aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "putlii"
یہ آئے دن کے ہنگامےیہ جب دیکھو سفر کرنایہاں جانا وہاں جانااسے ملنا اسے ملناہمارے سارے لمحےایسے لگتے ہیںکہ جیسے ٹرین کے چلنے سے پہلےریلوے اسٹیشن پرجلدی جلدی اپنے ڈبے ڈھونڈتےکوئی مسافر ہوںجنہیں کب سانس بھی لینے کی مہلت ہےکبھی لگتا ہےتم کو مجھ سے مجھ کو تم سے ملنے کاخیال آئےکہاں اتنی بھی فرصت ہےمگر جب سنگ دل دنیا میرا دل توڑتی ہے توکوئی امید چلتے چلتےجب منہ موڑتی ہے توکبھی کوئی خوشی کا پھولجب اس دل میں کھلتا ہےکبھی جب مجھ کو اپنے ذہن سےکوئی خیال انعام ملتا ہےکبھی جب اک تمنا پوری ہونے سےیہ دل خالی سا ہوتا ہےکبھی جب درد آ کے پلکوں پہ موتی پروتا ہےتو یہ احساس ہوتا ہےخوشی ہو غم ہو حیرت ہوکوئی جذبہ ہواس میں جب کہیں اک موڑ آئے تووہاں پل بھر کوساری دنیا پیچھے چھوٹ جاتی ہےوہاں پل بھر کواس کٹھ پتلی جیسی زندگی کیڈوری ٹوٹ جاتی ہےمجھے اس موڑ پربس اک تمہاری ہی ضرورت ہےمگر یہ زندگی کی خوب صورت اک حقیقت ہےکہ میری راہ میں جب ایسا کوئی موڑ آیا ہےتو ہر اس موڑ پر میں نےتمہیں ہمراہ پایا ہے
پھول کی خوشبو ہنستی آئیمیرے بسیرے کو مہکانےمیں خوشبو میں خوشبو مجھ میںاس کو میں جانوں مجھ کو وہ جانےمجھ سے چھو کر مجھ میں بس کراس کی بہاریں اس کے زمانےلاکھوں پھولوں کی مہکاریںرکھتے ہیں گلشن ویرانےمجھ سے الگ ہیں مجھ سے جدا ہیںمیں بیگانہ وہ بیگانےان کو بکھیرا ان کو اڑایادست خزاں نے موج صبا نےبھولا بھٹکا ناداں قطرہآنکھوں کی پتلی کو سجانےآنسو بن کر دوڑا آیامیری پلکیں اس کے ٹھکانےاس کا تھرکنا، اس کا تڑپنامیرے قصے میرے فسانےاس کی ہستی میری ہستیاس کے موتی میرے خزانےباقی سارے گوہر پارےخاک کے ذرے ریت کے دانےپربت کی اونچی چوٹی سےدامن پھیلایا جو گھٹا نےٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکےبے خود آوارہ مستانےاپنی ٹھنڈک لے کر آئےمیری آگ میں گھل مل جانےان کی ہستی کا پیراہنمیری سانس کے تانے بانےان کے جھکولے میری امنگیںان کی نوائیں میرے ترانےباقی سارے طوفانوں کوجذب کیا پہنائے فضا نےفطرت کی یہ گونا گونیگلشن بن وادی ویرانےکانٹے کلیاں نور اندھیراانجمنیں شمعیں پروانےلاکھوں شاطر لاکھوں مہرےپھیلے ہیں شطرنج کے خانےجانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیںصہبا سے خالی پیمانےبھوکی مٹی کو سونپے ہیںدنیا نے اپنے نذرانےجس نے میرا دامن تھاماآیا جو مجھ میں بس جانےمیرے طوفانوں میں بہنےمیری موجوں میں لہرانےمیرے سوز دل کی لو سےاپنے من کی جوت جگانےزیست کی پہنائی میں پھیلےموت کی گیرائی کو نہ جانےاس کا بربط میرے نغمےاس کے گیسو میرے شانےمیری نظریں اس کی دنیامیری سانسیں اس کے زمانے
سومناتی رفعتیں بھارت کی تہذیب قدیمپاٹلی پترا کی شہرت مگدھ کی شان عظیم
ہمیں بچھڑے توکتنےدنمہینےسالگزرے ہیںمگر یہ چوٹگہری ہےمگر یہ زخمتازے ہیںیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامیری جاناںاگر میں ساتھدو پنچھی بھی بیٹھے دیکھتا ہوں تومیرے ماضی کا ہر منظرمیری آنکھوں کے ڈوروں میںابھرتا ہےتڑپتا ہےمیری آنکھوں کی پتلی ڈوب جاتی ہےیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامیری جاناںوہ سارے لوگجن کی وجہ سےہم لوگ بچھڑے تھےمکمل زندگی کر کےوہ سب قبر میں سوئے ہیںتمہارا دکھ مرے سینہ میں لیکناب بھی زندہ ہےجواں ہوتا ہی جاتا ہےیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامری جاناںاب اتنی مدتوں میںتم بھی شایدبھول بیٹھی ہومرے سب دوست رشتہ دارلاکھوں میل آگے ہیںسفر میں زندگی کےمگر میں رہ گیا کردارتنہااس کہانی میںیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامری جاناں
دل کے قصوں کا مقدر ہے پریشاں حالیپئے ترتیب سہاروں کا تعاقب چھوڑوسوچ کے بخت میں اظہار کا لمحہ کب تھادل ناکام سرابوں کا تعاقب چھوڑوصبح دم پھر وہی پتلی کا تماشا ہوگاجاگتی رات کے خوابوں کا تعاقب چھوڑو
رات کی کالی بارش نےچہروں کی وردیکیچڑ سے بھر دی ہےمیرے سینے کے پنجرے میںخون کا گردش کرنے والا لٹونفرت کے پودوں کے اوپرگھوم رہا ہےتم نے ایسے کانٹےمیری شریانوں میں بوئے ہیںایسی دوپہروں کی زردیمیرے گالوں پہ لیپی ہےکہ میں بستر کی شکنوں میںاپنی آنکھیں بو کر روتا ہوںپہلی بار جب غم کی پتلی قاش کوچہرے سے نوچا تھاجب غربت کے اوراقہوا میں اڑتے تھےجب خالی معدے کی تصویر بنا کراس میں چیزیں رکھتا تھاپھٹے ہوئے کپڑوں میں جبتصویر چھپا کر رکھتا تھامیری شہوتکنوار پنے کی دہلیزوں پراپنا خطبہ لکھتی تھیبیس برس ان گلیوں کی دیواروں سےٹکرا ٹکرا کرمیرے کندھے ریت کے پشتے بن کرڈھیتے جاتے ہیںمیں جو تیری رانوں کے جنگل میںکالے پھول کو توڑنے نکلا تھااب دیکھ رہا ہوںدل کی کوری مٹی میںتیرے جسم کی پتلی شاخیں اگی ہوئی تھیںاور اک آوارہ سناٹاچھتوں پر بھاری قدموں سےبڑی آہستگی کے ساتھ چلتا ہےتو وہ چپکے سے میرے پاس آتی ہےاور اپنے دھیمے لہجے میںوہ ساری داستانیں کہہ سناتی ہےجنہیں سن کر میں دھیمی آنچ پرپہروں سلگتا ہوںکسی گرجے کے ویراں لان میںجب جنوریاپنے سنہری گیسوؤں کو کھول کرکوئی پرانا گیت گاتی ہےتو وہ اک ان چھوئی نن کی طرحپتھر کے بینچوں پرمرے کاندھے پر سر رکھےمرے چہرے پہ اپنی انگلیوں میںکبھی جب شام روتی ہےسیہ کافی کے پیالوں سےلپکتی بھاپ میںپھر آندھی کی آمد سے ایسی گرد ہوئیایسا حبس مری سانسوں میں پھیلاتیرے جسم کی کشتی میںمیں اپنے کپڑے بھول آیاپر تم نے آدھی رات کو ایسی چٹکی لینیند کی ڈھولکگھٹنوں کی ضربوں سے چکناچور ہوئیاب منہ سے شیرہ بہتا ہےان زخموں کاجن کے ٹانکے اندر ہی اندر ٹوٹے ہیںبجلی کی تاروں کے اوپرکوے قطار میں بیٹھے ہیںبارش کے پانی میں جن کےعسکری بازو ہلتے ہیںرانوں کی یہ نیلی وریدیںجن میں دعا کا نقشی کوزہالٹ گیا ہےمیں نے ان گلیوں میںاپنے مرنے کی افواہ سنی ہےخوش الحان موذن کیآواز سے چڑیاں اڑتی ہیںاے رستوں کی رادھاتیرے وصل کی خاطرجسم کے نجی حصے دھو کرلوٹ کے پھر میں آیا ہوں
کسی بھی آنکھ کی پتلی پہ چپکے سےاترتی ہے نشاں سا چھوڑ جاتی ہےیقیں کے رنگ دھندلا کرگماں سا چھوڑ جاتی ہےمحبت کا کوئی کلیہ کوئی قانونلوگوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتاکوئی بھی اس کے گہرے بھید ہرگز پا نہیں سکتاچمکتی دھوپ کی ان چلچلاتی زرد تاروں سےبنا ہے اس کو فطرت نےیہ سب رنگوں سے برتر ہےمگر ہر رنگ اس میں گھل گیا گویاچھوؤ تو ہاتھ کی پوریں گلابی ہوںسماعت میں اترتی دھیمی دھیمی چاپ جیسی ہےکتاب زیست کے بھولے ہوئے سے باب جیسی ہےمحبت خواب جیسی ہے
پھر اچانک ایک ہیرو لوٹ آیہسب کو منایا سب کو سمجھایااوس نے پتا ہونے کا فرض نبھایااب وو ماں باپ سنگ کھیل کرتی کرتی ہےدوستوں سنگ اچھلا کودا کرتی ہےماں سے لوریاں روز سنتی ہےآج کہانی سننے لگی ہیںلاگے اوس کے سنگ ساری دنیا جگی ہےسنتی ہے کہانی یہ رات کی رانیاور سوچتی ہےجانے کس دن وو سورج نکلے گاجانے کس دن یہ آسمان کھلے گاجب انسان سے انسان کا ہوگا سچا میلجب ٹوٹیں گے سب موہ کے دھاگےاور بند ہوگا انسانی دنیا میں یہ کٹھ پتلی کا کھیلجب مار کی جگہ لے گا پیاراور سدھرے گا میرے سپنوں کا سنساراور سدھرے گا میرے سپنوں کا سنسار
جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھےتو کس دھیان میں تیری چڑیا اے ری چڑیابیٹھے بیٹھے تو نے کتنی لاج سے دیکھاپیتل کے اس اک تل کو جو تیری ناک میں ہےاپنی پت پر یوں مت ریجھ خبر ہے باہراک اک ڈاین آنکھ کی پتلی تیری تاک میں ہےتجھ کو یوں چمکارنے والوں میں ہے اک جگ تیرا بیریچڑیا اے ری چڑیابھولی تو یوں اڑتی پنکھ جھپکتییہاں کہاں آ ٹھہری چڑیا اے ری چڑیایہ تو میرے دل کا پنجرا ہے تو اس میںاپنی ٹوٹی پھوٹی خوشیاں ڈھونڈنے آئی ہےپگلی یہاں تو ہے ہیرے کی کنی کا چوگااور اک زخمی سانس اس پنجرے کی انگنائی ہےاڑ اور مہکی ہوئی بن بیلڑیوں میںجا چن اپنی لے ری چڑیا اے ری چڑیا
سنو جاناںمجھے کچھ دیر سونا ہےاور اپنی آنکھ کی پتلی میں رقصاں تتلیوں کے لمس کو محسوس کرنا ہےسنو جاناںمیں آنکھیں بند کرتی ہوںتو ان مخمور لمحوں میںتمہارے ریشمی احساس کی اک نرم سی خوشبونواح جسم و جاں میں پھیل جاتی ہےفضا مہمیز ہوتی ہےاسی ساعت ہوائے نیم شب نرمل سروں میں گنگناتی ہےتمہاری یاد آتی ہےتو میری آنکھ کی پتلی میں رقصاں تتلیاں مجھ کو ستاتی ہیںبدن میں پھیل جاتی ہیںسنو جاناںمجھے کچھ دیر سونے دووصال آثار لمحوں کا پتہ دیتی گلابی تتلیوں کے لمس کو محسوس کرنے دومجھے کچھ دیر سونا ہےمجھے کچھ دیر سونے دو
جیتی جاگتی عورت کوکٹھ پتلی بنانے میںتمہیں کافی وقت لگ گیالیکن تمہاری محنت رائیگاں نہیں گئیاب وہ تمہارے تھپڑ نہیں گنتیمگر تم اس کی روٹیاں گنتے ہواب وہ تمہارے ہونٹوں کی جنبشتمہارے انکھوں کے اشارے پہ رہتی ہےاور تمہاری خاموشی میںاپنا ڈر بناتی رہتی ہےاور تمہیں لگتا ہے کہوہ تمہارا گھر بنا رہی ہے
ابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچوابھی تو اس کہانی میںمحبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تکنظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کےسارے ذائقے تبدیل ہونے تکبہت سے موڑ آنے ہیںمجھے ان سے گزرنے دوذرا محسوس کرنے دوکہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہےمرے لہجے میں اپنا کس طرح آہنگ بدلا ہےمجھے تھوڑا سنبھلنے دو ابھی ٹھہروابھی ٹھہرو کہ وہ خوش بخت ساعت بھی ابھیمجھ تک نہیں پہنچیجو دل کے آئینے کو وہم کی اندھی گلی سےاعتبار ذات کی سرحد پہ لاتی ہےاسے رستہ بتاتی ہےابھی ان راستوں پر تم مجھے کچھ دیر چلنے دوابھی ٹھہروکوئی خواہش امید و بیم کے مابین اب بھیسانس لیتی ہےاسے اس کرب سے آزاد کرنے دووہ سارے خوابجن کو دیکھنے کا قرض میں لوٹا نہیں پائیمجھے ان کے لیے تعبیر کا صفحہ پلٹنے دوابھی ٹھہروکسی بیتے ہوئے موسم کے بخشے زخماب بھی آنکھ کی پتلی میں روشن ہیںذرا یہ زخم بھرنے دومسیحائی تمہاریروح کی پاتال تک کیسے پہنچتی ہےمجھے اندازہ کرنے دوابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کاکوئی عنوان مت سوچو
کیا فقط دیکھتے رہنے سے مسائل کی گرہ کھلتی ہےکیا فقط آنکھ کی پتلی میں ہے محفوظ خدائی ساریہم کہ انسان نہیں آنکھیں ہیںہم نے آنکھوں کو خدا سمجھا خدائی جاناآئنہ دیکھا تو ان آنکھوں نے خود کو بھی نہیں پہچانا
پھول پتے اور جھاڑیاںگزرتے وقت کو روک لیتے ہیںپگڈنڈیاںگلیاںپرانے مکانآوازیں دینے لگتے ہیںدھوپ چاندنی اور اندھیراپر نئے دوستوں کی طرح باتیں کرتے ہیںآبائی قبرستانوں کی ہواان لڑکیوں کی پیامبر بن جاتی ہےجن سے لوگ ہمیشہ کے لیے محبت کرتے ہیںبات کیے بغیرچہروں اور ناموں میں فرق کرنے کی خواہشآنکھ کی پتلی پر جم جاتی ہےاور خوشبو ذائقے رنگرگوں میں سرایت کر جاتے ہیںرکے ہوئے وقت کی طاقتپلٹ کر دیکھنے کے دردناک عمل کو خوبصورت بنا دیتی ہےاور زندگی کوموت پر غالب کرتی ہے
میں رات تھی سیاہ راتایک نقطے میں سمٹی ہوئیآنکھ کی پتلی جیسے نقطے میںمیں نے ایک دن کو باہر نکالاپھر اس دن کی با ایں پسلی سےخود باہر نکلیپھر مرے اندر کتنے سورج چاند اور ستارے اپنی اپنی منزلیں طے کرنے لگےمیں رات ہوں کبھی نہ ختم ہونے والی رات میں نے اپنی پوشاک کا رنگ پیدا کیا پھر رنگوں سے رنگ ملتے چلے گئےمیں رات ہوںمیرے ایک بازو پر صبح اور دوسرے پر شام سو رہے ہیںمیری چادر کے نیچےشہر قبرستانوں کی طرح پڑے ہوئے ہیںاذانیں ایک دوسرے سے ٹکرا کرگنبدوں کے آس پاسگر جاتی ہیںلوگ بھنبھناتی ہوئی مکھیوں کی طرحجاگتے اور سو جاتے ہیںخود اپنا لہو گراتے اور چاٹتے ہیںسمندر چیختے اور دریا رینگتےدیکھتی رہتی ہوںدیکھتی رہتی ہوں چپ چاپان کا انتجن سے پھر انہی کا جنم ہوگاانت جو نئے جنم کا بیج ہےغروب جو طلوع کے طشت کا غلاف ہےمیں رونے اور ہنسنے سے ماورا ہوںکبھی کبھی ماں کی محبتمیں روتے ہوئے بچےکی آواز مجھے چونکا دیتی ہے
میں آخر کس کی جاگت جاگتا ہوںپپوٹوں میں یہ کس پانی کا نمکیں ذائقہ ہےمری پتلی میں کس کی رات ہےاور قرنیہ میں کون سے یگ کا سویرا ہےیہ دن بھر کونمژگانی کواڑوں کو مسلسل کھولتا اور بند کرتا ہےمری تار نظر پر بیٹھ کرآخر زمانے میں نظر کس کی اترتی ہےمیں آنکھوں سے یہ کس منظر کے اندر بھاگتا ہوںمیں آخر کس کی جاگت جاگتا ہوں؟بھلا میں کس کا سونا سو رہا ہوںیہ ریگ خواب پر بنتے بگڑتے کیا نشاں ہیںمرے اندر تو جتنے قافلے چلتے ہیںسارے اجنبی ہیںمیں ہر اک خواب میں کوئی شناسا ڈھونڈتا ہوںیہ کیسی عورتیں ہیںجو سر میں ریت کا افشاں بھرےمجھ کو جکڑتی ہیںجو بعد از اختلاط آہوں سے چیخوں سے پگھل کرریت ہو جاتی ہیں گیلی ریت میں!!یہ بچے کس صدی کے ہیںجو اپنے قہقہہ آور کھلونے میرے ہاتھوں میںتھما کر بھاگ جاتے ہیںیہ کس معبد کے جوگی ہیںصحیفوں کی زباں میں بولتے ہیںان کے فرغل پھڑپھڑاتے ہیںہوا میں ریش اڑتی ہےیہ میں کس کی خوشی کو ہنس رہا ہوںکس کا رونا رو رہا ہوںبھلا میں کس کا سونا سو رہا ہوں؟
درختوں پر کوئی پتا نہیں تھاگزرتے راستے خاموش تھےاڑتے پرندے رات کا آسیب لگتے تھےجہاں تک بھی نظر جاتی تھیان لوگوں کی قبریں تھیں جو پیدا ہی نہ ہو پائےستارے تھے مگر وہ آسمانوں پر ہویدا ہی نہ ہو پائےخبر یہ تھی اس مٹی میں سبزہ لہلہائے گایہاں وہ وقت آئے گا کہ ہر سو رنگ ہوں گے پھول ہوں گے روشنی ہوگیمگر یہ کون بتلائےکہ کیسے اس اندھیرے میں کمی ہوگیجو صدیوں سے ہماری آنکھ کی پتلی کا حصہ ہےسنا ہے وقت آگے کی طرف جاتا ہےلیکن ہم ہزاروں سال سے اس ایک نقطے پر کھڑے ہیں جس کے نیچے کچھ نہیں ہے جس کے اوپر کچھ نہیں ہےتم نے تو چوتھی جہت بھی ڈھونڈ لیاور ہم پہلی جہت کی جستجو میں خاک ہو کر رہ گئے
میں اپنا نام اور پیدائشکھوج رہی ہوںایک ایسی خوردبین سےجس میںپچیسویں صدی کی آنکھیںلگی ہوئی ہیںوہ آنکھیں جن کی پتلی سفیداور سکلیرا سیاہ ہےوہ آنکھیں جو دور تکدیکھ سکتی ہیں اورآٹھواں رنگ پہچان سکتی ہیںجنہیں بائسویں صدی نےدریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھامگر یہ المیہجس کی کوکھوقت کے وجود سے خالی ہےمیری پیدائش کے لمحے کوکسی کلینڈر میںنشان زد کرنے سے قاصر ہےشاید میرا جنمتین سو سڑسٹھویں دن کےکسی غیر مطبوعہ لمحے میں ہوا تھاجسے تشہیر کرتے ہوئےخدائے اصلیاپنی لا محدودیت کی دہائی دیتا رہااور خراج لیتا رہا
میرے باپ نے پسندیدہ عورت گرائیاور اس کے پیٹ میں گالی تھوک دیرذیلہ کی چھاتی سےمیں نے سانس کی چھال ادھیڑیچمڑے کے بستر سے جسم کو علاحدہ کیاروح کا ننگ ڈھانپنے کے لئےبان کی چھاگل میں اعضا کا تعفن بو دیامرد کی رگڑ سے ہانپنے کے لئےزرد پتلی سے خواب کا لوتھڑا پھسلاحلق میں اٹکا اور میں ندامت ہو گئیکسیلی نمی کے رنگ سےزبان کی کرچی کو آشنا کیامیرے نتھنے فقط بھیڑوں کی باس چکھ سکتے ہیںہونٹ کے کونے میں گندھک نے طاعون کا ٹکڑا رکھاخوف کی گانٹھ سے میں نے سینے کو داغ دیاحاملہ ہونے سے قبل میں نے پیٹ پر جھریاں کھودیںکھجور کے تنے سے پیار کیااور اپنی پیٹھ کا لمس دیاخدا کی آنکھ نے آنسو چبا لیاسو میں بانجھ نہیں رہ سکیمیری کوکھ میں تیسری داڑھی ہےاور مردہ ہے
میرے خوابوں کی پتنگ مجھ سےکرتی ہے ان گنت سوالاکثر روٹھی رہتی ہے مجھ سےکبھی آنکھوں سے کبھی نیندوں سےچاہتی تھی کھلا آسماںاونچی اور اونچی اڑانپر پگلی ناداں وہ کیا جانےڈور تو اس کی ہے اور کسی کے ہاتھخود تو وہ صرف کٹھ پتلی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books