیساتھ میں سب ہی لائے تحفےسب خرگوش نے پائے تحفےپھولوں کا گلدستہ لے کرچیں چیں کرتا آیا بندرکیک بنا کے لایا چیتااس نے دل خرگوش کا جیتاکیک کٹا تو سارے خوش تھےکیک بٹا تو سارے خوش تھےاک دوجے سے گلے ملے سببھول کے شکوے اور گلے سببندر ناچے بھالو گائےکالو مینڈھا ڈھول بجائےسالگرہ کا جشن بپا ہےجنگل جنگل شور ہوا ہے
بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہےہر سمت عید جشن محبت منائے ہےانسانیت کی پینگ محبت بڑھائے ہےموسم ہر اک امید کو جھولا جھلائے ہےبارش میں کھیت ایسی طرح سے نہائے ہےرونق ہر اک کسان کے چہرے پہ آئے ہےہم سب کو اپنے گھیرے میں لینے کے واسطےچاروں طرف سے گھر کے گھٹا آج آئے ہےحیوانیت نے خون کے دھبے جنم دیےبرسات آ کے خون کے دھبے چھڑائے ہےشہزادئ بہار کی آمد ہے باغ میںہر ایک پھول راہ میں آنکھیں بچھائے ہےہے کتنی پیاری پیار بھری عید کی ادااپنا سمجھ کے سب کو گلے سے لگائے ہےسچ پوچھیے تو یہ بھی محبت کا ہے ثبوتجو رائے آپ کی ہے وہی میری رائے ہےبوچھاریں آ کے دیتی ہیں اس کو سلامیاںبنسی بجا بجا کے جو میلہ لگائے ہےمیں جاؤں گا تو پھر کبھی واپس نہ آؤں گاکالی گھٹا تو ہر برس آئے ہے جائے ہےعید الفطر کی وجہ شرافت تو دیکھیےہر سال آ کے سب کو گلے سے لگائے ہےدیجے دعائیں عید کی تیوہار کو نذیرؔاک بھیڑ آج آپ سے ملنے کو آئے ہے
اداس موسم کے رتجگوں میںہر ایک لمحہ بکھر گیا تھاہر ایک رستہ بدل گیا تھاپھر ایسے موسم میں کون آئےکوئی تو جائےترے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائےتری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر آئےتجھے بتائے کہ کون کیسےاچھالتا ہے وفا کے موتیتمہاری جانب کوئی تو جائےمری زباں میں تجھے بلائے تجھے منائےہماری حالت تجھے بتائے تجھے رلائےتو اپنے دل کو بھی چین آئے
دھرتی پر بارود اگایا امن کے گانے گائےایک دوجے کے خون سے ہم نے کیسے جشن منائے
تاروں بھری اک رات ہوقصوں میں کوئی بات ہواک بڑھیا روئی کاتتیاور گھی کے لڈو بانٹتیپیتل کی گھنٹی بولتیکانوں میں رس ہے گھولتیگھنگھرو کھنک کر رہ گئےتارے چھٹک کر رہ گئےجب نیند آئے دور سےہم کو منائے دور سےآؤ چلیں ہم چاند پرتاروں بھری اک رات میں
ڈم ڈم ڈم ڈم ڈمرو باجےبچے پاس گلی میں بھاگےکھیل دکھائے بھالو والارنگ جمائے بھالو والاچھم چھم بھالو گھوم رہا ہےبچہ بچہ جھوم رہا ہےکرتب خوب دکھائے بھالوسب کا دل بہلائے بھالواجلا اجلا سوٹ پہن کرکالے کالے بوٹ پہن کرکرسی پر آرام کرے ہےاردو کا اخبار پڑھے ہےغور سے فلمی گانا سنتاگیت غزل دیوانہ سنتاجب بھالو سے کہے مداریگھر والی ہے کہاں تمہاریبھالو کرسی سے اٹھ جائےاپنا کچھ سامان اٹھائےاب بھالو سسرال چلا ہےسج دھج کر بھوپال چلا ہےبیوی میکے روٹھ گئی ہےاس کی قسمت پھوٹ گئی ہےجا کر اسے منائے بھالوسمجھا کر گھر لائے بھالوکچھ پل پھر آرام سے گزرےہنستے گاتے کھاتے پیتےبیگم تھی پر خوب لڑاکوغصہ میں ہوتی بے قابوباتوں باتوں میں کھٹ پٹ ہوشوہر بیوی کی جھنجھٹ ہوبیوی چیخے اور چلائےبھالو اس پر رعب جمائےہنس ہنس کے بے حال ہوئے سببیوی اس کی بھاگ گئی جببھالو گم سم بیٹھ گیا ہےکھیل تماشا ختم ہوا ہے
عید کے روز گلے کس کو لگائے کوئیوہ نہ ہوں پاس تو کیا عید منائے کوئی
سورج اپنی پچکاری سے کرتا ہے یلغارصبح کے اجلے دامن پہ ہے رنگا رنگ بہارنیلے پیلے لال گلابی رنگوں کی بوچھارجھومیں ناچیں دھوم مچائیں گلیاں اور بازارباجے تاشے سیر تماشے لے کر جاگی بھوررنگ کے اندر رنگ جگائے ہولی چاروں اورمستوں کی ٹولی کے پیچھے ہے مستوں کا شورآج ترنگوں اور امنگوں کا ہے پورا زورراگ رنگ اور کھیل تماشے ہولی کا اپہارہردے ہردے پریم جگائے پیار بھرا تہوارمیٹھی میٹھی چھیڑ چھاڑ اور میٹھی میٹھی دھومگلیوں گلیوں سڑکوں سڑکوں باجیں من کے تارنت رنگوں سے یک رنگی کا جاگے جب احساستب ہولی کا جشن منائے دھرتی اور آکاس
میں ہوںویرانے میںایک شجر تنہامجھ پہ چھایا رہتا ہے ایک مہیب سناٹاجانے کب تکان سناٹوں کا ساتھ رہے گادل میں جاگے ہے بس یہی ارماںکاش چڑیا کوئی آئےمجھ پہ بیٹھے پھدکے گائےخوب چہچہائےجوڑ کے تنکےباہوں پر مری خوب منائے رین بسیراجنم دے بھولے بھالے بچوں کوشاخوں سے پھل توڑے کھائے کھلائے بچوں کوبیٹھے پھدکے گائےخوب چہچہائےکاش چڑیا کوئی آئے
چپ چپ اپنے چپ بیگانے نرسنگھے خاموشاپنی ریکھا لیکھ کی ہانی یا کرموں کا دوشآشاؤں کی پھلواری میں پھوٹی کڑوی بیلپالے پوسے بن لہرائی الھڑ اور انیلپریم لتا کی سندرتا میں جاگ اٹھے ارماناپنے پرائے ساجن بن کر آئے نظر انسانکڑوی بیل میں بیٹھے پھل آنے کی جب رت آئیباجے گاجے گونج اٹھے اور بجنے لگی شہنائیماں موسی اور سنگ سکھیوں نے شگون شگون منائےڈومینوں نے رنگ رچایا چھیلب سوہلے گائےشبھ دن آیا آج سکھی ریشبھ دن آیا آجچاکر بن کر آئے کھڑے ہیںدیکھ سکھی تو راجمیرے لیے یہ دل کش سوہلے بن گئے رونا راگشہنائی میں ڈوب گیا جب اس کا آپ تیاگجیون پگ پر پہلے ڈگ میں دیکھ کے اپنی ٹھوڑپلو تھام کر چلی باوری ہاتھ پرائے ڈور
جانے کتنوں نے مجھ پر وشواس کیا اور داؤ لگائےبازی جیتےجشن منائےکتنے جاکی میری پیٹھ پہ بیٹھ کےمجھ کو ایڑ لگا کےتیز بھگا کےاول آئےمیڈل جیتے تمغے پائے
میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجاتمیں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہواپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیےبازار التفات میں نادار ہی رہو
میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفاکھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میںشاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میںاور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوںاب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوںچارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوںتم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگرمیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
متاع دل متاع جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤبہت کچھ بہہ گیا ہے سیل ماہ و سال میں اب تک
بدہ یارا ازاں بادہ کہ دہقاں پرورد آں رابہ سوزد ہر متاع انتماے دودماناں رابہ سوزد ایں زمین اعتبار و آسماناں رابہ سوزد جان و دل راہم بیاساید دل و جاں را
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books