aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "u.daa.e"
ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تمسہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیںہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیںشباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیںادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباںبیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباںسیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجومطویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوموہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئےوہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوشگداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرےدراز قد جسے سرو سہی نماز کرےغرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیںوہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیںکسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھابصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھااور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیںہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیںہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیںفضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیںغرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیرآیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیاسنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیںویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیاتھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیںپر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیااب دور جا چکا ہے وہ شاہ گدانمااور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیںچند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاصدو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیںپر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہےاور اس کے لے سے سیکڑوں لذت شناس ہیں
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤدنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤمردہ دلی کا جھنڈا پھینکو زمین پر تمزندہ دلی کا ہر سو پرچم اڑائے جاؤلاؤ نہ بھول کر بھی دل میں خیال پستیخوش حالئ وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤتن من مٹائے جاؤ تم نام قومیت پرراہ وطن میں اپنی جانیں لڑائے جاؤکم ہمتی کا دل سے نام و نشاں مٹا دوجرأت کا لوح دل پر نقشہ جمائے جاؤاے ہندوؤ مسلماں آپس میں ان دنوں تمنفرت گھٹائے جاؤ الفت بڑھائے جاؤبکرمؔ کی راج نیتی اکبرؔ کی پالیسی کیسارے جہاں کے دل پر عظمت بٹھائے جاؤجس کشمکش نے تم کو ہے اس قدر مٹایاتم سے ہو جس قدر تم اس کو مٹائے جاؤجن خانہ جنگیوں نے یہ دن تمہیں دکھائےاب ان کی یاد اپنے دل میں بھلائے جاؤبے خوف گائے جاؤ ''ہندوستاں ہمارا''اور ''وندے ماترم'' کے نعرے لگائے جاؤجن دیش سیوکوں سے حاصل ہے فیض تم کوان دیش سیوکوں کی جے جے منائے جاؤجس ملک کا ہو کھاتے دن رات آب و دانہاس ملک پر سروں کی بھیٹیں چڑھائے جاؤپھانسی کا جیل کا ڈر دل سے فلکؔ مٹا کرغیروں کے منہ پہ سچی باتیں سناتے جاؤ
تہ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میںہجوم شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھیخمار خواب سے لبریز احمریں آنکھیںسفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیںچھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سےرواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیمضیائے مہ میں دمکتا ہے رنگ پیراہنادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیمدراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہےادائے ناز سے رنگ نیاز پیدا ہےاداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیںدل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیںتہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میںکسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھیکہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میںہے ایک گل کہ ہے نا واقف بہار ابھی
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
دو چوہوں کی ایک کہانیکچھ تازہ ہے کچھ ہے پرانیاک چوہے کی جیب میں بٹوااک چوہے کے ہاتھ میں حقہحقے میں تھے بور کے لڈوکچھ تھے موتی چور کے لڈولڈو تھے سب رنگ رنگیلےکچھ تھے نیلی اور کچھ پیلےبٹوے میں تھے چار ٹماٹراور تھوڑا سا منرل واٹرلڈو کھا کر پانی پی کربولے چوہے چھت پر چڑھ کرکہاں ہے بلی اس کو بلاؤآیا ہے اب ہم کو تاؤآج نہیں وہ بچنے والیبچہ لوگ بجائے تالیبلی نے جب سنی یہ باتبیت چکی تھی آدھی راتپہلے اس نے دم کو ہلایادانتوں کو دانتوں پہ جمایاچپکے چپکے چھت پر پہنچیپھر تیزی سے ان پر جھپٹیدونوں چوہے ڈر کر بھاگےبلی پیچھے چوہے آگےسوری سوری لاکھ وہ بولےسنی نہ ان کی بات کسی نےبلی نے پھر مزے اڑائےاک اک کر کے دونوں کھائے
مسافر یوں ہی گیت گائے چلا جاسر رہ گزر کچھ سنائے چلا جاتری زندگی سوز و ساز محبتہنسائے چلا جا رلائے چلا جاترے زمزمے ہیں خنک بھی تپاں بھیلگائے چلا جا بجھائے چلا جاکوئی لاکھ روکے کوئی لاکھ ٹوکےقدم اپنے آگے بڑھائے چلا جاحسیں بھی تجھے راستے میں ملیں گےنظر مت ملا مسکرائے چلا جامحبت کے نقشے تمنا کے خاکےبنائے چلا جا مٹائے چلا جاقدامت حدیں کھینچتی ہی رہے گیقدامت کی بنیاد ڈھائے چلا جاقسم شوق کی فطرت مضطرب کییوں ہی نت نئی دھن میں گائے چلا جاجو پرچم اٹھا ہی لیا سرکشی کا!اسے آسماں تک اڑائے چلا جا
پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیرؔپہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میرؔچودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیرروئے بھگت کبیراک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بدھی وانمیٹرو میں جو چائے پلائے بس وہ باپ سمانسب سے اچھا شاعر وہ ہے جس کا یار مدیرروئے بھگت کبیرسڑکوں پر بھوکے پھرتے ہیں شاعر موسیقارایکٹرسوں کے باپ لیے پھرتے ہیں موٹر کارفلم نگر تک آ پہنچے ہیں سید پیر فقیرروئے بھگت کبیرلال دین کی کوٹھی دیکھی رنگ بھی جس کا لالشہر میں رہ کر خوب اڑائے دہقانوں کا مالاور کہے اجداد نے بخشی مجھ کو یہ جاگیرروئے بھگت کبیرجس کو دیکھو لیڈر ہے اور سے ملو وکیلکسی طرح بھرتا ہی نہیں ہے پیٹ ہے ان کا جھیلمجبوراً سننا پڑتی ہے ان سب کی تقدیرروئے بھگت کبیرمحفل سے جو اٹھ کر جائے کہلائے وہ بوراپنی مسجد کی تعریفیں باقی جوتے چوراپنا جھنگ بھلا ہے پیارے جہاں ہماری ہیرروئے بھگت کبیر
مری نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےدل تباہ کو اب بھی تری ضرورت ہےخروش نالہ تڑپتا ہے تیری فرقت میںسکوت آہ کو اب بھی تری ضرورت ہےیہ صبح و شام تری جستجو میں پھرتے ہیںکہ مہر و ماہ کو اب بھی تری ضرورت ہےبہار زلف پریشاں لیے ہے گلشن میںگل و گیاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےزمانہ ڈھونڈ رہا ہے کوئی نیا طوفاںسکون راہ کو اب بھی تری ضرورت ہےوہ ولولے وہ امنگیں وہ جستجو نہ رہیتری سپاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےخرد خموش جنوں بے خروش ہے اب تکدل و نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےبیاں ہو غم کا فسانہ دل تپاں سے کہاںیہ بار اٹھے گا مری جان ناتواں سے کہاںملا نہ پھر کہیں لطف کلام تیرے بعدحدیث شوق رہی نا تمام تیرے بعدجو تیرے دست حوادث شکن میں دیکھی تھیوہ تیغ پھر نہ ہوئی بے نیام تیرے بعدبجھی بجھی سی طبیعت ہے بادہ خواروں کیاداس اداس ہیں مینا و جام تیرے بعدبنا ہے حرف شکایت سکوت لالہ و گلبدل گیا ہے چمن کا نظام تیرے بعدادائے حسن کا لطف خرام بے معنیسرود شوق کی لذت حرام تیرے بعدترس گئی ہے سماعت تری صداؤں کوسنا نہ پھر کہیں تیرا پیام تیرے بعدوہ انقلاب کی رو پھر پلٹ گئی افسوسبلند بام ہیں پھر زیر دام تیرے بعدمثال نجم سحر جگمگا کے ڈوب گیاہمیں سفینہ کنارے لگا کے ڈوب گیا
محبت آہ تیری یہ محبت رات بھر کی ہےتری رنگین خلوت کی لطافت رات بھر کی ہےترے شاداب ہونٹوں کی عنایت رات بھر کی ہےترے مستانہ بوسوں کی حلاوت رات بھر کی ہےمہ روشن ہے تو اور تیری طلعت رات بھر کی ہےگل شبو ہے تو اور تیری نکہت رات بھر کی ہےتو کیا جانے کہ سودائے محبت کس کو کہتے ہیںمحبت اور محبت کی لطافت کس کو کہتے ہیںغم ہجراں ہے کیا اور سوز الفت کس کو کہتے ہیںجنوں ہوتا ہے کیسا اور وحشت کس کو کہتے ہیںتو کیا جانے غم شب ہائے فرقت کس کو کہتے ہیںترے اظہار الفت کی فصاحت رات بھر کی ہےنگاہ مست سے دل کو مرے تڑپا رہی ہے توادائے شوق سے جذبات کو بھڑکا رہی ہے تومجھے بچے کی صورت ناز سے پھسلا رہی ہے توکھلونے دے کے بوسوں کے مجھے بہلا رہی ہے تومگر نادان ہے تو آہ دھوکا کھا رہی ہے توترا روئے درخشاں ہے بظاہر ماہتاب آساترے ہونٹوں کی شادابی ہے رنگت میں شراب آساترے رخسار کی مہتابیاں ہیں آفتاب آسامگر ان کی حقیقت ہے حباب آسا سراب آساکہ غازے کی صباحت اس پہ چھائی ہے نقاب آسااور اس غازے کی بھی جھوٹی صباحت رات بھر کی ہےیہ مانا تیری خلوت کی فضا روح گلستاں ہےتری خلوت کا ہر فانوس اک مہتاب لرزاں ہےترا ابریشمی بستر نہیں اک خواب خنداں ہےترا جسم آفت دل تیرا سینہ آفت جاں ہےتو اک زندہ ستارہ ہے جو تنہائی میں تاباں ہےمگر کہتے ہیں تاروں کی حکومت رات بھر کی ہےلطافت سے ہیں خالی تیرے کمھلائے ہوئے بوسےطراوت سے ہیں خالی تیرے مرجھائے ہوئے بوسےنزاکت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسےحقیقت سے ہیں خالی تیرے شرمائے ہوئے بوسےمحبت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسےاور ان بوسوں کی یہ جھوٹی حلاوت رات بھر کی ہےترے زہریلے بوسے مجھ کو جس دم یاد آئیں گےمرے ہونٹوں پہ کالے ناگ بن کر تھرتھرائیں گےپشیمانی کے جذبے مجھ کو دیوانہ بنائیں گےمرے انکار کو نفرت کے خنجر گدگدائیں گےمرے دل کی رگوں میں غم کے شعلے تیر جائیں گےمیں سمجھا! آہ سمجھا! یہ مسرت رات بھر کی ہےمجھے دیوانہ کرنے کی مسرت بے خبر کب تکرہے گی میرے دل میں تیری الفت کارگر کب تکمجھے مسحور رکھے گا یہ عشق بے ثمر کب تکحقیقت کی سحر آخر نہ ہوگی پردہ در کب تکمجھے مغلوب کر کے خوش ہے تو ظالم مگر کب تکتری یہ فتح میری یہ ہزیمت رات بھر کی ہے
دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہےیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہےہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہےناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہورلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نورگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیوررو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضورجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھےاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہےروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزےپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیںوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائےہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائےسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائےرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرامفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑاقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہادونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیاجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفناور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تنکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدندیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخنجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوںاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوںکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموںکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوںجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہاپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جداترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوازر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سواجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیرباغ و چمن محل و مکانات دل پزیرہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیرمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے
نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیداکسی کے حسن میں شمشیر آفتاب کا حسننگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگےکسی ادا میں ادائے خرام بادصباجسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگےنہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقیجہاں میں بزم گہ حسن و عشق کا میلہبنائے لطف و محبت، رواج مہر و وفایہ کس دیار عدم میں مقیم ہیں ہم تمجہاں پہ مژدۂ دیدار حسن یار تو کیانوید آمد روز جزا نہیں آتییہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تمجہاں پہ شورش رندان مے گسار تو کیاشکست شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی
یہ صحت بخش تڑکا یہ سحر کی جلوہ سامانیافق سارا بنا جاتا ہے دامان چمن جیسےچھلکتی روشنی تاریکیوں پہ چھائی جاتی ہےاڑائے نازیت کی لاش پر کوئی کفن جیسےابلتی سرخیوں کی زد پہ ہیں حلقے سیاہی کےپڑی ہو آگ میں بکھری غلامی کی رسن جیسےشفق کی چادریں رنگیں فضا میں تھرتھراتی ہیںاڑائے لال جھنڈا اشتراکی انجمن جیسےچلی آتی ہے شرمائی لجائی حور بیداریبھرے گھر میں قدم تھم تھم کے رکھتی ہے دلہن جیسےفضا گونجی ہوئی ہے صبح کے تازہ ترانوں سےسرود فتح پر ہیں سرخ فوجیں نغمہ زن جیسےہوا کی نرم لہریں گدگداتی ہیں امنگوں کوجواں جذبات سے کرتا ہو چہلیں بانکپن جیسےیہ سادہ سادہ گردوں پہ تبسم آفریں سورجپے در پے کامیابی سے ہو ستالن مگن جیسےسحر کے آئنہ میں دیکھتا ہوں حسن مستقبلاتر آئی ہے چشم شوق میں کیفیؔ کرن جیسے
بڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورجہمالہ کے اونچے کلس جگمگائےپہاڑوں کے چشموں کو سونا بنایانئے بل نئے زور ان کو سکھائےلباس زری آبشاروں نے پایانشیبی زمینوں پہ چھینٹے اڑائےگھنے اونچے اونچے درختوں کا منظریہ ہیں آج سب آب زر میں نہائے
انجینئرلکھ پڑھ کے میں تو اک دناہل ہنر بنوں گاچاہا اگر خدا نےانجینئر بنوں گاہوگی مرے ہنر سے تعمیر اس وطن کیجاگے گی میرے فن سے تقدیر اس وطن کیچلتی رہیں مشینیں صنعت تمام چمکےجس طرح صبح چمکے ویسے ہی شام چمکےاہل ہنر بنوں گاانجینئر بنوں گاڈاکٹرجسے تکلیف میں پاؤںاسے آرام پہنچاؤںجہاں غم کا اندھیرا ہوخوشی کی روشنی لاؤںجہاں آنسو برستے ہوںہنسی اس گھر میں بکھراؤںدعا ہے ڈاکٹر بن کردکھی لوگوں کے کام آؤںوطن کا سپاہیوطن کا بہادر سپاہی بنوںشجاعت کی دنیا کا راہی بنوںلیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹوطن میں جہاں ہو ضرورت مریوہیں کام آئے شجاعت مریدلیری کا میں سب کو پیغام دوںجو مشکل ہو وہ کام انجام دوںہمیشہ ترقی کی راہوں میں ہمچلیں ساتھیوں سے ملا کے قدملیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹٹیچرنا چاندی نا سونا چاہوںمیں تو ٹیچر ہونا چاہوںحاصل جو تعلیم کروں میںسب میں اسے تقسیم کروں میںننھے منے بچے آئیںعلم کی دولت لیتے جائیںکم نہ ہو یہ تقسیم کئے سےجلتا ہو جیسے دیا دئے سےپائلٹبلندی پہ جا کے سفر کرنے والاہوا باز اونچا ہوا باز اعلیٰوہ رن وے پہ آیا جو ٹیک آف کرنےتو سورج نے پہنائی کرنوں کی مالاپسنجر ہیں سیٹوں پہ بے فکر بیٹھےاڑائے لیے جا رہا ہے جیالاہماری امنگوں سے کیا کہہ رہا ہےفضاؤں میں اڑتا ہوا یہ اجالاوکیلانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںمظلوم سے ہو ہمدردیظالم کو سزا دلواؤںمجرم کے کالے دل میںقانون کی شمع جلاؤںہر بات میں سب سے آگےانصاف کی بات بڑھاؤںانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںہاریسوچا ہے میں نےہاری بنوں گاکھیتوں میں جھوموںگندم اگا کےدھرتی کو چوموںفصلیں سجا کےسارے وطن کوخوش حال کر دوںخوشیوں سے سب کےدامن کو بھر دوںہاری بنوں گا
وہ کچھ دوشیزگان ناز پرورکھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پرنظر کے سامنے ہے ایک محشراور اک محشر ہے میرے دل کے اندرسنہرا کام رنگیں ساریوں پربساط آسماں پر ماہ و اخترجمال و حسن کے پر رعب تیورنمایاں چاند سی پیشانیوں پروہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخیلبوں میں پر فشاں روح گل ترسیہ زلفوں میں روح سنبلستاںنظر سر چشمۂ تسنیم و کوثرادائے ناز غرق کیف صہباسیہ مژگاں شراب آلودہ نشترچمک تاروں کی چشم سرمگیں میںجھلک چاندی کی جسم مرمریں میںوہ خوشبو آ رہی ہے پیرہن سےفضا ہے دور تک جس سے معطرتبسم اور ہنسی کے نرم طوفاںفضاؤں میں مسلسل بارش زرنشاط رنگ و بو سے چور آنکھیںشراب ناب سے لبریز ساغروہ محرابیں سی سینوں پر نمایاںفضائے نور میں کیوپڈ کے شہ پرنفس کے آمد و شد سے تلاطمشب مہتاب میں جیسے سمندرستاروں کی نگاہیں جھک گئی ہیںزمیں پھر خندہ زن ہے آسماں پرکوئی آئینہ دار حسن فارسکسی میں حسن یونانی کے جوہرکسی میں عکس ''معصوم کلیسا''کسی میں پرتو اصنام آذریہ شیریں ہے وہ نوشابہ ہے شایدنہیں یاں فرق فرہاد و سکندریہ اپنے حسن میں عذرائے وامقوہ اپنے ناز میں سلمائے اخترؔیہ تابانی میں خورشید درخشاںوہ رعنائی میں اس سے بھی فزوں ترہنسی اس کی طلوع صبح خنداںنوا اس کی سرود کیف آوریہ شعلہ آفریں وہ برق افگنیہ آئینہ جبیں وہ ماہ پیکروہ جنبش سی ہوئی کچھ آنچلوں کووہ لہریں سی اٹھیں کچھ ساریوں پرخرام ناز سے نغمے جگاتیوہ چل دیں ایک جانب مسکرا کرکسی کی حسرتیں پامال کرتیکسی کی حسرتیں ہمراہ لے کرکبھی آنکھیں دکانوں پر جمی ہیںکبھی خود اپنی ہی برنائیوں پرادھر ہم نے اک آہ سرد کھینچیہنسی پھر آ گئی اپنے کئے پر
طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےالو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائےککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیالقمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تالمور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےچڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھمموٹی بطخ چونچ سے ڈھولک پیٹے دھم دھم دھمبیا بجائے منجیرے اور بھونرا بھجن اڑائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےبلبل گل کی یاد میں رو رو گائے دیپک راگمست پپیہا دور سے نغموں کی بھڑکائے آگکوئل پہن کے پائل ساری محفل میں اٹھلائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےرنگ برنگی چڑیاں اب چھیڑیں ایسی قوالیپتا پتا بوٹا بوٹا تال میں دیوے تالیپھوپھی چیل وجد میں آ کر اونچی تان لگائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےانگلستان کا سارس آ کر ناچے راک این رولمرغابی سے بولے میڈم انگلش گانا بولدیکھو دیکھو کتنی پیاری محفل ہے یہ ہائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books