تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "pech"
نظم کے متعلقہ نتیجہ "pech"
نظم
نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی
نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے
اکبر الہ آبادی
نظم
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں
مجید امجد
نظم
گو یہ دھڑکا ہے کہ ہوں گا مورد قہر و عتاب
کہہ بھی دوں جو کچھ ہے دل میں تا کجا یہ پیچ و تاب