aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "muta.assib"
اور کفر کی مسجد میں ننگے پاؤں چلے آتے ہیںمیں اپنی ذات میں اتنی متعصب ہوں کہ
مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہی
ہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑ دوںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
بس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
میں بھول جاؤں تمہیںاب یہی مناسب ہے
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے رازگفت رومی ہر بنائے کہنہ کآباداں کنند
وہ جو سرکشی کا ہو مرتکباسے قمچیوں سے زبوں کرو
ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافیجو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے
ذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کے
وہ میری پہلی محبت تھیجس کی آنکھیں دیکھ متأثر ہو جاتے تھے ہرن
میرے حالات بدل جاتے ہیںمیرا چہرہ بھی بدل جاتا ہے افسانہ و منظر کے مطابق
بے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کلچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل
سوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبور
علی بن متقی مسجد کے منبر پر کھڑاکچھ آیتوں کا ورد کرتا تھا
قسم شوق کی فطرت مضطرب کییوں ہی نت نئی دھن میں گائے چلا جا
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہےتوسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
بزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
اے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیال
جو مضطرب تھی دل میں وہ آرزو بر آئیتکمیل آرزو نے دل کی خلش مٹائی
مصر ہے محتسب راز شہیدان وفا کہیےلگی ہے حرف نا گفتہ پہ اب تعزیر اللہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books