aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tafriid-e-mujarrad"
روشنی پر دھند کی تہآئنے کے نقش پھیکےشیشے کے اس پار ابہام مجردکھڑکیوں پر آنسوؤں کی باڑھمورتیں ہوں صورتوں سے جیسے عاریپگھلے چہروں سے تھی ہر تصویر بھاریاور سکوتبوجھ ہو گویا بصارت پر نمیکھڑکی کھلتے ہی مگربانہیں پھیلا کر ہوا نےبڑھ کے آنکھیں چوم لیںآئنوں کے آنسو پونچھےرنگ دھوئےشیشے کی تر دامنی کا قطرہ قطرہ کھینچ ڈالاکھڑکی کھلتے ہی وہ ساری دھند جیسےرقص کرتی بادلوں کی اور لپکیمضمحل چادر نظر کی ہٹتے ہٹتے ہٹ گئیروشنی پھر منظروں سے پٹ گئی
کوئی افسانہ کوئی خواب ہوں میںکوئی تحریر نا تمام ہوں میں
پھر وہی بیتے ہوئے لمحوں کی یادپھر وہی موجیں وہی کشتی وہی باد مراد
سوالیہ نشان کی قطار میں کھڑے ہوئے مفکرو!جواب دووہ کون، کیسا، کس لیے، کہاں پہ، کب سے، کب تلک؟سوال شش جہات کا جواب کوئی اب تلک؟''مگر یہاں کشاد چشم و لب کسی کے بس میں ہےسوال تک رسائی جب محال ہےتو ہمت جواب کس کے بس میں ہےوہ کس کی دسترس میں ہےجو معرفت کے لب کھلےتو پتھروں کی بارشوں سے سولیاں لہولہان ہو گئیںاگر کسی پیمبر عظیم کی نظر اٹھینگاہ بازگشت نامراد کی شکستگی کے وار سےبصیرتوں کے زعم میں بصارتیں بھی جل گئیںتو ٹھیک ہےتمہیں کشاد چشم و لب کی لذتوں کی کیا خبرسو تم ہنوز برزخ تذبذب و گمان میں پڑے رہومفکرو!سوالیہ نشان کی قطار میں کھڑے رہو
دانہ تری نگاہ میں تھا خرمن مرادتجھ کو خبر تھی قطرے میں دریا کا جوش ہے
یہ تقدیر کے پیچ و خم اللہ اللہیہ تحریر لوح و قلم اللہ اللہ
ہر نفس اپنا امنگوں کی ہے تفسیر نئیآج ہر سانس سے بے باک ارادے ہیں عیاںاب کے تزئین چمن ہوگی لہو کی سرخیفصل گل اب کے نئے جلوے بکھیرے گی یہاں
دائرے قوسین سن تاریخ اعداد و شمارنقطہ و زیر و زبر تشدید و مد
افق کی گود میں لپٹی ہوئی یہ دھند کی چادریہ بکھرے سیپ یہ پاؤں تلے کچلی ہوئی ریتیںسسکتی لہر کے سینے پہ اک نیلا ہراس ایساکہ جیسے وقت کی دیوار پر لکھی کوئی تحریر پارینہمیں اس انجان ساحل کی تپش میں کس کو ڈھونڈوںیہاں تو باد ساحل بھی کسی آسیب کی صورتمری پہچان کے سب نقش پا پامال کرتی ہےدرختوں کے جڑے سائے کھڑے ہیں چپ کسی گونگی عبادت میںپرندے اجنبی ہیں اور ان کی بولیاں بھی ایک بے معنی صدائے بازگشتیہ کیسی پیاس ہے جو بحر کے ماتھے پہ لرزاں ہےیہ کتنا فاصلہ ہے میرے ہونے اور نہ ہونے کے جزیروں میںکنارے پر پڑے ٹوٹے ہوئے تختوں کے یہ ٹکڑےکسی گم گشتہ کشتی کی کہانی کے ادھورے حرف لگتے ہیںوہ کشتی جس میں شاید میں بھی اک دن ہم سفر تھامگر اب اس کنارے کی خموشی مجھ سے کہتی ہےمسافر تو یہاں اک واہمہ ہے اک تماشا ہےیہ ساحل تیرا اپنا تھا مگر صدیوں پرانی بات ہے اب تویہاں اب خاک اڑتی ہے یہاں اب لہر روتی ہےترا چہرہ یہاں کی وسعتوں میں گم ہوا کب کا
افق کے زرد گالوں پر جمی ہے گرد صدیوں کیتھکن کی راکھ میں لپٹی ہوئی تاریک پگڈنڈیکسی خالی کٹورے میں پڑی ہے پیاس رادھا کینفس کی دھوپ میں جل بجھ گئے ہیں وصل کے سپنےرتوں کے بانجھ پن سے اڑ رہی ہے خاک بستی میںنہ شاخ جاں پہ کوئی گل نہ کوئی خوشبوئے ہجراںیہ کیسی فصل وحشت ہےکہ جس میں آرزو کے نخل سبزہ زار سوکھے ہیںدریچوں کے پٹولوں سے لپٹ کر مر گئی دستکنگاہوں کے پیالوں میں کوئی منظر نہیں بستافقط اک بے حسی کی جونک لپٹی ہے خیالوں سےگزرتے ساعتوں کے ریگ زاروں پرمحبت کے کتب خانے لرزتے گرد کے طوفاںنہ اب وہ لوح دل باقی نہ وہ تحریر جاں باقیوہ جن کے لمس سے کھلتے تھے ان بے جان رستوں پرگل تر کی طرح جادووہ سب جادو وہ سب قصےاسی بے مہر مٹی کی تہوں میں جا کے سوئے ہیںجہاں اب پیار کی کونپل نکلنے سے رہی سائیںعجب اک حبس ہے شام تمنا کی فضاؤں میںکہ اب حرف وفا کی راکھ بھی اڑتی نہیں یاں پریہ عشق کے بانجھ موسم ہیںعشق کے بانجھ موسم ہیں
نہ خواب آئیں مری نیند اتنی گہری ہوسحر کو حاجت تفسیر خواب ہو نہ امیرؔ
ہند کی تحریک آزادی میں تیرا نام ہےقابل تقلید تیرا وہ مثالی کام ہے
تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امامامید لطف پہ ایوان کج کلاہ میں ہیںمعززین عدالت بھی حلف اٹھانے کومثال سائل مبرم نشستہ راہ میں ہیں
یہ عناصر ایک مدت تک رہے گرم عملآخری تحریک عصمت سے ہوئے آپس میں حل
خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کیکھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے
اللہ اس کی عظمت دیں کا علیم ہےتفسیر دل حدیث خودی کا فہیم ہے
بسطامیؔ و بصریؔ و معریٰؔ و غزالیؔجس علم کی جس فقر کی دنیا کے تھے والیحیرت ہے تو اب ہے اسی دنیا میں سوالیہے گوشۂ پستی میں تری ہمت عالی
میں نے کہا کہ تم سے ملاقات ہے بہتہر روز رسم و راہ مدارات ہے بہتکہنے لگا کہ کوئی خلش ہے نگاہ میںحائل ہے فاصلہ کوئی برسوں کا راہ میںمحو سفر ہیں اور ابھی ہم سفر نہیںہم راہ دل کے دل ہے مگر رہ گزر نہیں
میری جانب سے سہی تحریک تکمیل وفالیکن اس کو آپ کی تائید ہونی چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books