aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rol"
ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہےپیاس سے اس کو علاقہ کیا ہےعمر کا کتنا بڑا حصہ گنوا بیٹھا میںجانتے بوجھتے کردار ڈرامے کا بنااور اس رول کو سب کہتے ہیںہوشیاری سے نبھایا میں نےہنسنے کے جتنے مقام آئے ہنسابس مجھے رونے کی ساعت پہ خجل ہونا پڑاجانے کیوں رونے کے ہر لمحے کوٹال دیتا ہوں کسی اگلی گھڑی پردل میں خوف و نفرت کو سجا لیتا ہوںمجھ کو یہ دنیا بھلی لگتی ہے
طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےالو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائےککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیالقمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تالمور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےچڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھمموٹی بطخ چونچ سے ڈھولک پیٹے دھم دھم دھمبیا بجائے منجیرے اور بھونرا بھجن اڑائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےبلبل گل کی یاد میں رو رو گائے دیپک راگمست پپیہا دور سے نغموں کی بھڑکائے آگکوئل پہن کے پائل ساری محفل میں اٹھلائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےرنگ برنگی چڑیاں اب چھیڑیں ایسی قوالیپتا پتا بوٹا بوٹا تال میں دیوے تالیپھوپھی چیل وجد میں آ کر اونچی تان لگائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےانگلستان کا سارس آ کر ناچے راک این رولمرغابی سے بولے میڈم انگلش گانا بولدیکھو دیکھو کتنی پیاری محفل ہے یہ ہائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے
زندگی میں ہے سفر کا اپنا رولبڑھتا ہے لوگوں سے بچو میل جول
پریم کہے تب میٹھے بولمت آنسوؤں کے موتی رولبھولے بسرے پریم پجاریپریم کی جوگن تیری لگن میںکھوئے ہوئے قسمت کے تارےکیوں تو ڈھونڈھے نیل گگن میںآن کے بس جا میرے من میںپریم کی مدرا پیاسے تن میںلگی ہلورے لینےجلدی سے پہچان لے مجھ کوپریم ہی دے نروان بھی تجھ کوپریم کی جوگنسجل سلونیدیتی ہے سندیسابستی بستیپربت پربتگاتی گیت البیلا
تم مجھ پر وارد ہوئےاک ستم گر کی طرحمئی کی وہ شام تھیمجھے آج بھی یاد ہےسفید رنگ کی شرٹ پہنےہاتھ میں اخبار رول کئےتم پنڈال کی کرسی پر براجمان تھےپہلی نظر میں تم عام سے تھےجیسے تم عاشق ہو اور میں محبوبمیری نظر کا لمس تمہیں خاصا خاص کر گیادیکھوکہانی نے پلٹا کھایاتم محب بن گئے اور میں دیوانی کہلائیمیرے آتے ہی تم سمٹ گئےتب سے آج تک ویسے ہی میری روح میںایک کونپل کی طرح سمٹے بیٹھے ہومیں منتظر ہوںکب احساس کا نازک پرندہ انگڑائی لےتم اپنی بانہیں پھیلائےاسی پنڈال کی اسی کرسی پرگہری خاموشی سے شور کرتے ہوئےمیری طرف بڑھوکہ دیکھنے والوں کو پاکیزہ محبترقص کرتی دکھائی دےجس میں نہ نمائش ہو نہ ہوسبس اک سرور ہواور میںمیں زمین کے اسی بے بس بے حس ٹکڑے پر آنکھیں موندے تمہیں دیکھتی رہوںپچھتاوے کا جال آج تک مجھے لپیٹ میں جکڑے ہےمیں کسی اسیر زادی کی طرحاپنی قید کو تقدیر کا لکھا جان کر خوش ہوںمیں اظہار و اقرار سے بریاپنی خواہش پر حیا کی چادر ڈالےمحبت کا طوق گلے میں لٹکائےخموشی کو لبوں پر سجائےنا امیدی کو شکست دیتے ہوئےگونگی بہری اندھی محبت پر اکتفا کئے ہوئے ہوںکہ اسیر خواہش و فرمائش کا حق نہیں رکھتے
ہرے بھرے لہراتے پتوں والا پیڑاندر سے کس درجہ بودا کتنا کھوکھلا ہو سکتا ہےمجھ سے پوچھومیں اک ایسے ہی چھتنار کے نیچے بیٹھااس کی چھاؤں سے اپنے سفر کیدھوپ کا دکھڑا پھول رہا تھاآنے والے وقت کی ٹھنڈی گیلی مٹی رول رہا تھااپنے آپ سے بول رہا تھامیں بھی کتنا خوش قسمت ہوںجیون کی سنسان ڈگر پرمیرے کتنے یار کھڑے ہیں پیڑ کی صورتاتنے میں اک جھونکا آیایہ جھونکا چاندی کی کان کے اندر سے ہو کر آیا تھاایک ہی پل میںپیڑ کی چھال نے رنگت بدلیایک ہی پل میںہر پتے کی شکل ہوئی مٹیالی گدلیشاں شاں کرتی شاخوں میں اک زہریلی سرگوشی جاگیچھاؤں چھٹ کر پیڑ کے تن کی جانب بھاگیدل یہ منظر دیکھ کے سہما کانپا رویاچاروں اور سے اٹھتی اک انجانے دکھ کی دھول میں کھویازہر سا اک رگ رگ میں سمایااتنے میں اک اور جھومتا جھونکا آیایہ جھونکا خود غرضی کے کہسار پہ منڈلا کر آیا تھابس اتنا ہی یاد ہے مجھ کوکیسے اور کب پیڑ گرا یہ پیڑ سے پوچھومجھے نکالواس بودے اور کھوکھلے پیڑ کے نیچے دب کرمیرے ساتھ مرا احساس بھی مر جائے گاجو بھی یہ منظر دیکھے گا ڈر جائے گادیکھنے والوں کو اس خوف سے اس صدمے اس غم سے بچا لومجھے نکالوآئندہ میں چھتنار کو اپنا یار نہیں سمجھوں گاکبھی کبھی مل جانے والی چھاؤں کو پیار نہیں سمجھوں گا
پرچم سر میدان وغا کھول رہا ہےمنصور کے پردے میں خدا بول رہا ہےکیا سیل بغاوت ہے مریدوں کی صفوں میںپیران تہی دست کا دل ڈول رہا ہےاے وائے صبا عقرب جرارہ چمن میںصرصر کے اشارات پہ بس گھول رہا ہےافرنگ کے دیرینہ غلاموں کی رضا پرخود پیر حرم بند قبا کھول رہا ہےکچھ بات ہی ایسی ہے کہ پیمانۂ زر میںاک رند تنک ظرف لہو تول رہا ہےبزغالۂ افرنگ شغالوں کے جلو میںکس ٹھاٹھ سے ضرغام صفت بول رہا ہےتاریخ کے ویرانۂ آباد میں شورشؔکچھ قیمتی موتی ہیں قلم رول رہا ہے
اگر معذور ہوچستی سے پر لوگوں کو دیکھواندھیرے منہ ،وہ اک اخبار والاگزشتہ روز کی سب لعنتوں کو رول کر کےتمہارے بند دروازے پہکب کا پھینک کر جا بھی چکا ہےتمہارا دودھ والاشیر خواروں کی صبح ہونے سے پہلےدودھ دے کر جا چکا ہےاگر معذور ہوکھڑکی کے شیشوں سے چپک کر بیٹھ جاؤاور دیکھوکہ یہ اسکول جاتے حور و غلماںکتنے بھاری بیگ تھامےہنستے گاتے جا رہے ہیںان کے سر کے ٹھیک اوپرچہچہاتے غول چڑیوں کےتلاش رزق میں جاتے ہوئے دیکھواگر معذور ہوشامل نہیں ہو گہما گہمی میںتو کیاکھڑکی کے شیشوں سے چپک کر بیٹھ جاؤ
جب نور کے پردے سے ہٹا پردۂ ظلماتجب صبح کے ماتھے سے مٹی گرد خرافاتپو پھوٹنے والی تھی تو مشرق تھا حنائیملنے کو تھی دنیا کو شعاعوں کی بدھائیسہمی ہوئی اتری تو تھی آکاش سے شبنمغنچوں کو تبسم کا وہ پیغام تھی تاہمکلیوں کو جو بدمست ہوا چوم رہی تھیاس چھیڑ پر ہر شاخ چمن جھوم رہی تھیچڑیوں کی چہک دور سے دیتی تھی سنائیاڑنے کی جسارت ابھی ان میں نہ تھی آئیسبزہ کہیں چپ چاپ گہر رول رہا تھاگل ہنس کے کہیں بند قبا کھول رہا تھافطرت کے پجاری بھی بہت جاگ چکے تھےسیروں کے لئے لوگ بھی کچھ بھاگ چکے تھےتقدیس کے پابند بھی گنگا کے کنارےجاتے تھے کہیں تیز کہیں سست بے چارےپوجا کوئی کرتا تھا تلک کوئی بناتاجل ہاتھ میں لیتا کوئی ماتھے پہ لگاتااتنے میں نمایاں ہوا اک پیکر نوریقدموں میں شفق جس کے پڑی بہر حضوریسانچے میں ڈھلے جیسے کہ اندام تھے سارےلپکے وہ قدم چومنے بہتے ہوئے دھارےبوجھل تھی پلک نیند کے بے ساختہ پن سےچھٹتی تھی کرن جیسے کہ ہر موئے بدن سےتھالی جو اٹھائے تھی تو دل والوں کو مہمیزمحجوب ہوا دیکھ کے خورشید سحر خیزساری کی سنبھالے ہوئے چٹکی سے تھی چوننبڑھتی تھی اسے دیکھ کے ہر قلب کی دھڑکندریا میں دھرے پاؤں بڑے ناز و ادا سےپریاں سی لپکنے لگیں پانی کی ردا سےرک رک کے جو دو چار قدم اور بڑھائےچونن کو سنبھالے ہوئے تھالی کو اٹھائےنذرانہ دیا پھول کا امواج کو اس نےتھالی کو لیا خادمۂ خاص نے بڑھ کےپھر آب مقدس میں جو ڈبکی سی لگائیبدلی سی ذرا دیر کو مہتاب پہ چھائیپانی سے پری پر کو جھٹکتی ہوئی نکلیاندام گل اندام سے لپٹی ہوئی ساریموتی سے برستے تھے ہر اک موئے سیہ سےشبنم کے وہ قطرے تھے کنول پر جو پڑے تھےوہ مست خرام آئی اسی طور گئی بھیپر برق تپاں خرمن ہستی پر گری بھی
سو ایک روز کیا ہواوفا پہ بحث چھڑ گئیمیں عشق کو امر کہوںوہ میری ضد سے چڑ گئی
تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہترتعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھاوہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکناسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میںوقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہچاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغمستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغسو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغگل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لواب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
پہلے بھی تو گزرے ہیںدور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کےپھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندییہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندیتم مگر یہ کیا جانولب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیںہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کرنور کی زباں بن کرہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کرروشنی سے ڈرتے ہوروشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیںروشنی سے ڈرتے ہوشہر کی فصیلوں پردیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخررات کا لبادہ بھیچاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخراژدہام انساں سے فرد کی نوا آئیذات کی صدا آئیراہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکےاک نیا جنوں لپکےآدمی چھلک اٹھےآدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھوتم ابھی سے ڈرتے ہو؟ہاں ابھی تو تم بھی ہوہاں ابھی تو ہم بھی ہیںتم ابھی سے ڈرتے ہو
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیںتہمت عشق پوشیدہ کافی نہیںآج بازار میں پا بہ جولاں چلودست افشاں چلو مست و رقصاں چلوخاک بر سر چلو خوں بداماں چلوراہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلوحاکم شہر بھی مجمع عام بھیتیر الزام بھی سنگ دشنام بھیصبح ناشاد بھی روز ناکام بھیان کا دم ساز اپنے سوا کون ہےشہر جاناں میں اب با صفا کون ہےدست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہوفرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو
اس نے کہاسنعہد نبھانے کی خاطر مت آناعہد نبھانے والے اکثرمجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیںتم جاؤاور دریا دریا پیاس بجھاؤجن آنکھوں میں ڈوبوجس دل میں اترومیری طلب آواز نہ دے گیلیکن جب میری چاہتاور مری خواہش کی لواتنی تیز اور اتنیاونچی ہو جائےجب دل رو دےتب لوٹ آنا
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگامیں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میںروز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگااور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
جسے فن کہتے آئے ہیں وہ ہے خون جگر اپنامگر خون جگر کیا ہے وہ ہے قتال تر اپناکوئی خون جگر کا فن ذرا تعبیر میں لائےمگر میں تو کہوں وہ پہلے میرے سامنے آئےوجود و شعر یہ دونوں define ہو نہیں سکتےکبھی مفہوم میں ہرگز یہ کائن ہو نہیں سکتےحساب حرف میں آتا رہا ہے بس حسب ان کانہیں معلوم ایزد ایزداں کو بھی نسب ان کاہے ازد ایزداں اک رمز جو بے رمز نسبت ہےمیاں اک حال ہے اک حال جو بے حال حالت ہےنہ جانے جبر ہے حالت کہ حالت جبر ہے یعنیکسی بھی بات کے معنی جو ہیں ان کے ہیں کیا معنیوجود اک جبر ہے میرا عدم اوقات ہے میریجو میری ذات ہرگز بھی نہیں وہ ذات ہے میریمیں روز و شب نگارش کوش خود اپنے عدم کا ہوںمیں اپنا آدمی ہرگز نہیں لوح و قلم کا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books