aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tabdiil"
دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میںابھی کچھ دن لگیں گےجہان رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گےتھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھربنتے بنتے رہ گیا ہےوہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گےمگر اب دن بھی کتنے رہ گئے ہیںبس اک دن دل کی لوح منتظر پراچانکرات اترے گیمری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے ہر خواب کی تکمیل کر دے گیمجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گیاک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھااک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک کوئی روشن دن نہیں تھاابھی کچھ دن لگیں گے
خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کیکھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے
پہلے وہ رنگ تھیپھر روپ بنیروپ سے جسم میں تبدیل ہوئیاور پھر جسم سے بستر بن کرگھر کے کونے میں لگی رہتی ہےجس کوکمرے میں گھٹا سناٹاوقت بے وقت اٹھا لیتا ہےکھول لیتا ہے ،بچھا لیتا ہے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہےایک نقطے پروہ اک نقطہجو دو حرفوں کو آپس میں ملا کرلفظ کی تشکیل کرتا ہےوہ اک نقطہ سمٹ جائے توہونے کا ہر اک امکاںنہ ہونے تک کا سارا فاصلہپل بھر میں طے کر لےوہی نقطہ بکھر جائےتو ہر اک شےنہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دےوہ ایک نقطہ مری آنکھوں میں اکثرروشنی کے ساتھ رنگوں کو اگاتا ہےمرے ادراک میں شبنم کی صورتیا ستارے کی طرح لوح یقیں پر جگمگاتا ہےوہی نقطہ مجھے تشکیک کے جنگل میںجگنو بن کے منزل کی طرف رستہ دکھاتا ہےمجھے اکثر بتاتا ہےمرا ہونا نہ ہونے کا عمل سےمرے ہونے کی بھی تکمیل ہوتی ہےوہ اک نقطہ کہاں ہےکون ہےکس کے لبوں میں چھپ کے ہر اثبات کوانکار میں تبدیل کرتا ہےجو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہےیہ نکتہ بھی اسی نقطے میں مضمر ہےوہ ایک نقطہ کہ اب تک جس کے ہونے کا امیں ہوں میںوہ افشا ہو تو میں سمجھوںکہ ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
سارے دن کی تھکی،ویران اور بے مصرف رات کوایک عجیب مشغلہ ہاتھ آ گیا ہےاب وہ!سارے شہر کی آوارہ پرچھائیوں کوجسم دینے کی کوشش میں مصروف ہےمجھے معلوم ہےاگر گم نام پرچھائیوں کوان کی پہچان مل گئیتو شہر کے معزز اور عبادت گزار شریف زادےہم شکل پرچھائیوں کے خوف سےپرچھائیوں میں تبدیل ہو جائیں گےاوربے مصرف دن بھر کی تھکی ہوئی رات کوایک اور مشغلہ مل جائے گا
مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےمیری ماتمی چادرنہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھیجو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میںیوں ہی آشفتہ رہے گیاور اداسی کی یہی صورت رہے گیمیں اپنے سوگ میں ماتم کناںیوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گیاور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گامگر یہ کون ہےجو یوں مجھے باہر بلاتا ہےبڑی نرمی سے کہتا ہےکہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤذرا باہر تو دیکھودور تک سبزہ بچھا ہےاور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیںملائم سبز پتوں پر پڑی شبنمسنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہےدرختوں میں چھپی ندیبہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہےچمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میںنقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہےپرند خوش گلوشاخ شگفتہ پر چہکتا ہےگھنے جنگل میں بارش کا غبار سبزسطح شیشۂ دل پرملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہےکوئی آتا ہےآ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سےمیرے شانوں سے ہٹا کرسات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہےمیں کھل کر سانس لیتی ہوںمرے اندرکوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہےرقص کا آغاز کرتا ہےمرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھواجس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیںکوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہےفضا کی نغمگی آواز دیتی ہےہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
چمنیاں بھتنیوں کی طرح بال کھولے ہوئےکارخانے گرجتے ہوئےخون کی اور پسینے کی بو میں شرابورخون سرمایہ داری کے نالوں میں بہتا ہوابھٹیوں میں ابلتا ہواسرد سکوں کی صورت میں جمتا ہواسونے چاندی میں تبدیل ہوتا ہوابنک کی کھڑکیوں میں چراغاںسڑکیں دن رات چلتی ہوئیسانس لیتی ہوئیآدمی خواہشوں کے اندھیرے نشیبوں میں سیلاب کی طرح بہتے ہوئےچور بازار، سٹا، جواریریس کے گھوڑے، سرکار کے منتریسنیما، لڑکیاں، ایکٹر، مسخرےایک اک چیز بکتی ہوئیگاجریں، مولیاں، ککڑیاںجسم اور ذہن اور شاعریعلم، حکمت، سیاستانکھڑیوں اور ہونٹوں کے نیلام گھرعارضوں کی دکانیںبازوؤں اور سینوں کے بازارپنڈلیوں اور رانوں کے گودامدیش بھگتی کے دلال کھادی کے بیوپاریعقل، انصاف، پاکیزگی، اور صداقت کے تاجر
اچانک بھیڑ کے خاموش ہو جانے کا مطلب ہےاجازت مل گئی مجھ کوکہ میں اب بول سکتا ہوںکسی ہلڑ مچاتی بھیڑ کو خاموش کرنامیرا پہلا امتحاں تھااور میں اس میں کھرا اترااب اگلا امتحاں یہ ہےمجھے اس خاموشی کو تالیوں کے شور میں تبدیل کرنا ہے
تمہارے جانے کے بعدرات کے آخری پہرچاند نے کہامیں اداس ہوںایک ستارے نے ٹوٹتے ہوئے کہامیں اداس ہوںہوا نے دیواروں سے سر ٹکراتے ہوئے کہامیں اداس ہوںبہار نے پیلے پھولوں میں تبدیل ہوتے ہوئے کہامیں اداس ہوںشام نے رات میں ڈھلتے ہوئے کہامیں اداس ہوںمیں نے اونچی آواز میں ان سب سے کہامیں اداس نہیں ہوںاور رو پڑا
کبھی جینے کبھی مرنے کی خواہش روک لیتی ہےوگرنہ میں ہوا کی لہر میں تحلیل ہو جاؤںکدھر جاؤں کہ ہر سو ساعتیں رستے کا پتھر ہیںاگر بیٹھا رہوں تو راکھ میں تبدیل ہو جاؤں
بیابان و صحرا کو میں زیر کرتاچلا جا رہا ہوںمگر یہ یقیں ہےکہ تاریک آنکھوں سے پردہ ہٹے گااندھیرے اجالوں میں تبدیل ہوں گےنظر مجھ کو آئے گا روشن ستارہکہ چاہت میں جس کیازل سے زمیں پرسفر پر سفر طے کیے جا رہا ہوں
ہماری سادگی پراک زمانہ ہنس رہا ہےجسے دیکھو تعجب سے یہی وہ پوچھتا ہےکہاں تم اب تلک سوئے ہوئے تھےکہ دنیا اس قدر تبدیل ہونے کی خبر تم تک نہیں پہنچینہیں معلوم یہ کیا ماجرا ہےوگرنہ ہم تو سنتے آئے تھے اب تککہ جو اک عرصہ محو خواب رہتے ہیںکسی بہتر زمانہ میں اٹھا کرتے ہیںلیکنہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے
تجھ کو چاند نہیں کہہ سکتاکیونکہ یہ چاند تو اس دھرتی کے چار طرف ناچا کرتا ہےمیں البتہ دیوانہ ہوںتیرے گرد پھرا کرتا ہوںجیسے زمیں کے گرد یہ چاند اور سورج کے گرد اپنی زمیں ناچا کرتی ہےلیکن میں بھی چاند نہیں ہوںمیں بادل کا اک ٹکڑا ہوںجس کو تیری قربت کی کرنوں نے اٹھا کر زلفوں جیسی نرم ہوا کو سونپ دیا ہےلیکن بادل کی قسمت کیاتیرے فراق کی گرمی مجھ کو پگھلا کر پھر آنسو کے اک قطرہ میں تبدیل کرے گی
میں مر چکا ہوںاور مجھے پتہ بھی نہیںاب کیا کرو گے تمنہلاؤ گے مجھےاور پوچھو گے بھی نہیںمیں نہانا چاہتا ہوں یا نہیںیہ بھی نہیں دیکھو گےپانی گرم ہے یا نہیںبھول جاؤ گے کہ اچھا نہیں لگتامجھے ٹھنڈا پانینہانے کے لیے نہ پینے کے لیےپھر لباس تبدیل کرو گے میرااور یہ بھی نہیں پوچھو گےکیا پہننا چاہتا ہوںکون سا رنگ پتلون قمیض یا کچھ اورمجھ سے پوچھے بغیرتم وہ سب کچھ کرو گےجو میں نے اپنے ساتھ کبھی نہیں ہونے دیاایک دو بار نہیں سیکڑوں بارمیں نے خود کو انتہائی بے بس محسوس کیا ہےلعنت ہو مجھ پرموت ہے بے بسی کی انتہایہ بات مجھ پر کب کھلی ہےمیرے جسم سے جلد از جلدجان چھڑا کےتم لوٹو گےیا شاید وہیں سے چلے جاؤ گےشاید کچھ دیر باتیں کرو گےمیرے بارے میں کمکاروبار کے بارے میںکسی میٹنگ کے بارے میںیا اسپورٹس کے بارے میںیا کسی اداکارہ کے نئے اسکینڈل کے بارے میںشاید کچھ کھاؤ گے یا شاید کچھ پیو گےاور ایک ایک کر کے رخصت ہو جاؤ گےدروازے پر رکے بغیریہ دیکھے بغیرکہ میں تمہیں رخصت کرنے آ رہا ہوںشکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں میں تمہاراتمام مصروفیت کے باوجوداتنا وقت نکالنے پر
چل یار چلیں الفاظ کی دنیا سے باہرجہاں خاموشی کے ڈیرے ہوںجہاں لب پر چپ کے تالے ہوںجہاں آنکھ زباں کا کام کرےجہاں انگڑائی میں باتیں ہوںجہاں حرف فقط بے معنی ہوںجہاں عشق کا رنگ روحانی ہوجہاں روحیں جسم تبدیل کریںجہاں گھنگھور گھٹا ہو ساون کیجہاں بھادوں برکھا چھاتی ہوجہاں نہریں روپ کی بہتی ہوںجہاں ٹھنڈی دھوپ کی چادر ہوجہاں حسن ہو تخت نشیں صنمچل یار چلیں اس پار چلیںیہ دنیا اب نہیں راس ہمیں
میں کیسے بتاؤںوہ عرصہ جو دوری میں گزراحضوری میں گزرامیں اس کی وضاحت نہیں کر سکوں گاسر شام ہیکوئی لا شکل کوتمجھے اپنے نرغے میں رکھتیمزا لیتی میرے نمک کاکبھی میری شیرینی چکھتیکبھی مجھ کو قطرےکبھی مجھ کو ذرے میں تبدیل کرتیکبھی مجھ کو ہیئت میں لاتیکبھی میری ہیئت کو تحلیل کرتیادھورا سمجھتیکبھی مجھ کو پورا سمجھتیاسی گو مگو میں مجھے توڑ دیتیمری ٹکڑیوں کو ملاتیمجھے جوڑ دیتی
ایک بوسے نےتمہیں عورت بنا دیااور اسے تبدیل کر دیاایک چوہے میں
ابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچوابھی تو اس کہانی میںمحبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تکنظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کےسارے ذائقے تبدیل ہونے تکبہت سے موڑ آنے ہیںمجھے ان سے گزرنے دوذرا محسوس کرنے دوکہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہےمرے لہجے میں اپنا کس طرح آہنگ بدلا ہےمجھے تھوڑا سنبھلنے دو ابھی ٹھہروابھی ٹھہرو کہ وہ خوش بخت ساعت بھی ابھیمجھ تک نہیں پہنچیجو دل کے آئینے کو وہم کی اندھی گلی سےاعتبار ذات کی سرحد پہ لاتی ہےاسے رستہ بتاتی ہےابھی ان راستوں پر تم مجھے کچھ دیر چلنے دوابھی ٹھہروکوئی خواہش امید و بیم کے مابین اب بھیسانس لیتی ہےاسے اس کرب سے آزاد کرنے دووہ سارے خوابجن کو دیکھنے کا قرض میں لوٹا نہیں پائیمجھے ان کے لیے تعبیر کا صفحہ پلٹنے دوابھی ٹھہروکسی بیتے ہوئے موسم کے بخشے زخماب بھی آنکھ کی پتلی میں روشن ہیںذرا یہ زخم بھرنے دومسیحائی تمہاریروح کی پاتال تک کیسے پہنچتی ہےمجھے اندازہ کرنے دوابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کاکوئی عنوان مت سوچو
میرے پیارے سوگوارمجھے معلوم ہوا ہےکہ تمہارے لوگوں سے زندہ رہنے کی جگہاور حق چھینے جانے کے باعثتمہارا دل خیریت سے نہیں رہامجھے معلوم ہوا ہےکہ تمہارے بہادروں کو دھوپ سے بچانے والی ٹوپیاںان کے خون سے سرخ اور تمہاری صابر عورتوں کے چہرےغم کی شدت سے سیاہ ہو چکے ہیںمیرے بھائی زیتون کے درختوں پر لگے پھولاور تمہارے پھولوں جیسے بچوں سے امڈنے والیخوشبو بارود اور دھویں کی بو میںبدل چکی ہےاور میرے دوستسنا ہے تمہارے سر پر ہاتھ رکھنے والےاب انہیں ہاتھوں سے تمہارے پیروں کے نیچے زمین کھینچ رہے ہیںابھی اس خط کو لکھتے ہوئے ایسا لگاجیسے کوئی دروازے پر ہےمیں نے دروازہ کھولاتو باہر دور تک کچھ نہ تھانہ کوئی عمارت نہ کوئی گھرنہ کوئی موسم نہ کوئی دننہ کوئی شخص نہ کوئی سایہنہ کوئی غم نہ کوئی آنسوصرف سنانا اور خاموشیمیں نے اپنے دل کا دروازہ بند کر لیااور واپس آ گیایہاں تمام لوگ موم کے سپاہیوںاور آنسو زہریلی مسکراہٹوں میں تبدیل ہو گئے ہیںمحمود درویشتمہیں تسلی دینے اور تمہارے لوگوں کی حمایت میں کہنےکے لیے میرے پاس سوائے ایک نمناک خاموشی کےکچھ بھی نہیںیا کچھ لوگ جو میری طرحاپنی میزوں کی بند دروازے کے سامنے بیٹھےان کے خود بہ خود کھلنے یا کسی اور نہ ہونے والے معجزے کے منتظر ہیں
آگے بڑھنے والےبدن کو کپڑوں پر اوڑھتےاور چھریاں تیز کر کے نکلتے ہیںبھیڑ کو چیر کر راستہ بناتےناخنوں سے نوچ لیتے ہیںلباس اور عزتیں-سرخ مرچوں سے ہر آنکھ کو اندھا کر دیتے ہیںاور بڑھ جاتے ہیںرعونت بھری مسکراہٹ کے ساتھچیختے اور چپ کرا دیتے ہیںسر عام رقص کرتے ہیںاور گاڑیاں ٹکرا جاتی ہیںلڑکے لڑ پڑتےمرد، پتلونیں کس لیتےاور بوڑھے، تمباکو میںگڑ کی مقدار بڑھا دیتے ہیںکوئی میز ان کے سامنے جما نہیں رہ سکتااور کوئی محفلان کا داخلہ روک نہیں سکتیوہ ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہیںاور ہر کرسی ان کے لیے خالی ہو جاتی ہےان کے دبدبے سےدیواروں کے پلستر اکھڑ جاتا ہےکاغذ، شور کرنا بھول جاتے ہیںاور موسم، ارادہ تبدیل کر لیتے ہیںآگے بڑھنے والوں سے پناہ مانگتے ہیںان کے ساتھڈرتے ہیںزمین پر جھک کر چلنے والےبوجھل خاموشی سے انہیں دیکھتےاور گزر جاتے ہیںآگے بڑھنے والے نہیں جانتےکہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتاپھر بھی وہ بڑھتے ہیںپہنچ کر دم لیتے ہیںبے حیائی کی شدتآنکھوں میںموتیا اترنے کی رفتار تیز کر دیتی ہےہر تنے کی چھالبدن پر ان مٹ خراشیں چھوڑ جاتی ہےپھٹکری اور ویزلین سے چکنایا ہوا ماسہڈیوں سے ہمیشہ جڑا نہیں رہ سکتاہر بدن اور ہر کرسی کیایک عمر ہوا کرتی ہےاور پھر ہم انہیں دیکھ سکتے ہیںایک دنلپٹے ہوئے لباس میںخلا کو گھورتے ہوئےکسی نیم تاریک نشیب میںپر کٹے پرندے کی طرحمٹی پر لوٹتے ہوئےآگے بڑھنے کی پیہم کوشش میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books