aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "remark"
دیس میں بسنے والا ہر اک سچ پسندظلم و وحشت سے دوری پر ہر کار بندسانس لینے کا حق مانگنے والا ہر نوجواںزندگی کی رمق کھوجنے والا ہر خانداںسارے غدار ہیںسارے جاسوس ہیںحاکم و سپہ سالار و اشرافیہکے اشاروں پہ نہ ناچنے والے کفار ہیںناقدیں سازشیسوچنے والےگستاخ ہیںاور وہ سارے قلم کارایجنٹ ہیںجو نگوں سر نہیںوہ جنہیں فطرت سبز نےجاں فشانی سے لوگوں کے چہروں پہ اگتی تھکنوحشتیں تیرگیدور پر شور کی سچی تاریخ میں ٹانک دینے کی گستاخیوںکا جریدہ کیاآیت مفلسی سے کوئی سرکشیگنبد تشنگی پر شکایت کوئیمذہب تیرہ بختی کی توہین ہےاپنی دھرتی کے گلے سے اپنے لیے کوئی حصہ طلب کرنا الحاد ہےاور ویسے بھی گندم تو شیطانیت ہی کی ایجاد ہےبھوک غدار ہے
مگر اس بار جانے کیا ہوا مجھ کونمائش کی دکانوں میںسجا کر خود کو گھر واپس چلا آیاابھی دروازہ میں نے کھٹکھٹایا تھاکہ گھر والوں نے کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھاجب ان کی آنکھوں میں،کوئی رمق پہچان کی میں نے نہیں پائیتو الٹے پیروں واپس لوٹ آیا ہوں
حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہےاس سے محبوب مرا اچھا بہت اچھا ہےبوسہ دیتا نہیں پر دل میں چھپا جاتا ہےپاس رکھتا ہوں میں اک جام سفال ہر لمحہساغر جم سے تو بہتر ہےبازار میں مل جاتا ہےمرا محبوب جب آتا ہے مرے گھردیکھنے طبیعت میریاس کے دیکھن سے جو آ جاتی ہےچہرے پہ رمقوہ سمجھتا ہے کہ بیماری بہانہ ہے مرادیکھنا ہے کہ عشاق بتوں سے مل کےفیض پائیں گے یا لعنت کے سوااور نہیں کچھقطرہ دریا میں جو مل جائےتو دریا ہو جائےمیں بھی قطرہ ہوںتو یہ دیکھوں کہ دریا کیا ہےاس میں آتی تو نظر ہے مجھے اپنی جھلکمیں ہوں دوزخ میں یا برزخ میںکہاں اور کہاںہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
میرے مشکیزے میں پانی نہیں تھامیرے پاؤں ننگے تھےمجھے کسی منزل کا پتا نہیں تھااور کسی سمت کا تعین تک کرنے سےمیں قاصر تھامیرے پاس بس ایک ہی راستہ رہ گیا تھاسو میں نے اپنے پاؤں سے کانٹا نکالااور ریت میں بو دیاچند گھنٹوں میں وہ ایک سایہ دار درخت میں تبدیل ہو گیااور اس میں عجیب و غریب پھل پیدا ہو گئےمیں زہریلےاور غیر زہریلے پھلوں میں تمیز نہیں کر سکتا تھااور میرے لیےکوئی من و سلویٰ بھی آسمان سے اترتا نہیں تھاسو میں نے ان پھلوں کو رغبت سے کھایااتنے میں شام ہو گئیاور صحرا کی تاریکی میںصحرا کے زہریلے کیڑے مکوڑےاپنے بلوں سے نکل کر میرے بدن سے چمٹ گئےکرسی پر نیم دراز ہو جاتا ہےہم دونوںکوئی بات نہیں کرتےنہ سگریٹ جلانے کے لیےایک دوسرے کو لائٹر پیش کرتے ہیںاس کا بس چلے تو وہ مجھے ہلاک کر دےمیرے بھی اس کے بارے میںیہی کچھ جذبات ہیںاس کے باوجودجب بھی میں اسے بلاتا ہوںوہ آ جاتا ہےمیرے بلاوے میں نہ اصرار ہوتا ہےنہ دھمکینہ کوئی شرطیہ وہ بھی جانتا ہےمیرے بلاوے میںکسی خواہش کی رمق نہیںہم دونوںکسی بھی دناپنے قریب ترین ستون کی اوٹ لے کرایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیںلیکنزندہ بچنے والے کے مقابلے میںمر جانے والازیادہ خوش نصیب ثابت ہوگابچنے والے کوہلاک ہونے والے کا جسماٹھا کر چلنا ہوگااس کے خون آلود کپڑے اتار کراسے صاف ستھرے کپڑے پہنانے ہوں گےمرنے والے کی لاش کوکسی بھی قسم کے خورد بینی کیڑوں سےمحفوظ رکھنے کے لیےجتن کرنا ہوں گےپھر اس کی لاش کوسہارا دے کرکسی آرام دہ کرسی پر بیٹھانا ہوگااس کے منہ سے سگریٹ لگانا ہوگااسے لائٹر بھی پیش کرنا ہوگابلکہ اس کی موت کواپنی موت سمجھتے ہوئےدو قبریںبرابر کھودنی ہوں گیبسیں اور کاریں ان کے قریب آ کردرختوں کو چھوتی ہیںاور انہیںسڑک کے دائیں یا بائیں ہٹانے میں جٹ جاتی ہیںلیکن اسی دورانشراب کی بو انہیں بھیبد مست کر دیتی ہےوہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ ناچنے لگتی ہیںپھر تو بل کھاتی سڑک بھیاٹھ کھڑی ہوتی ہےاور ٹھمکے لگانے لگتی ہےگھر تھرتھرا اٹھتے ہیںان میں سوئے ہوئے مکینہڑبڑا کر جاگ جاتے ہیںانہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتاشرابی درختوںنشے میں دھت بسوں، کاروںاور بد مست ناچتی سڑک کوشہر میں بسنے والے لوگوں کیکوئی پروا نہیں
کوئی غیر مرئی سی طاقت تو ہوگیجلو میں جو لے کرہر اک روح طفل و جواں کوخموشی سے سوئے فلک کوچ کرتی ہے اکثرکوئی باپ معصوم بیٹے کو تھامےدوا دے رہا ہے، ہر اک سانس کے زیر و بم پر نظر ہےادھر اس کی جاں جسم سے جا رہی ہےمگر کچھ نظر بھی نہ آئے، سمجھ میں نہ آئےابھی کھیلتا تھا، ابھی دیکھتا تھاابھی تو، ابھی، ہاں ابھی بند آنکھیں ہوئی ہیںیہ دیکھو لبوں پر،عجب ایک معصوم سی مسکراہٹ ہے باقیمگر کوئی جنبش نہیں ہےرمق زندگی کی نہ باقی ہے کوئیکوئی غیر مرئی سی طاقت تو ہوگی،جو آہستگی سے چلی آتی ہوگیخموشی سے آغوش میں اپنی،معصوم روحوں کو لے کر چلی جاتی ہوگییقیناً کوئی غیر مرئی سی طاقت ہے ورنہاگر کوئی مرئی سی طاقت جو ہوتیتو نادان انساں بہت غل مچاتامگر یہ نظام الہٰی بدلتا نہیں ہے
کہیں دوراک جسم جو زندگی کی رمق کھو چکا ہےکہ تجسیم سے بھی الگ ہو چکا ہےتعفن زدہ ہےادھر سے ادھر تیرتا ہےاسےآج کوئی نہیں پوچھتا ہےکہ اس کی چمکتی ہوئی زندہ آنکھیںکوئی لے گیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books