تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "saro.n"
نظم کے متعلقہ نتیجہ "saro.n"
نظم
کچھ تنکے شوخی کرتے ہیں سیلاب کے سرکش دھارے سے
مندیل سروں سے گرتی ہے اور پاؤں سے روندی جاتی ہے
جمیلؔ مظہری
نظم
دیکھو تو ہمارے سامنے راستہ کتنا خوبصورت ہے
ہمارے سروں پر سکھ اور شانتی کا کتنا گہرا بادل ہے
سلمان سعید
نظم
یہاں تک ٹوٹ کر برسیں کہ پانی
وصل کی مٹی میں خوشبو گوندھ لے اور پھر سروں تک سے گزر جائے
نوشی گیلانی
نظم
لاکھوں آئینے موجوں میں بکھرے ہوئے
کشتیاں بادبانوں کے آنچل میں اپنے سروں کو چھپائے ہوئے
علی سردار جعفری
نظم
میں جانتا تھا مرا قبیلہ بریدہ اور بے ردا سروں کی گواہیاں
لے کے آئے گا پھر بھی لوگ انکار ہی کریں گے