aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rokte"
میں جب بھی تیرے فراق کا نوحہ لکھ کے لاؤںسخن شناسوں کو میرا طرز عمل نہ بھائےتری محبت کا درد ہو جس غزل میں شاملکسی کو ایسی غزل نہ بھائےجواب آئےکہ جانے والوں کو یاد کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےمیں تیری یادوں کو گوندھ کر اپنی حسرتوں میںتراشتا ہوں اگر ترا دل نواز پیکروہ لوگ دیتے ہیں مجھ کو بت پرستی کا طعنہجڑے ہیں جن کے دلوں میں پتھروہی صنم گرکریں نصیحت بتوں پہ مرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےمیں ذکر کرتا ہوں جب وصل کی رتوں کاتو شہر کے سارے پارسا مجھ کو ٹوکتے ہیںخلاف اخلاق جن کے نزدیک ہے محبتوفاؤں سے مجھ کو روکتے ہیںکچوکتے ہیںکہ اپنی عزت پہ نام دھرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےاگر کبھی میں جدائیوں کا سبب بتاؤںتو میری نظموں سے خوف کھانے لگیں جریدےسماج پر احتجاج کرنے کا حق جو مانگوںکوئی یہ کہہ کر زبان سی دےلکھو قصیدےکہ خود کو یوں بے لگام کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےاسی لیے تو حبیب میرےیہ میری غزلیں یہ میری نظمیںجو میں نے تجھ سے بچھڑ کے لکھیںانہیں کوئی چھاپتا نہیں ہے
مجھ کو جو روکتے تھے بہت تانک جھانک سےوہ جا رہے ہیں اپنی نئی اہلیہ کے ساتھ
فرشتوں کو آنے سے وہ روکتے ہیںگھروں کی جو زینت بناتے ہیں کتے
میرے گاؤں میں آئی ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلبات ہے میرے بچپن کیشاید انیس سو پچپن کیمیرے دل کی الجھن کیگاؤں میں کیسے آئی ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلمیرے دادا کہتے تھےکلکتہ جو رہتے تھےگاؤں والے ہنستے تھےوہاں سڑک پر چلی ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلکلکتہ جانا تھا مشکلریل تو ملتی چل کر پیدلتیس میل پر تھا جو سگنلمشکل کو سب جاتے جھیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلبڑے لوگ جب جانا سوچتےرات میں بیل گاڑی کو جوتتےراستے میں جب ڈاکو روکتےچھوڑ کے گاڑی بھاگتے بیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلآزادی نے داد مٹایاگاؤں کو شہروں سے ملایاامیدوں کا پھول کھلایاسدا ہری رہے یہ بیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلدلی میں ان شن ہوئےریل کے تب نقشے بنےبابو جی جب بن گئےمرکز میں وزیر ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلشہر سے سب کچھ ریل سے لاتےڈبوں کو نقصاں پہنچاتےچوری کرتے پکڑے جاتےجو پکڑائے جاتے جیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلمشکل دن سب کٹ جاتے ہیںلیکن وہ دن یاد آتے ہیںاب تو سب کالج جاتے ہیںپکڑ کے بامبے میلبچو نہیں یہ کوئی کھیل
تم لوگ یہاں بیٹھے ہوتم لوگ یہاں اس لیے بیٹھے ہو کہجو تم میں سے یہاں نہیں ہےاسے وہاں سے اٹھا دیا گیا ہےتم میں سے کوئی پرتگال نہیں گیالیکن تمہارے درمیان میز اور کرسیاں ہیںجو دنیا تم کو دکھانے کے لئے کافی ہےاس سے بڑھ کر بھی کوئی دکھ ہوگاجتنا سوچو گے بھولتے جاؤ گےمسلہموسیقی یا عورتیں اور آب و ہوا بچےاخبار یا غذاؤں کے نامیہاں تک کہ نیند آ جاتی ہےیا وہ ایک بوڑھا جس کے پاؤںمیدانوں میں چلتے چلتے ختم ہوئےاس کی فصل اس کے پرانے چہرہ کوگالی دے اس پر پھینک دی گئیناریل کا بنا ہوا حقہ بھی اور اس میں جو جلا ہوا پانی ہوتا ہے وہ بھی تم لوگاس کمرے میں آ گئےتمہارے سامنے میز پر ایش ٹرے میں ابھی ابھی جبکہ ملک کی گھڑیوں میں رات کے ۹ بج رہے ہیںایک سگریٹ کا جلتا ہوا فلٹر ختم ہو رہا ہےمیں تم سب کے بارے میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں کچھ بہت ضروری بھید ہیںلیکن اگر کہہ دوں تو بہت برا ہوگاتمہاری گردنیں مجھے انسانی شکل میں دکھائی نہیں دیتیںیہ گردنیں جسم کا فلٹر ہیںجسم تفصیلات میں جل گئے اب فلٹر جل رہے ہیںیہ میں نہیں بتاؤں گا کہ تمہیں کس نے جلا جلا کے پیامذہب نے اس جسم میں تمہارے اس کمرے میں جیسے ان گنت کمرے بنائے اور ہر کمرہ آگجلائے رکھنے کی ترکیب بتائیمیں تم میں سے ایک تھا تمہارے درمیان مصیبت میں خدا کا نام سنا تھاکروڑوں بھکاریوں کے دلوں کو سمیٹ کر روٹی کا ایک سوکھا ٹکڑا مانگنے کے لئے اسے پکاراکتابوں میں سچائی کے دو لفظ پڑھنے کے لئے مٹی کے تیل کی ڈھیریاں چا رپائیوں پر الٹ دیںمیری غریبی کے یادگار گدڑے اور بستر جل گئےزمین پر اتنے کنکر پتھر اینٹیں بجری اور بالو کے ذرے بھی نہیں ہو گےجتنی میری رٹی ہوئی دعائیںکہ عورتوں اور جانوروں سے چھٹکارا مل جائےبات یہ کہ میں کھل کر رونا چاہتا تھااتنا کہ تمہاری آبادیوں میں بازاروں کے ہجوم بھی نہیں ہو گے اور لڑکوں کی گالیاں جو ننگے پاگلوں کے پیچھے دوڑتی ہیںسنو میں اسے اپنے ڈھنگ سے چاہتا تھااتنا کہ ایک عرب نیکیوں سے بھرے ہوئے اسپتال بھی کافی نہیںارے میں جو خدا مانگتا ہوں وہ تم دیتے نہیںآگ جلانے کی ترکیب تو میں نہیں جانتامیں تم سے کہتا ہوں مجھے جلاؤ یا میری نباتات جلاؤ میں جلوں گا اور جلوں گاکام کروں گا اور کام کروں گاسنو کام کرنے کے لئے ایک ایسی زندگی چاہئے کہ میں تم سب کو بلا وجہ مرنے سے روک سکوںزندگی کا کام کبھی رکتا نہیںہر چند کہبری بھیڑ کے زمانہ میں اچھی کتابیں لکھنے پڑھنے کے مضبوط سامان نایاب ہو جاتے ہیںدولت بڑے اسٹائل سے اشتہاری سکون بانٹتی ہےمائیکرو فون یا باپ اور یونیورسٹیوں میں جب پروفیسر اعزاز کی سولیوں پر خوش گوار دکھائی دیتے ہیںدوائیں یا مائیں بہنیںتب بڑا غلط اندھیرا ہوتا ہے غلط بیٹے اور بھائیجنہیں بنا قیمت لئے اگر تم چھو لو تو کاغذ تمہیں پکڑ لیں گےکاغذ تمہیں مار ڈالیں گےیہی کاغذ جن سے تمہارے لیے دھوکے اور مستقبل بناتے ہیںچلو اس بھیڑ سے نکلوزندگی کا کام کبھی رکتا نہیںپاس آؤمیں تمہاری جیبوں کے جھوٹ سے آج تک ڈرا نہیں ہوںان میں رکھے ہوئے پیسے نکال لوں گاپیسے مت چھپاؤ پاس آؤیہ میں جانتا ہوں کہ تمہاری بیویاں تمہاری موت کے ایجنٹ ہیںتمہارے بیٹے اور بھائی مجھ سے نفرت کرتے ہیںمیں تمہارے گھروں کے ڈرے ہوئے بند دروازوں پر دستک دیتا ہوں اور تم اور تمہارے لوگاندر سے چلاتے ہیں کہ تم نہیں ہومیں تمہیں مرنے سے کیوں روکوں ہر چند کہ روک سکتا ہوںموت کسی کو مارنے کے لیے آسمان سے نہیں اترتیموت اس لیے ہے کہ تم نے اسے آسمان مان لیازمین تمہیں جاگنے کے لیے دی گئی تم نے اسے مایوس کیاموت زمین کی مایوسی پر آج تک خوش ہےاور تمہارے خوابوں میں چلنے کی آزادی ہےتمباکو افیم اور بھنگ کے پودے آج تک خوش ہیں کہ وہ تمہاری مری ہوئی ماؤں کی مامتا ہیںتمہاری بہت سی بیماریاں تمہارے جسم میں بڑے آرام سے ہیںاور دوا خانوں میں بہت سی دوائیں بھی بڑے آرام سے ہیںمیں تمہیں مرنے سے کیسے روکوںہاں تم مجھے جینے سے روکتے ہومیں تم سے کہتا ہوں کہ تمہارے چھوڑے ہوئے میدانوں کی ہواؤں کے جھونکے جب تمہاری کھڑکیوں میں آ رہے ہوں توکھڑکیاں مت بند کروبات یہ ہے کہ تمہارا جمع کیا ہوا اثاثہ تمہارے جسم کے ایک معمولی روئیں تک کو نہیں چمکا سکتاتمہارے جمع کیے ہوئے غلط اندھیروں پر جب سورج چمکتا ہےتو تم اس سے اکتاتے ہوتم مجھے بولنے سے روکتے ہومیں کہتا ہوں تمہارے یہ مکان تمہاری آنے والی قبروں سے مختلف نہیںتم بین الاقوامی بچھوؤں سے زیادہ چالاک نہیںتم دنیا کی بڑی کتابوں سے زیادہ گمبھیر نہیں ہوجب تک میں تم سے اپنے سفر کا سارا سامان چھین نہیں لوں گا تم سے اختلاف کروں گاتمہیں مرنے سے روکوں گا
جب لفظ چلنا چاہتے ہیںچلتے ہیں اور دوسرے لفظوں کےپیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیںایک کے پیچھے ایکلفظ چلتے رہتے ہیںلفظ ایک دوسرے کے پیچھےپاگلوں کی طرح نہیں دوڑتےلفظ آہستہ آہستہ چلتے ہیںاپنے چلنے کے دوران لفظایک دوسرے پر مٹی نہیں اچھالتےایک دوسرے پر پانی نہیں پھینکتےلفظ دوسرے لفظوں کو کیچڑ میں نہیں گراتےلفظدوسرے چھوٹے چھوٹے لفظوں کودھکے نہیں دیتےآگے جانے والے لفظپیچھے آنے والے لفظوں کاراستہ نہیں روکتےخالی ہاتھلفظ چلتے چلے جاتے ہیںان کے پاس اخروٹ کی لکڑی سے بنیلوہے کے دستے والی کوئی چھڑی نہیں ہوتینہ ہی کوئی بندوقلفظ لفظوں کوبہت زیادہ ڈراتے نہیںلفظ دوسرے لفظوں کو سہارا دیتے ہیںزندہ رکھتے ہیںلفظ کسی لفظ کوآدمی کی طرحاندھیرے میں لے جا کراس کا گلا نہیں گھونٹتےوہ ایک دوسرے کو روشنی میں رکھ کرہمیشہ اپنی اپنی آواز بلند کرتے ہوئےآگے بڑھتے رہتے ہیںچلتے رہی رہتے ہیں
رشیدہ تھی یوں تو بڑی نیک لڑکیمگر اس میں یہ ایک عادت بری تھیوہ ہر چیز کو چھوتی اور چھیڑتی تھییہ بات اس کی گھٹی میں گویا تھیبرائی ہو اک بھی تو کیسی بری ہےبھلائی کی رگ کاٹنے کو چھری ہےکبھی چائے دانی کا ڈھکنا اٹھاتیوہ یہ جھانک کر دیکھتی اس میں کیا ہےکبھی کیتلی کو الٹ کر گراتیسمجھتی جو دھیان آپ کا بٹ گیا ہےاسے روکتے بھی تو رکتی وہ کب تھیبری اس میں عادت پڑی یہ عجب تھییہ اک دن کا ہے ذکر قصہ ہوا کیاتپائی پہ دادی نے عینک کو رکھاتھی نسوار کی بھی وہیں ایک ڈبیارشیدہ نے ان دونوں چیزوں کو تاکایہ سوچا کہ دیکھوں گی چیزیں یہ کیا ہےذرا دادی اماں ہٹیں یاں سے جائیںغرض ان کے ہٹتے ہی اس کی بن آئیاسی وقت آنکھوں پہ عینک لگائیوہ ڈبیا بھی نسوار کی اس کو بھائیکہ رنگین ڈھکنے میں تھی خوش نمائیوہ عینک تو پہلے لگا ہی چکی تھیہوئی فکر ڈبیا کو اب کھولنے کیکہا دل میں مجھ سے کہیں گی یہ دادیکہ بیٹی نہ چھونا اسے بھول کر بھیمگر شکر ہے اس گھڑی وہ نہیں ہیںنہ ابا نہ اماں نہ آپا کہیں ہیںذرا کھول کر دیکھ لوں اس میں کیا ہےابھی بند کر دوں گی پھر حرج کیا ہےرشیدہ نے ڈبیا کا ڈھکنا جو کھولاتو اس میں لگا زور کا ایک جھٹکاہوا میں وہ نسوار ہر سمت پھیلیرشیدہ کے چہرے پہ اڑ اڑ کے آئینہ آنکھیں نہ نتھنے نہ منہ اور ٹھوڑیجگہ ایک بھی اس نے باقی نہ چھوڑیہوئی ناک نسوار سے اس کی لت پتنہ پوچھو بنی اس گھڑی اس کی کیا گتوہ گھبرا کے ہر ہر طرف خوب دوڑیمگر پھر بھی چھینکوں سے فرصت نہ پائینہ آرام اس کو ملا ایک پل بھینہ مل پائی اس کو ذرا دیر کل بھیوہ گھبرائی اتنی کہ عینک کو پھینکاچلی پھر وہ پانی سے دھونے کو چہرانہایت ہی نازک تھے عینک کے شیشےوہ گرتی ہی بس ہو گئے ٹکڑے ٹکڑےملی اس کو اپنے کیے کی سزا یہکہ ملتی ہے پھوٹے ہیئے کہ سزا یہپھر اتنے میں دادی کو آتے جو دیکھاہوا حال ابتر بہت پھر تو اس کارشیدہ اری تجھ کو یہ ہو گیا کیایہ دادی نے تیوری چڑھا کر جو پوچھاتو بس شرم سے گڑ گئیں بی رشیدہعجب سوچ میں پڑ گئیں بی رشیدہرشیدہ کی حالت ہوئی غیر دکھ سےرہا کام اس کو خوشی سے نہ سکھ سےکیا اس نے وعدہ یہ کھا کھا کے قسمیںکہ اب بھول کر بھی نہ چھیڑوں گی چیزیںسنا ہے یہ نیرؔ نے لوگوں کا کہنارشیدہ نے وعدہ کیا اپنا پورا
ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہےجوں جوں ہمارے لوگہمیں چھوڑ کران کے پاس جا رہے ہیںہم کسی کو نہیں روکتےبلکہ کوئی ایک قدم بھی آگے بڑھائےتو فرض کر لیتے ہیںکہ وہ ان کی جانب بڑھ رہا ہےوہ منتظر دیکھتے رہتے ہیںکب کوئی ہمارے دائرے سے تھوڑا سا باہر نکلےاور وہ اسے رجھا کر اپنے ساتھ ملا لیں
تپتی ہوئی زمیں پراللہ کا جو گھر ہےوہ مرکزنظر ہےاک روز یوں ہوا تھاعثمان ابن طلحہاس خانۂ خدا میںسرکار دو جہاں کوجانے سے روکتے تھےاک ایسا دن بھی آیاسرکار دو جہاں جبمکہ کو فتح کر کے کعبہ پہنچ چکے تھےدست نبی میں اس دمکعبے کی کنجیاں تھیںعثمان ابن طلحہ شرمندہ سر جھکائےحیران سے کھڑے تھے
اپنی دہلیز پہ کھڑا تنہااپنا گھر اجنبی سا لگتا تھااس کی رخصت تھی مانند پروازہر طرف ابتری کا منظر تھاایک لکنت زدہ سی ویرانیدر و دیوار پہ تھی حیرانیلرزتے آنسو اور دکھتا ہوا سرروکتے تھے اسے پیمائش ویرانی سےوہ کہ سویا ہے یا کہ جاگا ہےصبح سے کیوں یہ سمندر کا خیال ذہن میں آج تھپیڑے مارےکہر آلود بند دریچوں میںجو وسیع کائنات چھپتی ہےناامیدی کی نیلگوں چادر ایک سمندر سی پھیل جاتی ہےکیوں یہ رہ رہ کے سمندر کا خیال ذہن میں آج تھپیڑے مارےکتنی مانوس تھی قریب تھی وہجیسے ساحل ہو اک سمندر سےبے کراں موج جیسے ساحل کی گود میں آ کے ہی دم لیتی ہےاس کی تصویر اس کے ہلتے لبسارے منظر ہیں زیر آب کہیںاک تلاطم کے بعد سرکنڈےجیسے پاتال میں چھپ جاتے ہیںکیوں یہ رہ رہ کے سمندر کا خیال ذہن میں آج تھپیڑے مارےشام کے دودھیا دھندلکوں میںتنہا تنہا اداس پھرتا ہےرات جب سسکیوں میں ڈھلتی ہےپھر سمندر کی یاد آتی ہے
پھر ہوا نے ٹین کی چادریں گردنوں پر پھینکیںمائیں نیند سے لڑنے لگیںباپ آنگن کو پرواز سے روکتے رہےاور زمین کے نیچے مایا کی دیگیں سرکتی رہیںبکریوں نے شور کیاپہلوٹی والا دوپہلوٹی والا دووہ دیکھو اسفنج کی اندھی سیڑھیوں پرناخن کے بعد ناخنسفر سفر سفرگھومتے ہوئے پہیےٹوٹتے ہوئے بریکایک انچ میں ہزار انچ غباراور اسکول یونیفارمہم گیئر بدلنے سے پہلے ہیڈینجر زون میں کیوں داخل ہو جاتے ہیںبوڑھا ڈرائیور سوچتا ہےرانوں کے کراس پر چہرے کی ہڈی کس خطرے کا نشان ہے
ہم بہت تھوڑے لوگ ہیںوہ بہت زیادہہم لا پروا ہیں خود اپنی ذات سےہمیں ایک دوسرے کے مفادات کی کیا فکروہ آپس میں شیر و شکر ہیںاور ہمیں کمزور رکھنے کے لیےساز باز کرتے رہتے ہیںان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہےجوں جوں ہمارے لوگہمیں چھوڑ کران کے پاس جا رہے ہیںہم کسی کو نہیں روکتےبلکہ کوئی ایک قدم بھی آگے بڑھائےتو فرض کر لیتے ہیںکہ وہ ان کی جانب بڑھ رہا ہےوہ منتظر دیکھتے رہتے ہیںکب کوئی ہمارے دائرے سے تھوڑا سا باہر نکلےاور وہ اسے رجھا کر اپنے ساتھ ملا لیںان کے پاس گئے لوگوں میںہو سکتا ہے اب کوئی افسوس کرتا ہواور واپس آنا چاہےمگر ہم اس کی پروا بہت کم کرتے ہیںاور یہ ممکن بھی نہیں ہےکیونکہ ان کے ساتھ وقت ضائع کرنے والوں کے پاسہمارے لیے وقت بچ نہیں سکتاوہ انتظار میں ہیںبس ہم میں سے ایک آخری بچ جائےتو وہ اسے پتھر مار کر ہلاک کر ڈالیںہم ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیںاور ڈر رہے ہیںکیا ہم دونوں میں سے کوئیدوسرے کو پتھر مارے گا
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سےمجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیںمرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کیتمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کےاشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیںنا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
ہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں رو رو کے دعائیں کرتے ہیںآنکھوں میں تصور دل میں خلش سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیںاے عشق یہ کیسا روگ لگا جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میںقاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہےہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہےاس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہیظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قومظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہےپھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پرتاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہےکچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہییہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہےیہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطےجو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کووہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطےپھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
یہ ملیں یہ جاگیریںکس کا خون پیتی ہیںبیرکوں میں یہ فوجیںکس کے بل پہ جیتی ہیںکس کی محنتوں کا پھلداشتائیں کھاتی ہیںجھونپڑوں سے رونے کیکیوں صدائیں آتی ہیںجب شباب پر آ کرکھیت لہلہاتا ہےکس کے نین روتے ہیںکون مسکراتا ہےکاش تم کبھی سمجھوکاش تم کبھی سمجھوکاش تم کبھی جانودس کروڑ انسانو!علم و فن کے رستے میںلاٹھیوں کی یہ باڑیںکالجوں کے لڑکوں پرگولیوں کی بوچھاڑیںیہ کرائے کے غنڈےیادگار شب دیکھوکس قدر بھیانک ہےظلم کا یہ ڈھب دیکھورقص آتش و آہندیکھتے ہی جاؤ گےدیکھتے ہی جاؤ گےہوش میں نہ آؤ گےہوش میں نہ آؤ گےاے خموش طوفانو!دس کروڑ انسانو!
کس طرح روکتا ہوں اشک اپنےکس قدر دل پہ جبر کرتا ہوںآج بھی کارزار ہستی میںجب ترے شہر سے گزرتا ہوں
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books