مکان

MORE BYکیفی اعظمی

    INTERESTING FACT

    Film: Sone ki Chidiya (1958)

    آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

    آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی

    سب اٹھو، میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو

    کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

    یہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھی

    پاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نے

    ان مکانوں کو خبر ہے نہ مکینوں کو خبر

    ان دنوں کی جو گپھاؤں میں گزارے ہم نے

    ہاتھ ڈھلتے گئے سانچے میں تو تھکتے کیسے

    نقش کے بعد نئے نقش نکھارے ہم نے

    کی یہ دیوار بلند، اور بلند، اور بلند

    بام و در اور، ذرا اور سنوارے ہم نے

    آندھیاں توڑ لیا کرتی تھیں شمعوں کی لویں

    جڑ دیئے اس لیے بجلی کے ستارے ہم نے

    بن گیا قصر تو پہرے پہ کوئی بیٹھ گیا

    سو رہے خاک پہ ہم شورش تعمیر لیے

    اپنی نس نس میں لیے محنت پیہم کی تھکن

    بند آنکھوں میں اسی قصر کی تصویر لیے

    دن پگھلتا ہے اسی طرح سروں پر اب تک

    رات آنکھوں میں کھٹکتی ہے سیہ تیر لیے

    آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

    آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی

    سب اٹھو، میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو

    کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    RECITATIONS

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    مکان کیفی اعظمی

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY