aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "masiil"
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جوابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب
''ہر ایک کروٹ میں یاد کرتا ہوں تم کو لیکنیہ کروٹیں لیتے رات دن یوں مسل رہے ہیں مرے بدن کو
جس سے چھٹ جائے پرانا میلان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کیمسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا
کچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں؟کچھ میل صداقت کا تو نہیں؟
لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
منہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسی
گھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خواب
تڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سے
سقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھے
میں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعت
ہمارا ساتھ چھوٹے گانئے رشتوں کے میری جاں مسائل کم نہیں ہو گے
مرہم یاس سے مائل بہ شفا ہونے لگازخم امید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگا
زمیں چیں بر جبیں ہے آسماں تخریب پر مائلرفیقان سفر میں کوئی بسمل ہے کوئی گھائل
جب مائل الطاف نظر آئے وہ خودبیںتو ہر نگہ شوق کو افسانہ بنا دے
مسیح و خضر کی کہنے کو کچھ کمی ہی نہیںگزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے
وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
الوداع کہہ چکی ہےتم مجھے مسل سکتے ہو
ہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books