aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maregii"
نظم کفن کے بغیراپنے آپ کو نہیں مارے گی
کاری نہ مرے گی کوئی بھی ناریزیست رہے گی نہ اس پہ بھاری
ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہے
بتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات
مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملی
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات
الٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میری
نہ صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کوکہ ہر شے سمندر سے آئی سمندر میں جا کر ملے گی
لے کے کشکول علم و حکمت و فنکو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے
عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!
نہ لوٹے گا کوئی محنت کسی کیملے گی سب کو دولت زندگی کی
آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صدا
کہ آدمی کو یہ پڑتی ہیں کس قدر مہنگیاک ایک کر کے وہ طفلی کے ہر خیال کی موت
چمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سے
مرگ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگوعدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے
وہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھا
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
کہتی ہے جب وہ سن کر یہ بات بھیگ احمقماروں گی تیرے آ کر اک لات بھیگ احمق
ہم نے تو خوشی مانگی تھی مگرجو تو نے دیا اچھا ہی دیا
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books