aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "marg-e-aashiq"
دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہاس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہشاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہدروازہ کھلا رکھنا
آسماں پر رواں سرمئی بادلوہاں تمہیں کیا اڑو اور اونچے اڑوباغ عالم کے تازہ شگفتہ گلوبے نیازانہ مہکا کرو خوش رہولیکن اتنا بھی سوچا، کبھی ظالمو!ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر میں
شکار ہو گیا جب مرگ ناگہانی کاخیال آئے گا لوگوں کو تب نشانی کا
تجھے معلوم نہیں،اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوںجیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تیرہ نصیبسخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے:کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھےاس غم مرگ تہہ آب سے آزاد کرے
میں اجنبی وہ اجنبیاسیر آرزو بھی مگر سیاہ کا دل دل بے خبروہ دائرہ رواں ہے جس کے ہر سفر کی انتہامقام مرگ تازگی مقام مرگ نغمگیہوا نمی سفید دھوپ زرد پھول دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئےہماری آرزو کے بیچ موسموں پہ چھا گئے
وہ شام کے وقت خوں میں لت پتسڑک کے کنارے پڑا ہوا تھاگزرنے والوں سے کہہ رہا تھاہمیں ہمارے محافظوں سےنجات کا راستہ بتاؤوہ خواہش اقتدار و دولت میںہم کو نیلام کر رہے ہیںاخوت و اتحاد کا درد دینے والےخود اپنے بچوں کے خوں سےحرص و ہوس کی شمعیں جلا رہے ہیںہماری اقدارآج متروک فیشنوں کے لباس کی طرحان کی نظروں سے گر چکی ہیںاب ان کی اولاد ان کی ریشہ دوانیوں سے پناہتازہ بتازہ نشوں میں ڈھونڈتی ہےانہی کی شہ پا کے نسل نواپنی پیاس اک دوسرے کے خوں سے بجھا رہی ہےیہ سنگ دل جشن مرگ انبوہ بے گناہاں منا رہے ہیںکوئی ہمیں ان نجیب صورتحریص بے مہر کرگوں سےنجات کا راستہ بتاؤ
اس کے دم سے ہم پہ واضح عقدۂ مرگ و حیاتاس کے دم سے ہم پہ روشن ہے جہان کائنات
اب کچھ نہیں تو نیند سے آنکھیں جلائیں ہمآؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!
عبادت کا طریقہ حرکتیں ہیں تشنہ و مبہمکبھی روح صنم بیدار خواب مرگ مہمل سےکسی اندر سبھا کی لاکھ پریاں آ کے بہلائیں
رقص کی رات کوئی دور طرببن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردشمحور حال بھی ہو جادۂ آئندہ بھیاور دونوں میں وہ پیوستگئ شوق بھی ہوجو کبھی ساحل و دریا میں نہ تھیپھر بھی حائل رہے یوں بعد عظیملب ہلیں اور سخن آغاز نہ ہوہاتھ بڑھ جائیں مگر لامسہ بے جان رہےتجھے معلوم نہیںاب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوںجیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تیرہ نصیبسخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھےکاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھےاس غم مرگ تہہ آب سے آزاد کرے
کہیں ڈھول کی تھاپ پر رقص مرگ مسلسلکہیں دلدلوں میں اترتے ہوئے جسم جیسےگنہ گار اپنے کئے کی سزا پا رہے ہیںنہ تو اپنی پلکوں کے کالے پھریرے اٹھا کر کہیں جا رہی ہےنہ میں کوئی پرچم اٹھائے ہوئے چل رہا ہوں
چمکمیرا تصورخوشیوں کا جھونکالمس رخ گلراحت شب مہتابفرحت صبح بہارنغمگیبھوکدرد کی کسکغم بے چارگی عزم جواںصورت ہائے یاران بے یاراحساس سلسلہ ہائے مکر و فریبنقش ہائے کشمکش مرگ و زیستکرب خاک ہیروشیماادراک رگ میں یہ چبھتے ہوئے لاکھوں نشترشدت دردتومیںہر کوئی جو نگہ و دل میں آئےروٹیایٹم بمتومیںدھندلکالمحے کی موتایک اور لمحے کی جلوہ گریعمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
تجھے پکارے گی راتوں کو میری تنہائییہ بھوک روح کی یہ اشتہائے بے آرامجو ایک مرگ مسلسل ہے ایک سوز دوام
ہم سب اپنی اپنی لاشیں اپنے انا کے دوش پہ لادےاک قبرستاں کی پر ہول اداسی سے اکتائے ہوئےایک نئے شمشان کا رستہ ڈھونڈ رہے ہیںمنتظر مرگ انبوہ ہجوم آنکھوں کے خالی کاسے کھولے ہر سو دیکھ رہا ہےجانے کب کوئی آئے گا جو اپنے دامن کی ہوا سےبھوتوں کا جلنا دیکھے گااور بھیانک سائے گلے مل مل کر کھوکھلی آوازوں میں روئیں گے
خود کشی قبر میں بھیجے گی ہمیں غم کو نہیںمرگ ہستی میں کہاں ہے غم ہستی کا علاجقبر میں لاشیں ہی لاشیں ہیں تمناؤں کیموت کے پاس کہاں اپنی غریبی کا علاج
بھلے یا برے ہم ابھی ہیں سلامتابھی ٹوٹنے کو ہے لیکن قیامتاگر مرگ احساس کی آرزو آخری قدر ٹھہریابھی ایک بے جان ماضی کے صحرا میں کھو جائیں گے ہمابھی غیر دلچسپ ہو جائیں گے ہم
سپہ گراے شہید حرمت ارض وطنتیرا لہو بنیاد میں ہےایسی نادیدہ فصیلوں کیجو ہر جانبوطن کی سرحدوں پردشمنوں کی راہ میں حائل رہیں گیتیری مرگ بے نشاں سےہو گیا دائم نشاں تیرے وطن کاتو رہا گمناملیکن تا قیامت نام تیری سر زمیں کایاد رکھا جائے گا
لا یعنی ہیں مرگ و زیستبے معنی ہیں سب الفاظبے حس ہے مخلوق خداہر انساں اک سایہ ہےشادی غم اک دھوکا ہےدل آنکھیں لب ہاتھ دماغایک وبا کی زد میں ہیںاپنے زوال کی حد میں ہیں
تمہارے اور اپنے عشق کی ہر کیفیت سے آشنا ہوں میںمگر جاناںتمہیں بالکل بھلا دینے کی جانے کیفیت کیا ہےمجھے محسوس ہوتا ہےکہ مرگ ذات کے احساس سے بھر جاؤں گا فوراًتمہیں میں بھولنا چاہوں گا تو مر جاؤں گا فوراً
بظاہر جو سیدھے نظر آ رہے ہیںیہ سب راستے دائروں کی طرح ہیںوجود ملامت میں پھیلے ہوئےبے کراں فاصلوں کے نشاں ہیںجہاں خلقت بے اماں کے لئےروز و شب مرگ پیہم سزا وار ہونے لگے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books