aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "usrat"
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
سر پر نخوت ارباب زماں توڑوں گاشور نالہ سے در ارض و سماں توڑوں گاظلم پرور روش اہل جہاں توڑوں گاعشرت آباد امارت کا مکاں توڑوں گا
یا خدا ہند پر کرم فرمااس کی تکلیف کالعدم فرماہیں پریشاں بہت حواس اس کےنہیں ہمدرد کوئی پاس اس کےفقر و فاقہ سے پائمال ہے ابقرض میں اس کا بال بال ہے ابنہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہےساری آسودگی وہ غارت ہےعلم و فن سے ہے اس کا گھر خالیعقل و ادراک سے ہے سر خالیاچھے اطوار مٹ گئے اس کےنیک کردار مٹ گئے اس کےخلق ہے اب نہ مہر و الفت ہےآتشی ہے نہ اب اخوت ہےرنگ بالکل ہے ملک کا بدلاسارا پانی ہے چاہ کا گدلاہر طرف جہل ہے لڑائی ہےدشمن آپس میں بھائی بھائی ہےنہ محبت ہے اب نہ ہمدردینہ دلیری نہ اب جواں مردینہ روا داری و شرافت ہےنہ اب امن و امان و راحت ہےہر طرف ہے فساد ہنگامہکوئی رستم ہے اور کوئی گامااب کہاں صلح و خیر کی باتیںجب ہیں کانوں میں غیر کی باتیںجان بل کی ہیں سازشیں جاریملک پر ہیں نوازشیں جاریایک سے ہے کبھی شناسائیدوسرے کے لیے کبھی سائیکبھی ان کو لڑا دیا سب سےکبھی ان کو بھڑا دیا سب سےکبھی ان کو پولس و تھانہ ہےاور کبھی ان کو جیل خانہ ہےیہی منظر یہاں ہے شام و سحربس یہی ہو رہا ہے آٹھ پہرجانتا ہے ہر اک یہ سب باتیںپھر بھی خالی نہیں حوالاتیںوہی جنگ و جدل وہی جھگڑےوہی بغض و عناو کے رگڑےیا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیمکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیمپڑ سکے پھر نہ کوئی زد ہم پرکھل سکیں سارے نیک و بد ہم پرختم کر دیں یہ تفرقہ سازیآگ میں جھونک دیں تبر یازیسب کریں مل کے ملک کی خدمتدور ہو اس کی عسرت و نکبتحکمت و فن وطن میں پھیلائیںشاہراہیں مسل کی کھل جائیںعلم و سائنس ملک میں بھر دیںاس زمیں کو ہم آسماں کر دیںہم پہ کھل جائیں سب وہ عقل کے رازہو اس کا یورپ کے طرۂ اعزازصنعتوں کی ہو گرم بازاریگاؤں گاؤں میں ہوں ملیں جاریریل، موٹر، جہاز ،طیارےخود یہ تیار ہم کریں سارےکبھی صحرا ہو مستقر اپناہو کبھی ٹاپوؤں میں گھر اپنامانچسٹر پہ خاک ڈالیں گےگھر سے جاپان کو نکالیں ہمنہ رہیں ہم کسی کے بھی محتاجملک اپنا ہو اور اپنا راجہم میں گر اتحاد ہو جائےملک آباد شاد ہو جائے
عشق کے ہاتھ میں روشن ہے جو ننھا سا دیاعقل کی تند ہوا اس کو بجھا ہی دے گیتو نے دیکھی ہی نہیں پنجۂ عسرت کی گرفتروح کو قید تمنا سے چھڑا ہی دے گی
یہ گلستاں یہ لب جو یہ پرندوں کے ہجومپھول پر ٹوٹ کے بھونروں کا یہ رقص معصومان غریبوں کو مری وحشت دل کیا معلومغم کا احساس یہاں بھی ہے بدستور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےمطرب آسودگی ساز مجھے دیتا ہےایک تسکین غم انداز مجھے دیتا ہےکوئی ہر نغمے سے آواز مجھے دیتا ہےیہ کرشمے تو کیے دیتے ہیں مسحور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےیہ وہ خلوت ہے جہاں معصیتیں گاتی ہیںعصمتیں کوڑیوں کے مول بھی بک جاتی ہیںشوخ نظریں تو مرے نفس کو پگھلاتی ہیںاس جہنم میں ٹھہرنا نہیں منظور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےاس ارادے سے کہ کانٹوں سے چھڑا لوں دامنمیں بیاباں سے پلٹ آیا تھا سوئے گلشنخار تو خار یہاں پھول بھی نکلے دشمنکر سکیں گی یہ فضائیں بھی نہ مسرور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےمیرے مجروح تبسم پہ خفا ہیں احبابمیری مظلوم خموشی پہ ہیں کیا کیا نہ عتاببن نہیں پڑتا مجھے ان کے سوالوں کا جوابکیا کروں میں کہ خوشی کا نہیں مقدور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےیہ حسیں رہ گزریں اور یہ ایواں سارےجن کے سائے سے لرزتے ہیں غموں کے مارےخون مزدور پئے سر بہ فلک مینارےمجھ کو ڈر ہے نہ بنا دیں کہیں مغرور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےیہ غریبی کا دیار آہ یہ عسرت کا جہاںکھوکھلے جسم لیے آہ یہ بھوکے انساںنالے کرتی ہوئی لاشیں یہ اسیر زنداںیہ سماں کرنے لگا مضطر و رنجور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھےیہ شوالے بھی ہیں کیا جن میں ریا پلتی ہےیہاں ہر سینے میں سنگین بدی ڈھلتی ہےیہاں مذہب پہ تعصب کی چھری چلتی ہےیہاں رستے سے نظر آتے ہیں ناسور مجھےلے چل اے عشق یہاں سے بھی کہیں دور مجھے
جب تک ادب برائے ادب کا رہا خیالادبار و مفلسی سے رہے ہم شکستہ حالسائے کی طرح ساتھ نحوست لگی رہیاک روگ بن کے جان سے عسرت لگی رہیگو شاعری کا رنگ نکھرتا چلا گیاشیرازۂ معاش بکھرتا چلا گیالیکن خدا بھلا کرے اک مہربان کاجن کو ادب برائے شکم کا ہے تجربہموصوف نے بتائی ہمیں وہ پتے کی باتاب دن ہے روز عید تو شب ہے شب براتآل انڈیا مشاعرہ مجلس کے نام سےکھولا ہے اک ادارۂ نو دھوم دھام سےکرتے ہیں شاعری کے عوض اب مشاعرہاس روزگار سے ہے ہمیں خوب فائدہہر تین چار ماہ کے وقفے پہ بے خللاپنے پروگرام پہ کرتے ہیں ہم عملیعنی مشاعرے کا چلاتے ہیں کاروبارچھپوا کے روز ناموں میں جھوٹا یہ اشتہارجوشؔ و فراقؔ و ساحرؔ او پرویزؔ شاہدیفیضؔ و خلیلؔ و جذبیؔ او مخدومؔ و جعفریؔکرسی و عرش و لوح و قلم سب ہی آئیں گےتازہ کلام اپنی زباں سے سنائیں گےاس اشتہار میں وہ کشش ہے کہ اہل ذوقلیتے ہیں داخلے کا ٹکٹ دوڑ کر بہ شوقسرکس میں جس طرح سے ہو خلقت کا اژدہامیوں ہی مشاعرے میں پہنچتے ہیں خاص و عامسب لوگ بیٹھ جاتے ہیں فرش زمیں پہ جبمائک پہ جا کے کرتے ہیں اعلان ہم یہ تبافسوس ہے کہ آ نہ سکے جوشؔ اور فراقؔیہ ماسکو روانہ ہوئے وہ گئے عراقجذبیؔ کو اختلاج ہے پرویزؔ ہیں علیلگاڑی ذرا سی چوک سے مس کر گئے خلیلؔبھیجی ہے فیضؔ و ساحرؔ و مخدومؔ نے خبرسیٹ ان کو مل سکی نہ ہوائی جہاز پرگو یہ خبر دلوں کو گزرتی ہے ناگوارہونا ہے جلسہ گاہ میں تھوڑا سا انتشارلے کر مگر ذہانت فطری سے کام ہمدم بھر میں سامعین کو کرتے ہیں رام ہمڈائس پہ تک فروشوں کا رہتا ہے اک ہجومفلمی دھنوں میں گانے کی جن کے بڑی ہے دھومجو خود ٹکٹ خرید کے آتے ہیں بزم میںہم ان سے اپنا کام چلاتے ہیں بزم میںلے لے کے گٹکری جو سناتے ہیں وہ کلاماڑتے ہیں واہ واہ کے نعروں سے سقف و بامبزم نشاط بنتا ہے سارا مشاعرہہوتا ہے کامیاب ہمارا مشاعرہخوش خوش گھروں کو جاتے ہیں حضار اک طرفنوٹوں کا ہم لگاتے ہیں انبار اک طرفیہ خدمت ادب کا طریقہ ہے لا جوابپیشہ یہ وہ ہے جس میں منافع ہے بے حساب
آواز آئی وہ بزدل ہے جوعسرت علم و حکمت کے پاتال میںبیٹھ کر سوچتا ہےکہ ہاتھوں میں تہذیب عرفان اور آگہی کاپھریرا اٹھائے ہوئے ہےکہ بیمار سینے پہ حرف صداقت کازرکار تمغہ لگائے ہوئے ہےوہ بزدل ہےآواز آئی وہ بزدل ہے جس کیعزیمت کے آثار و اقدار پرقہر ٹوٹیں اگرموت اور زندگی دونوں جس کے لئےطوق لعنت بنیںاور وہ تازہ زخموں سے بہتے ہوئے خون کوچشم نم کے پیالوں سے دھوتا رہےوہ بزدل ہےآواز آئی وہ بزدل ہے جوخوف کے سائباں میں کھڑاعزم جانباز کی رفعتیں ڈھونڈھتا ہےمحبت کی شاداب وادی میں جوگکھروؤں سے بھری نفرتیں ڈھونڈھتا ہے
اجنبی شہر نازاں نہ ہوہم غریب الوطن تیرے دامن میں آئے تو ہیںتجھ کو بیچے تو ہیں اپنے علم و ہنر سندیںہم کو اقرار ہےتیری رونق سے کب ہم کو انکار ہےجانے کیوںہر قدم پر یہ احساس ہےاک نئی کار بنکوں کے قرضے کیا یہی اپنی میراث ہےاپنی تہذیب مذہب زباںہاتھ میں خالی کشکول تھامےساتھ چلتے ہیں کیوںاک خلش دل میں رہتی ہے کیوںکہ یہ ڈالر ہمارا خدا تو نہیںاجنبی شہر کیسے بتائیںتیرے دامن کی رنگینیاں دیکھ کریاد آتے ہیں کیوں اپنے وہ ہم وطنجن کے چہرے دھواںجسم لاغرخمیدہ کمرزندگی رائیگاںاجنبی شہر اب کیا بتائیںہم نے کیوں چھوڑ دیاپنے آنگن کی عسرت زدہ عافیتاپنے گھر اپنے موسم اپنے نغموں کی مستیکس کو الزام دیںخود کوحالات کوزندگی کی نئی تیز رفتار کویا کہ ان کرگسوں کو جو سیاست کی گدی پہ ہیں جلوہ گر
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پران میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہنمژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتازندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںیہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںفلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحلکہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دلجواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سےچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سےپکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگنبہت قریں تھا حسینان نور کا دامنسبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
جی میں آتا ہے کہ اب عہد وفا بھی توڑ دوںان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوںہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑ دوںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاتلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میںننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میںیہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میںعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیامردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزامردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتاعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیاجس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیاجس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیاسنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہےچکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہےمردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاعورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہےاوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہےیہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
امید کی جھوٹی جنت کے رہ رہ کے نہ دکھلا خواب ہمیںآئندہ کی فرضی عشرت کے وعدوں سے نہ کر بیتاب ہمیںکہتا ہے زمانہ جس کو خوشی آتی ہے نظر کم یاب ہمیں
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھاسر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھاماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھاشہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیںروح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہکس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقارگیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئےاور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئےرنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیںکیف احساسات کی افسردگی شامل نہیںوہ مرے آتے ہی اس کی نکتہ پرور خامشیجیسے کوئی حور بن جائے یکایک فلسفیمجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی وہ کھلتی نہیںایسی پر اسرار لڑکی میں نے دیکھی ہی نہیںدختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہیںوہ تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books