aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nuqte"
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاںمجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و سازلے گئے تثلیث کے فرزند ميراث خليلخشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجازہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگجو سراپا ناز تھے ہیں آج مجبور نيازلے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارسوہ مے سرکش حرارت جس کی ہے مينا گدازحکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئیٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گازہو گیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہومضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے رازگفت رومی ہر بنائے کہنہ کآباداں کنندمی نداني اول آں بنیاد را ویراں کنندملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیںحق ترا چشمے عطا کر دست غافل در نگرمومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکستمور بے پر حاجتے پیش سلیمانے مبرربط و ضبط ملت بيضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبرپھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار ديں میں ہوملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمرایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغرجو کرے گا امتياز رنگ و خوں مٹ جائے گاترک خرگاہی ہو یا اعرابیٔ والا گہرنسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئیاڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزرتا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوارلا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگراے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باشاے گرفتار ابوبکر و علي ہشيار باشعشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکیاب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھتو نے دیکھا سطوت رفتار دريا کا عروجموج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھعام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نےاے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھاپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجودمر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر دیکھکھول کر آنکھیں مرے آئينۂ گفتار میںآنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھآزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاسسامنے تقدیر کے رسوائی تدبير دیکھمسلم استی سینہ را از آرزو آباد دارہر زماں پیش نظر لایخلف المیعاد دار
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہےایک نقطے پروہ اک نقطہجو دو حرفوں کو آپس میں ملا کرلفظ کی تشکیل کرتا ہےوہ اک نقطہ سمٹ جائے توہونے کا ہر اک امکاںنہ ہونے تک کا سارا فاصلہپل بھر میں طے کر لےوہی نقطہ بکھر جائےتو ہر اک شےنہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دےوہ ایک نقطہ مری آنکھوں میں اکثرروشنی کے ساتھ رنگوں کو اگاتا ہےمرے ادراک میں شبنم کی صورتیا ستارے کی طرح لوح یقیں پر جگمگاتا ہےوہی نقطہ مجھے تشکیک کے جنگل میںجگنو بن کے منزل کی طرف رستہ دکھاتا ہےمجھے اکثر بتاتا ہےمرا ہونا نہ ہونے کا عمل سےمرے ہونے کی بھی تکمیل ہوتی ہےوہ اک نقطہ کہاں ہےکون ہےکس کے لبوں میں چھپ کے ہر اثبات کوانکار میں تبدیل کرتا ہےجو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہےیہ نکتہ بھی اسی نقطے میں مضمر ہےوہ ایک نقطہ کہ اب تک جس کے ہونے کا امیں ہوں میںوہ افشا ہو تو میں سمجھوںکہ ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرایہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھلیہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہےیہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیںلہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہےیہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سیگلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہےیہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہمرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہےمری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیںبس اب تو سرکا دو رخ پہ چادردیے بجھا دو
سورج ڈوبا کہاں گیا وہسارا دن یہ چاند کہاں تھانیند میں ڈوبے بند آنکھوں میں خواب کدھر سے آتے ہیںباغوں میں یہ رنگوں کے سیلاب کدھر سے آتے ہیںبلبل ایسے پیارے نغمے کس سے سیکھ کے آتی ہےسبزہ کیسے جی اٹھتا ہے تتلی کیوں مر جاتی ہےلاکھوں ٹن یہ لوہا کیسے آسمان میں اڑتا ہےبجلی کیسے جل اٹھتی ہے پنکھا کیسے چلتا ہےبادل کیسے بن جاتے ہیں بارش کیسے ہوتی ہےدن ہوتا ہے ایک جگہ تو رات کہیں پہ ہوتی ہےسوچ سوچ کے تھک گئے ہم تو ان باتوں کا مطلب آخرکون ہمیں سمجھائے گااتنے سارے ان رازوں سے پردہ کون اٹھائے گاپیارے بچوں مت گھبراؤاور ذرا نزدیک آ جاؤبات ہماری غور سے سن لواس نکتے کو خوب سمجھ لوعلم ہی ایسا رستہ ہے جو منزل تک لے جائے گاہر مشکل آسان کرے گا ہر گتھی سلجھائے گا
منطقی کانٹے پہ رکھتا ہے کلام دل پذیرکاش اس نکتے کو سمجھے تیری طبع حرف گیر
کیا اب رات ایسے ہیگزر جائے گییہ رات ہی تو ہےجو تحلیل ہو جاتی ہے ایک نقطے میںاور گھومتی ہےمیرے گرد کالے بھنبھناتے ہوئےبھونرے کی طرحوہ میرے کانوں مری آنکھوںمیری گردن اور میرے روئیں روئیں میںبھنبھناتی ہےمیری بغلوں کے بالوں سے الجھتی ہوئیمیرے جسم کے کونے کھدروں میںگدگداتی ہوئییہ رات میرے اوپر پھیل جاتی ہےاچانکاوڑھ لیتی ہے مجھےمیرے جسم کی پور پور میںایک جل ترنگ چھیڑ دیتی ہےمیں نیند میں اٹھتی ہوںمرا حلق خشک ہو رہا ہےپانی کا ایک گلاس ٹھنڈا یخمیرے ہونٹوں میرے حلق میرے سینےکو تر کرتا ہوامیرے جسم کی جل ترنگ میں مل جاتا ہےمیں دروازے پر دستک دیتی ہوںتم سن رہے ہورات کی جل ترنگ میرے جسم سےپھوٹ رہی ہےدروازہ کھلتا ہےمیں تمہارے آدھے ننگے بدن کودبوچ لیتی ہوںتمہاری ناف کے گڑھے میںناک کی نوک گھسیڑتی ہوںتم مسکرا رہے ہورات کی شرارت میرے جسم پرپھیلے ہوئے دیکھ کرتم ہنستےرات کونوں کھدروں میں پھیل رہی ہےمیں تمہارے کپڑے اتار دیتی ہوںاور وہ کھیل کھیلتی ہوںجو رات میرے ساتھ کھیل رہی تھیمیں تمہارے جسم کے گرداپنی زبان اپنے دانتوں اور ناخنوں کے ساتھبھنبھنانے لگتی ہوںتم مسکرا رہے ہوتمہاری مسکراہٹمیرے جسم کی پوروں کو اور کھول رہی ہےمیں زخمی کر دیتی ہوں تمہیںتم ہنس رہے ہورات کے پروں پہ سوار بھونرے کی طرحمجھے بھنبھناتے دیکھ کرتمہاری کشادہ آنکھوں کے کونےپھیلنے لگتے ہیںتمہارا جسم اکڑ جاتا ہےنہیں آج تمتم کھلکھلاتے ہومیں تمہارے اکڑے ہوئے جسم پراپنی کھلی ہوئی پوروں کو رکھ دیتی ہوںتمہارا جسم رات کے جھاگ سے بھر جاتا ہےتم ہنستے ہوہنستے ہی رہتے ہو
میں وقت کی شاخ سےنہ جانے کب ٹوٹوںاور بکھر جاؤںمیری کتابیں باتیں تصویریںکسی مائکرو فلم آڈیو یا ویڈیو کیسٹ پریا کسی سیڈی میںمحفوظ کر لودیکھو اب بھی وقت ہےمگر وقت بہت کم ہےمجھے آخری بار چھو لومیرے خیال کے سینے پر سر رکھ کرکمپیوٹر سے میری فلاپی نکال کراپنے بلاؤز کے گریبان میں ڈال لونہ جانے کبیہ پہاڑ جنگل شہر سمندر پاتال خلاجنہیں میں نے جی بھر کے دیکھا تک نہیںلکیروں میں ڈھل کرگھٹتے ہوئے دائروںایک ایسے نقطے میں سمٹ جائیںجو اپنے ہی مرکز کی گہرائی میں ڈوب جائے
ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہےکہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیںاہل فن ہیںزندگی تخلیق کرتے ہیںستارہ ٹوٹ جاتا ہےمگر بجھنے سے پہلے اپنی اس جگ مگ عبارت سے فنا پر خندہ زن ہوتا ہےمیں مٹ کر بھی آنے والے لمحوں میں درخشاں ہوںجو پتا شاخ سے گرتا ہےقرطاس ہوا پر دائروں میں لکھتا آتا ہےکہ شاخوں پر تڑپتے دوستواگلی بہاروں میں مجھے پھر لوٹنا ہے پھوٹنا ہے ٹوٹنا ہے خاک ہونا ہےمگر وہ خاک جو اشجار کی ماں ہےوہ کوندا جو گھٹا پر ثبت کر کے دستخط اپنےبظاہر جا چکا ہوتا ہےچھپ کر دیکھتا ہےکس طرح تاریکیوں میں زلزلے آتے ہیںمنظر جاگ اٹھتے ہیںوہ جاں جو پس در کتنے برسوں سے تنہا ہےاک صحیفہ ہےکبھی سورج کی کرنوں میں اسے دیکھوتو پوری کائنات اس میں مجسم پاؤ گے اور جھوم جاؤ گےکتابیں پڑھنے والے تو نہ مانیں گےمگر از خاک تا افلاک جو کچھ بھی ہے وہ تحریر ہےالفاظ ہیں اعراب ہیں نقطے ہیں شوشے ہیں کشیں ہیں دائرے ہیں حرف ہیں جن میں طلسم زندگیاسرار کا اظہار کرتا ہے
لڑکیتصویریں بناتی ہےسفید کاغذ پرادھر سے ادھر کوبہت ساری لکیریں ڈالتی ہےان میں کوئی بھی لکیریںایک دوسرے کو چھو کر نہیں گزرتیشہر سے باہر جانے والی سڑکوں کی طرحسب لکیریںکسی نئی جگہ پہنچا دیتی ہیںہم وہاں سے واپس نہیں آ سکتےلکیر کے آخری سرے پرہمیں ٹھہرا دیکھ کےلڑکی پریشان ہو جاتی ہےوہ آئیوری پیپر پربہت سے نقطے ڈالتی ہےاور پھر سرخ پنسل سےانہیں لکیروں سے ملانے لگتی ہےتھوڑی ہی دیر میںایک نیا بر اعظم نمودار ہو جاتا ہےلڑکی لکیر کے سرے پرٹھہرے ہوئے آدمی کواپنے بر اعظم کے ایک جزیرے پر لے جا کرچھوڑ دیتی ہےاس جزیرے پر ابھی شایدبہت زیادہ بادلبہت زیادہ آسمانبہت زیادہ خاموشیاور بہت زیادہ تنہائی ہےاتنی ساری چیزوں کےضرورت سے زیادہ ہونے پرآدمی ڈر جاتا ہے اوررونے لگتا ہےوہ کہتا ہے مجھے ایک شہر چاہیئےلڑکی وعدہ کرتی اور اسےاپنی بنائی ہوئی بہت سی تصویریں دکھاتی ہےجن میں دریا سمندر جنگل اور شہرہمیشہ موجود رہتے ہیںوہ ایک شہر کو اپنے پاس رکھ لیتا ہےلڑکی ایک اور شہر بناتی ہےاس شہر میں ابھی کوئی نہیں رہتابہت زیادہ خالی گھربہت زیادہ خالی راستےبہت زیادہ خالی آسمانلڑکی اپنے شہر کو دیکھتی ہےاور خاموش ہو جاتی ہےوہ رو نہیں سکتیاسے خاموش بیٹھا دیکھ کےآدمی رنگین پنسلیں اٹھا کر
لفظ لکھوں سر قرطاستو پھولوں کی قطاریں لگ جائیںحرف کے دائرے سیارے سے بنتے جائیںاور نقطے وہ چمکتے ہوئے تارےجو کبھی تیرے ہیں اور کبھی ڈوبتے ہیں
تمہارے نام کے نقطے یہ خوبرو نقطےبنائے ہیں جو تمہارے قلم نے کاغذ پرحسین آنکھوں سےتکتے ہیں اس طرح مجھ کوکہ جیسے دھند بھرے خواب کے جزیرے میںسلونی سانولی یادوں کا حسن لرزاں ہوتمہارا نام ہےحرف و صدا کی لہروں میںابھرتی ڈوبتی پرچھائیوں کا عکس جمیلسلگ کے جھانک رہی ہیں پگھلتے منظر سےتمہارے نام کے نقطوں کیدل نشیں آنکھیںکہ جیسے میرے تخیل کے تازہ چہرے پرسیاہ رنگ غلافوں سے جھک کےسایہ کریںتمہاری گہری دل آویز شرمگیں آنکھیں
دائرے قوسین سن تاریخ اعداد و شمارنقطہ و زیر و زبر تشدید و مد
یہ پہلی نظم ان خوابوں کی خاطر ہےجو درجہ خامشی سے ہاتھ کی ریشم لکیروں میں پنپتے خواہشوں کو دیکھ کر خوش رنگ کھلتی ہیںکہ جن آنکھوں کی گہری جھیل میں صوفی محبت جاز کی مدھم دھنوں پر رقص کرتی ہیںکہ جس کے لا خراشیدہ بدن کے زرد مائل ورق پر سے ہجر کے نقطے مٹا کر وصل لکھنا ہےپگھلتے وقت کو جس چاند دامن میں لباس مشک اوڑھے یک دگر ہو کر ٹھہرنا ہے
میں ایک نحیف سے نقطے کیبانہوں میں اسیر تڑپتا ہوںہموار زمیں پر چلنے کیخواہش کے عذاب میں جلتا ہوں
بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیںآنکھوں کی جن تک رسائی نہیں ہےشجر جس کی ساری جڑیں آسمانوں میں پھیلی ہیںاور ٹہنیاں کھردری سخت لاوا اگلتی زمیںکے بدن میں مسلسل اترتی چلی جا رہی ہیںہوا کے سمندر میں بے بادباں کشتیوں پر درندےلہو رنگ خوشبو کی دیوار کا گہرا سایہہری سرخ نیلی سیہ روشنیروشنی کی لکیریںلکیروں کی آوازآواز کا دائرہدائرے اور نقطے میں بڑھتا ہوا فاصلہفاصلہ اور سفربہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیں آنکھوں کی جن تک رسائی نہیں ہے
۱سرشک خوں رخ مضمون پہ چلتا ہے تو اک رستہنکلتا ہےندی دریا پہ تھم جائےلہو نقطے پہ جم جائے تو عنوان سفر ٹھہرےاسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہےاسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیںمجھے چلنا نہیں آتاشب ساکن کی خانہ زاد تصویرو گواہی دوفصیل صبح ممکن پر مجھے چلنا نہیں آتامرے چشموں میں شور آب یکجا بر شکالی ہےندی مقروض بادل کیمرا دریا سوالی ہےرگ حرف زبوں میں جو چراغ خوں سفر میں ہےابھی اس نقطۂ آخر کے زینے تک نہیں آتاجہاں جلاد کا گھر ہےجہاں دیوار صبح ذات کے رخنے سے نگہ خشمگیںبارود کی چشمک ڈراتی ہےجہاں سولی کے منبر پر پیمبر بات کرتے ہیں2اب ان باتوں کے سکے جیب کے اندر کھنکتے ہیں کہ جن پرقصر شاہی کے مناظراسلحہ خانوں سے جاری حکم کندہ ہیںبھرے بازار میں طفل تہی کیسہ پریشاں ہے کہ اس کے پاؤںٹکسالوں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیںاور اس کا باپ گونگا ہےندی رک رک کے چلتی ہےتکلم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتاہوا پسپا جہاں پانیجہاں موجوں نے زنجیر وفا پہنی سپر گرداب کی رکھ دیعلم رکھے قلم رکھےخفا بادل نے جن پایاب دریاؤں سے منہ موڑاجہاں تاراج ہے کھیتیجہاں قریہ اجڑتا ہےطناب راہ کٹتی ہے کہیں خیمہ اکھڑتا ہےوہاں سے دور ہے ندیوہاں سے دور ہے بچہ کہ اس کے پاؤںدریاؤں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیںاور اس کا باپ گونگا ہےاسے چلنا نہیں آتافصیل صبح ممکن پر اسے چلنا نہیں آتا3سحر کے پاس ہیں منسوخ شرطیں صلح نامے کیصبا درس زیاں آموز کی تفصیل رکھتی ہےکسی تمثیل میں تم ہوکسی اجمال میں میں ہوںکہیں قرطاس خالی کا وہ بے عنوان ساحل ہےجہاں آشفتگان عدل نے ہتھیار ڈالے ہیںبہت ذاتیں ہیں صدموں کیکئی حصے ہیں سینے میں نفس گم کردہ لمحے کےکئی طبقات ہیں دن کےکہیں صبح مکافات سخن کے منطقے میں تم مقید ہوکسی پچھلے پہر کے صلح نامے کی عدالت میںکڑی شرطوں پر اپنے دستخط کے روبرو میں ہوںسنو قرطاس خالی کے سپر انداز ساحل سےہوا کیا بات کہتی ہےادھر اس دوسرے ساحل سے جو ملاح آیا ہےزمینیں بیچتی بستی سے کیا پیغام لایا ہےکوئی تعزیر کی دھمکیکوئی وعدہ رہائی کاکوئی آنسوکوئی چھٹی
میں رات تھی سیاہ راتایک نقطے میں سمٹی ہوئیآنکھ کی پتلی جیسے نقطے میںمیں نے ایک دن کو باہر نکالاپھر اس دن کی با ایں پسلی سےخود باہر نکلیپھر مرے اندر کتنے سورج چاند اور ستارے اپنی اپنی منزلیں طے کرنے لگےمیں رات ہوں کبھی نہ ختم ہونے والی رات میں نے اپنی پوشاک کا رنگ پیدا کیا پھر رنگوں سے رنگ ملتے چلے گئےمیں رات ہوںمیرے ایک بازو پر صبح اور دوسرے پر شام سو رہے ہیںمیری چادر کے نیچےشہر قبرستانوں کی طرح پڑے ہوئے ہیںاذانیں ایک دوسرے سے ٹکرا کرگنبدوں کے آس پاسگر جاتی ہیںلوگ بھنبھناتی ہوئی مکھیوں کی طرحجاگتے اور سو جاتے ہیںخود اپنا لہو گراتے اور چاٹتے ہیںسمندر چیختے اور دریا رینگتےدیکھتی رہتی ہوںدیکھتی رہتی ہوں چپ چاپان کا انتجن سے پھر انہی کا جنم ہوگاانت جو نئے جنم کا بیج ہےغروب جو طلوع کے طشت کا غلاف ہےمیں رونے اور ہنسنے سے ماورا ہوںکبھی کبھی ماں کی محبتمیں روتے ہوئے بچےکی آواز مجھے چونکا دیتی ہے
ہر طرف سے انفرادی جبر کی یلغار ہےکن محاذوں پر لڑے تنہا دفاعی آدمیمیں سمٹتا جا رہا ہوں ایک نقطہ کی طرحمیرے اندر مر رہا ہے اجتماعی آدمی
یہ جو اک حضرت چلے آتے ہیں گورستان سےیہ نہ سمجھیں آپ ہیں بے زار اپنی جان سےآپ کو یونہی ہے آثار قدیمہ سے لگاؤجس طرح چونا ڈلی، کتھے کو نسبت پان سےآپ کو قبروں سے الفت عشق ویرانے سے ہےآپ گھبراتے ہیں جیتے جاگتے انسان سےکوئی کتنا ہی بڑا ہو فلسفی شاعر ادیبعمر بھر اس سے رہا کرتے ہیں آپ انجان سےہاں مگر جیسے ہی پا جاتا ہے بے چارہ وفاتآپ اس کو چاہنے لگتے ہیں جی سے جان سےسونگھتے ہیں دیر تک مرحوم کی خاک لحدپھر یہ فرماتے ہیں اٹھ کر عالمانہ شان سےطول و عرض قبر سے یہ صاف چلتا ہے پتاگورکن آئے تھے اطراف بلوچستان سےیہ تھا اک رخ صاحب تحقیق کی تصویر کادوسرا رخ بھی بیاں کرتا ہوں، سنیے دھیان سےہیں بزعم خود محقق آپ ہندوستان کےآپ نے نقطے گنے ہیں میرؔ کے دیوان کےکاٹتے ہیں سوت کو تحقیق کے اتنا مہینآپ کے آگے جولاہے مات ہیں ایران کےزیر تحقیق آپ کے رہتے ہیں یہ سب مسئلےکس قدر چوہے پلے تھے گھر میں مومنؔ خان کےپانچ بج کر پانچ پر یا پانچ بج کر سات پرداغؔ نے توڑا تھا دم زانو پہ منی جان کےرندؔ نے اک بے وفا کے عشق میں کھائی تھی جووہ چھری کے زخم تھے یا گھاؤ تھے کرپان کےدھن ہے یہ ثابت کریں، دلی تھا ملٹنؔ کا وطناور سوداؔ کے چچا بوچر تھے انگلستان کےالغرض رہتی ہے روز و شب یہی بس ایک فکرکوئی گلدستہ اتاریں طاق سے نسیان کے
درختوں پر کوئی پتا نہیں تھاگزرتے راستے خاموش تھےاڑتے پرندے رات کا آسیب لگتے تھےجہاں تک بھی نظر جاتی تھیان لوگوں کی قبریں تھیں جو پیدا ہی نہ ہو پائےستارے تھے مگر وہ آسمانوں پر ہویدا ہی نہ ہو پائےخبر یہ تھی اس مٹی میں سبزہ لہلہائے گایہاں وہ وقت آئے گا کہ ہر سو رنگ ہوں گے پھول ہوں گے روشنی ہوگیمگر یہ کون بتلائےکہ کیسے اس اندھیرے میں کمی ہوگیجو صدیوں سے ہماری آنکھ کی پتلی کا حصہ ہےسنا ہے وقت آگے کی طرف جاتا ہےلیکن ہم ہزاروں سال سے اس ایک نقطے پر کھڑے ہیں جس کے نیچے کچھ نہیں ہے جس کے اوپر کچھ نہیں ہےتم نے تو چوتھی جہت بھی ڈھونڈ لیاور ہم پہلی جہت کی جستجو میں خاک ہو کر رہ گئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books