aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ujjain"
بمبئی کی بھیل پوری اجین کی کچوریکھا کر انہیں ہوئی ہے ہر اک زباں چٹوری
جو ہر کس و ناکس زمیں پردل گدایان اجمعیں پر
مور کبوتر اور تیتر ہےاندر مردہ عجائب گھر ہے
رگڑ رگڑ کےوہ تالیاں اڑائیں
مری پس ماندگی پر ہر نذر اٹھے ترس کھائےمجھے مردہ عجائب گھر کی ایسی مورتی سمجھے
وہ قید و بند کی جھیلی ہیں سختیاں جس نےاڑائیں جبر و غلامی کی دھجیاں جس نے
جو میں نےعجائب گھر کی سیڑھیوں پر
مگر وہ پتھر کہ اب عجائب کی کار گہہ ہیںتمہارے نامے کی اس عبارت کو کھا گئے ہیں
سفیر لیلیٰ یہ سب کرشمے اسی کھنڈر نے مری جبیں پر لکھے ہوئے ہیںیہی عجائب ہیں جن کے صدقے یہاں پرندے نہ دیکھ پاؤ گے
ہمارے بعد زمیں کے تلے سو رہے ہیںعجائب گھروں میں لٹکتی ہیں تلواریں ان کی
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیںپنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں
ایک عجائب خانے میں ڈھل رہا ہےکہ میرے لا شعور نے
جہاں پہ یہ لوگ زندگی کے اجارہ دار آ سکیں تو آئیںدنوں کو راہوں کی خاک اڑائیں
جو گرمی کو چاہیں تو سردی بنائیںاڑائیں پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوائیں
گلیاں اور کوچے ویرانجھونکے سوکھے پتے رولیں بکھری راکھ اڑائیں
نہ دنیا زاد، نہ حاسب کریم الدین کا گھر ہےعجائب گھر ہیں نہ وہ درس گاہیں
کس عجائب کدے سے نکل آئے ہواور جب
زندگی محنت و قدرت کے عجائبیہ مشینیں خود کار
دیکھتے ہیں اسے ٹکٹ لے کراس کے اندر ہے اک عجائب گھر
شہر کی سب سے بڑی ہوٹل کی چھت پراس کا سر منڈلا رہا تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books