aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nutq"
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میںکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میںکون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہےخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میںدل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیںاور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میںدفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کواور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میںمیں قسم کھاتا ہوں اپنے نطق کے اعجاز کیتم کو بزم ماہ و انجم میں بٹھا سکتا ہوں میںسر پہ رکھ سکتا ہوں تاج کشور نورانیاںمحفل خورشید کو نیچا دکھا سکتا ہوں میںمیں بہت سرکش ہوں لیکن اک تمہارے واسطےدل بجھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچا سکتا ہوں میںتم اگر روٹھو تو اک تم کو منانے کے لئےگیت گا سکتا ہوں میں آنسو بہا سکتا ہوں میںجذب ہے دل میں مرے دونوں جہاں کا سوز و سازبربط فطرت کا ہر نغمہ سنا سکتا ہوں میںتم سمجھتی ہو کہ ہیں پردے بہت سے درمیاںمیں یہ کہتا ہوں کہ ہر پردہ اٹھا سکتا ہوں میںتم کہ بن سکتی ہو ہر محفل میں فردوس نظرمجھ کو یہ دعویٰ کہ ہر محفل پہ چھا سکتا ہوں میںآؤ مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریںدہر پر اس طرح چھا جائیں کہ سب دیکھا کریں
پھر اک دن ایسا آئے گاآنکھوں کے دئیے بجھ جائیں گےہاتھوں کے کنول کمھلائیں گےاور برگ زباں سے نطق و صداکی ہر تتلی اڑ جائے گیاک کالے سمندر کی تہ میںکلیوں کی طرح سے کھلتی ہوئیپھولوں کی طرح سے ہنستی ہوئیساری شکلیں کھو جائیں گیخوں کی گردش دل کی دھڑکنسب راگنیاں سو جائیں گیاور نیلی فضا کی مخمل پرہنستی ہوئی ہیرے کی یہ کنییہ میری جنت میری زمیںاس کی صبحیں اس کی شامیںبے جانے ہوئے بے سمجھے ہوئےاک مشت غبار انساں پرشبنم کی طرح رو جائیں گیہر چیز بھلا دی جائے گییادوں کے حسیں بت خانے سےہر چیز اٹھا دی جائے گیپھر کوئی نہیں یہ پوچھے گاسردارؔ کہاں ہے محفل میں
نغمے پلے ہیں دولت گفتار سے تریپایا ہے نطق چشم سخن بار سے تریطاقت ہے دل میں نرگس بیمار سے تریکیا کیا ملا ہے جوشؔ کو سرکار سے تریبانکے خیال ہیں خم گردن لئے ہوئےہر شعر کی کلائی ہے کنگن لئے ہوئے
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک اس خوں میں حرارت ہے جب تکاس دل میں صداقت ہے جب تک اس نطق میں طاقت ہے جب تکان طوق و سلاسل کو ہم تم سکھلائیں گے شورش بربط و نےوہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبل قیصر کےآزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھرپور خزینہ ہمت کااک عمر ہے اپنی ہر ساعت امروز ہے اپنا ہر فردایہ شام و سحر یہ شمس و قمر یہ اختر و کوکب اپنے ہیںیہ لوح و قلم یہ طبل و علم یہ مال و حشم سب اپنے ہیں
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےسایۂ شام غریباں کی طرحشورش دیدۂ گریاں کی طرحموسم کنج بیاباں کی طرحکتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجومجیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہجیسے لفظوں کو گہن لگ جائےجیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپجیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغجیسے سنسان سے مقتل کی صلیبجیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیبمیرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےپھر سے زخموں کی قطاریں جاگیںاول شام چراغاں کی طرحہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھ کواسی کمرے میں کبھیمحفل احباب کے ساتھگنگناتے ہوئے لمحوں کے شجر پھیلتے تھےرقص کرتے ہوئے جذبوں کے دہکتے لمحےقریۂ جاں میں لہو کی صورتشمع وعدہ کی طرح جلتے تھےسانس لیتی تھی فضا میں خوشبوآنکھ میں گلبن مرجاں کی طرحسانس کے ساتھ گہر ڈھلتے تھےآج کیا کہیے کہ ایسا کیوں ہےشام چپ چاپفضا یخ بستہدل مرا دل کہ سمندر کی طرح زندہ تھاتیرے ہوتے ہوئے تنہا کیوں ہےتو کہ خود چشمۂ آواز بھی ہےمیری محرم مری ہم راز بھی ہےتیرے ہوتے ہوئے ہر سمت اداسی کیسیشام چپ چاپفضا یخ بستہدل کے ہم راہ بدن ٹوٹ رہا ہو جیسےروح سے رشتۂ جاں چھوٹ رہا ہو جیسےاے کہ تو چشمۂ آواز بھی ہےحاصل نغمگیٔ ساز بھی ہےلب کشا ہو کہ سر شام فگاراس سے پہلے کہ شکستہ دل میںبد گمانی کی کوئی تیز کرن چبھ جائےاس سے پہلے کہ چراغ وعدہیک بہ یک بجھ جائےلب کشا ہو کہ فضا میں پھر سےجلتے لفظوں کے دہکتے جگنوتیر جائیں تو سکوت شب عریاں ٹوٹےپھر کوئی بند گریباں ٹوٹےلب کشا ہو کہ مری نس نس میںزہر بھر دے نہ کہیںوقت کی زخم فروشی پھر سےلب کشا ہو کہ مجھے ڈس لے گیخود فراموشی پھر سےمیرے کمرے میں اتر آئیخموشی پھر سے
نطق ہو جاتا ہے علمی اصطلاحوں سے اداسلعل لب میں شہد کی باقی نہیں رہتی مٹھاس
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تمیاد ہے تم نے کہا تھا''جب نگاہوں میں چمک ہولفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفساس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنےتو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہےوہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافتجن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہےنگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیںاور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیےدامن بچھاتی ہے''اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگاجب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کرتم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہےحاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیںلفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیںوقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہےجانے والا وقت سایہ ہےکہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہےیاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیںیہ جسے تم غم اذیت درد آنسودکھ وغیرہ کہہ رہے ہوایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہےتم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تکجو بھی کچھ میں نے کہا ہے''اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم!
دلوں میں رنگ محبت کو استوار کیاسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیاجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکاوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیااداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دیہر ایک ذرے کو دل دے کے بے قرار کیاجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتاجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا
دل میں جب اشعار کی ہوتی ہے بارش بے شمارنطق پر بوندیں ٹپک پڑتی ہیں کچھ بے اختیار
زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردوزبان شعر میں فطرت کا اک انعام ہے اردوسبھی اس کو سمجھتے ہیں سبھی میں عام ہے اردوزباں کوئی بھی ہو ہر ایک کا انجام ہے اردوگئے وہ دن کہ جب کچھ لوگ ہی اس کو سمجھتے تھےزبانوں میں ابھر آئی ہے طشت از بام ہے اردوکہیں ہے ابتدا اس کی کہیں ہے انتہا مظہرکہیں آغاز ہے اردو کہیں انجام ہے اردویہ با اخلاق قوموں میں سرشتہ ہے اخوت کاسلوک غیر سے بھی آج خوش انجام ہے اردومرقع ہے حسیں تحریک افسانی کے خاکوں کامکمل اجتماع گوہر ایام ہے اردوعروس زندگی کی تاب و زینت جس زباں سے ہےاسی خوش کام فطرت کا اچھوتا نام ہے اردودیار پاک یا ہندوستاں دونوں وطن اس کےزباں ہر ایک جس میں قید ہے وہ دام ہے اردوذرا سی ٹھیس سے بھی شیشۂ دل ٹوٹ جاتا ہےبہت نازک مگر از قسم استحکام ہے اردوبہ ہر عنواں یہی اک پیشوائے حسن و خوبی ہےغلط ہے ایشیا میں مورد الزام ہے اردوممالک غیر میں بھی آج اس کو سب سمجھتے ہیںوطن والوں میں ایک تصویر صد اقوام ہے اردوکسی فرقے کا لیڈر ہو وہ لیڈر بن نہیں سکتانہ سمجھے جب تلک جنتا میں کتنی عام ہے اردوسفارت ہو سنیما ہو کہ ٹی وی ریڈیو سب میںسروں کا نشہ ہے فکر و نظر کا جام ہے اردواسی کو بولنے میں روح کو اب ہے سکوں حاصلزمانے کی زبانوں کے لئے پیغام ہے اردومسلسل ارتقائے آدمیت اس سے مظہر ہےبہ قید نطق ماجدؔ رہبر اقوام ہے اردو
اک طرف حاجت کی شدت اک طرف غیرت کا جوشنطق پر حرف تمنا دل میں غصے کا خروش
مرہٹی کچھ ہے کچھ ہے پنجابیہے فصاحت میں نطق اعرابی
ضعف دکھلائی ہے جب بھی فطرت احرار نےآگ برسا دی ہے تیرے نطق گوہر بار نے
پھر خبر گرم ہے وہ جان وطن آتا ہےپھر وہ زندانیٔ زندان وطن آتا ہےوہ خراب گل و ریحان وطن آتا ہےمصر سے یوسف کنعان وطن آتا ہے''کوئی معشوق بصد شوکت و ناز آتا ہےسرخ بیرق ہے سمندر میں جہاز آتا ہے''رند بے کیف کو تھی بادہ و ساغر کی تلاشناظر منظر فطرت کو تھی منظر کی تلاشایک بھونرے کو خزاں میں تھی گل تر کی تلاشخود صنم خانۂ آذر کو تھی آذر کی تلاشمژدہ اے دوست کہ وہ جان بہار آ پہنچا!اپنے دامن میں لیے برق و شرار آ پہنچا!اپنا پرچم وہ کچھ اس انداز سے لہراتا ہےرنگ اغیار کے چہروں سے اڑا جاتا ہےکوئی شاداں، کوئی حیراں، کوئی شرماتا ہےکون یہ ساحل مشرق پہ نظر آتا ہےاپنے میخانے کا اک میکش بے حال ہے یہہاں وہی مرد جواں بخت و جواں سال ہے یہمرد سرکش تجھے آدم کی کہانی کی قسمروح انساں کے تقاضائے نہانی کی قسمجذبۂ عیش کی ہر شورش فانی کی قسمتجھ کو اپنی اسی بد مست جوانی کی قسمآ کہ اک بار گلے سے تو لگا لیں تجھ کواپنے آغوش محبت میں اٹھا لیں تجھ کونطق تو اب بھی ہے پر شعلہ فشاں ہے کہ نہیںسوز پنہاں سے تری روح تپاں ہے کہ نہیںتجھ پہ یہ بار غلامی کا گراں ہے کہ نہیںجسم میں خون جوانی کا رواں ہے کہ نہیںاور اگر ہے تو پھر آ تیرے پرستار ہیں ہمجنس آزادیٔ انساں کے خریدار ہیں ہمساقی و رند ترے ہیں مے گلفام تریاٹھ کہ آسودہ ہے پھر حسرت ناکام تریبرہمن تیرے ہیں کل ملت اسلام تریصبح کاشی تری، سنگم کی حسیں شام تریدیکھ شمشیر ہے یہ ساز ہے یہ جام ہے یہتو جو شمشیر اٹھا لے تو بڑا کام ہے یہدیکھ بدلا نظر آتا ہے گلستاں کا سماںساغر و ساز نہ لے، جنگ کے نعرے ہیں یہاںیہ دعائیں ہیں وہ مظلوم کی آہوں کا دھواںمائل جنگ نظر آتا ہے ہر مرد جواںسرفروشان بلاکش کا سہارا بن جااٹھ اور افلاک بغاوت کا ستارا بن جا
یہ جا کر کوئی بزم خوباں میں کہہ دوکہ اب درخور بزم خوباں نہیں میںمبارک تمہیں قصر و ایواں تمہارےوہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میںجوانی بھی سرکش محبت بھی سرکشوہ زندانی زلف پیچاں نہیں میںتڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکنوہ زخمیٔ پیکان مژگاں نہیں میںدھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکنوہ نوحہ گر درد ہجراں نہیں میںبہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامیرہین لب شکر افشاں نہیں میںشراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکنوہ غرق شراب شبستاں نہیں میںقسم نطق کی شعلہ افشانیوں کیکہ شاعر تو ہوں اب غزل خواں نہیں میں
درد کا نام سماعت کے لیے راحت جاںدست بے مایہ کو زرنطق خاموش کو لفظخواب بے در کو مکاںدرد کا نام مرے شہر خواہش کا نشاںمنزل ریگ رواںدرد کی راہ پہ تسکین کے امکان بہت!
قرنوں کی خموشی کو حسرت ہے سیل بیاں بن جانے کاصدیوں کی اداسی کو ضد ہے اک نطق جواں بن جانے کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books