aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parveen"
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگامیں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میںروز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگااور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
جنت شوق تھی بیگانہ آفات سمومدرد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلومخاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجومبزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گیرات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھیمیرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھیمیری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھیمیرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھیزیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی
میں کیوں اس کو فون کروں!اس کے بھی تو علم میں ہوگاکل شبموسم کی پہلی بارش تھی!
اس عمر کے بعد اس کو دیکھا!
جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہیہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتےمیں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میںتیری تصویر پہ لب رکھ دیے آہستہ سے!
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنکسرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہکبازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدنسلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہواگرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوانرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑسرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکسریشمیں بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنکشرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی باتدو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صداکانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعاکاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں ذرا!
لڑکی سر کو جھکائے بیٹھیکافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہےلڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگللانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کواپنی آنکھ سے چوم رہا ہےدونوں میری نظر بچا کراک دوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہوٹھیک ہی کہتے ہو!کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوںجو پہنا دو مجھ پہ سجے گامیرا کوئی رنگ نہیںجس بچے کے ہاتھ تھما دومیری کسی سے جنگ نہیںسوچتی جاگتی آنکھیں میریجب چاہے بینائی لے لوکوک بھرو اور باتیں سن لویا میری گویائی لے لومانگ بھرو سیندور لگاؤپیار کرو آنکھوں میں بساؤاور پھر جب دل بھر جائے تودل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دوتم مجھ کو گڑیا کہتے ہوٹھیک ہی کہتے ہو!
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیبات بے بات ہنستی ہوئیاپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیںجو خاموش تھیںان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھیان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچیہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبرریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھیاور میں سوچتی تھیخدایا! یہ ہم لڑکیاںکچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیںخواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!
اپنے سرد کمرے میںمیں اداس بیٹھی ہوںنیم وا دریچوں سےنم ہوائیں آتی ہیںمیرے جسم کو چھو کرآگ سی لگاتی ہیںتیرا نام لے لے کرمجھ کو گدگداتی ہیںکاش میرے پر ہوتےتیرے پاس اڑ آتیکاش میں ہوا ہوتیتجھ کو چھو کے لوٹ آتیمیں نہیں مگر کچھ بھیسنگ دل رواجوں کےآہنی حصاروں میںعمر قید کی ملزمصرف ایک لڑکی ہوں!
مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاتو کیوںاور کس وجہ سےابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہواابھی تو میںباتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میںآنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیےتم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈاور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوںکہیں پر تمہاری صدا اور کہیں پر تمہاری مہکمجھ پہ ہنسنے میں مصروف ہےابھی تک تمہاری ہنسی سے نبرد آزما ہوںاور اس جنگ میںمیرا ہتھیاراپنی وفا پر بھروسہ ہے اور کچھ نہیںاسے کند کرنے کی کوشش نہ کرنامجھے مت بتانا.....
گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھاچاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھافضا میں کیٹسؔ کے لہجے کی نرماہٹ تھیموسم اپنے رنگ میں فیضؔ کا مصرعہ تھادعا کے بے آواز الوہی لمحوں میںوہ لمحہ بھی کتنا دل کش لمحہ تھاہاتھ اٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میںاس نے مجھ کو اپنے رب سے مانگا تھاپھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کرکتنے پیار سے میرا ماتھا چوما تھا!
لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںگزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گےان کے لمس کو پیتی جاقطرہ قطرہ بھیگتی جابھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہےاور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہےمجھ سے پوچھکہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوابال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!
آنکھ بوجھل ہےمگر نیند نہیں آتی ہےمیری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیںکسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہےسرد پڑتی ہوئی راتمانگنے آئی ہے پھر مجھ سےترے نرم بدن کی گرمیاور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہواکھوجتی ہے مرے غم خانے میںتیری سانسوں کی گلابی خوشبو!میرا بستر ہی نہیںدل بھی بہت خالی ہےاک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اترا ہےتیرا ننھا سا وجودکیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھاترے ہوتے ہوئے دنیا سے تعلق کی ضرورت ہی نہ تھیساری وابستگیاں تجھ سے تھیںتو مری سوچ بھی، تصویر بھی اور بولی بھیمیں تری ماں بھی، تری دوست بھی ہمجولی بھیتیرے جانے پہ کھلالفظ ہی کوئی مجھے یاد نہیںبات کرنا ہی مجھے بھول گیا!تو مری روح کا حصہ تھامرے چاروں طرفچاند کی طرح سے رقصاں تھا مگرکس قدر جلد تری ہستی نےمرے اطراف میں سورج کی جگہ لے لی ہےاب ترے گرد میں رقصندہ ہوں!وقت کا فیصلہ تھاترے فردا کی رفاقت کے لیےمیرا امروز اکیلا رہ جائےمرے بچے، مرے لالفرض تو مجھ کو نبھانا ہے مگردیکھ کہ کتنی اکیلی ہوں میں!
تجھ سے نظر ملائے یہ کس کی بھلا مجالتیرے قدم کا نقش حسینوں کے خد و خالاللہ رے تیرے حسن ملک سوز کا جلالجب دیکھتی ہیں خلد سے حوریں ترا جمالپرتو سے تیرے چہرۂ پرویں سرشت کےگھبرا کے بند کرتی ہیں غرفے بہشت کے
اپنے فون پہ اپنا نمبربار بار ڈائل کرتی ہوںسوچ رہی ہوںکب تک اس کا ٹیلیفون انگیج رہے گادل کڑھتا ہےاتنی اتنی دیر تلکوہ کس سے باتیں کرتا ہے!
ننھی لڑکیساحل کے اتنے نزدیکریت سے اپنے گھر نہ بناکوئی سرکش موج ادھر آئی توتیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گیاور پھر ان کی یاد میں توساری عمر اداس رہے گی!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books