aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nasab"
جسے فن کہتے آئے ہیں وہ ہے خون جگر اپنامگر خون جگر کیا ہے وہ ہے قتال تر اپناکوئی خون جگر کا فن ذرا تعبیر میں لائےمگر میں تو کہوں وہ پہلے میرے سامنے آئےوجود و شعر یہ دونوں define ہو نہیں سکتےکبھی مفہوم میں ہرگز یہ کائن ہو نہیں سکتےحساب حرف میں آتا رہا ہے بس حسب ان کانہیں معلوم ایزد ایزداں کو بھی نسب ان کاہے ازد ایزداں اک رمز جو بے رمز نسبت ہےمیاں اک حال ہے اک حال جو بے حال حالت ہےنہ جانے جبر ہے حالت کہ حالت جبر ہے یعنیکسی بھی بات کے معنی جو ہیں ان کے ہیں کیا معنیوجود اک جبر ہے میرا عدم اوقات ہے میریجو میری ذات ہرگز بھی نہیں وہ ذات ہے میریمیں روز و شب نگارش کوش خود اپنے عدم کا ہوںمیں اپنا آدمی ہرگز نہیں لوح و قلم کا ہوں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
کوئی تاجر حسب و نسبکوئی دیں فروش قدیم ہےیہاں کفش بر بھی امام ہیںیہاں نعت خواں بھی کلیم ہے
سنتے ہو سامعین با تمکیںسنتے ہو حاضرین صدر نشیںجو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدردبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مردباپ کی ہے دعا یہ بہر پسرقوم کی میں بناؤں اس کو سپرماں خدا سے یہ مانگتی ہے مرادقوم پر سے نثار ہو اولادبھائی آپس میں کرتے ہیں پیماںتو اگر مال دے تو میں دوں جاںاہل ہمت کما کے لاتے ہیںہم وطن فائدے اٹھاتے ہیںکہیں ہوتے ہیں مدرسے جاریدخل اور خرج جن کے ہیں بھاریاور کہیں ہوتے ہیں کلب قائممبحث حکمت اور ادب قائمنت نئے کھلتے ہیں دوا خانےبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانےملک میں جو مرض ہیں عالم گیرقوم پر ان کی فرض ہے تدبیرہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیبقوم کو پہنچے منفعت جس سےملک میں پھیلیں فائدے جس کےکھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میںمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میںلکھے جب تک جیے سفر نامےچل دیے ہاتھ میں قلم تھامےگو سفر میں اٹھائے رنج کمالکر دیا پر وطن کو اپنے نہالہیں اب ان کے گواہ حب وطندر و دیوار پیرس و لندنکام ہیں سب بشر کے ہم وطنوںتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنوچھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤقافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوںقافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہوگر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سےان کی عزت تمہاری عزت ہےان کی ذلت تمہاری ذلت ہےقوم کا مبتدل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاںقوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہے فقیری میں بھی وہ با اعزازعزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنرذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستوراب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیحہوئی ترکی تمام خانوں میںکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میںقوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہےکوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گانہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی باتگر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا
تیری آنکھوں کی کرن سے اے جہان اعتبارجگمگائے گی نسب ناموں کی لوح زر نگار
چھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤقافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوںقافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہوگر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سےقوم کا مبتذل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاںقوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہو فقیری میں بھی وہ با اعزازعزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنرذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستوراب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیحقوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہےکوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گانہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی باتگر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا
سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افراداپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیںوہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میںان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھےسنا ہے باطل قرار پائےوہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھےوہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گیبدن کی وابستگی کا کیا ذکرروح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیںخموشی و مصلحت پسندی میں خیریت ہےمگر مرے شہر منحرف میںابھی کچھ ایسے غیور و صادق بقید جاں ہیںکہ حرف انکار جن کی قسمت نہیں بنا ہےسو حاکم شہر جب بھی اپنے غلام زادےانہیں گرفتار کرنے بھیجےتو ساتھ میں ایک ایک کا شجرۂ نسب بھی روانہ کرنااور ان کے ہم راہ سرد پتھر میں چننے دیناکہ آج سے جبہزارہا سال بعد ہم بھیکسی زمانے کے ٹیکسلایا ھڑپہ بن کر تلاشے جائیںتو اس زمانے کے لوگہم کوکہیں بہت کم نسب نہ جانیں
آج انہوں نے اعلان کر ہی دیادیکھو!ہم نے تمہاری سب کی سب قوتوں کا فیصلہ کیا تھاقیل و قال کی گنجائش باقی نہیں ہےتمہارے اقرار نامے ہمارے پاس محفوظ ہیںتم سے پہلے والوں کی خطا یہی تھیکہ انہیں،اپنی ناف کے نیچے سرسراہٹ کا احساسکچھ زیادہ ہی ہو چلا تھاانہیں شہر بدر کر دیا گیاان کے پچھتاوے اور گڑگڑاہٹیںآج بھی ہمارے کانوں میں محفوظ ہیںتمہیں اتنی چھوٹ دی ہی کیوں جائےکہ تمکل ہمارے مقابلے پر اتر آؤہم تمہیں ہوشیار کیے دیتے ہیںدیواریں پھلانگنے والےعتاب سے بچ نہیں سکتےعقد ناموں پر تمہارے دستخطتمہاری نا مرادی کا کھلا اعتراف ہیںاس کے بغیرہماری حرم سرا میںداخل ہونے کے اجازت نامےتمہیں مل بھی کیسے سکتے تھےاس سے پہلے کہ ہمارے نجیب الطرفین شجرے مشکوک ہو جائیںاور ہمارے حسب نسب پر آنچ آ جائےہم!تم سے پہلے گلو خلاصی کا راستہ ڈھونڈ نکالیں گے!!
اے ارض وطن مغموم نہ ہو پھر پیار کے چشمے پھوٹیں گےیہ نسل و نسب کے پیمانے یہ ذات کے درپن ٹوٹیں گےذہنوں کی گھٹن مٹ جائے گی انساں میں تفکر جاگے گاکل ایک مکمل وحدت کا بے باک تصور جاگے گاتعمیر نئی وحدت ہوگی مانوتا کی بنیادوں پراے ارض وطن وشواس تو کر اک بار ہمارے وعدوں پراس وحدت اس یک جہتی کی تعمیر کا دن ہم لائیں گےصدیوں کے سنہرے خوابوں کی تعبیر کا دن ہم لائیں گے
اے مرا نام و نسب پوچھنے والے سن لے
حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوممقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوممریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیرزر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصالزمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفالسرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیالترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمالتمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاںغرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکےاسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہرطبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیایہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہعدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہعجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نےدل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیںغریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطنمریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیںیہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہےجو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہےقلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سےمگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نےیہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقتوہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روزانہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئیجو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آوازکراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ ساز
حسب نسب بھی ہمارا علی سے ملتا ہےجناب فاطمہ زہرا ہماری دادی ہیں
دیکھا تو نے کچھ مالکآرٹ گیلری تیریاور یہ اس کی تصویریںبے رحم رواجوں کیمکڑیوں کے جالوں میںنیم جاں مناظر کیڈھیر پر سے کوڑے کےروٹی چنتے بچوں کیشہر کے سلم نامیبے نصب ٹھکانوں کیکتنی بے وقعت ہیں یہجب تلک پکاسو ساکوئی اک مصور انبھوک کھائے ڈھانچوں کوپینٹنگ میں نا جڑ دےکیمرا کوئی جب تکان سلم ٹھکانوں کواوسکر میں نا دھر دےآج کی نمائش میںنامور مصور کےفن پہاونچی بولی کاوہ جو اک تماشہ تھاتو نے دیکھا تھا مالک؟میرے بھوکے ہاتھوں میںکوڑے والی روٹی کاوہ جو ایک ٹکڑا تھاسوکھے پھول کے جیساوہ جو میرا چہرہ تھاآج کی نمائش میںکتنا قیمتی تھا وہآج اک مصور نےکتنا مہنگا بیچا تھااوسکر کے میلے میںمیری گندی بستی کےغم زدہ سلم نے جوصرف چند لمحوں کوافتخار جیتا تھاتو نے دیکھا تھا مالک؟تو بھی تھا وہاں مالک؟تو بھی رویا تھا مالک؟
اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہترنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کےپھر یہ دیکھا کہ تن و جاں کے اثاثے کے عوضمٹی ہم جس پہ قدم رکھتے ہیںجس کی ٹھوڑی پہ لہو رنگ علم رکھتے ہیںاس کی ممتا کی حرارت سے الگ چیز نہیںجس میں ہم اپنا نسب اپنا جنم رکھتے ہیںاپنے ہونے کا بھرم رکھتے ہیں
مگرجب رات آتی اور اندھیرے ہر در و دیوار پرخیمے اپنے نصب کر لیتےڈاکوؤں کا بھیسلوٹ لیتے آبرومال و زر لعل و گہراور پھر وہ صبح دمصدق و صفا کا درس دیتےاور صبر و رضا کی شہر کو تلقین کرتےاور پھر مصروف ہو جاتےعبادت میں وہ اپنی
صبح فرغانہ میں تھی اور ہوئی رنگوں میں شامآل تیمور کی آشفتہ سری تجھ کو سلاملمعۂ آخر خورشید سراج الدین تھامقطع درد فزا غزل رنگیں تھاوہ شہ نیک نفس نیک نسب نیک نژادوہ شہ نیک نظر نیک نشاں نیک نہادپیکر خلق و وفا خوگر اعمال حسنخسرو فکر رسا بادشہ فہم و فطنصاحب طرز نوی مالک انداز کہنفخر دیں فخر زمیں فخر زماں فخر زمنلال قلعے کا وہ صوفی وہ محبت کا امیںجس کی مٹی سے بھی محروم ہے دلی کی زمیںمرتبہ دان ادیبان و حکیمان وطنقدر دان شعر اے ہمہ دان و ہمہ فنغالبؔ و ذوقؔ کے افکار کا وہ قدر شناسجس کو تھا مومنؔ و آزردہؔ کی عظمت کا پاسارض دلی نے بغاوت کا جب اعلان کیاسرخ رو ہو گیا اولاد کو قربان کیاجب بدیسی کی حکومت سے زمیں تنگ ہوئیاسی قاعد کی قیادت میں بڑی جنگ ہوئیجس کا دربار تھا اک مجمع عالی نفساںجس جگہ کوثر و تسنیم سے دھلتی تھی زباںساز ہندی کی نوا نغمۂ اردو کی صداجس کے اشعار سے آتی ہے اخوت کی ندامرد درویش شرافت کا گنہ گار بھی تھاپارسا رند بھی تھا شاعر دیندار بھی تھاجس کو کہتے ہیں زمینوں کا شہ عرش نشاںمشکل اصناف سخن جس کے لئے تھے آساںنہ ہو اگرچہ ظفر مند و ظفر یاب مگرفلک شعر پہ تابندہ ہے از نام ظفر
ہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیاکہ وہ مرد ناپید ہو جائیں گےجنہیں خدا نے ایک درجے اوپر رکھاذرا ان ماؤں کے دودھ کو جانچواس کو پی کے پروان چڑھنے والا بچہبے کردار ہو جاتا ہےکسی ہجڑے یا زنخے پہ لعن طعن مت کرووہ اپنے سوا کسی کا مذاق نہیں اڑاتااور اب آنے والی صدیوں میںجو نسلیں پیدا ہوں گیوہ کسی زنخے یا ہجڑے سے زیادہ قابل رحم ہوں گیسو ہمیں مت دکھاؤ یہ حسب نسبہم نے یہ سارے غرور ندی نالوں میں بہتے ہوئے دیکھے ہیںہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیاکہ ایک وقت ایسا آئے گاجب کسی کی کوئی شناخت نہیں ہوگی
بہار کی یہ دل آویز شامجس کی طرفقدم اٹھائے ہیں میں نےکہ اس سے ہاتھ ملاؤںاور اک شگفتہ شناسائی کی بنا رکھوںپھر اپنی خانہ بدوشی کی مشترک لے پراسے گلاب بکف خیمۂ جنوں تک لاؤںکچھ اس کی خیر خبر پوچھوںاور کچھ اپنی کہوںکہوں کہ کتنے ہی پت جھڑ کے موسم آئے گئےمگر ان آنکھوں کی سحرالبیانیاں نہ گئیںکہوں کہ گرچہ عناصر نے تہمتیں باندھیںجنوں زدوں کی مگر سخت جانیاں نہ گئیںکہوں کہ ایک ہیں اندیشے سب مرے تیرےکہوں الگ نہیں جینے کے ڈھب مرے تیرےکہوں کہ ایک سے ہیں روز و شب مرے تیرےکہوں کہ ملتے ہیں نام و نسب مرے تیرےکہوں ازل سے جنوں کاروبار اپنا ہےہزار جبر ہو کچھ اختیار اپنا ہے
مرے اجداد کے گرتے ہوئے حجرے کےمحراب خمیدہ میںکسی صندل کے صندوق تبرک میںہرن کی کھال پر لکھا ہوا شجرہ بھی رکھا ہےکہ جس پر لاجوردی دائروں میںزعفرانی روشنائی سےمرے سارے اقارب کے مقدس نام لکھے ہیںمگر اک دائرہ ایسا بھی ہےجس میں سے لگتا ہےکہ کچھ کھرچا گیا ہےمیں ان کھرچے ہوئے لفظوں کا وارث ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books