aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sofe"
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانیلہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانیامارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصلنہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانینہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میںکہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانیعقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںنظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میںنہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہےامید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میںنہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پرتو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
مگر ہاں بینچ کے بدلے اسے صوفے پہ بٹھلا دےیہاں میرے بجائے اک چمکتی کار دکھلا دے
مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیںجو ہر محبت میں مایوس ہو کریوں ہی اک نئے دورۂ شادمانی کی حسرت میںکرتے ہیں دل جوئی اک دوسرے کیاور اب ایسی باتوں پہ میںزیر لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوںاور اس شام جشن عروسی میںحسن و مے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھےفرنگی شرابیں تو عنقا تھیںلیکن مے ناب قزوین و خلار شیراز کے دور پیہم سےرنگیں لباسوں سےخوشبو کی بے باک لہروں سےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےمزامیر کے زیر و بم سےوہ ہنگامہ برپا تھامحسوس ہوتا تھاتہران کی آخری شب یہی ہے!اچانک کہا مرسدہ نے:''تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نےاسے سر بہ زانو!''تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئےاور کمرہ بہ کمرہ اسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!لو اک گوشۂ نیم روشن میںوہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھااسے ہم بلایا کیے اور جھنجھوڑا کیےوہ تو ساکت تھا جامد تھا!روسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کی اس کو خبر ہو گئی تھی
ابا تو چلے گئے ہیں دفترامی کو بخار آ رہا ہےچھمن تو گیا ہوا ہے بازارجمن کھانا پکا رہا ہےزیبن کو اسی کا تازہ بچہپکا گانا سنا رہا ہےامجد صوفے پر کوئلے سےکالا طوطا بنا رہا ہےاسلم دادی کی لے کے تصویراس کی مونچھیں اگا رہا ہےتوقیر بلیڈ کے کمالاتقالین پہ آزما رہا ہےچھ سات تپائیاں ملا کراکبر گاڑی چلا رہا ہےتسنیم بنی ہوئی ہے گھوڑاجو میز پہ بھاگا جا رہا ہےاخترؔ پردے کی جھالروں سےبلی کو دلہن بنا رہا ہےننھا اقبال لیٹے لیٹےندی نالے بہا رہا ہےسنتے ہیں کہ عنقریب ان کاایک اور بھی بھائی آ رہا ہے
یہ گول میز سے کہتی ہے اب کہ تو کیا ہےچیئر کے سامنے صوفے کی آبرو کیا ہے
تمہارے قدموں کے نیچےایک حشر برپا ہےجیتا جیتا لہوٹیلی ویژن کی شریانوں سےپھوٹ پھوٹ کربہہ نکلا ہےقالین بھیگ گئی ہےصوفے تیر رہے ہیںمیں اپنے لہو میں ڈوب چلا ہوںمیری مدد کروبھونکتے کیوں نہیںکتے کہیں کے۔۔۔۔
دستک دیتو اندر سے آواز آئی''کون ہو.... کس سے ملنا ہے''میں بولا اس لڑکی سےجو ابھی ابھی گھر میں آئی ہےاس نے کہاآ جاؤاندر جا کر دیکھا توکمرے میں اک صوفے پرایک ضعیفہ بیٹھی تھیوہی لباس تھا اس کے بدن پرجو لڑکی نے پہنا تھا!!
یہ تارے ہیں یا جگنو ہیںجس صوفے پر میں بیٹھا تھایہ اس کمرے کی کھڑکی سےکیسے اڑ اڑ کر آئے ہیں
کبھی بچپن میں جو پڑھتے تھے پریوں کی کہانی میںپری کوئی طلسماتی اثر سےنیم شب سارے کھلونوں کوبدل دیتی تھی جیتی جاگتی مخلوق میںاب یوں ہواایسے ہی نادیدہ اثر نےایک گھر میںکچھ کھلونوں کو عطا کی زندگیاور لمحہ بھر میں ان کو ہنسنے بولنےاور صبح کی پہلی کرن تکزندہ رہنے پر کیا قادرانہی میں ایک تھا ایسا کھلوناجو کھلونوں سے بھرے کمرے میں تنہا تھااسے بچے کبھی آغوش میں لیتےکبھی ٹھوکر لگاتے تھےاسے صوفے کے پیچھے پھینکتے اور بھول جاتے تھےیہ ان کا کھیل تھا اور اس کی قسمتآج وہ مظلوم بھی پل بھر میں زندہ ہو گیا تھاوہ کھلونااب کوئی درد آشنا بے لوث ساتھی چاہتا تھااس نے اپنے پاس ہی رکھی ہوئیگڑیا کی جانبدوستی کا ہاتھ پھیلایامگر گڑیا لرز کر ہٹ گئی پیچھےکہ جیسے کوئی دست طفل ناداںاس کی جانب بڑھ رہا ہوجو اسے ایذا بھی دے گااور شاید توڑ بھی دے گااسے بے مہر بچوں سےجو دکھ ملتے رہے تھےان کی تلخی نےاسے اچھے برے کے فرق سےاور سچے جذبوں کی پذیرائی سے بیگانہ کیا تھاوہ شاید رشتۂ احساس کی اس مہرباں تاثیر سے نا آشنا بھی تھیجو آنکھوں میں چمک اور زندگی میں رنگ بھرتی ہےشکستہ دل کھلونا ہاتھ واپس کھینچ کراب صبح کی پہلی کرن کا منتظر ہےجب فسوں ٹوٹے اور اس سے زندگی چھن جائےوہ پھر ایک بے احساس اور بے جان شے بن جائے
گھر میں داخل ہوتے ہیہم خود کو آوازیں دینے لگتے ہیںاور کپڑوں سے بھرا شاپنگ بیگپھینک دیتے ہیں بیڈ کے نیچےرکھتے ہیں اپنے جوتے صوفے پراور الماری کے دراز سے کچے امردو نکال کربیڈ شیٹ سے رگڑتے ہیںاور کترنے لگتے ہیں چار دن پرانے بسکٹجب بھی نظر پڑتی ہے آئنے پہخود کو گالیاں دیتے ہیںٹی وی سے ٹوں ٹوں کی آواز آنے پرریموٹ کے سات ٹکڑے کر کےبلی کے آگے ڈال دیتے ہیںکریڈٹ ختم ہو جانے پرسیل فون پہ شیریں لہجے والی دوشیزہ کوکھری کھری سناتے ہیںاور فریج کے نچلے دروازے کو زور سے بند کر کےخالی اوون میں سو جاتے ہیں
سجا سجایا یہ گھر سلیقے کی ساری چیزیںتمام کمروں میں کس قرینے سے سج رہی ہیںیہ بند الماریوں میں رکھی ہوئی کتابیںیہ ٹیلی ویژن یہ ریڈیو یہ فریج یہ صوفےیہ میز کرسی یہ نرم بستریہ بستروں کی گداز راتیںحسین صبحیںیہ میری بیوی یہ میرے بچےیہ ساری آسائشیں یہ رسمیںیہ سارے رشتے یہ سارے بندھنمیں جن کی سانسوں میں بس رہا ہوںیہ سب تو میرے ہیں میں کہاں ہوں
پیڑ کی شاخوں پرآویزاںکچھ لمحے پیار کےچھوٹے چھوٹے گلابی روئی کےگالوں کی طرحکئی باراپنے لب و رخسار سے سٹا کران کے خرگوشی لمس کومحسوس کرنا چاہا ہےاور چاہا ہےکالے دھبیلے آکاش پرچھٹکتے چمکیلے دائروں کوآنکھوں میں بھرناجب کبھی برستی برسات میںدرد کا پیمانہ چھلکا ہےتب آکاش کے دھبےایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہیںصوفے پر ادھ لیٹیکافی کے پیالے میںمیں ان سب کوصاف صافڈوبتے ابھرتے دیکھ رہی ہوں
شخصیتہاتھوں میں کانپیہونٹ ناری بن گئےآسماں ٹوٹازمیں پگھلیبدن کی چاندنیصوفے پہ اوندھی گر پڑیاک کرن جانے کہاں سےروشنی کی نہر میں آ کر گریدیوتا قامت بدنتحلیل ہو کر جام میںان گنت رتیلے خوابوں کا خدا بن ہی گیااور شہر سنگ میںپھر موم کا جادو چلاچاقو چلا
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیںگلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالازباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کااب انگلی کلک کرنے سے بس اکجھپکی گزرتی ہےبہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر
ایک اور صفحے پہ یوں لکھا ہے:''کبھی کبھی رات کی سیاہی،کچھ ایسی چہرے پہ جم سی جاتی ہےلاکھ رگڑوں،سحر کے پانی سے لاکھ دھوؤںمگر وہ کالک نہیں اترتیملو گی جب تم پتہ چلے گامیں اور بھی کالا ہو گیا ہوںیہ حاشیے میں لکھا ہوا ہے:''میں دھوپ میں جل کے اتنا کالا نہیں ہوا تھاکہ جتنا اس رات میں سلگ کے سیہ ہوا ہوں''
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
ابھی ع لکھوں تو سوچے مجھےپھر شین لکھوں تری نیند اڑے
فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاریگئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاریگئی ہے ابھی گونجتی گنگناتیزمانے کی رفتار کا راگ گاتیلچکتی ہوئی سی چھلکتی ہوئی سیبہکتی ہوئی سی مہکتی ہوئی سیوہ سڑکوں پہ پھولوں کی دھاری سی بنتیادھر سے ادھر سے حسینوں کو چنتیجھلکتے وہ شیشوں میں شاداب چہرےوہ کلیاں سی کھلتی ہوئی منہ اندھیرےوہ ماتھے پہ ساڑی کے رنگیں کنارےسحر سے نکلتی شفق کے اشارےکسی کی ادا سے عیاں خوش مذاقیکسی کی نگاہوں میں کچھ نیند باقیکسی کی نظر میں محبت کے دوہےسکھی ری یہ جیون پیا بن نہ سوہےیہ کھڑکی کا رنگین شیشہ گرائےوہ شیشے سے رنگین چہرا ملائےیہ چلتی زمیں پہ نگاہیں جماتیوہ ہونٹوں میں اپنے قلم کو دباتییہ کھڑکی سے اک ہاتھ باہر نکالےوہ زانو پہ گرتی کتابیں سنبھالےکسی کو وہ ہر بار تیوری سی چڑھتیدکانوں کے تختے ادھورے سے پڑھتیکوئی اک طرف کو سمٹتی ہوئی سیکنارے کو ساڑی کے بٹتی ہوئی سیوہ لاری میں گونجے ہوئے زمزمے سےدبی مسکراہٹ سبک قہقہے سےوہ لہجوں میں چاندی کھنکتی ہوئی سیوہ نظروں سے کلیاں چٹکتی ہوئی سیسروں سے وہ آنچل ڈھلکتے ہوئے سےوہ شانوں سے ساغر چھلکتے ہوئے سےجوانی نگاہوں میں بہکی ہوئی سیمحبت تخیل میں بہکی ہوئی سیوہ آپس کی چھیڑیں وہ جھوٹے فسانےکوئی ان کی باتوں کو کیسے نہ مانےفسانہ بھی ان کا ترانہ بھی ان کاجوانی بھی ان کی زمانہ بھی ان کا
دنیا کے لئے تحفۂ نایاب ہے عورتافسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورتدیکھا تھا جو آدم نے وہی خواب ہے عورتبے مثل ہے آئینہ آداب ہے عورتقائم اسی عورت سے محبت کی فضا ہےعورت کی عطا اصل میں احسان خدا ہےہے ماں تو دل و جاں سے لٹاتی ہے سدا پیارممتا کے لئے پھرتی ہے دولت سر بازارآسان بناتی ہے دعا سے رہ دشواراپنے غم و آلام کا کرتی نہیں اظہارقدموں میں لئے رہتی ہے جنت کا خزانہعورت کے تصور میں ہے تعمیر زمانہبیوی ہے تو غم خوار ہے پیکر ہے وفا کاآنچل کو بنا لیتی ہے فانوس حیا کارخ دیکھ کے رکھتی ہے قدم اپنا ہوا کاگرویدہ بناتی ہے تبسم کی ادا کاخواب نگہ عشق کی تعبیر ہے عورتمردوں کے لئے حسن کی زنجیر ہے عورتہے شکل میں بیٹی کی بہار سحر و شامقدرت کا عطیہ ہے یہ قدرت کا ہے انعامدیتی ہے مسرت کا دل زار کو پیغامہے روح کو تسکین جگر کا ہے یہ آرامدختر ہے تو انمول گہر کہتے ہیں اس کواللہ کی رحمت کا ثمر کہتے ہیں اس کوصورت میں بہن کی ہے چمن کا یہ حسیں پھولایثار و محبت ہے شب و روز کا معمولبے کار کی رنجش کو کبھی دیتی نہیں طولاحساس مروت میں رہا کرتی ہے مشغوللکھی ہے ہر اک رنگ میں عورت کی کہانیکہتے ہیں اسے عظمت انساں کی نشانیمریم ہے تو پاکیزہ و شفاف ہیں اعمالبن جائے زلیخا تو حیا کو کرے پامالگر ہے قلو بطرہ تو سیاست کی چلے چاللیلیٰ ہے تو کرتی ہے یہ دیوانہ و بدحالڈھل جانا ہر اک روپ میں آسان ہے اس کوبدلے ہوئے حالات کی پہچان ہے اس کوہندہؔ ہے تو سالاری کا دکھلاتی ہے جوہرہے رابعہؔ بصری تو یہ ولیوں کی ہے ہمسربیٹھی ہے اگر حسن کا بازار سجا کرغیرت کو بناتی ہے اسیر ہوس زرواقف ہے بہر طور یہ جینے کے ہنر سےبے خوف گزر جاتی ہے ہر راہ گزر سےاک پل میں یہ شعلہ ہے تو اک پل میں ہے شبنمیعنی ہے کبھی گل تو کبھی خار مجسمہو صبر پہ آمادہ تو سہہ جائے ہر اک غمہو جائے مخالف تو پلٹ دے صف عالمپابند وفا ہو تو دل و جان لٹا دےآ جائے بغاوت پہ تو دنیا کو ہلا دے
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہےپر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائےچپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ہےبوڑھی بھی نہیں اتنی اس طرح وہ تھک جائےاب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہےہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی ہےآسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!گھر بار، سمجھتی تھی، قلعہ ہے حفاظت کادیکھا کہ گرہستی بھی مٹی کا کھلونا ہےمٹی ہو کہ پتھر ہو ہیرا ہو کہ موتی ہوگھر بار کے مالک کا گھر بار پہ قبضہ ہےاحساس حکومت کے اظہار کا کیا کہنا!انعام ہے مذہب کا جو ہاتھ میں کوڑا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوار پہ ٹانگا تھا فرمان رفاقت کاکیا وقت کے دریا نے دیوار کو ڈھایا ہےفرمان رفاقت کی تقدیس بس اتنی ہےاک جنبش لب پر ہے، رشتہ جو ازل کا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دو بیٹوں کو کیا پالا ناداں یہ سمجھتی تھیاس دولت دنیا کی مالک وہی تنہا ہےپر وقت نے آئینہ کچھ ایسا دکھایا ہےتصویر کا یہ پہلو اب سامنے آیا ہےبڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہےکھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشہ ہےماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہےدیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!سوچا تھا بہن بھائی دریا ہیں محبت کےدیکھا کہ کبھی دریا رستہ بھی بدلتا ہےبھائی بھی گرفتار مجبوریٔ خدمت ہیںبہنوں پہ بھی طاری ہے قسمت کا جو لکھا ہےاک ماں ہے جو پیڑوں سے باتیں کیے جاتی ہےکہنے کو ہیں دس بچے اور پھر بھی وہ تنہا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books