aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ser"
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئےیہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئےاس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑیئےروز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑیئے
چلتے چلتے دفعتاً پٹری بدلنے کا چلنتھا سیاست کے قلابازوں کا یک مشہور فنفائدہ ہوتا تھا وقتی طور پر اس کھیل میںگو سکا حضرات کہتے تھے اسے بازار پناہل شعرستان نے بھی اب اسے اپنا لیاکار آمد دیکھ کر یہ نسخۂ آہن شکنہو رہا ہے اس قدر مقبول یہ نسخہ کہ ابدل بدلتے رہتے ہیں دن رات ارباب سخننت نیا بہروپ لازم ہے پئے اظہار ذاتجب نظر کے سامنے ہو فن برائے مکر و فنوہ زمانہ جب کہ بزم شعر تھی اک رزم گاہچھوڑ دی تھی ہر نئے شاعر نے رفتار کہنگھولتے رہتے تھے وہ حضرات جام شعر میںنغمۂ بلبل کے بدلے شورش دار و رسنہوٹلوں میں بیٹھ کر ہوتا تھا ذکر انقلاباپنے سر سے باندھے پھرتے تھے تخیل میں کفنان میں کچھ لیڈر صفت تھے اور کچھ والنٹیرجھنڈ میں سرخاب کے ہوں جس طرح زاغ و زغننعرہ بازی میں اگر ہوتے تھے لیڈر پاؤ سیران کے ہر والنٹیر کا وزن ہوتا ڈیڑھ منرفتہ رفتہ شور غوغائی سخن کا جب تھمالگ گیا جب ماہ نخشب میں حوادث کا گہنآ گئے کچھ اور کرتب باز بزم شعر میںاک ذرا سا جانتے تھے جو نظر بندی کا فنسونگھ کر موسم کی بو اور رخ ہوا کا دیکھ کرکیچلی بدلی ہر اک والنٹیر نے دفعتاًصبح دم دیکھا تو ٹیڈی سوٹ میں ملبوس ہیںپھینک کر چپکے سے اپنا انقلابی پیرہنسر کے بالوں کی سفیدی ہو گئی غرق خضابتہ بہ تہ غازہ لگا کر دور کی رخ کی شکنشاعری کی عمر تھی گو بیس یا پچیس ساللیکن اپنے فن میں وہ بالقصد لائے بال پنکر دیا بہر صدارت پیش اپنے آپ کوجب بنائی چند نو مشقوں نے کوئی انجمناس لیے گھس پیٹھ کرتے یہ سب والنٹیربن گئے اب خام ذہنوں کے امام فکر و فنان کا مقصد ہے اگر کچھ تو حصول منفعتانقلابی شاعری ہو یا معماتی سخن
دس روپے فی بوتل پانیہکا بکا رہ گئی نانیاپنا بچپن یاد کیا توارزانی سی تھی ارزانیبارہ آنے سیر اصلی گھیگیارہ آنے تولہ چاندیکیلے تھے دو پیسے درجنچاول پانچ آنے پنسیریبائیسکوپ ٹکٹ ایک آنہایک اٹھنی کا پاجامہاسکولوں میں فیس نہیں تھیکالج دو روپے ماہانہنانا کی تنخواہ جو پوچھیکل پینتالیس روپیہ نکلیپینتالیس ہزار کے لگ بھگپاتے ہیں ابو اور امی
فندک فندک فندک فکدھنک دھنک دھن دھنک دھنکتانت بجی اور نکلا راگروئی بنی صابن کا جھاگکیسی چھنتی جاتی ہےبادل بنتی جاتی ہےکتنا ڈھیر ہوا آہامیں اس ڈھیر پہ کودوں گاکوئی چوٹ نہ آئے گیروئی مگر دب جائے گیاتی روئی اتنا ڈھیرہو گئی بارہ تیرہ سیرلے اب روئی ہو گئی صافبھر لے تکیے اور لحافان سے سب سکھ پاتے ہیںاوڑھتے اور بچھاتے ہیںملتا ہے سب کو آرامواہ رے دھنیے تیرا کامواہ ری دھنکی دھنک دھنکفندک فندک فک فک فک
شور مچاتے اٹھے بادلزور لگاتے اٹھے بادلاب ہیں گورے اب ہیں کالےاب ہیں لال اور اب مٹیالےکیا کیا رنگ بدلتے آئےپل میں ہاتھی پل میں گائےپل میں روئی کا اک ڈھیرپل میں بکری پل میں شیرابھی تھا پاؤ اب ہے سیرابھی تھا تیتر ابھی بٹیراب اک سقہ مشک اٹھائےاب کشتی سی دوڑی جائےدرخت ابھی تھا یہ پیپل کااور اب ہے یہ پھول کنول کاابھی ابھی تھی سانپ کی چھتریدھول ہے اب یہ ایٹم بم کیاونٹ تھا اب کوہان اٹھائےاب ہے کتا کان اٹھائےپل میں دوڑ لگاتا گھوڑاپورا نہیں پر تھوڑا تھوڑاگھوڑا پگھلا بن گیا بگلابگلا پھیل کے بیل میں بدلابیل اک مینڈک سے ٹکرایابادل کا مینڈک ٹرایایہ سن کر ننھا چلایابادل آیا بادل آیا
سیرالیون کے سمگلرزہیروں کی سمگلنگ پر باتیں کر رہے ہیںشمالی بلغاریہ کے علاقوں سےعمدہ قسم کا تمباکو آنے والا ہےلائٹ ٹاور کی سیڑھیوں کے نیچےجینز کی نیکر میں کوکین کی تھیلیاں چھپا کرمیڈونا واپس جا چکی ہےبوڑھا لینوس بیٹھا ہےفوگ لائٹ کی پیلی روشنی میںلمحہ داڑھی کھجا رہا ہےساحل کی ہتھیلی پرریت کی انگلیوں میں لپٹیبرہنہ سانسوں کی الجھن پررات کا خون سرکتا ہےنڈھال جسموں کی رومانیت میںلمس کا سیلن زدہ شور گرتا ہےسمندر برف کی جھیل میںتبدیل ہو سکتا ہےسگریٹ جلانے کا آلاگیلا پڑ گیا ہےبائیتھوسلائٹر ملے گااوہ شکریہ
بنایا تھا چڑیا نے اک گھونسلہکہ وہ ایک گھر کے تھا چھت میں بناہوئے ایک بار اس کے بچے وہاںکھلاتی غذا لا کے بچوں کو ماںوہ بہر غذا تھی کسی دن گئیپریشاں ہوئی جب وہ واپس ہوئیکہ بچے تو ہیں لیکن آفت یہ تھیکہ بیٹھا ہے بچوں میں اک سانپ بھیپریشان اور مضطرب ہو گئیبہت آہ زاری سے فریاد کیمگر سانپ بچوں کو کھانے لگاتو اس نے بہت منتوں سے کہاجو تو کر رہا ہے یہ حرکت بریضرور انتقام اس کا لوں گی کبھیسنی جب کہ یہ سانپ نے گفتگولگا کہنے ہنس کر ستائے گی تووہ ہوں میں بہادر کہ ڈرتا ہے شیرکرے گی بھلا تو مجھے کیسے زیرغرض دونوں بچوں کو وہ کھا گیاشکم سیر ہو کر وہیں سو رہایہ دیکھا جو چڑیا نے آنکھوں سے حالتو پھر سانپ پر غصہ آیا کمالجدائی میں بچوں کے روتی رہیوہ اس رنج میں جان کھوتی رہیہوئی شب چراغوں میں بتی پڑیتو جلتی ہوئی بتی لے کر اڑیجہاں سانپ تھا چھت میں سویا ہواوہاں اس نے بتی کو اب رکھ دیاجو لوگوں نے دیکھا تو گھبرا گئےکہ ایسا نہ ہو آگ چھت میں لگےکوئی آدمی جلد چھت پر چڑھالگا صاف کرنے وہ جب گھونسلہوہاں اس نے دیکھا کہ ہے ایک مارتو فوراً ہی لٹھ سے دیا اس کو مارہے فیضیؔ یہ ضرب المثل مستندبدی کا ہمیشہ ہے انجام بد
سورج اپنی پچکاری سے کرتا ہے یلغارصبح کے اجلے دامن پہ ہے رنگا رنگ بہارنیلے پیلے لال گلابی رنگوں کی بوچھارجھومیں ناچیں دھوم مچائیں گلیاں اور بازارباجے تاشے سیر تماشے لے کر جاگی بھوررنگ کے اندر رنگ جگائے ہولی چاروں اورمستوں کی ٹولی کے پیچھے ہے مستوں کا شورآج ترنگوں اور امنگوں کا ہے پورا زورراگ رنگ اور کھیل تماشے ہولی کا اپہارہردے ہردے پریم جگائے پیار بھرا تہوارمیٹھی میٹھی چھیڑ چھاڑ اور میٹھی میٹھی دھومگلیوں گلیوں سڑکوں سڑکوں باجیں من کے تارنت رنگوں سے یک رنگی کا جاگے جب احساستب ہولی کا جشن منائے دھرتی اور آکاس
بارہ آنے سیر اصلی گھیگیارہ آنے تولہ چاندیکیلے تھے دو پیسے درجنچاول پانچ آنے پنسیری
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
سو ایک روز کیا ہواوفا پہ بحث چھڑ گئیمیں عشق کو امر کہوںوہ میری ضد سے چڑ گئی
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھےجو عشق کو کام سمجھتے تھےیا کام سے عاشقی کرتے تھےہم جیتے جی مصروف رہےکچھ عشق کیا کچھ کام کیاکام عشق کے آڑے آتا رہااور عشق سے کام الجھتا رہاپھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میںتم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تممیں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میںتم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کینہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سےنہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سےنہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سےجس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھاجس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نےدہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گےوہ دن کہ جس کا وعدہ ہےجو لوح ازل میں لکھا ہےجب ظلم و ستم کے کوہ گراںروئی کی طرح اڑ جائیں گےہم محکوموں کے پاؤں تلےجب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گیاور اہل حکم کے سر اوپر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books