aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "moniso"
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیڈر رہا تھا کہ کہیں زخم نہ بھر جائیں مرےاور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھیاور ہی طرح کی آنکھیں تھیں ترے چہرے پرتو کسی اور ستارے سے چمک لائی تھیتیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونس جاںکیا کروں میں کہ تو بولی ہی بہت کم مجھ سےتیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نےجیت جائے گا کسی روز ترا غم مجھ سےشہر آوازیں لگاتا تھا مگر تو چپ تھییہ تعلق مجھے کھاتا تھا مگر تو چپ تھیوہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہےتجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھاچلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سےیہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا
سامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریںاکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیںجیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوںمیرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونسآج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہےاپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوضآج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوںگرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوشمیرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیںجیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیںاپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیں
اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفآج بھی یاد ہے دور سے تیری آواز کانوں میں پڑتی تو کچھ بھی سنائی نہ دیتاکاش تو اپنے زنداں سے مجھ کو رہائی نہ دیتاکون بیتے ہوئے خواب پر خاک ڈالےکون اتنی غلط فہمیوں کا ازالہ کرےکس سے پوچھیں وبا اور وفا میں بنائے ہوئے بے تکلف تعلقکی عمریں اگر مختصر ہیں تو کیوں ہیںکون بھولے اماوس کی راتوں سی زلفوں کی رعنائیاںکون دل سے حیا دار آنکھوں کی یادیں مٹا دےدوست کس کو مفر ہے یہاں بے یقینی کے سیل بلا سےدوست کشتی سنبھالی نہیں جا رہی اب ترے نا خدا سےمیں نے تیری رفاقت میں جتنی گزاری مرے ساتھ تیرے دلاسے کی برسات اور تیرے بولے ہوئے لفظ کی ہر تسلی ہمیشہ رہی ہےمیں نے تاریک رہداریوں میں کبھی تیری آنکھوں کی کرنوں کی بے فیضگی کا گلہ کر لیامونس جان ایسا بھی کیا کر لیاغم تو تب تھا کہ میں تیرے جانے کا غم بھی نہ کرتامیرے دن میری راتیں ترے سامنے ہیںبتا ہاتھ کب تھامنے ہیں
یہ باتیں سچ ہیں نہ جھوٹ ان کو جانیو یارو!نصیحتیں ہیں انہیں دل سے مانیو یارو!جہاں کو جاؤ یہ قصہ بکھانیو یارو!جو جواری ہو نہ برا اس کا مانیو یارونظیرؔ آپ بھی ہے جواریا دیوالی کا
سمجھتا ہے اسے سارا زمانہکتابیں علم و حکمت کا خزانہدلوں کا نور ہیں اچھی کتابیںچراغ طور ہیں اچھی کتابیںہماری مونس و غم خوار ہیں یہجہاد علم کی للکار ہیں یہکتابیں کیا ہیں روحانی خدا ہیںسکوں دل کا دواؤں کی دوا ہیںہماری کیوں نہ ہو منزل کتابیںرسولوں پر ہوئیں نازل کتابیںکتابوں سے ہے جس کی آشنائیبڑی دولت جہاں میں اس نے پائیکتابیں کامیابی کا ہیں زینہرکھیں آباد یہ دل کا مدینہکتابوں کی رفاقت بھی عجب ہےتعلق توڑنا ان سے غضب ہےصداقت کا یہی رستہ دکھائیںبروں کو بھی یہی اچھا بنائیںسکھاتی ہیں یہ جینے کا طریقہبتاتی ہیں ہمیں کیا ہے سلیقہکسی نے منہ کتابوں سے جو پھیرایقیناً اس کو ذلت نے ہے گھیراکتابوں سے اگر خالی مکاں ہےوہ ہے بھوتوں کا مسکن گھر کہاں ہےکتابوں سے حلاوت گفتگو میںشرافت کا اثر باقی لہو میںکتابوں سے جہاں میں نام زندہہماری صبح زندہ شام زندہکتابوں سے سدا رشتہ بڑھاؤاسی میں زندگی اپنی لگاؤ
دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آجتاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے آجوہ سر اٹھائے موج فنا آ رہی ہے آجموج حیات موت سے ٹکرا رہی ہے آجکانوں میں زلزلوں کی دھمک آ رہی ہے آجہر چیز کائنات کی تھرا رہی ہے آججھپکا رہی ہے دیر سے آنکھیں ہوائے دہرکون و مکاں کو نیند سی کچھ آ رہی ہے آجہر لفظ کے معانی و مطلب بدل چکےہر بات اور بات ہوئی جا رہی ہے آجیکسر جہان حسن بھی بدلا ہوا سا ہےدنیائے عشق اور نظر آ رہی ہے آجہر ہر شکست ساز میں ہے لحن سرمدییا زندگی کے گیت اجل گا رہی ہے آجیہ دامن اجل ہے کہ تحریک غیب ہےکیا شے ہوائے دہر کو سنکا رہی ہے آجابنائے دہر لیتے ہیں یوں سانس گرم و تیزجینے میں جیسے دیر ہوئی جا رہی ہے آجافلاک کی جبیں بھی شکن در شکن سی ہےتیوری زمین کی بھی چڑھی جا رہی ہے آجپھر چھیڑتی ہے موت حیات فسردہ کوپھر آتش خموش کو اکسا رہی ہے آجبرہم سا کچھ مزاج عناصر ہے ان دنوںاور کچھ طبیعت اپنی بھی گھبرا رہی ہے آجاک موج دود سینے میں لرزاں ہے اس طرحناگن سی جیسے شیشے میں لہرا رہی ہے آجبیتے جگوں کی چھاؤں ہے امروز پر فراقؔہر چیز اک فسانہ ہوئی جا رہی ہے آج
بھلائی سب کی ہو جس سے وہ کام اس کا ہےجہاں بھی جاؤ وہیں احترام اس کا ہےاٹھائے سر کوئی کیا سر اٹھا نہیں سکتامقابلے کے لئے آگے آ نہیں سکتاکسی سے اس کو محبت کسی سے الفت ہےکسی کو اس کی ہے اس کو کسی کی حسرت ہےوفا و لطف ترحم کی خاص عادت ہےغرض کرم ہے مدارات ہے عنایت ہےکسی کو دیکھ ہی سکتا نہیں ہے مشکل میںیہ بات کیوں ہے کہ رکھتا ہے درد وہ دل میںوہ رشک شمع ہدایات ہے انجمن کے لئےوہ مثل روح رواں عنصر بدن کے لئےوہ ایک ساغر نو محفل کہن کے لئےوہ خاص مصلح کل شیخ و برہمن کے لئےلگن اسے ہے کہ سب مالک وطن ہو جائیںقفس سے چھوٹ کے زینت دہ چمن ہو جائیںجفا شعار سے ہوتا ہے بر سر پیکارنہ پاس توپ نہ گولا نہ قبضے میں تلوارزمانہ تابع ارشاد حکم پر تیاروہ پاک شکل سے پیدا ہیں جوش کے آثارکسی خیال سے چرخے کے بل پہ لڑتا ہےکھڑی ہے فوج یہ تنہا مگر اکڑتا ہےطرح طرح کے ستم دل پر اپنے سہتا ہےہزار کوئی کہے کچھ خموش رہتا ہےکہاں شریک ہیں آنکھوں سے خون بہتا ہےسنو سنو کہ یہ اک کہنے والا کہتا ہےجو آبرو تمہیں رکھنی ہو جوش میں آؤرہو نہ بے خود و بیہوش ہوش میں آؤاسی کو گھیرے امیر و غریب رہتے ہیںندیم و مونس و یار و حبیب رہتے ہیںادب کے ساتھ ادب سے ادیب رہتے ہیںنصیب ور ہیں وہ بڑے خوش نصیب رہتے ہیںکوئی بتائے تو یوں دیکھ بھال کس کی ہےجو اس سے بات کرے یہ مجال کس کی ہےرفاہ عام سے رغبت ہے اور مطلب ہےانوکھی بات نرالی روش نیا ڈھب ہےیہی خیال تھا پہلے یہی خیال اب ہےفقط ہے دین یہی بس یہی تو مذہب ہےاگر بجا ہے تو بسملؔ کی عرض بھی سن لوچمن ہے سامنے دو چار پھول تم چن لو
بھائی سے بڑھ کے مجھے ہیں یہ میرے مایۂ نازمیرے مونس ہیں یہی اور یہی میرے ہم راز
فردوس بنائے ہوئے ساون کے مہینےاک گل رخ و نسریں بدن و سرو سہی نےماتھے پہ ادھر کاکل ژولیدہ کی لہریںگردوں پہ ادھر ابر خراماں کے سفینےمینہ جتنا برستا تھا سر دامن کہساراتنے ہی زمیں اپنی اگلتی تھی دفینےاللہ رے یہ فرمان کہ اس مست ہوا میںہم منہ سے نہ بولیں گے اگر پی نہ کسی نےوہ مونس و غم خوار تھا جس کے لیے برسوںمانگی تھیں دعائیں مرے آغوش تہی نےگل ریز تھے ساحل کے لچکتے ہوئے پودےگل رنگ تھے تالاب کے ترشے ہوئے زینےبارش تھی لگاتار تو یوں گرد تھی مفقودجس طرح مئے ناب سے دھل جاتے ہیں سینےدم بھر کو بھی تھمتی تھیں اگر سرد ہوائیںآتے تھے جوانی کو پسینے پہ پسینےبھر دی تھی چٹانوں میں بھی غنچوں کی سی نرمیاک فتنۂ کونین کی نازک بدنی نےگیتی سے ابلتے تھے تمنا کے سلیقےگردوں سے برستے تھے محبت کے قرینےکیا دل کی تمناؤں کو مربوط کیا تھاسبزے پہ چمکتی ہوئی ساون کی جھڑی نےبدلی تھی فلک پر کہ جنوں خیز جوانیبوندیں تھیں زمیں پر کہ انگوٹھی کے نگینےشاخوں پہ پرندے تھے جھٹکتے ہوئے شہ پرنہروں میں بطیں اپنے ابھارے ہوئے سینےاس فصل میں اس درجہ رہا بے خود و سرشارمیخانے سے باہر مجھے دیکھا نہ کسی نےکیا لمحۂ فانی تھا کہ مڑ کر بھی نہ دیکھادی کتنی ہی آواز حیات ابدی نے
اے رہبر منزل تری رفتار کے صدقےاے مہر منور ترے انوار کے صدقےاے بندۂ حق گو تری گفتار کے صدقےاے صاحب ایماں ترے کردار کے صدقےتو بندہ و صاحب بھی تھا محتاج و غنی بھیجلووں کا امیں بھی ترے لب پہ ارنی بھیہر چہرۂ مردم کے خد و خال برے تھےدیکھو جسے اس شخص کے اعمال برے تھےملا کے بھی پنڈت کے بھی اعمال برے تھےجو جھوٹ نے پھیلائے تھے وہ جال برے تھےسچا ترا دن اور تری رات بھی سچیسچا ترا سودا تیری ہر بات بھی سچیاس در کا پجاری کوئی اس در کا پجاریمغرب کا پجاری کوئی خاور کا پجاریمینا کا پجاری کوئی ساغر کا پجاریقبروں کا پجاری کوئی بنجر کا پجاریکثرت تھی یہاں شرک کی توحید نہیں تھیروزوں کا بھلاوا تھا مگر عید نہیں تھیتو ہندو و مسلم کے گناہوں سے تھا واقفمذہب کی سسکتی ہوئی آہوں سے تھا واقفتو شعبدہ بازوں کی نگاہوں سے تھا واقفتو منزل توحید کی راہوں سے تھا واقفدر حق کے کبھی بندۂ حاجی پہ کھلے ہیںگنگا میں نہا کر بھی کبھی پاپ دھلے ہیںتو نے یہ کہا سب سے بڑا حکم رضائیتو نے یہ کہا سانچ کی قیمت نہیں پائیتو نے یہ کہا سو کے یہ سب عمر گنوائیتو نے یہ کہا جھوٹ ہے سب زہد ریائیپر معنی و پر مغز ہیں نیکی کے اشارےہر حال میں ہر رنگ میں رہبر ہیں ہمارےمیں مست مئے عشق ہوں تن ریش قلندرتیرتھ ہے اگر کوئی تو اس من کے ہے اندرجاؤں میں کہاں سجدے کو من میرا ہے مندرہے عزم مرا فاتح دارا و سکندرگاتے ہیں جسے دیوتا بھی چودہ رتن بھیرقصاں ہے اسی در پہ میری جان بھی تن بھیجو درس دیا تو نے وہ عظمت کا امیں ہےوہ پریم کی اخلاق کی خاتم کا نگیں ہےکندن جو نہ ہو جائے وہ سونا ہی نہیں ہےحق گو ہے جو دنیا ہی میں جنت کا مکیں ہےسر جھکتے ہیں سب کے تری سرکار میں آ کرہم سجدہ کناں ہیں ترے دربار میں آ کر
تو نے اک بار کہا تھا مجھے تنہائی میںپیار دولت کا پرستار نہیں ہو سکتازندگی حرص کے پہلو میں نہیں سو سکتیجسم رسوا سر بازار نہیں ہو سکتاولولے روح کے نیلام نہیں ہو سکتےحسن ذلت کا پرستار نہیں ہو سکتامصلحت آج مگر جیت چکی ہے تجھ کوکوئی کس منہ سے کہے مونس و غم خوار تجھےکوئی کس دل سے کہے پیار کی رانی تجھ کوکوئی کس طرح کہے پیکر ایثار تجھےتو نے بیچی ہے سر عام جوانی اپنیگدگداتی ہے زر و سیم کی جھنکار تجھے
مومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگزکر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کوورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگزداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگزرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگزبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
میں مسافر ہوں بیابان فراموشی کااپنے نقش کف پا سے بھی شناسائی نہیںتا بہ پہنائے نظر ریت کے ٹیلوں کا سکوتاپنا سایہ بھی یہاں مونس تنہائی نہیںتیر بن کر کوئی سناٹے کے دل میں اترےکسی مایوس پرندے کی صدائے تنہازخمی آہوئے رمیدہ کی ادائے تنہاکاش پل بھر کو اتر آتا خدائے تنہامیں کسی آزر گمنام کا بت ہوں شایدجس کی قسمت میں کوئی چشم تماشائی نہیںاذن فریاد نہیں رخصت گویائی نہیں
اور پھر یوں ہواجو پرانی کتابیں، پرانے صحیفےبزرگوں سے ورثے میں ہم کو ملے تھےانہیں پڑھ کے ہم سب یہ محسوس کرنے لگےان کے الفاظ سےکوئی مطلب نکلتا نہیں ہےجو تعبیر و تفسیر اگلوں نے کی تھیمعانی و مفہوم جو ان پہ چسپاں کئے تھےاب ان کی حقیقت کسی واہمے سے زیادہ نہیں ہےاور پھر یوں ہواچند لوگوں نے یہ آ کے ہم کو بتایاکہ اب ان پرانی کتابوں کوتہہ کر کے رکھ دوہمارے وسیلے سےتم پر نئی کچھ کتابیں اتاری گئی ہیںانہیں تم پڑھو گےتو تم پرصداقت نئے طور سے منکشف ہوگیبوسیدہ و منجمد ذہن میں کھڑکیاں کھل سکیں گیتمہیں علم و عرفاناور آگہی کے خزینے ملیں گےاور پھر یوں ہواان کتابوں کو اپنی کتابیں سمجھ کرانہیں اپنے سینے سے ہم نے لگایاہر اک لفظ کا ورد کرتے رہےایک اک سطر کو گنگناتے رہےایک اک حرف کا رس پیااور ہمیں مل گیاجیسے معنی و مفہوم کا اک نیا سلسلہاور پھر یوں ہواان کتابوں سےاک دن یہ ہم کو بشارت ملیآنے والا ہے دنیا میں اب اک نیا آدمیلے کے اپنے جلو میں نئی زندگیہم اندھیری گپھاؤں سےاوہام کی تنگ گلیوں سے نکلیں گےہم کو ملے گی نئی روشنیاور پھر یوں ہوالانے والے کتابوں کےاور وہ بھی جو ان پہ ایمان لائے تھےسب اپنے اپنے گھروں سے نکل کرکسی سمت کو چل پڑےایسے اک راستے پرجدھر سے نیا آدمیآنے والا تھایا ہم کو اس کا یقین تھاکہ وہ آئے گااور اسی سمت سےبس اسی سمت سے آئے گااور پھر یوں ہوادیر تک ہم نئے آدمی کے رہے منتظردیر تک شوق دیدار کی اپنی آنکھوں میں مستی رہیدیر تک اس کی آمد کا ہم گیت گاتے رہےدیر تک اس کی تصویرذہنوں میں اپنے بناتے رہےدیر تک اس خرابے میں اک جشن ہوتا رہا
سفیر لیلیٰ یہ کیا ہوا ہےشبوں کے چہرے بگڑ گئے ہیںدلوں کے دھاگے اکھڑ گئے ہیںشفیق آنسو نہیں بچے ہیں غموں کے لہجے بدل گئے ہیںتمہی بتاؤ کہ اس کھنڈر میں جہاں پہ مکڑی کی صنعتیں ہوںجہاں سمندر ہوں تیرگی کےسیاہ جالوں کے بادباں ہوںجہاں پیمبر خموش لیٹے ہوں باتیں کرتی ہوں مردہ روحیںسفیر لیلیٰ تمہی بتاؤ جہاں اکیلا ہو داستاں گووہ داستاں گو جسے کہانی کے سب زمانوں پہ دسترس ہوشب رفاقت میں طول قصہ چراغ جلنے تلک سنائےجسے زبان ہنر کا سودا ہو زندگی کو سوال سمجھےوہی اکیلا ہو اور خموشی ہزار صدیوں کی سانس روکےوہ چپ لگی ہو کہ موت بام فلک پہ بیٹھی زمیں کے سائے سے کانپتی ہوسفیر لیلیٰ تمہی بتاؤ وہ ایسے دوزخ سے کیسے نپٹےدیار لیلیٰ سے آئے نامے کی نو عبارت کو کیسے پڑھ لےپرانے لفظوں کے استعاروں میں گم محبت کو کیونکے سمجھےسفیر لیلیٰ ابھی ملامت کا وقت آئے گا دیکھ لینااگر مصر ہو تو آؤ دیکھویہاں پہ بیٹھو یہ نامے رکھ دویہیں پہ رکھ دو انہی سلوں پرکہ اس جگہ پر ہماری قربت کے دن ملے تھےوہ دن یہیں پر جدا ہوئے تھے انہی سلوں پراور اب ذرا تم نظر اٹھاؤ مجھے بتاؤ تمہارا ناقہ کہاں گیا ہےبلند ٹخنوں سے زرد ریتی پہ چلنے والا صبیح ناقہوہ سرخ ناقہ سوار ہو کر تم آئے جس پر بری سرا میںوہی، کہ جس کی مہار باندھی تھی تم نے بوسیدہ استخواں سےوہ اسپ تازی کے استخواں تھےمجھے بتاؤ سفیر لیلیٰ کدھر گیا وہادھر تو دیکھو وہ ہڈیوں کا ہجوم دیکھووہی تمہارا عزیز ساتھی سفر کا مونسپہ اب نہیں ہےاور اب اٹھاؤ سلوں سے نامےپڑھو عبارت جو پڑھ سکو توکیا ڈر گئے ہو کہ سطح کاغذ پہ جز سیاہی کے کچھ نہیں ہےخجل ہو اس پر کہ کیوں عبارت غبار ہو کر نظر سے بھاگیسفیر لیلیٰ یہ سب کرشمے اسی کھنڈر نے مری جبیں پر لکھے ہوئے ہیںیہی عجائب ہیں جن کے صدقے یہاں پرندے نہ دیکھ پاؤ گےاور صدیوں تلک نہ اترے گی یاں سوارینہ چوب خیمہ گڑے گی یاں پرسفیر لیلیٰ یہ میرے دن ہیںسفیر لیلیٰ یہ میری راتیںاور اب بتاؤ کہ اس اذیت میں کس محبت کے خواب دیکھوںمیں کن خداؤں سے نور مانگوںمگر یہ سب کچھ پرانے قصے پرائی بستی کے مردہ قضیےتمہیں فسانوں سے کیا لگاؤتمہیں تو مطلب ہے اپنے ناقہ سے اور نامے کی اس عبارت سےسطح کاغذ سے جو اڑی ہےسفیر لیلیٰ تمہارا ناقہمیں اس کے مرنے پر غم زدہ ہوںتمہارے رنج و الم سے واقف بڑے خساروں کو دیکھتا ہوںسو آؤ اس کی تلافی کر دوں یہ میرے شانے ہیں بیٹھ جاؤتمہیں خرابے کی کار گہہ سے نکال آؤںدیار لیلیٰ کو جانے والی حبیب راہوں پہ چھوڑ آؤں
کون سے دیس میں رہتے ہیں وہ مونس جن کیروز اک بات سناتے تھے سنانے والےٹھوکروں میں ہے متاع دل ویراں کب سےکیا ہوئے غم کو سر آنکھوں پہ بٹھانے والےرات سنسان ہے بے نور ستارے مدھمکیا ہوئے راہ میں پلکوں کو بچھانے والےاب تو وہ دن بھی نہیں ہیں کہ مرے نام کے ساتھآپ کا نام بتاتے تھے زمانے والے
سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوشاے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوشیوں تیرے دل صاف میں اشراق محبتجس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوشمیں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے ماراکر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموشوہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سےاک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوشجبریل مرے ساتھ رہے روز ازل سےمیخانۂ عرفاں میں شب و روز قدح نوشکچھ منہ سے نکل جائیں نہ سمجھی ہوئی باتیںرہنے دو مجھے مجلس مے میں یونہی مدہوشسرسبز ہوں ظاہر میں مگر اے دل خوں گرمجس طرح حنا میں ہے نہاں آتش خاموشدل پر یہ ستم کیوں نہ ہو ہم جنس پہ تاثیرکعبہ اسی غم میں نظر آتا ہے سیہ پوشایوب نہیں ہوں کوئی معصوم نہیں ہوںتا چند مظالم پہ رہوں ساکت و خموشہیں جتنے اقارب وہ اقارب سے ہیں بد تراحباب ہیں وہ خود غرض و زود فراموشدل صاف نہیں سب ہیں سخن ساز و سخن چیںیہ مہر تو ہے زہر اگر نیش میں ہو نوشکہتے ہیں جسے دوست وہ اس دور میں عنقاسمجھے ہیں جسے مہر وہ اس عہد میں روپوشکس دور میں آئے ہیں ہم اے مجلس ساقیجب رند خرابات نشیں ہو گئے مدہوشدل کیا مری آنکھوں کا ہے ٹوٹا ہوا سوتاطوفان اٹھا دیں گے یہی چشمۂ خس پوشٹھوکر سے جلاتا ہوں مضامین کہن کوہے فتنۂ محشر مری اتری ہوئی پاپوشہم سنگ جواہر کبھی پتھر نہیں ہوتاہر چند تراشے کوئی صناع صفا کوشگو مجھ کو خدا داد طبیعت نے سنوارامجرم ہوں اگر ہوں کبھی احسان فراموشترکش میں مرے تیر بہت کم ہیں مگر ہیںایسے کہ اڑا دیں قدر انداز کے جو ہوشپندار خودی ہے عزیز ان کو تو ہمیں کیاہم عشق کے بندے ہیں وفا کیش و وفا کوش
سلام میرے رفیقوں کو ہم نشینوں کوسپاٹ چہروں کو بے مہر و لطف سینوں کوکوئی حبیب مسرت نہ کوئی مونس غمنہ دل میں جوش نہ یارائے درد سینوں کوکوئی فروغ نہ کوئی نمو کہ یاروں نےرکھا ہے کر کے مسطح تمام زینوں کوملا نہ حیف! غل آرائی کا مزاج کبھیمرے خلوص کے ''خرمن کے خوشہ چینوں کو''فلک نے زینت نسیاں بنا کے چھوڑ دیارسوم لطف کو دل جوئی کے قرینوں کوغرض کی تند ہواؤں نے کر دیا بنجروفا کی کشت کو ایثار کی زمینوں کوشکستہ کر دیا بدلی نظر کے طوفان نےخود اعتمادی کے ڈھالے ہوئے سفینوں کونظر میں کج نگہی لب پہ مصلحت گوئیخطوط رخ نے ابھارا ہے دل کے کینوں کوخلاف وضع ہو بھولے سے گر یہ شعر انیسؔسنائے سازؔ کوئی میرے ہم نشینوں کو''خیال خاطر احباب چاہئے ہر دم!انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو!
بچپن میں ماں باپ کا سایہجوانی تنہا تنہاآج خیال کے گلیارے سےکس وادی میں پہنچا ہوںجہاں مجھے ایسا لگتا ہےتنہائی سناٹا بن کرمیرا پیچھا کرتی ہےشاید کوئی یاد کا سایہاک مونس اک ساتھی ہےکبھی کبھیایسا لگتا ہےیہ گلنار جیون میراایسے موڑ پہ چھوڑے گاجہاں نہ کوئی ساتھی ہوگااور نہ کوئی مونسبس میری تنہائی ہوگیبیتے دنوں کی یادیں ہوں گیایسے خیالات ستاتے ہیںجب جب میں تنہا ہوتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books