aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "resho.n"
درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نےہر رگ جاں سے الجھنا چاہاہر بن مو سے ٹپکنا چاہااور کہیں دور ترے صحن میں گویاپتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کرحسن مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگامیرے ویرانۂ تن میں گویاسارے دکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کرسلسلہ وار پتا دینے لگیںرخصت قافلۂ شوق کی تیاری کااور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیںایک پل آخری لمحہ تری دل داری کادرد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہاہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
وہ بے خبر ہےکہ شاطر وقت کی نظر میںکوئی اکائیشجر حجر ہو کہ ذی نفس ہونظام کل سے الگ نہیں ہےوہ یہ نہیں جانتی کہ ہستی کے کارخانے میںاس کا ہونا نہ ہونا بے نام حادثہ ہےاور اس کے حصے کا کل اثاثہوہ چند لمحے وہ چند سانسیں ہیںجن میں وہ خواب دیکھتی ہےسلیقۂ ذات سے چمن کو سنوارنے کابہار جاں کو نکھارنے کا۲بجا کہ ناپائیدار ہے یہ وجود میرامیں غیر فانی حیات کے سلسلے میںاک بیچ کی کڑی ہوںرہین گردش بھی مرکز کائنات بھی ہوںجو میں نے دیکھا ہے وہ مرے خوں میں رچ گیا ہےجو میں نے سوچا ہے مجھ میں زندہ ہےاور جو کچھ سنا ہے مجھ میں سما گیا ہےہوا کی صورت ہر ایک احساسمیری سانسوں میں جی رہا ہےہر ایک منظر مرے تصور میں بس گیا ہےمیں ذات محدود اپنی پہنائیوں میںاک کائنات بھی ہوںمری رگوں میں وہ جوشش جاوداں رواں ہےجو شاخ میں پھول کی نمو ہےجو بحر میں موج کی تڑپ ہےپر کبوتر میں تاب پرواز ہےستاروں میں روشنی ہےمیں اپنے ہونے کے سب حوالوں میں رونما ہوںمیں جا بجا صورت صبا ہوںغزال خوش چشم کی کلیوں میں کھیلتا ہوںہمکتے بچے کی مسکراہٹ ہوںپیر شب خیز کی دعا ہوںمیں مہر میں ماہتاب میں ہوںیہ کیسی چاہت ہے جس سے میںایک مستقل اضطراب میں ہوںوہ کون سی منزل طلب تھیکہ رانجھا رانجھا پکارتی ہیرآپ ہی رانجھا ہو گئی تھی
الجھتی سانسوں کی سخت گرہیںبدن کے اندر کھینچی ہوئی ہیںنڈھال صدیوں کے فاصلوں کا سفر کہ پاؤں میں پل رہا ہےدھڑوں کے نیچے ہمارا سایہہمارے جسموں کو ریزہ ریزہ نگل رہا ہے(۲)سمندروں سے ہوا لپٹ کر نئی رتوں کا وصال مانگےزمیں کی خوشبو سحر کی آہٹ کے دھندلے خوابوں کا عکس پھیلےہمیں یقیں ہے ہوا کے گدلے سفر سے آگےچمکتے لمحوں کی رہ گزر ہےنئے گلابوں کی سرزمیں ہےہمارے پاؤں میں آنے والے سفر کی خواہش تڑپ رہی ہےہماری آنکھوں میں باؤلے خواب کا نشہ ہےہم اپنے اپنے دھڑوں کے تابوت سے نکل کربڑھے کہ سورج کا جسم چھینیںزمیں کی خوشبو کا کھوج پائیںہم ایک مدت سے سوچتے ہیںکہ آسماں کے سیاہ پتھر میں اب کرن کا شگاف اترےزمیں کی پاتال سے کشش ہونئے گلابوں کی مست خوشبو بدن میں پھیلےمگر وہی دھند کا سفر ہےکٹی پھٹی سرد انگلیوں پر لہو کے جگنو چمک چمک کر بکھر چکے ہیںرگوں کے ریشوں میں تازہ خواہش کی کشمکش سرد پڑ چکی ہےدھوئیں کے پھندے میں مرنے والوں کے نام ذہنوں کی تختیوں سےاتر رہے ہیںسروں پہ کرب و بلا کے موسم کا سخت خیمہ کھینچا ہوا ہےہوا پہ لکھے ہوئے ہیں نوحےفضا میں لٹکے ہوئے ہیں چہرےافق پہ ٹوٹی ہوئی لکیریںزمیں پہ پھیلے ہوئے ہیں سائےسمندروں سے لپٹنے والی ہوا کی ان دیکھی ڈوریوں کاکوئی سرا ہاتھ میں نہیں ہےہماری پلکیں ادھڑ چکی ہیںتمام خوابوں کی دھندلی روحیں مہیب جنگل کے راستوں پربھٹک رہی ہیںالجھتی سانسوں کی سخت گرہیںابھی تلک جسم پر کھینچی ہیںہمارے نیچے کسی زمیں کی کشش ہو شایدیہیں کہیں دھند کے عقب میں ہو کوئی سورج نکلنے والاہوا کے گدلے سفر سے آگے چمکتے لمحوں کی رہ گزر ہونئے گلابوں کی سر زمیں ہومگر پگھلتے بدن کو تحلیل کرنے والی عجیب ساعت سدا اٹل ہےہماری خواہش یہ نیک ساعت ہماری آنکھوں میں گھل کے پھیلےہمارے جسموں کا درد پگھلےہماری خواہش یہ نیک ساعت سکوت بن کر تڑپتے جسموں میں آ کے ٹھہرےالجھتی سانسوں کی گرہیں کھولےہم اس کی خوشبو کے پر سکوں ملگجے اندھیرے کی گہری لذت کے منتظر ہیںہم اس کی خواہش میں اپنے اپنے دھڑوں کے تابوت میں بندھے ہیں
اداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میںسکوں کا پھول دل کے شاخچوں سے توڑ لیتی ہےیہ نیندوں کو اٹھا لیتی ہے آنکھوں کے کٹوروں سےکبھی کھوئی ہوئی یادیں کہیں سے کھوج لاتی ہےبہت سی ان کہی باتیں کہیں سے گھیر لاتی ہےہتھیلی پر سجا لاتی ہے وہ سوکھے ہوئے پتےرچی ہے جن کے ریشوں میں کوئی بھولی ہوئی خوشبولکھے ہیں جن پہ گزرے موسموں کے دل نشیں لمحےپرانے سے پرانا قفل پل میں کھول دیتی ہےاداسی جا اترتی ہےبدن کے ان جزیروں پرجنہیں ویران رکھنا ہواداسی ٹمٹماتی ہےلہو کے ان علاقوں میںجنہیں تاریک رکھنا ہو
تراشیے تو کئی پتھروں کے سینوں میںشجر کی شاخوں کے مانند نقش پھیلے ہیںپر ان کے ریشوں میں ذوق نمو نہیں ملتا
سرسراہٹ ہےنہ آہٹ ہےنہ ہلچلنہ چبھندرد چپ چاپکسی دھیمی ندی کی صورتسانس لیتی ہوئیگانٹھوں میںاتر آیا ہےکتنے برسوں کیریاضت سےہنر مندی سےایسے بکھرے ہوئےریشوں کو سمیٹا ہے مگراور ہر بارہر اک باربہت جتنوں سےجسم کو جان سےجوڑا ہے مگربے سبب سانس کی کٹتی ڈوریکب سے تھامے ہوئےبیٹھے ہیں مگرآج نہیںیا کہیں درد تھمےاور سکوں مل جائےیا کوئی گانٹھ کھلےاور قرار آ جائے
وہ دستکیںجو تمہاری پوروں نے ان دروں میں انڈیل دی ہیںوہ آج بھیان کے چوب ریشوں میں جاگتی ہیںتمہارے قدموں کی چاپچپ ساعتوں میں بھیایک ایک ذرے میں بولتی ہےتمہارے لہجے کے میٹھے گھاؤ سےآج بھیمیرے گھر کا کڑیل چٹان سینہ چھنا ہوا ہے
بھوک عفریت ہےوحشت ہے بڑی آفت ہےبھوک خمیازۂ جان و تن ہےبے پر و بال کیا کرتی ہےوقت کی تال کو بے تال کیا کرتی ہےبھوک اعصاب شکستہ کی کھلی بیعت ہےیہ خد و خال کچل دیتی ہےتہذیب کے ریشوں کو مسل دیتی ہےاور سرمایہ پرستی کے سنہرے ایامگرد رخسار شب و روز پہ مل جاتے ہیںسینۂ خاک کو دہلاتا ہوا صور فلکمطمئن خاک نشینوں کے لیےروز ہی روز وغا لاتا ہےاور شب و روز مہ و سال میں ڈھل جاتے ہیں
رات ہر بار لیےخوف کے خالی پیکرخوں مرا مانگنےبے خوف چلی آتی ہےاور جلتی ہوئی آنکھوں کےتحیر کے تلےایک سناٹابہت شور کیا کرتا ہےکچھ تو کٹتا ہےتڑپتا ہےبہاتا ہے لہواور کھل جاتے ہیںریشوں کے پرانے بخیےرات ہر بار مریجاگتی پلکیں چن کراندھے گمنام دریچوں پہسجا جاتی ہےاور دھندلائے ہوئےگرد زدہ رستوں میںایک آہٹ کا سرا ہےجو نہیں ملتا ہےآسماں گیلی چٹانوں پہٹکائے چہرہسسکیاں لیتا ہےسہمے ہوئے بچے کی طرحاور دریچوں پہ دھریکانپتی پلکیں میریگل زمینوں کے نئےخواب بنا کرتی ہیں
وہ شاخ مضبوط ہو یا نازکیہ منحصر ہے کمال فن پرکہ کیسے تنکوں کو جوڑنا ہےمہین ریشوں کے تانے بانےسے کیسے دیوار جوڑنی ہے
زندگیآسان بھیمشکل بھی تھیگنجلک اتنی نہ تھیگرد اتنی جم گئی ہےذہن کے آئینے پردھند میں ڈوبی نظر آتی ہےساری کائناتدل کے ریشوں میںسیاہی جم گئی ہے بے طرح
دیکھتا ہوںگرم گہرے لیس کے دریا میںکچھووں، مینڈکوںجل کیکڑوں کے پارچوں میںاوجھڑی کے کھردرے ریشوں میںسالم ہوںنبود و بود کے تاریک اندیشوں میںباہر کون ہےجو ذات کے اس خیمۂ خاکستری کےپیٹ کے پھولے ہوئےگدلے غبارے پرازل سے کان رکھ کر سن رہا ہےسر پٹخنےہاتھ پاؤں مارنےکروٹ بدلنے کی صدا!
قبل ازیں کہ تیرا فکر موشگافمغز انساں اور اعضائے بدن کے درمیاںان ریشوں کے ہر ہر لچھے کے گردجن میں دل کی برق رو موجیں رواں ہیںجن میں احساسات کی مہتابیاں ہیںگردشوں پر گردشیں کھانے لگےاس حقیقت کو سمجھکیوں کوئی بے برق ذرہاک انوکھی دھات کےنقطہ مرکز کے بارودی عناصر سےمعاً کچھ ایسے ٹکرانے لگےدیکھتے ہی دیکھتےنقطہ مرکز کا جادو بھک سے اڑ جانے لگےہر تصادم کے عمل کاایک سا رد عملایک سے رد عمل کا سلسلہبے کراں تخیل کی اڑتی حدوں سے ماورالا انتہا
ان میں رقصاں ہیں مصفا جذبےان میں پنہاں ہیں دھڑکتے لمحےان میں تخئیل کا جادو ہے نہاںان میں افکار کا دریا ہے رواںان میں مٹی کی ہے سرشار مہکان میں تہذیب کی روشن ہے جھلکان میں سرسبز رتوں کی ہے بہاران میں آوارہ شبوں کا ہے خماران میں پروائی کی ٹھنڈک بھی ہےان میں طوفان کی دستک بھی ہےان میں سنگیت کی دیوی بھی ہےان میں احساس کی جیوتی بھی ہےان میں دریا کی روانی بھی ہےان میں صحرا کی کہانی بھی ہےکھلتی کلیوں کا تبسم بھی ہےزرد پتوں کا تکلم بھی ہےسرمگیں صبح کی دل داری ہےلمحۂ وصل کی سرشاری ہےسبز موسم کی دھنک ہے ان میںشاخ گل کی بھی لچک ہے ان میںان میں شعلوں کی لپک ہے دیکھوان میں چہروں کی للک ہے دیکھودل کے ریشوں میں انہیں جذب کروپھر انہیں ذہن سے چھو کر دیکھو
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسمریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئےجا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسمخاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشتشاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہےآگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھاپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںیہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںفلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحلکہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دلجواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سےچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سےپکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگنبہت قریں تھا حسینان نور کا دامنسبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاںاس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books