aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mariye"
سچ بتاؤں زیب یہ دیتا نہیں سرکار کوپالئے بیماریوں کو ماریے بیمار کو
مکے مدینے کے پاک مصلے پیمبر گھر نواسےشاہ مرداں امیرالمومنین حضرت علیؔ کے پوتے
دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہےجس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے
مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملی
طبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجا
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات
الٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میری
تلاش میں کام ہی کے شاید:''میں شہر کی اس مشین میں فٹ ہوں جیسے ڈھبری،
عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!
اور اپنی حفاظت کروکچھ مہینے تمہیں اپنے تسمے نہیں باندھنے
آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صدا
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرےکسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
اور دلوں کے مرثیےاک دوسرے کے نام کر دیتے
مرگ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگوعدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکر
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیےکہ انیسؔ نے بھی کہے نہیں
طفل باراں تاجدار خاک امیر بوستاںماہر آئین قدرت ناظم بزم جہاں
۱دور جا کر قریب ہو جتنے
ہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیں
وہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books