aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "suu-e-zan"
آسمانوں میں زمیں کا گیت لہرانے لگاچھا گیا ہے چاند کے چہرے پہ خفت کا غباربزم انجم کی ہر ایک تنویر دھندلی ہو گئیرکھ دیا ناہید نے جھنجھلا کے ہاتھوں سے ستارذرہ ذرہ جھوم کر لینے لگا انگڑائیاںکہکشاں تکنے لگی حیرت سے سوئے جوئبار
فرحت دل راحت جاں عیش پیہم کے لئےعید آئی بن کے راحت سارے عالم کے لئےخشک اب انگور کے شربت سے تر ہونے لگےہاتھ سب کے بڑھ رہے ہیں ساغر جم کے لئےآج جی بھر کر پلانا اور پینا چاہئےتیس دن ترسے ہیں اک اک قطرۂ یم کے لئےدوستوں کو ہر طرف سامان راحت ہے نصیبغم ہے دشمن کے لئے دشمن بنا غم کے لئےبے تکلف طفل شوخ و شیخ شیب و مرد و زنآج مشغول طرب ہیں لطف باہم کے لئےمجلس وعظ آج تو ہوتی نظر آتی نہیںحضرت واعظ عبث کوشاں ہیں کورم کے لئےکل ہمیں مل جائے گا گر حوض کوثر ہی کہیںآج کیوں پیاسے رہیں ہم عیش مبہم کے لئےعید کے دن چاہئے شکر خدا ذکر رسولوقت کیوں ضائع کریں ہم زیر اور بم کے لئےآئیے سن لیجئے ہے آج دنیائے سخنگوش بر آواز ان اشعار ملہم کے لئے
پڑتے ہی نگاہ صاعقۂ زن جل اٹھے گا ہر نظم کہناے صبح وطن اے صبح وطن
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگاسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
سر زمین ہند کا یہ بازوئے شمشیر زنجس کے مردان جری ہیں شعلہ بار و صف شکن
قدم قدم پہ عقیدت سے سر ہے خم میراچلا ہے سوئے رہ معتبر قلم میرادل و دماغ کو اونچا بنا دیا جس نےفیوض علم سے اعلیٰ بنا یا جس نے
کون شعلے لئے نزدیک چمن آیا ہےنیت جنگ لئے سمط وطن آیا ہےکون بد عہد سوئے گنگ و جمن آیا ہےخون اخلاص لئے عہد شکن آیا ہے
وہ با کمال حسن ظنکمال آزمائے گارموز عشق آشناجنوں اثر بنائے گا
آفت گئی خزاں کیقسمت پھری جہاں کیچلے مے گسارسوئے لالہ زارمئے پردہ دارشیشے کے در سے جھانکیقسمت پھری جہاں کیآفت گئی خزاں کی
رخ حوادث کا جب ہو سوئے چمنزد میں طوفاں کے آشیاں کر لو
یہ چاروں اور جو دکھتی ہے کثرت وحدتجو سچ کہوں دل کافر وجود زن سے ہے
سوئے صحرائے سماعت وہ اک آواز چلیاک چھری ہچکیوں کی دل پہ بصد ناز چلیجوئے امید میں اک کشتیٔ اعجاز چلیباندھ ٹوٹا جو چلا سیل میں اک ساز ربابمرے اس دل نے بالآخر سنی آواز رباب
بارہا دیکھا ہے تو نے آسماں کا انقلابکھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلابمغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبرانقلاب ہند ہے سارے جہاں کا انقلابکر رہا ہے قصر آزادی کی بنیاد استوارفطرت طفل و زن و پیر و جواں کا انقلابصبر والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پرہو گیا فرسودہ شمشیر و سناں کا انقلاب
خدا دیتا ہمیں بھی پر تو سوئے آسماں جاتےپرندوں کی طرح اڑ کر یہاں سے ہم وہاں جاتے
کبھی تسکیں کے لئے ہے گل و گلشن کی تلاشکبھی وحشت میں سوئے دشت لپکتا ہوں میں
نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سےفضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہبہ سوئے نوحہ آباد جہاں آہستہ آہستہنکل کر آ رہی ہے اک گلستان ترنم سےستارے اپنے میٹھے مدھ بھرے ہلکے تبسم سےکیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہسناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہدیار زندگی مدہوش ہے ان کے تکلم سےیہی عادت ہے روز اولیں سے ان ستاروں کیچمکتے ہیں کہ دنیا میں مسرت کی حکومت ہوںچمکتے ہیں کہ انساں فکر ہستی کو بھلا ڈالےلیے ہے یہ تمنا ہر کرن ان نور پاروں کیکبھی یہ خاک داں گہوارۂ حسن و لطافت ہوکبھی انسان اپنی گم شدہ جنت کو پھر پا لے
مجھے خبر ملی کاشانہ ہے ترا مہتابتو چشم ماہ میں رہتا ہے بن کے رنگیں خوابترا سراغ مگر سوئے کہکشاں نہ ملا
زمیں نئی تھی، فلک نا شناس تھا جب ہمتری گلی سے نکل کر سوئے زمانہ چلےنظر جھکا کے بہ انداز مجرمانہ چلے
میں اردو ہوں مجھی سے عظمت فصل بہاراں ہےخزاں نے رخ کیا سوئے چمن آواز دی میں نے
سینۂ ارض میں شگاف ہوالو چراغوں کی کیوں بھٹکتی ہےسوئے مدفن پہ کون آتا ہےچشم حیراں سے قبر تکتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books