aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ration"
گوشت مچھلی سبزیاں بنیے کا راشن دودھ گھیمجھ کو کھاتی ہیں یہ چیزیں میں نے کب کھایا انہیںمیرا گھر رہتا ہے مجھ میں گھر میں میں رہتا نہیںبیوی بچوں کے پھٹے کپڑوں میں ہوںاور نئے جوڑوں کی خوشیوں میں چھپا جو کرب ہے وہ بھی ہوں میںفیس میں اسکول کی کاپی کتابوں میں بھی میںمیں ہی ہوں چولھے کی گیسمیں ہی ہوں اسٹو کا گیسمیرے جوتے جونک کی مانند میرے پاؤں سے لپٹے ہوئے ہیںچوستے ہیں میرا خونمیرا اسکوٹر میرے کاندھوں پہ بیٹھا ہےمیں اس کے ٹائروں میں لپٹا ہوں اور گھستا ہوں
حضرت آدم پہ جو گزری ہے سب کو یاد ہےدانۂ گندم کی زندہ آج تک بیداد ہےآج پھر اولاد آدم پر وہی افتاد ہےاس کا بانی بھی فرشتوں کا وہی استاد ہےدور دورہ آج اس کا چور بازاروں میں ہےماہرین چور بازاری کے غم خواروں میں ہےان میں دیکھا اس کا جلوہ جو ذخیرہ باز ہیںدفن تہہ خانوں میں جن کے بوریوں کے راز ہیںبوریوں سے ملتے جلتے توند کے انداز ہیںاور فریاد و بکا میں سب کے ہم آواز ہیںتوند پر ہے ہاتھ اور فاقوں سے حالت زار ہےان کو ایندھن اس جہنم کے لیے درکار ہےہو گیا بازار سے آٹے کا ایسا انتقالاب کھلے بازار میں آٹے کا ملنا ہے محالاک ذخیرہ باز مولانا نما دوکان دارقوم کے اس ابتلا سے کل بہت تھے بے قرارآہ اس ملت کا کیوں گیہوں پہ ہے دار و مدارکاش کھاتی باجرا یا کاش یہ کھاتی جواراس کے کھانے کے لیے نعمت ہر اک موجود ہےدانۂ گندم بھلا کیوں گوہر مقصود ہےسچ جو پوچھو تو کہوں شیطان کا راشن ہے یہجس نے جنت لوٹ لی انساں کا وہ دشمن ہے یہحیف ہے انسان کر دے اس پر جنت تک نثارسب کو گندم سے بچانا اے مرے پروردگارسینکڑوں من یوں تو گیہوں میرے تہہ خانے میں ہےاور مزا بھی کیا مجھے آزار پہچانے میں ہےمیرے حصہ کی وہی مے ہے جو پیمانے میں ہےہاں مگر دوزخ جو ہے گیہوں کے پروانے میں ہےجس نے گیہوں کھا لیا دوزخ میں گولے کھائے گاجس کو جنت چاہیئے وہ صرف چھولے کھائے گا
زمانہ پریشاں ہے مہنگائیاں ہیںپریشاں حسینوں کی انگڑائیاں ہیںنہ سہرے نہ مہندی نہ شہنائیاں ہیںدکاں دار لیکن بڑے کائیاں ہیںجو راشن میں پایا میسر ہوا ہےنہ جانے اس آٹے میں کیا کیا ملا ہے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سےمجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیںمرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کیتمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میںاس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہےتجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نورجس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےتیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہمنیم تاریک راہوں میں مارے گئے
یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرداپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمارچاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد
ہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں رو رو کے دعائیں کرتے ہیںآنکھوں میں تصور دل میں خلش سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیںاے عشق یہ کیسا روگ لگا جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہماراتوحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارادنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہماراتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارامغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہماراباطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارااے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارااے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارااے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہماراسالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارااقبالؔ کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدکب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہارخون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعدتھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کےتھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعددل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دیکچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعدان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیےان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
ان حسیناؤں کے نامجن کی آنکھوں کے گلچلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کےمرجھا گئے ہیںان بیاہتاؤں کے نامجن کے بدنبے محبت ریاکار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیںبیواؤں کے نامکٹٹریوں اور گلیوں محلوں کے نامجن کی ناپاک خاشاک سے چاند راتوںکو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضوجن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکاآنچلوں کی حناچوڑیوں کی کھنککاکلوں کی مہکآرزومند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو
میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والیتیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیںپوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کومیری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں
جب دلوں میں داغ چمکتے تھےجب پلکیں شہر کے رستوں میں
جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیںان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دےجن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیںان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے
یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پریہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
محبت کی ایک نظماگر کبھی میری یاد آئےتو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میںکسی ستارے کو دیکھ لینااگر وہ نخل فلک سے اڑ کرتمہارے قدموں میں آ گرےتو یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کااگر نہ آئےمگر یہ ممکن ہی کس طرح ہےکہ تم کسی پر نگاہ ڈالوتو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹےوہ اپنی ہستی نہ بھول جائےاگر کبھی میری یاد آئےگریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنامیں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گامجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنامیں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گااگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کوتو اپنے قدموں میں دیکھ لینا میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گاکہیں پہ روشن چراغ دیکھوتو جان لینا کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوںتم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینامیں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گاکسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہرک کے تم کو صدائیں دوں گاسمندروں کے سفر پہ نکلوتو اس جزیرے پہ بھی اترنا
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھےیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہين خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیںگونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خراموہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و ميلوہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبحیا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئيلوہ سکوت شام صحرا میں غروب آفتابجس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بين خليلاور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواںاہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبيلتازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاشاور آبادی میں تو زنجيري کشت و نخيلپختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگیہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مرے تھرا جائیںاور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملےاشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میںاور ترے ریشمی آنچل کا کنارا نہ ملے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books