تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "saro.n"
نظم کے متعلقہ نتیجہ "saro.n"
نظم
مندیل سروں سے گرتی ہے اور پاؤں سے روندی جاتی ہے
سینہ میں گھٹاؤں کی بجلی، بے چین ہے کوندی جاتی ہے
جمیلؔ مظہری
نظم
یہاں تک ٹوٹ کر برسیں کہ پانی
وصل کی مٹی میں خوشبو گوندھ لے اور پھر سروں تک سے گزر جائے
نوشی گیلانی
نظم
دیکھو تو ہمارے سامنے راستہ کتنا خوبصورت ہے
ہمارے سروں پر سکھ اور شانتی کا کتنا گہرا بادل ہے
سلمان سعید
نظم
میں جانتا تھا مرا قبیلہ بریدہ اور بے ردا سروں کی گواہیاں
لے کے آئے گا پھر بھی لوگ انکار ہی کریں گے