aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarhade.n"
کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرحایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دلکس پہ شک کرتے ہو جتنے بھی مسافر ہیں یہاںایک ہی سب کا قبیلہ وہی پیکر وہی گل
اگر میں یہ نظم نہ لکھتاتو محبت ناراض ہو جاتیاور کہتی کہ میں تمہارے ساتھسڑک پار نہیں کروں گیچائے نہیں پیوں گی اور دفتر میںکام نہیں کروں گیمحبت کی ناراضگیکسی جنگ میں ہونے والےنقصان سے زیادہ شدید ہوتی ہےوہ اور بھی کچھ کہتیجو مجھے سنائی نہ دیتااور میں اس کے نام ایک خط لکھتااگر میں وہ خط نہ لکھتا تو میرے دوست ناراض ہو جاتےاور کہتے ہم اتوار کے دن تمہارے ساتھکرکٹ نہیں کھلیں گےاور ان میں سے ایکریلوے لائن پار کرتے ہوئے خودکشی کر لیتااور ہمارے لائے ہوئے پھولاپنی قبر پہ رکھنے سے انکار کر دیتااگر میں خط نہ لکھتااگر میں نظم نہ لکھتاتو زندگی اپنا ذائقہ کس زبان پہ محسوس کرتیخواب کس رسم الخط میں لکھے جاتےموت کے راستے میںبچھائی جانے والی بارودی سرنگکون سی سر زمین پہ تیار ہوتیپناہ دینے کے لیےہمیشہ کس ملک کی سرحدیں کھلی رہتیںدھماکے سے پھٹ جانے کے لیےہر بار کون سا دل آگے بڑھتا
آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہپپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہےہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تکاکیلا ہی چلتا ہے سورجاداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطربلاتا ہے لیکننگاہیں ملانے کا ہر حوصلہہر بدن میںفقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہےاب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے رکا ہےبس اب بلبلوں کے ترنم میں بھینوحۂ زندگی کے ستم خیز طوفان ہیںاب فقط میرے اپنے چہیتوں کی لاشوں کے انبار ہیںاب تو خر بھی یہاں ہنہناتے نہیںجنگ بندی نہیں سرحدیں بھی نہیںاے مری مجھ سے روٹھی ہوئیمیرے پدما کی اے زندہ تر سر زمیںمیری آنکھوں ترے آسمانوںتری اور مری سرحدوں کے وہ سب فاصلےجو مگر قربتوں کے سوا کچھ نہ تھےآج کیوں آنکھ میں اشک بن کے رکے ہیںبھلا کیوں مجھےتیری قربت کے سایوں کو دھندلاھٹوں میں بدلتے ہوئےدیکھنے کے لئے زندہ رہنا پڑا ہے
اگر تمہیں کاری کہہ کر قتل کر دیںمر جانا پیار ضرور کرناشرافت کے شو کیس میںنقاب ڈال کر مت بیٹھنا پیار ضرور کرناپیاسی خواہشوں کے ریگزار میںببول بن کر مت رہنا پیار ضرور کرنااگر کسی کی یاد ہولے ہولےتمہارے دل میں آتی ہےتو مسکرا دینا پیار ضرور کرناوہ کیا کریں گے بس سنگسار ہی تو کریں گے تم کوتم اپنے جیون پل کا لطف اٹھانا پیار ضرور کرناتمہارے پیار کو گناہ بھی کہا جائے گاتو کیا ہوا سہا جاناپیار ضرور کرناپیار کی سرحدیں
وہ دن بھی کیسے دن تھےجب تیری پلکوں کے سائےشام کی گہری اداسی بن کےمری روح میں جادو جگاتے تھےمری آنکھوں میں نیندیںتیرے بالوں کی طرح ایسے سبک سے جال بنتی تھیںکہ جو حلقہ بہ حلقہ خواب اندر خوابانجانے زمانوں کی گریزاں ساعتوں پرابر کی صورت برستے تھےبدلتے موسموں کی طرح تیرے جسم پر عالم گزرتے تھےمری جاں تو بہار جاوداں کا ایک موسم تھیجو میری روح میں آیامجھے کیوں یاد آتے ہیںوہ دنجواب نہ آئیں گےنہ آئیں گے تو پھر کیوں یاد آتے ہیںوہ دن بھی کیسے دن تھےجب میری بیداریوں کی سرحدیں خوابوں سے ملتی تھیںوہ باتیں جو کہ نا ممکن ہیں ممکن تھیںجہاں بس سوچ لینا اور ہو جانا برابر تھاتجھے کیا یاد ہے وہ دنکہ جب حرف شکایت کی گرہ سی پڑ گئی تھیمیرے سینے میںمیری آزردگی سے شام کے چہرے پہ زردی تھیمیں تیرے پاس بیٹھا سوچتا تھاجانے کیا کیا سوچتا تھاتجھے کیا یاد ہےتو نے کہا تھامیں دل کی بات اگر اس سے بھیکہہ سکتی تو کہہ دیتیکہ میرے جسم میں دو دل دھڑکتے ہیںتمہارے واسطے بھیجو دشمن جاں ہے
یہ سرحدیں.... پڑوسنیںکبھی ہنسی خوشی رہیںکبھی ذرا سی بات ہو تو لڑ پڑیںنہ آنگنوں میں ایک ساتھ رقص ہونہ بام پر ہی باہمی قدم پڑےگلی میں کوئی کھیل ہونہ تال ہو، نہ میل ہوکشیدگی کے نام پر گھٹن کی ریل پیل ہویہ سرحدیں.... پڑوسنیںپڑوسنوں سے کیا کہیںجہاں میں رنجشوں کے سب گلیشئر پگھل گئےمگر یہاں کدورتوں کی برف ہے جمی ہوئی
میں پردہ گرانے لگا ہوںپلک سے پلک کوملانے لگا ہوںزمانہ مرے خوابوں میں آ کےرونے لگا ہےمیں اونٹوں کو لے آؤںآخر کہاں جا کے چرنے لگے ہیںجہاں پرپرندے پروں کو نہیں کھولتے ہیںجہاں سرحدیں ہیں فلک جیسی قائموہاں پاؤں دھرنے لگے ہیںمیں اونٹوں کو لے آؤں واپس
اک روز اپنے آپ کو میں نےخلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھاتو وحشت میں پلٹ آیاکہیں پر دور اک نقطہ سا روشن تھااور اس نقطے میں اک ذرہ نظر آیازمیں کہیے زماں کہیے کہ اپنا آسماں کہیےسبھی کچھ اس میں گم پایاوہی ذرہکہ جس کی وسعتوں کو بانٹ کر ہم نےکئی خطے بنا ڈالےاور ان خطوں میں ہم نے سرحدیں بھی خوب کھینچی ہیںسو اک سرحد کے اندر بھی کئی ٹکڑے نظر آئےکہ جن ٹکڑوں کے ٹکڑوں میں کہیں اک شہر بستا ہےکہ جس کے ایک ٹکڑے میں پرانا اک محلہ ہےسو اس کے ایک حصے میں کوئی چھوٹا سا گھر ہوگااور اس گھر کے کسی کمرے کے کونے میںکوئی اپنی حقیقت لکھ رہا ہوگا
کوئی تو ہو اس جہاں میں ایساکہ جس کے بس میں ہو ساری دنیاکی سرحدوں کی سبھی لکیریںجہاں کے نقشے سے ایک پل میںکسی جتن سے مٹا کے رکھ دےیہ آہنی خار دار تاریںزمین کے ساتھ دل کے رشتے بھی بانٹتی ہیںکئی دلوں میں طویل عرصے سے چبھ رہی ہیںکوئی تو ان کو اکھاڑ پھینکےکوئی تو ہو جو تمام دنیاکو ایک خطے کی شکل دے دےاگر کوئی معجزہ دکھا دےتو سارے انسان جب بھی چاہیںپھر اپنے پیاروں سے مل سکیں گےبغیر ویزا کی بندشوں کےسہولتوں سے مسرتوں سےپھر اس کے بدلے اگر وہ مجھ سےمری متاع حیات مانگےتو ایک پل کو بھی میں نہ سوچوںخوشی خوشی اس کو دان کر دوں
زمیں کی تنگیوں کو اپنی بخشش سے کشادہ کرکہ سجدہ کر سکوںیہ کیا کہ میرے حوصلوں میں رفعتیں ہیںاور گرتا جا رہا ہوں اپنی فطرت کے نشیبوں میںتری کوتاہیاں میری انا کی سرحدیں ہیںکیا یہ دیواریںسدا اٹھتی رہیں گی میرے سینے پربتا یہ رنگیں یہ دوریاں پیدا ہوئی ہیںکس کی دانش سےبتا میرے لہو میں ڈوبتے جاتے ہیں کیوںانجیر و زیتوں کے گیاہستاںمجھے بھائی میرے نیلام کرنے جا رہے ہیںتک رہا ہے تو مجھے معذور آنکھوں کی سفیدی سےیہ کیسا شہر ہےجس کی ثقافت کی مچانوں سےمجھے مارا گیا ہے اور میں شوکیس میںلٹکا ہوا ہوںمیرا منظر دیکھنے والےلکھی سطروں کی کالی ڈوریوں پر ناچتے آتے ہیںخود اپنے تماشائیبتا بڑھتی ہوئی آبادیوں میںچاندنی کیوں گھٹ گئی ہےلبریز پلکیں جھپکتے قمقمے آنکھوں کا بھینگا پننئے چڑھتے دنوں کی سرخیاں ہیں کیاخداوندمجھے طائر شجر پربت بنا دےیا مجھے ڈھا دےکہ دوبارہ جنم لوں اپنی بے مشروط آزادی کی خواہش سے
ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میںگھروں کے سپنے ہیں نامکملابھی تو رستے طویل ہیںراہ میں گڈھے ہیںابھی تو جنگیں ہیںسرحدیں ہیںمہاجرت ہےابھی تو ذاتوں کا دیوتا مسکرا رہا ہےابھی شکستیں ہیں چار جانبابھی محبت برہنہ پا ہےابھی ہے شہر بتاں کا مرکزبہت سا ریشمبہت سی چاندیبہت سا سوناابھی تو انسان تل رہا ہےابھی ہوائیں جلا وطن ہیںابھی ہے خوشبو گریز پاکہر ہے دھواں ہےابھی سرنگیں ہیں لمبی لمبیاور ان سرنگوں کے پار کیا ہےکسے پتا ہےکہ اب وہ آنکھیں نہیں رہیں جن میں روشنی تھی
بڑی حیران کن ہےحقیقت خواب ہے یا خواب سے آگے کی منزلیہ دنیا خواب کی دنیا پہ سبقت لے گئی ہےفسانوں سے فزوں تر زندگی ہےگماں کی سرحدیں ہوں یا تخیل کی اڑانیںخرد کی جست سے پیچھے کہیں پیچھے دکھائی دے رہی ہیںخرد کی دسترس میں کیا نہیں ہےنہیں ہے غیر ممکنکبھی امکان سے جو ماورا تھافقط اک داستاں ہےگئے وقتوں میں جو رائج اساطیری خدا تھادر ایجاد کی چوکھٹ پہ حیرت سرنگوں ہےیہ سب ادراک کا دست جنوں ہےپس ادراک جلوہ آفریں ہے عقل کی جادو نگاہیشعور عصر حاضر میں سمٹتی ہے خدائیسماعت کا یہ عالم ہے جو گم گشتہ صدائیں تھی سنائی دے رہی ہیںبصارت اس بلا کی ہے کہ ذرے میں بھی دنیائیں دکھائی دے رہی ہیںجہان آگہی کے راستوں پر چلتے چلتےستاروں کو سر امکاں تلک اب لا چکے ہیںنئی دنیاؤں کے ہم بھید کیا کیا پا چکے ہیںخرد یہ چاہتی ہے موت کو بھی زیر کر دےوجود ہست پھیلا دے قیام زندگی تا دیر کر دےخرد کی یہ فسوں کاری یہ اتنی تیز رفتاری کہاں جا کر تھمے گیکہاں پر ختم ہوگیکہانی جستجو کیجہاں انسان کی اگلا پڑاؤ ہے وہ منزلوہ منزل اجنبی رستوں کا حاصلکسی انجان دنیا سے مماثلمجھے یہ خوف کھائے جا رہا ہےکہ اپنی ذات اپنے آپ سے ہمکہیں نکلیں تو اتنی دور جا پہنچیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو
زیست اور موت کی سرد و ویران سیدو قیامت نما سرحدیںاور پہلو میں ان سرحدوں کےوہ دھندلی سی بجھتی ہوئی اک لکیرجس کی دہلیز پر آخری سانس لیتے ہوئےروٹھ کر ہم سے کوئیجو اس مختصر فاصلے سے گزر جائے گالوٹ کر وہ نہیں آئے گا
سوالوں کو مرے شوق سفر کی آگہی دینےنظر اٹھتی خلا کی وسعتوں میں ڈوب کر کہتیافق کے پار سورج کے سنہری بام سے آگےزمین و آسماں کی سرحدیں جس جا پہ ملتی ہیںمرا شہر تمنا ہے وہیں تک مجھ کو جانا ہے
جنون حاکمیت خود پسندی کا یہ لاواکیوں ابلتا اور بہتا جا رہا ہےساری دھرتی پرکہاں سے حکم آتا ہےیہ کیسی سوچ کے پیرائے میںتم ڈھالے جاتے ہوکہ نفرت اور گہری ہو رہی ہےزمیں زادوبدن دھرتی میں بونے سےفقط قبریں ہی اگتی ہیںلہو بہتا رہا تومہر و وفا احساس کےسب بہتے دریا سوکھ جائیں گےزمیں زادویہ کیسے خوف کے اندھے کنوئیں میںقید ہیں سارےکہ اک دوجے سے بچنے کے لیےہم بم بناتے ہیںاور اک دوجے پہ شب کی تیرگی میںوار کرتے ہیںزمیں زادوزمیں تقسیم کر کےسرحدیں کس نے بنائی ہیںوہ دن بھی آنے والا ہےپرندوں کے لئے بھیجب کوئی قانون آئے گاسپاہی فاختاؤں کے پروں کو بھی ٹٹولیں گےپرندے دل میں سوچیں گےہمیں انسان نےکیوں اپنی صف میں کر لیا شاملیہ کس نے حق دیا ہے اس کوہمیں اپنی طرح سمجھےہمیں اپنی طرح سوچےزمیں زادوخلا کا زخم بڑھتا جا رہا ہےپہاڑوں کی سفیدی میں پگھل کراب ندی کی آنکھ سی بہنے لگیکبھی منظر دھوئیں میںقید ہوتے جا رہے ہیںزمیں زادوگلوں سے تتلیاں اور تتلیوں سے باغ مت چھنیوکہ اب تو شرم آتی ہےمری پہچان ہونے پرمجھے انسان ہونے پرزمیں زادو
سرحدیںکتنی پرانی کرم خوردہ ہو چکی ہیںجسم کو اب کیا ضرورت رہ گئی ہےایک ہی کمرے میں رہ کروہ الگ جلتے جزیروں میں سلگنے کی
ایک تہذیب مشترک کا امیںفکر و فن کی لطافتوں کا شعورجذب دل کا مزاج داں فن کارروح احساس گرمئ رفتارپردۂ ساز حرف موسیقیتند راگوں کا ناچتا شعلہنرم گیتوں کی اجنبی خوشبووقت کی لہر لہر کا مدرکجاگتے موسموں کا آئینہاپنے لمحات عصر کی تفسیریعنی رنج و نشاط کی تصویرزندگی کا جمال شعلہ صفتبادۂ آگہی سے مست و الستبزم انسانیت کا ایک چراغفلسفی کی نگاہ با مقصدآرزوؤں کا دل نشیں عنواںایک مجموعہ علم و دانش کاایک صوفی مزاج اہل سخندولت نغمہ ایک موسیقاریعنی خسروؔ وہ شعر کا معیارجس کی فکروں سے روح ہو بیداروقت کی سرحدیں پھلانگ کے آجہم میں پھر آ گیا ہے وہ فن کار
یہ خوشبو جسے محسوس کرتے ہیاحساس کے تار بجنے لگتے ہیںفاصلے اور دوریاں سمٹ جاتی ہیںکوئی منظر کوئی چہرہ سامنے آ جاتا ہےان خیالوں کی مسافت میں کوئی وقت لگا نہیںآ جاتا ہے کوئی کمرہ کوئی آنگن اور کوئیفرد بے جھجھکنہ کوئی خوف نہ ڈر اور نہ وہ خونی نظراس خوشبو کے سفر میںنہ سرحدیں ہیں نہ دوریاںنہ پابندیاںیاں صرف احساس و جذبات کی مملکت ہےاور پرواز خیالکے سوا کچھ بھی نہیںاور کچھ بھی نہیں
ایک گھر میں بنیں ان گنت سرحدیںایک زنداں میں گونجی کئی حسرتیںایک تالا لبوں پہ لگائے ہوئےہاتھ کاٹے ہوئے سر جھکائے ہوئےمنطقوں کے نشاں سب مٹائے ہوئےاور تاریخ اپنی بھلائے ہوئےمصلحت کا لبادہ چڑھائے ہوئےایک دوجے سے نظریں چرائے ہوئےاور سینے کی جلتی ہوئی آگ میںاک تلاطم کا شعلہ چھپائے ہوئےشور کرنے لگیں پاؤں کی بیڑیاںایک قیدی نے لیں جب ذرا کروٹیںتوڑتی دم ابھرتی ہوئی وحشتیں
شمال میں برف تیزی سے گھل رہی ہےزمیں کا نقشہ بدل رہا ہےسمندروں میں چڑھا ہوا ہے گئے زمانوں کا تازہ پانیکئی جزیرے تو اب بھی ہیں بے خبر مگر کلکہیں نہ ہوں گےبدلنے والی ہیں سرحدیں پربڑا ہی شیریں ہے خواب غفلتہمارے اندازے خواب سب پیچھے رہ گئے ہیںسمندروں میں بہت سے طوفان اٹھ چکے ہیںادھر زمیں پربساط پر بازیوں کی تیزی نظر سے اوجھلادھر فلک پر ستارے اوجھلوہ جن کو شہ مات ہو رہی ہے وہ سارے اوجھلکہف کے غاروں میں سو رہے ہیںوہ جن کے ساحل جزیرے فردوس منتظر کےنشان بے نام ہونے کو ہیںکوئی تو جاکر انہیں جگائےانہیں بتائےزمیں کا نقشہ بدل رہا ہےزمیں سے طوفان اٹھ رہے ہیںسمندروں میں بدل رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books