aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tamaashaa-e-ahd-e-rafta"
گئی رتوں کی کہانیاں ہیںنشانیاں ہیںوہی کھنڈر ہےوہی تماشائے عہد رفتہ
میں عہد رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوںنئی کتابوں کے معبدوں میںپرانے لفظوں کو پوجتا ہوںمیں منظر ہوں بشارتوں کامری زبان پر میں صبح نو کے افق کے نئے جہاں کےنئے ترانےپرانی قبریں چٹخ رہی ہیںدیے بجھاؤ کہ سرخ سورج ابھر رہا ہےدلوں میں کوئی اتر رہا ہےنئے پرانے ہیں لفظ میری زباں پہ لیکنمیں ان کی لذت سے بے خبر ہوںمیں بے ہنر ہوںمیں سرخ بھی ہوں میں سبز بھی ہوںمیں کچھ نہیں ہوں
نہ تکمیل عہد وفا چاہتا ہوںنہ تجدید جور و جفا چاہتا ہوںمیں اک قلب بے مدعا چاہتا ہوںترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
نہ پھول بالوں میں گوندھے نہ گھر میں دیپ جلایاشریک غم نے منایا مگر نہ ان سے منی وہوہ تھک کے لیٹ گئے خواب کے نگر کو سدھارےمگر دریچے میں اپنے کھڑی سسکتی رہی وہستارے کرتے رہے چشمکیں تو کچھ بھی نہ بولیکہ ایک شاخ تھی غنچوں کے خوں میں ڈوبی ہوئی وہنہ جانے دانش و دین و ہنر کا نرخ ہو اب کیارواں پاک کی قیمت تو جگ میں ہار گئی وہنہ ڈھونڈ پائی مداوائے زخم زار تمناسمجھ سکی نہ تقاضائے عہد طفل کشی وہ
ذکر عہد شباب کون کرےحسرتوں کا حساب کون کرےرنج ماضی کو یاد کر کر کےدل کو اپنے کباب کون کرےحسن کو بے نقاب کون کرےعشق کو با حجاب کون کرےشوق شرب شراب کون کرےایسا کار ثواب کون کرےدل کو عصیاں نواز کون کرےعاقبت کو خراب کون کرےرنگ ہستی سراب آسا ہےاعتبار سراب کون کرےروکے بیٹھے ہیں جو نصیبوں کویاد ان کو جناب کون کرےلب پہ اپنے ہے مہر خاموشیپھر سوال و جواب کون کرے
خیال حسن و محبت لحاظ عہد وفادل و نظر کو جگائے کہ جیسے سحر کیاخبر نہیں کہ کہاں ٹھہرے زندگی کی اداابھی تو ایک ہی وحدت ہے عشق کی بے کل
آؤیادوں کی دہلیز پر بیٹھ کربادۂ عہد رفتہ کے ساغر میں ہمتلخیاں حال کی گھول دیںآج کو بھول کرکل کو آواز دیںآئنہ تو سلامت نہیں ہوگا ابتم نے سرگوشیوں میں دیا یوں جوابآئنہ میرے تم ہو سلامت رہو
محبت پھولنے پھلنے کی شے ہےاسے پامال سبزہ مت بناؤدلوں کے قافلے چلتے ہیں اس پرسو نا ہموار رستہ مت بناؤاسے کھلنے دو اپنے موسموں میںبہار عہد رفتہ مت بناؤیہ ہے معصوم اور ننھا پرندہاسے زنجیر بستہ مت بناؤیہ لہراتا ہوا آنچل ہے اس کوکسی بادل کا ٹکڑا مت بناؤیہ چشمے کا میٹھا صاف پانیسو اس پانی کو گدلا مت بناؤیہ ہے آواز مہدی اور لتا کیان آوازوں کو مردہ مت بناؤ
یہی وہ منزل مقصود ہے کہ جس کے لئےبڑے ہی عزم سے اپنے سفر پہ نکلے تھےاسی گھڑی کی تمنا میں جانے کتنے لوگجو بے خطا تھے مگر سولیوں پہ لٹکے تھے
عہد رفتہ میں جنم تو نے دیا تھا جن کومادر ہند وہی نور نظر پیدا کر
زندگی نیند میں ڈوبے ہوئے مندر کی طرحعہد رفتہ کے ہر اک بت کو لیے سوتی ہےگھنٹیاں اب بھی مگر بجتی ہیں سینے کے قریباب بھی پچھلے کو، کئی بار سحر ہوتی ہے
ہماری دھڑکنیں تیرے ہی بام و در میں پنہاں ہیںترے ماحول میں ہم سب کے محسوسات غلطاں ہیںہماری آرزوئیں تیرے دالانوں میں رقصاں ہیںنقوش عہد رفتہ تیرے ماتھے پر نمایاں ہیں
مرے گھر کی دیوار پرعہد رفتہ کےرنگین افسانے سجے ہیںمرے اجداد کی ہجرتیںاپنی یادوں کےخوابوں کےہم راہ کھڑی ہیںمگر میں تو اس دور کا آئنہ ہوںجہاں خواب بنتے ہیں کماور بکھرتے بہت ہیںجہاں لوگ بسعہد رفتہ میںجینے کا گر جانتے ہیںمیں باسی ہوں اس گاؤں کاجس کے راکھےخود اپنے گوالوں کےگھر لوٹتے ہیںجہاں کھیتوں میںعذابوں کی فصلیں کٹی ہیںمیں اب مڑ کے دیکھوں
ایک خضر عصر حاضر اک کلیم عہد نوایک صدر محفل روحانیاں پیدا ہوا
یہ ستم ظریفیٔ عہد نو بھی ہے نجمیؔ کتنی عجیب سیکہ جو گمرہی میں ہے مبتلا ہے اسی کو دعویٰ رہبری
اے شب تار کے نگہبانوشمع عہد زیاں کے پروانو
وقت جاتے ہوئے کیا لکھ گیا پیشانی پرآؤ آشفتگیٔ عہد رواں دیکھ آئیں
دیار غیر میں تم کو کہاں میں ڈھونڈوں گایہ ختم عہد طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ
جھلسا دینے والیدھوپ سے بچ کرچھجے کے نیچے کرسی پرپیروں کو پھیلائےبیزاری سےایک بوڑھااخبار لیے بیٹھا ہےآج کی تازہ خبروں کے عنواں سےکل کی باسی خبریں پڑھتا ہےاور کہتا ہےاپنا وقت بہت اچھا تھا
تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہودل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہوتمہیں فطرت کی بہاروں کی قسمیہ تماشا گہ عالم کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books