aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sar-e-aam"
من بھی سوناآنگن بھی سوناآنگن سوناسونا سب سنسار پڑاسونی اب یہ سیج پڑی ہےکب تو آ کر پریم براجےاندھیارے نینن میں چھائےدوارے دوارے ڈھونڈھ کے آئےپھر بھی تیرا ٹھور نہ جاناکٹھن بڑا ہے تجھ کو پانا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
شدت درد و الم سے جب بھی گھبراتا ہوں میںتیرے نغموں کی گھنی چھاؤں میں آ جاتا ہوں میںزندگی کا آئنہ یہ ہے ترے فن کا کمالہے ادھر حد فلک تک تیری پرواز خیالچل گیا سارے دلوں پر تیرا سحر سامریجاوداں اے امرتا پریتم ہے تیری شاعریشدت احساس ہو تو خود سنور جاتا ہے فنروشنی ہوتی ہے کل دنیا میں جب جلتا ہے منسرپھرے کچھ اہل فن مارے ہوئے تقدیر کےیوں ہی بے سمجھی میں ہیں دشمن تری تحریر کےدشمنوں کے وار سے ڈرتی نہ گھبراتی ہے تولوگ پتھر پھینکتے ہیں پھول برساتی ہے توتیرے فن کے معترف ہوں گے وہ وقت آنے کو ہےپھول تیرے فن کا ہر گلشن کو مہکانے کو ہے
جی میں آتی ہے کہ کمرے میں بلا لیں اس کوچاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکارات اس کو بھی نگل جائے گی بولو بولوبام پر اور نہ آئے گا کسی کا چہرا
گم شدہ خواب شب رفتہ کے روشن مہتابآج کی رات سر بام اتر آئے ہیںگم شدہ چہرے مرے ماضی کے زریں اوراقایک اک کر کے سر عام کھلے جاتے ہیں
یوم آزادی نے یوں چھڑکا فضاؤں میں گلالگلستاں سے بھینی بھینی خوشبوئیں آنے لگیںتتلیاں اپنے پروں پر پا کے قابو ہر طرفصحن گلشن کی روش پر رقص فرمانے لگیں
ہر اک کھیلنے والے کی بس اک ہی تمنا ہےاسی کیرم کے کونوں میں جو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیںانہیں آباد کرنا ہے کنیزوں سے اور رانی سےکھلاڑی چال چلتا ہے اسٹرایکر کی مدد سےآمد و رفت ان کنیزوں کیلگی رہتی ہے کمروں میںکہیں گوری کہیں کالی کبھی رانیعجب ہے کھیل کیرم کا
چاند نکلا ہے داغوں کی مشعل لیےدور گرجا کے میناروں کی اوٹ سےآ مری جان آ ایک سے دو بھلےآج پھیرے کریں کوچۂ یار کےاور ہے کون درد آشنا باورے!ایک میں شہر میں، ایک تو شہر میں
اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاآخر اس پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہوموت ملی یا لیلیٰ پائی؟ دیوانے کا مآل کہوعقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایااس کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیاخیر اب اس کی بات کو چھوڑو دیوانا پھر دیواناجاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسا لے جانا
یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیااک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیاپھر چاند ہمیں کسی رات کی گود میں ڈال گیا
میں اپنی عدالت میں مجرم کھڑی ہوںمجھے میرے جذبوں مری خواہشوں نےگرفتار کر کےسر عام ذلت سے دو چار کر کےیہ دعویٰ کیا ہے انہیں قید رکھااور اکثر انہیں حبس بے جا میں رکھ کرزد و کوب کر کےانہیں مار دینے کی حد تک اذیت بھی دی ہےمیں اپنی عدالت میں مجرم کھڑی ہوں
انقلابات ہونے والے ہیںانتخابات ہونے والے ہیںجیسے حالات تھے کبھی پہلےویسے حالات ہونے والے ہیںبھائی بھائی میں باپ بیٹے میںاختلافات ہونے والے ہیںزیر دستوں کے زور دستوں سےایک دو ہات ہونے والے ہیںبر سر عام راز کھلتے ہیںانکشافات ہونے والے ہیںجلسہ گاہوں میں ماہ پاروں میںاتفاقات ہونے والے ہیںپھر مچلتا ہے دل کہ سچ کہہ دیںپھر حوالات ہونے والے ہیں
رات نہائی ہوئی کبوتری کی طرح میری کھڑکی میں آ بیٹھتی ہےاور دیتے سے باتیں کرنے لگتی ہےمیں منافقت کو چیر کر پار نکل جانا چاہتی ہوںرات جو مقتولوں کے خون کو سیاہ اور سرد کر دیتی ہےاور قاتلوں کو پناہ دیتی ہےرات جو قاتلوں کو پناہ دیتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ دھو لیںدن جو سلامتی پر لعنت بھیجتا ہے طلوع ہوتا ہےاور رنگے ہوئے ہاتھوں کو پکڑ لیتا ہےاور ان کے چہروں کو ننگا کر دیتا ہے جن کی آنکھوں میںمرنے والوں کی شبیہیں جم گئیں ہوتی ہیںتاکہ ہونے والے مقتول ان کا بدلہ لے سکیںدن جو رات کو چاک کر کے طلوع ہوتا ہےسر عام انہیں پھانسی کا اعلان کرتا ہےسر عام اپنی سزا کا اعلان سنتا ہےدن جس کو بچوں نے لباس کیااور سورج کھیل گئے
سال نو سال امن کہلائےکاش یہ سال ہم کو راس آئے
تو نے اک بار کہا تھا مجھے تنہائی میںپیار دولت کا پرستار نہیں ہو سکتازندگی حرص کے پہلو میں نہیں سو سکتیجسم رسوا سر بازار نہیں ہو سکتاولولے روح کے نیلام نہیں ہو سکتےحسن ذلت کا پرستار نہیں ہو سکتامصلحت آج مگر جیت چکی ہے تجھ کوکوئی کس منہ سے کہے مونس و غم خوار تجھےکوئی کس دل سے کہے پیار کی رانی تجھ کوکوئی کس طرح کہے پیکر ایثار تجھےتو نے بیچی ہے سر عام جوانی اپنیگدگداتی ہے زر و سیم کی جھنکار تجھے
حقصداقتاور حسنیہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئےمٹی کے اندر دبے ہوئےفاسلس ہیںآؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کرتجربہ گاہوں میں لے چلےاور ہو سکے تو ڈی این اے سےان کی از سر نو تشکیل کریں
نمک پر مصیبت مسالوں پہ آفتقیامت ہے ایندھن پہ دالوں پہ آفتبڑا گوشت مہنگا پیالوں پہ آفتگرانی ہوئی جینے والوں پہ آفتبچا ہے تو آفت سے بنیا بچا ہےسر عام سب کی گرہ کاٹتا ہے
خیال آبرواب کیا خیال آبروبھیڑ میں آن بیٹھےاب کیا سوال دید اور کیسا حجاببس جنابجاتی ہوا سے کس لیے سر کی ردا بچایئےدیکھیے مسکرائی ہےایک نگاہ اشتیاقہوش میں آئیے حضورآپ بھی مسکرائیےدیکھ کے یاں برہنہ سرکون ہے جو ملول ہوحیف ہے اب بھی شعر کیداد نہ گر وصول ہوچھوڑ بھی دیجئے عبیرؔکاہے کی پردہ داریاںشہر سے اٹھ گئیں حضورپہلی سی وضع داریاںآپ بھی تو بدل گئیںجی معذرت قبول ہوکوئی نہ ساتھ روئے گاکیوں سر عام روئیےشعر کی آبرو گئیکیوں نہ مدام روئیےاچھی لگی تماش گاہدیکھیے خط اٹھائیےروئیےروئے جائیےاب کیا خیال آبروبھیڑ میں آن بیٹھیے
تم سر شاخ سمن باغ میں آیا نہ کروباغ میں منچلے بھنورے بھی اڑا کرتے ہیںوہ ہدف تم کو بنا لیں گے تو پھر کیا ہوگا
سنو کل تمہیں ہم نے مدراس کیفے میںاوباش لوگوں کے ہم راہ دیکھاوہ سب لڑکیاں بد چلن تھیں جنہیں تمسلیقے سے کافی کے کپ دے رہے تھےبہت فحش اور مبتذل ناچ تھا وہکہ جس کے ریکارڈوں کی گھٹیا دھنوں پرتھرکتی مچلتی ہوئی لڑکیوں نےتمہیں اپنی باہوں کی جنت میں رکھابہت دکھ ہواتم نے ہوٹل میں کمرہ کرائے پہ لے کران اوباش لوگوں اور ان لڑکیوں کے ہجوم طرب میںگئی رت تک جشن صہبا منایابہت دکھ ہوا خاندانی شرافتبزرگوں کی بانکی سجیلی وجاہت کوتم نے سر عام یوں روند ڈالاسلیقہ جو ہوتا تمہیں لغزشوں کاتو اپنے بزرگوں کی مانند تم بھیگھروں میں کنیزوں سے پہلو سجاتےپئے عشرت دل حویلی میں ہر شبکبھی رقص ہوتا کبھی جام چلتےکسی ماہ رخ پر دل و جاں لٹاتےسلیقہ جو ہوتا تمہیں لغزشوں کاتو یوں خاندانی شرافت وجاہتنہ مٹی میں ملتی نہ بدنام ہوتی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books