aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saje"
یہ سارے جگ میں تنہا ہےیہ بچہ کیسا بچہ ہے۲یہ صحرا کیسا صحرا ہےنا اس صحرا میں بادل ہےنا اس صحرا میں برکھا ہےنا اس صحرا میں بالی ہےنا اس صحرا میں خوشا ہےنا اس صحرا میں سبزہ ہےنا اس صحرا میں سایا ہے
سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئےپیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئےکوٹھوں کی ممٹیوں پہ حسیں بت کھڑے ہوئےسنسان ہیں مکان کہیں در کھلا نہیںکمرے سجے ہوئے ہیں مگر راستہ نہیںویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیںآواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں
جیسے دریا کنارےکوئی تشنہ لبآج میرے خدامیں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوںمیرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سبمیرے آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئےمیرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھےجو فقط لوح جاں پر لکھے رہ گئے
بہت دنوں سےوہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہےکہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھےبہت دنوں سےوہ گرد احساس چھٹ چکی ہےکہ جس کے ذروں پہ تم نےپلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھےاور اب تو یوں ہے کہ جیسےلب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہطویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے رہا ہےاور اب تو یوں ہے کہ جیسے تم نےپہاڑ راتوں کومیری اندھی اجاڑ آنکھوں میںریزہ ریزہ بسا دیا ہےکہ جیسے میں نےفگار دل کا ہنر اثاثہکہیں چھپا کر بھلا دیا ہےاور اب تو یوں ہے کہاپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کرمرے بدن پر سجے ہوئے آبلوں سے بہتا لہو نہ دیکھومجھے کبھی سرخ رو نہ دیکھونہ میری یادوں کے جلتے بجھتے نشاں کریدونہ میرے مقتل کی خاک دیکھواور اب تو یوں ہے کہاپنی آنکھوں کے خواباپنے دریدہ دامن کے چاک دیکھوکہ گرد احساس چھٹ چکی ہےکہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
سو اب ہمجو صدیوں کی لمبی مسافت سے لوٹے ہیںتو اپنے رنجور کوزوں میں جھوجھا ہوا ہےیہ تیرا قصور اور نہ میری خطا ہےکوئی کوزہ گر تو ہمارا بھی ہوگاسو یہ اس کی حکمتکہ اس نے ہمیں چاک پر ڈھالتے وقتلمحوں کا پھیر اس نزاکت سے رکھاکہ ہم اپنی اپنی جگہ صرف ششدر کھڑے تھےکئی دست چابک کے بے جان پتلےمرے اور ترے درمیاں سج گئے تھےسو یہ اس کی حکمتمگر وقت اس درجہ سفاک کیوں ہےیہ مشاطہ زندگی اتنی چالاک کیوں ہےمرے اور ترے درمیاں نو برس جس نے لا کر بچھائےیہ نو سال کس طور میں نے بتائےکہ ساحل سے کشتی تک آتے ہوئےجیسے تختے کے ہم راہ دل ڈگمگائےوہی نو برس جو مرے اور ترے درمیاںوقت کی کرچیاں ہیںزمانہ بھی کیسی عجب کہکشاں ہےیہ دنیائے سیارگاں ہے کہ جس میں ہزاروں کواکبمسلسل کسی چاک پر گھومتے ہیںیہ اجسام کے گرد اجسام کا رقص ہی زندگی ہے مری جاںمری جان تو چاک کے ساتھ مٹی کے رشتے کو پہچانتا تھاحسن تو نے مٹی کے بے جان پتلوں سےتخلیق کے جاں گسل مرحلوں میںسدا گفتگو سو طرح گفتگو کیذہانت کے پتلے محبت کے خالق فقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیب میں واہمہ کیسے آیاحسن تو وہاں جھونپڑے میںاکیلا گلے مل کے رویا تھا کس سےلبیب اور تو اور میں اور حقیقت میں کوئی نہیں تھاطرح واہمہ میرے لب میرے گیسو سے لپٹا رہا تھالبیب ایک سایا جسے تو نے روگ اپنی جاں کا بنایایہ سایا کہیں گر حقیقت بھی ہوتاتو آخر کو تو اس حقیقت سے کیوں بے خبر تھاکہ ہر جسم کے ساتھ اک آفتاب اور مہتاب لازمیہ تثلیث قائم ہے قائم رہے گی
سجے تو کیسے سجے قتل عام کا میلہکسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلامرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہےچراغ ہو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرےنہ اس سے آگ ہی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھےمرے فگار بدن میں لہو ہی کتنا ہےمگر وہ زہر ہلاہل بھرا ہے نس نس میںجسے بھی چھیدو ہر اک بوند قہر افعی ہےہر اک کشید ہے صدیوں کے درد و حسرت کیہر اک میں مہر بلب غیظ و غم کی گرمی ہےحذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہےحذر کرو کہ مرا تن وہ چوب صحرا ہےجسے جلاؤ تو صحن چمن میں دہکیں گےبجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببولاسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گیبجائے مشک صبا میری جان زار کی دھولحذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے
اک بوڑھا بستر مرگ پہ ہےبیمار بدن لاچار بدنسانسیں بھی کچھ بوجھل سی ہیںاور آنکھیں بھی جل تھل سی ہیںایسا بھی نہیں تنہا ہے وہپانی ہے مگر پیاسا ہے وہگھر میں بہوویں بیٹے بھی ہیںہیں پوتیاں بھی پوتے بھی ہیںلیکن کوئی پاس نہیں آتاسب جھانکتے ہیں چلے جاتے ہیںجیسے یہ اس کا گھر ہی نہیںجیسے وہ سب بیگانے ہیںجس بہو کا نمبر ہوتا ہےکھانے کے نوالے ٹھونس کے وہفرض اپنا مکمل کرتی ہےپھر وقت پہ کوئی اک بیٹاوہ جس کو تھوڑی فرصت ہوپہلے تو آ کر ڈانٹتا ہےدیتا ہے دوائی پھر ایسےجیسے احسان کرے کوئیجیسے اپمان کرے کوئیہر دن یہ بوڑھا سوچتا ہےکوئی بات نئی ہو آج کے دنکوئی دو میٹھے الفاظ کہےکبھی محفل اس کے پاس سجےکبھی ہنسنے کی کوئی بات چلےمگر ایسا پچھلے برسوں میںکبھی ہو پایا نہیں ہو پایااپنے اس بیگانے پن پراپنے اس ویرانے پن پریہ بوڑھا انکشاف رہتا ہےیہ بوڑھا روتا رہتا ہےاک بوڑھا بستر مرگ پہ ہے
ہے اسٹ دیوتاؤ کے مندر سجے ہوئےہیں زرد زرد پھولوں سے کل در سجے ہوئے
دیوالی کے دیپ جلے ہیںیار سے ملنے یار چلے ہیںچاروں جانب دھوم دھڑاکاچھوٹے راکٹ اور پٹاخہگھر میں پھلجھڑیاں چھوٹےمن ہی من میں لڈو پھوٹےدیپ جلے ہیں گھر آنگن میںاجیارا ہو جائے من میںاپنوں کی تو بات الگ ہےآج تو سارے غیر بھلے ہیںدیوالی کے دیپ جلے ہیںرام کی جے جے کار ہوئی ہےراون کی جو ہار ہوئی ہےسچے کا ہر بول ہے بالاجھوٹے کا منہ ہوگا کالاسچائی کا ڈنکا باجےسچ کے سر پر صحرا ساجےجھوٹ کی لنکا خاک بنا کےرام اجودھیا لوٹ چلے ہیںدیوالی کے دیپ جلے ہیںہندو مسلم سکھ عیسائیمل کر کھائیں یار مٹھائیبھول کے شکوے اور گلے سبہنستے گاتے آج ملے سبکہنے کو ہر دھرم جدا ہےلیکن سب کا ایک خدا ہےاک ماٹی کے پتلے حیدرؔاس سانچے میں خوب ڈھلے ہیںدیوالی کے دیپ جلے ہیں
میں اس دنیا کے میلے میںکھلونوں کہ دکانوں پر سجے ایک اک کھلونے کو بڑی حسرت سے تکتا جا رہا ہوںاس اک بچے کی صورت جس کو یہ معلوم تک ہوتا نہیں وہ کھو گیا ہےوہ جن کے ساتھ آیا تھا وہ اس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیںلیکن وہ تو اس میلے میں چلتا جا رہا ہےبنا سوچے کہ اس کے چلتے جانے کا بھلا انجام کیا ہوگابنا جانے کہ جب ڈھل جائے گا دن اور ہوگی شامکیا ہوگا
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہےمیں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوںمیز پر اپنی ساری دنیاکاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیںساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیںدل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیںان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہےمجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہےمجھ کو اس راحت میں صادق پا کرسارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیںایک اگر میں سچا ہوتامیری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیںان کی جگہ بے ترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتےمیرے جسم کے ٹکڑے کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے
مشرقی یوپی کرفیو میںیہ دھرتی کتنی سندر ہےیہ سندر اور دکھی دھرتییہ دھانی آنچل پورب کاتیز رفتار ریل کے ساتھہوا میں اڑتا جاتا ہےپڑا جھل مل لہراتا ہےدور تک ہرے کھیت کھلیانیہ دھرتی عورت کوئی کسانسنبھالے سر پر بھاری بوجھچلی ہے کھیت سے گھر کی اوروہی گھر جس کی چھت پر آجکرودھ کا گدھ منڈراتا ہےجھپٹ کر پر پھیلاتا ہےاوس سے گیلا ہے سبزہکہ گیلے ہیں میرے دو نینپڑے ماٹی پتھر کے ڈھیروہی مسجد مندر کے پھیرتنے لوگوں کے تیور دیکھاسی دھرتی پر سویا پوتجاگ کر تمہیں مناتا ہےکبیراؔ کچھ سمجھاتا ہےجہاں ہوں نفرت کے گھمساننہیں رہتے اس جا بھگواننہیں کرتا ہے نظر رحیمنہیں کرتے ہیں پھیرا رامتمہاری منت کرتا ہےخاک پر سیس جھکاتا ہےکبیراؔ کچھ سمجھاتا ہےاسی سرجو ندیا کے پارکمل کنجوں پر جہاں بہارکھڑے ہیں ہرے بانس کے جھنڈگڑا ہے گوتم کا سندیشکھلے ہیں جہاں بسنتی پھولکھدا ہے پتھر پر اپدیشاڑے جب دو فرقوں کی آنتلے ہوں دے دینے پر جانہے اصلی جیت کی بس یہ ریتکہ دونوں جائیں برابر جیتنتیجہ خیز یہی انجامنہ سمجھو ورنہ جنگ تمامہوئی جس یدھ میں اک کی ہاروہ ہوتا رہے گا بارم بارنہ دونوں جب تک مٹ جائیںنہ دونوں جائیں برابر ہاریہی ٹکراؤ کا ہے قانونیہی گوتم کا اتم گیانکہ جس کے آگے ایک جہانادب سے سیس جھکاتا ہےتمہی تو وارث تھے اس کےتمہیں کیوں بسرا جاتا ہےسجے رہنما کے سر دستارپڑیں پانڈوں کے گلے میں ہارجلے ہیں جن کے چولھے روزبھرے ہیں جن کے سدا بھنڈارارے تو مورکھ کیوں ہر بارجان کر دھوکا کھاتا ہےلہو میں آپ نہاتا ہے
جہاں سے خواب آنکھوں میں جگے تھےجہاں سے پھول جوڑے میں سجے تھے
دسمبر کا مہینہ اور دلی کی سردیستاروں کی جھلملاتی جھرمٹ سے پرےآسمان کے ایک سنسان گوشے میںپونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاند جیسےبادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولےہولے ہولےتنہا مسافراور دور تک کہرے کی چادر میں لپٹیبل کھاتی سڑکیںدھند کی غبار میں کھویا ہوا انڈیا گیٹٹھنڈ میں ٹھوکریں کھاتا مسافرخوش نصیب ہےبادلوں میں گھس جاتا ہے چاندمیری کرسمس کی رونقیں پھیلی ہیں تمامستاروں سے روشن سجے دھجے بازارلذیذ کھانوں کی خوشبوئیں جہاں پھیلی ہیں ہر سوبازار کی گرم فضاؤں میںمے کی سرمستی میں ڈوبا ہوا ہے پورے شہر کا شبابتنہا مسافر کیچند روزہ مسافت بھی کیا شے ہے یارو!ہم وطنوں سے دوراپنوں سے دورجمنا تٹ پر جیسے بن مانجھی کے ناؤبوٹ کلب کے سرد پانی میں جیسےتیرتا رکتا ہوا کوئی تنہا حبابتنہا مسافر سوچتا ہےکوئی ہے جس کا وہ ہاتھ تھام لے ہولے ہولےکوئی ہے جو اس کے ساتھ کچھ دور چلے ہولے ہولےدھند میں کھوئی ہوئی منزلیںطویل سڑکیںاور تنہا مسافرجیسے پونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاندبادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولےہولے ہولے
آؤ لان میں بیٹھیںشام کا سورج دیکھیںزرد خزاں کی سرگم سےجی کو بہلائیںجنگل کو اک گیت سنائیںسرخ سنہرےپیڑ سے گرتےدرد کے پتےہاتھ میں لے کران کی ریکھاؤں کو دیکھیںپتوں کو چٹکی میں گھمائیںاپنے اپنے ہاتھ کی دونوں پڑھیں لکیریںاک دوجے کی آنکھوں کی گہرائی میں اتریںپھول سجے ہیں جو گلدان میں میز کے اوپران کو چومیںدودھ کے جیسے اجلے کپوں میںکیتلی سے تم چائے انڈیلوبنا شکر اور بنا دودھ کی چائے سنہریاچھی لگتی ہے جب پیار کی بات کریںماضی کے قصے دہرائیںہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آ جائیںان باتوں سے چائے میٹھی ہو جاتی ہےآؤ لان میں بیٹھیںچینی چائے پئیں ہم
ریستوراں میں سجے ہوئے ہیں کیسے کیسے چہرےقبروں کے کتبوں پر جیسے مسلے مسلے سہرے
ہر سال جگمگاتی ہے چھبیس جنوریہر سمت مسکراتی ہے چھبیس جنوریسب کے دلوں کو بھاتی ہے چھبیس جنوریشان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوریجنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوریہیں بام و در پہ آج ترنگے لگے ہوئےپھولوں سے چار سمت ہیں رستے سجے ہوئےہر سو عمارتوں پہ ہیں دیپک جلے ہوئےشان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوریجنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوریآئین اپنا آج کے دن ہی شروع ہواجنتا کو ووٹ دینے کا حق آج ہی ملاجمہوریت کے نام کا ڈنکا ہی بج گیاشان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوریجنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوریفوجی قطار باندھ کے آتے ہیں راہ میںسامان جنگ ساتھ ہی لاتے ہیں راہ میںکرتب بہادری کے دکھاتے ہیں راہ میںشان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوریجنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوریدلی میں سارے ہند سے آتی ہیں جھانکیاںمنظر ریاستوں کے دکھاتی ہیں جھانکیاںآپس میں اتحاد بڑھاتی ہیں جھانکیاںشان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوریجنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوری
رات سناٹا در و بام کے ہونٹوں پہ سکوتراہیں چپ چاپ ہیں پتھر کے بتوں کی مانندروشنی طاقتوں میں السائی ہوئی بیٹھی ہےنیند آنکھوں کے دریچوں سے لگی بیٹھی ہےدن کے ہنگاموں کی رونق کو بجھے دیر ہوئیچاند کو نکلے ستاروں کو سجے دیر ہوئی
گل دانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نےرات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچاسارے رنگ اور ساری خوشبو انگ انگمیں بسی ہوئی ہےساری دنیا نئی ہوئی ہےپر مجھ کو ان سب رنگوں اور خوشبوؤں سے ڈر لگتا ہےجن کا مقدر تنہائی ہویا پھر ایسی رسوائی ہو جس کی آگ میں برس برس کےسجے ہوئے منظر جل جائیںگھر جل جائیں
آئی دوالی آئی دوالی گیت خوشی کے گاؤاندھیارے کو دور کرو تم گھر گھر دیپ جلاؤسیتا رام کی راہوں کو اب پھولوں سے مہکاؤچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامبازاروں میں لگا ہوا ہے دیوالی کا میلہکوئی خریدے برتن بھانڈے کوئی شال دوشالاکوئی خریدے آتش بازی کوئی گلوں کی مالاچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامدلہن کی مانند سجے ہیں مندر اور شوالےپوجا کا سامان سجائے آئے ہیں متوالےدیا دھرم کا دان کریں گے آج یہاں دل والےچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامہر مذہب ہر دھرم کے بندے گلے ملن کو آئیںذات پات کے مت بھیدوں کو دل سے آج مٹائیںایک ہیں سارے بھارت واسی دنیا کو دکھلائیںچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books