حب وطن

MORE BYالطاف حسین حالی

    اے وطن اے مرے بہشت بریں

    کیا ہوئے تیرے آسمان زمیں

    رات اور دن کا وہ سماں نہ رہا

    وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

    سچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہے

    یا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہے

    میں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثار

    یا کہ دنیا ہے تیری عاشق زار

    کیا زمانے کو تو عزیز نہیں

    اے وطن تو تو ایسی چیز نہیں

    جن و انسان کی حیات ہے تو

    مرغ و ماہی کی کائنات ہے تو

    ہے نباتات کا نمو تجھ سے

    روکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتے

    سب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نما

    سب کو بھاتی ہے تیری آب و ہوا

    تیری اک مشت خاک کے بدلے

    لوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے

    جان جب تک نہ ہو بدن سے جدا

    کوئی دشمن نہ ہو وطن سے جدا

    بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنو

    اٹھو اہل وطن کے دوست بنو

    تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیر

    نہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر

    ہوں مسلمان اس میں یا ہندو

    بودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہمو

    سب کو میٹھی نگاہ سے دیکھو

    سمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کو

    ملک ہیں اتفاق سے آزاد

    شہر ہیں اتفاق سے آباد

    ہند میں اتفاق ہوتا اگر

    کھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیونکر

    قوم جب اتفاق کھو بیٹھی

    اپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھی

    ایک کا ایک ہو گیا بد خواہ

    لگی غیروں کی تم پہ پڑنے نگاہ

    پھر گئے بھائیوں سے جب بھائی

    جو نہ آنی تھی وہ بلا آئی

    پاؤں اقبال کے اکھڑنے لگے

    ملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے

    کبھی تورانیوں نے گھر لوٹا

    کبھی درانیوں نے زر لوٹا

    کبھی نادر نے قتل عام کیا

    کبھی محمود نے غلام کیا

    سب سے آخر کو لے گئی بازی

    ایک شائستہ قوم مغرب کی

    ملک روندے گئے ہیں پیروں سے

    چین کس کو ملا ہی غیروں سے

    چھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤ

    بس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤ

    قافلے تم سے بڑھ گئے کوسوں

    رہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوں

    قافلوں سے اگر ملا چاہو

    ملک اور قوم کا بھلا چاہو

    گر رہا چاہتے ہو عزت سے

    بھائیوں کو نکالو ذلت سے

    قوم کا مبتذل ہے جو انساں

    بے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاں

    قوم دنیا میں جس کی ہے ممتاز

    ہو فقیری میں بھی وہ با اعزاز

    عزت قوم چاہتے ہو اگر

    جا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنر

    ذات کا فخر اور نسب کا غرور

    اٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستور

    اب نہ سید کا افتخار صحیح

    نہ برہمن کو شدر پر ترجیح

    قوم کی عزت اب ہنر سے ہے

    علم سے یا کہ سیم و زر سے ہے

    کوئی دن میں وہ دور آئے گا

    بے ہنر بھیک تک نہ پائے گا

    نہ رہیں گے سدا یہی دن رات

    یاد رکھنا ہماری آج کی بات

    گر نہیں سنتے قول حالیؔ کا

    پھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے