aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saaleh"
جو بنا دے حضرت آدم کو مردہ خاک سےکر دے جو آراستہ بے جاں کو روح پاک سےنوح کی کشتی کو طوفانوں سے بھی جو لے بچابحر میں جو حضرت موسیٰ کو دے دے راستہہو کنویں کی تہہ سے تخت و تاج تک یوسف کے ساتھپیٹ میں مچھلی کے یونس کو رکھے جو با حیاتنرم جو لوہے کو کر دے ہاتھ میں داؤد کےابن مریم کو بچا لے جو صلیب و دار سےمسترد کر دے جو اہل حق پہ ہر یلغار کونور کر دے جسم ابراہیمؔ پر جو نار کوجو سکھا دے ماننا فرمان ہر مخلوق کوجو سلیماں پر کرے آسان ہر مخلوق کوظالموں کو روک دے جو پل میں ان کی ٹوہ سےناقۂ صالح کرے پیدا جو بطن کوہ سےامن کا سنوا دے جو مژدہ رسول اللہ سےجو چمن صحرا کو دے بنوا رسول اللہ سےوقت جو مغرب کا ٹھہرا دے رسول اللہ سےچاند دو ٹکڑے جو کروا دے رسول اللہ سےجس خدائے پاک کی قدرت کے ہوں یہ سب نشاںحمد جس کی کر رہی ہوں مچھلیاں اور چیونٹیاںجس کی عظمت کی گواہی روز دیں شام و سحرکر رہے ہوں چاند سورج حکم سے جس کے سفرہر زباں آور جہاں تھک جائے جس کے ذکر سےجس کی سطوت کا بیاں باہر ہو سب کی فکر سےمشورہ تم سب کو اتنا دے کے اب میں بھی یہاںختم کرنا چاہتا ہوں خود پہ ہی اپنا بیاںوسوسوں کے تم مرض میں مبتلا ہونا نہیںاس خدا سے کچھ بھی ہو بے آسرا ہونا نہیں
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
اے کردگار معنی و خلاق شعر تراے جان ذوق و محسنۂ لیلئ ہنرکھل جائے گر یہ بات کہ اردو زبان پرتیری نگاہ ناز کا احساں ہے کس قدرچاروں طرف سے نعرۂ صل علیٰ اٹھےتیرے مجسموں سے زمیں جگمگا اٹھے
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہےگلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہےتوپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہےبنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہےاتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مراکر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرایہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئیساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئیسالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئیسالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھامجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھااپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگرجلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پرمیں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجرتم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظرکہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نےتم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نےمیں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہےساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہےجیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہےمیں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہےپھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیںمیرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیںصبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میںناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میںباسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میںچھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میںمیں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئیمیری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئیوہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھیساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھیپیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھیکبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھیاپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نےزندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نےکس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہےدال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہےمجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہےتم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےگھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیںیہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیںمیں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہیہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہیقلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہیاب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہیاپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھیجس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھیتھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعارتم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثارتم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزارتم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کرداراپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیںہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیںنہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہواچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہوبن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہوہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہوپھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لوکسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
اگر میں چیخوںمیں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوںتو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گایہی کہاندھے کنویں سے اک بازگشت ہوگیکہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟تمہی بڑے آئے ہو کہیں کےیہ آسمان و زمیںیہ سورج یہ چاند تارےتمام ماں باپ سارے اجدادشہر کے سب شریف زادےانہیں بھی دیکھویہ سب مصیبت زدہ، متانت سےبردباری میں سہہ رہے ہیںتمہی میں برداشت کی کمی ہےاگر میں چیخوں تومیری آواز بھی ملامت کرے گی مجھ کووہ سب کہیں گےکہ کون یہ شور کر رہا ہےہماری نیندیں اچاٹ کر دیںاگر میں چیخوںتو سارا امن و سکوننظم اور نسقمجھ کو خلاف قانون، دشمن خلق کہہ کرصلیب دے گامگر یہ چیخوں بھرا ہوا دلکسی بھی لمحےمجھے کہیں خوفناک راہوں پہ ڈال دے گاصلاح دے گاکہ زور سے چیخوکہ جسم کے ساتھروح بھی سرد ہو گئی پھرتو کیا کرو گے
یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےتصور اک نئے احساس کی جنت میں لے آیانگاہوں میں کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہےجبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پرضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہےشفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کیثریا کی جبیں زہرہ کا عارض تمتماتا ہےپرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیںنئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہےزمیں نے پھر نئے سر سے نیا رخت سفر باندھاخوشی میں ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہےہزاروں خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں سینے میںجہان آرزو کا ذرہ ذرہ گنگناتا ہےامیدیں ڈال کر آنکھوں میں آنکھیں مسکراتی ہیںزمانہ جنبش مژگاں سے افسانے سناتا ہےمسرت کے جواں ملاح کشتی لے کے نکلے ہیںغموں کے ناخداؤں کا سفینہ ڈگمگاتا ہےخوشی مجھ کو بھی ہے لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوںمسرت کے اس آئینے میں غم بھی جھلملاتا ہےہمارے دور محکومی کی مدت گھٹتی جاتی ہےغلامی کے زمانے میں اضافہ ہوتا جاتا ہےیہی انداز گر باقی ہیں اپنی سست گامی کےنہ جانے اور کتنے سال آئیں گے غلامی کے
اے جواں سال جہاں جان جہان زندگیساربان زندگی روح روان زندگی!
مبارک مبارک نیا سال سب کونہ چاہا تھا ہم نے تو ہم سے جدا ہومگر کس نے روکا ہے بہتی ہوا کوجو ہم چاہتے ہیں وہ کیسے بھلا ہواے جاتے برس تجھ کو سونپا خدا کومبارک مبارک نیا سال سب کو
پھوٹ پڑیں مشرق سے کرنیںحال بنا ماضی کا فسانہگونجا مستقبل کا ترانہبھیجے ہیں احباب نے تحفےاٹے پڑے ہیں میز کے کونےدلہن بنی ہوئی ہیں راہیںجشن مناؤ سال نو کے
سال نو ہم خوب واقف ہیں ترے آغاز سےزخم دیرینہ ہرے ہوں گے نئے انداز سے
پڑھا کر اٹھے جیسے قاضی نکاحکسی نے چھوہاروں کی دے دی صلاحچھوہاروں کی تھالی لٹائی گئیشکر بھی مزے لے کے کھائی گئیکسی نے چھوہاروں سے ٹوپی بھریشکر بھی کہیں خوب پھانکی گئیمگر ایک صاحب کمند ہواکہیں کس سے اپنا عجب ماجرایہ ہر چند بچپن کے ہشیار تھےچھوہاروں کی لٹس پہ تیار تھےمگر بھیڑ میں ایسے کچھ یہ دبےکہ ہر پاؤں کے نیچے کچلے گئےپٹا پٹ چھوہارے برستے رہےمگر یہ بچارے ترستے رہےکوئی ناک پر کوئی سر پر لگامگر ان کے منہ تک نہ کوئی گیاشکر آنکھ اور کان میں گھس گئیبچارے کی پوری ہی درگت بنینتیجہ یہ سب جلد بازی کا تھاکہ ان کا مزہ کرکرا ہو گیا
اسے کیا فرق پڑتا ہےدسمبر بیت جانے سےیکم تاریخ آنے سےکسی بھی سال نو کے خیر مقدم پر خوشی کے شادیانے سےسرور و کیف و مستی میں محبت کے ترانے سےکلب اور ہوٹلوں میں وحشیانہ رقص پر سودائیوں کے تھرتھرانے سےاسے کیا فرق پڑتا ہےاسے تو ہر گزرتا سال اک جیسا ہی لگتا ہےوہ اک مزدور ہے جس کیمسلسل بھوک اور افلاس سے عرصے سے لمبی جنگ جاری ہےکہ جس کے سامنے ہر صبح پے در پے مشقت کے تقاضے ہیںکڑی محنت ریاضت جہد پیہم اس کا مسلک ہےاسے کیا فرق پڑتا ہےکلینڈر پر نئے ہندسوں کی اک تاریخ آنے سےدسمبر بیت جانے سےنیا اک سال آنے سے
گفتگو جو ہوتی ہے سال نو سے عنبر کیگرم ہونے لگتی ہیں سردیاں دسمبر کی
مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گےجو دانا ہیں وہ بیچیں گے جو ہیں ناداں خریدیں گےجو سیاں شوق سے کھائیں وہ سویاں خریدیں گےمرکب سود کا سودا بہ نقد جاں خریدیں گےمسلمانوں کے سر پر جب مہ شوال آتا ہےتو ان کی اقتصادیات میں بھونچال آتا ہےبہم دست و گریباں سیلز مین اور ان کے گاہک ہیںوہ غل برپا ہے جیسے نغمہ زن جوہڑ میں مینڈک ہیںمزاجاً روزہ دار شام بارود اور گندھک ہیںاور ان میں نظم اور ضبط اور روا داری یہاں تک ہیںکہ شدت بھوک کی اور پیاس کی ایسے مٹاتے ہیںبہ زعم روزہ ابنائے وطن کو کاٹ کھاتے ہیںجو مجھ ایسے ہیں رند ان کو بھی زعم پارسائی ہےاور اس مضمون کی اک دعوت افطار آئی ہےکہ اک چالیس سالہ طفل کی روزہ کشائی ہےفرشتے اس پہ حیراں دم بخود ساری خدائی ہےخداوند دوعالم سے وہ یہ بیوپار کرتے ہیںجو رکھا ہی نہیں روزہ اسے افطار کرتے ہیںمیاں بیوی چلے بازار کو بہر خریداریمٹھائی پھل سویاں عطر جوتے گوشت ترکاریجو شے بیوی نے لی وہ دوش پر شوہر کے دے ماریوہ بے چارہ تو خچر ہے برائے بار برداریبزور قرض دوکانوں پہ اتنا فضل باری ہےکہ اس گھمسان میں انسان پر انسان طاری ہےلیا بیوی نے شوہر کے لئے جوتا جو ارزاں ہےوہ امریکی مدد کی طرح اس کے سر پہ احساں ہےکہ اس سے فائدہ پہنچے گا اس کو جس کی دوکاں ہےاور اس شوہر کا جوتا خود اسی کے سر پہ رقصاں ہےیہ صورت دیکھ کر کہتے ہیں اکثر دل میں بن بیاہے''دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے''جو سلنے کو دیئے کپڑے وہ ہیں سب حبس بیجا میںکہ درزی چھپ گیا جب اطلس و کمخواب و دیبا میںتو ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانیں جھانکتا تھا میںفلک پر قیمتیں لٹکی ہوئی تھیں شاخ طوبیٰ میںمبارک ماہ کے اندر ہمیں سے نفع خوری ہےنہیں ہوتا ہے باطل جس سے روزہ یہ وہ چوری ہےیہ سویاں جو بل کھاتی ہوئی معدے میں جائیں گیسیاسی گتھیوں کو اور الجھانا سکھائیں گیہماری آنے والی نسل کے لیڈر بنائیں گیجو لیڈر بن چکے ہیں ایبڈو ان کو کرائیں گی''قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے''مہینے بھر کے روزوں بعد حق نے دن یہ دکھلایاعلی الاعلان کھایا دوستوں کے ساتھ جو پایایہ پہلے ڈر تھا ہم کو جھانک کر دیکھے نہ ہمسایہبجز خوف خدا دن میں بظاہر کچھ نہ تھا کھایاحسینوں مہ وشوں کو اب سر بازار دیکھیں گےگئے وہ دن کہ کہتے تھے پس از افطار دیکھیں گے
سمندر بولتا ہےسمندر اپنی پر اسرار موجوں کی زباں میں بولتا ہےسمندر کی صدائیں چیر دیتی ہیں شب تاریک کی چادرابل پڑتی ہیںتسلسل اور تواتر کے دوائر میں تھرکتی ہیںسروں کے دانے اک تسبیح بن جاتے ہیں ''لے'' کے نرم ہاتھوں میںجو اس آواز کے جادو کے بس میں ہوتے جاتے ہیںسمندر کا کنارا سلیٹ ہے جس پرامڈتی ڈوبتی لہریں بکھر کر چھوڑ جاتی ہیںسمندر چھین کے اقلیدسی خاکےعجب انداز کی تجریدی تصویریںموہن جوداڑو سے پہلے کے رسم الخط کی تحریریں
ساقی شراب دے کہ الیکشن ہے آج کلبرسیں گے ووٹ جس میں وہ ساون ہے آج کلجمہوریت کے پاؤں میں جھانجن ہے آج کلیہ ملک اس کے ناچ کا آنگن ہے آج کلسودا ہے لیڈری کا جو دل کو ستائے ہے''دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہےلو ہو گیا ہے اونٹ الیکشن کا بے نکیلاب لٹھ چلیں گے جلسوں میں آباد ہوں گے جیلپھر لیڈروں کی ہوگی اکھاڑوں میں ریل پیلووٹوں کی ہر دکان پہ ہوگی گرانڈ سیلووٹوں سے بڑھ کے اب کوئی ہتھیار بھی نہیں''لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں''زندہ ہے وہ کہ جس کا رجسٹر میں نام ہےاور زندگی شریفوں کے اوپر حرام ہےہیں جس کے پاس ووٹ مدارالمہام ہےلیلائے لیڈری کی وہ تھامے لگام ہےلیڈر کے منہ پہ شہر کے کوچوں کی گرد ہے''عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد ہے''وقت آ گیا ضمیر کی بیع و خرید کاامپورٹ کے لسنس کے وعدے وعید کادن ہے برادری و قبائل کی عید کاآپس میں گلہ بانوں کی گفت و شنید کامسلم کو بے شک ایسی مساوات چاہئے''عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہئے''دنگل کی کشتیوں میں ہر اک چیز ہے روایعنی ملے گی ملت عاصی کو ہر دوانغمے کا دور، دور مے و رقص کا مزاجس کو زبان کہہ نہ سکے اس سے بھی سوالکھا ہوا ہے قسمت امیدوار میں''اڑتی پھرے گی خاک تری کوئے یار میں''اہل بصیرت اب نہیں دیکھیں گے کھوٹ کوحاصل کریں گے لاکھ طریقوں سے ووٹ کوپانی ہی کی طرح سے بہائیں گے نوٹ کوروکیں گے زر کی ڈھال پہ دشمن کی چوٹ کوووٹر کو بخشا جائے گا بھاری مشاہرہپھر جیت کی خوشی میں کریں گے مشاعرہآئیں گے ووٹ دینے کو جب جاہلان قومان کو دکھائے جائیں گے پہلے نشان قومگینڈا نشان رکھے گا اک پہلوان قومہے اونٹ کوئی کوئی یکے از خران قومانسانیت کی قید سے سب ہو گئے بریان کا معالجہ ہو تو ہوگا ووٹرنری
او پاک نازنین او پھولوں کے گہنے والیسرسبز وادیوں کے دامن میں بہنے والیاو ناز آفریں او صدق و صفا کی دیویاو عفت مجسم پربت کی رہنے والیصل علیٰ یہ تیری موجوں کا گنگناناوحدت کا یہ ترانہ او چپ نہ رہنے والیحسن غیور تیرا ہے بے نیاز ہستیتو بحر معرفت ہے او پاکباز ہستی
آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیںآرزو راہبہ ہے عمر گزاری جس نےانہی محروم ازل راہبوں معبد کے نگہبانوں میںان مہ و سال یک آہنگ کے ایوانوں میںکیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاریروئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری
تماشا گہہ لالہ زارعروس جواں سال فردا حجابوں میں مستورگرسنہ نگہ زود کاروں سے رنجورمگر اب ہمارے نئے خواب کابوس ماضی نہیں ہیںہمارے نئے خواب ہیں آدم نو کے خوابجہان تگ و دو کے خوابجہان تگ و دو مدائن نہیںکاخ فغفور و کسریٰ نہیںیہ اس آدم نو کا ماویٰ نہیںنئی بستیاں اور نئے شہریارتماشا گہہ لالہ زار!
میرے اک سالے کی اک سسرال کا اک رشتہ داراپنی کوشش سے ملازم ہو گیا تھا ایک بارکیونکہ جو سب کا ہے اس کا بھی ہے وہ پروردگارخویش پرور حاکموں میں ہو گیا میرا شماراب عزیز آ جائیں ملنے کو تو گھبراتا ہوں میںڈھونڈتے پھرتے ہیں مجھ کو گھر میں کھو جاتا ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books